مردانہ کمزوری

شیر واحد جانور ہے جس سے تشبیہ پر ہر شخص اپنی مردانگی پر فخر کرتا ہے۔ ”شیر کا بچّہ“ گالی کی بجائے خطاب لگتا ہے۔ آئیے اس شخصیت کا تجزیہ کریں کہ صاحب کن خصوصیات کے حامل ہیں۔ یہ حضرت آرام کے بے حد شوقین ہیں۔ کسی درخت کی چھاؤں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے تک استراحت فرماتے ہیں۔ شیرنی سے ملاپ البتہ کئی کئی گھنٹے جاری رکھتے ہیں۔ لیکن وہ بھی شیرنی کی دعوت پر، جب وہ حمل کی

Read more

مرض، بندہ اور عبادت

بس یوں سمجھ لیجیے ڈاکٹر علی میرے سکول کے زمانے سے کلاس فیلو ہیں۔ ہم اندرونِ شہر کے چھوٹے گھروں میں رہتے تھے لیکن دل بڑے رکھتے تھے۔ ہمارے والدین کا بھی آپس میں کمال کا یارانہ تھا۔ علی کے والد ہر دو تین ماہ بعد ایک دنبہ ذبح کر کے یخنی میں دیگ پکاتے اور تمام دوستوں کو بلاتے۔ اُس گوشت کا ذائقہ ابھی تک زبان سے چمٹا ہوا ہے۔ اللہ دونوں کے والدین کو اعلیٰ مقام عطا کرے،

Read more

خدائی فوجدار

پرسوں رات عشاء کے بعد بیگم کو لے کر سسرال چلے۔ طبیعت پوچھی۔ میرے سُسر بہت تعلیم یافتہ اور پرہیزگار ہیں۔ اُن کی نصیحتیں سُنیں۔ ساس کے ساتھ ہنسی مذاق کیا اور واپس روانہ ہوئے۔ ایک گلی کو کراس کرنے لگے تو ایک بزرگ سڑک پار کرتے کرتے رُک گئے۔ میں نے بریک لگائے۔ اُن کو رستہ دیا۔ تاہم جب وہ سڑک پار کر گئے تو میں نے اُن کے پاس گاڑی روکی اور شیشہ نیچے کر کے معذرت کے

Read more

جاپانی روزہ

ایک گھسا پِٹا لطیفہ ہے کہ جاپان میں ایک پاکستانی تجارت کے سلسلے میں مقیم تھا۔ اتفاق سے رمضان وہیں پر شروع ہوا۔ صبح جب مسلمان نے کافی نہیں پی تو ساتھیوں نے استفسار کیا۔ پاکستانی بولا کہ یہ ہمارا مقدس مہینہ ہے جس میں فجر سے مغرب تک کھانے پینے پر پابندی ہوتی ہے۔ جاپانیوں نے لنچ کے وقفے میں روزے کے بارے میں مزید معلومات شیئر کرنے کی خواہش کی۔ ہمارے شیر نے اُنہیں بتایا کہ کس طرح

Read more

اللہ کے مہمان

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ساری زندگی عبادت قرار دی ہے۔ تاہم نماز، زکوٰۃ، حج و عُمرہ وغیرہ دوسرے بھی دیکھتے ہیں۔ ایک روزہ ایسی عبادت ہے جسے اللہ نے خاص اپنے لئے چُنا ہے کہ یہ عبادت بندے اور اُس کے مابین کا معاملہ ہے۔ ورنہ کوئی بھی شخص چُپکے سے پانی پی سکتا ہے۔ کھانا کھا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس کی ذات باری تعالیٰ کی بندوں سے محبت ستر ماؤں سے زیادہ ہے۔ کبھی آپ

Read more

کامیابی لوگوں کی خدمت میں ہے

آج صبح پہلے آپریشن کے ختم کرتے کرتے میرا موڈ آگ بگولا بن گیا تھا۔ اگلے ڈیڑھ گھنٹے صرف نہ دوسروں کی کاہلی اور سُستی کا شکار ہوتا رہا۔ بلڈ پریشر بھی اُسی رفتار سے بڑھتا رہا۔ اور رفتہ رفتہ غصے پر کنٹرول کھو بیٹھا آج انتہائی خوشگوار موسم کے ساتھ گھر سے نکلا۔ گاڑی میں ”خوش رہئے“ قسم کی کتاب سُنتا رہا۔ میں عموماً اپنے سٹاف سے پہلے پہنچ جاتا ہوں اور دفتر کی بتیاں، ائر کنڈیشنر خود ہی

Read more

ہنسنے میں کیا ہرج ہے؟

میرے ایک سکول کے ہم جماعت پپو جیسے گول مٹول تھے۔ میڈیکل کالج تک ساتھ پڑھتے رہے۔ ہم ان کے ”پپو پن“ کا مذاق اڑاتے تو وہ سے بڑھ چڑھ کر اپنے آپ پر کئی اور لطیفے گھڑ لیتے اور ہم سے اونچے قہقہے اسی کے لگتے۔ ایک دن میں نے انہیں پکڑ کر مصنوعی غصے سے کہا کہ ”تم اپنا مذاق خود اڑا کر ہمیں چھیڑنے سے محروم کر دیتے ہو“ وہ ہنس پڑا کہ اگر میں یہ نہ

Read more

ڈاکٹروں کا مریضوں سے سلوک – کیا صحیح ہے کیا غلط

الف خان صاحب کا وارڈ تھا۔ اتوار کا دن تھا۔ اتوار کا دن چھٹی کا دن ہوتا تھا اور وارڈ کی رگڑ رگڑ صفائی ہوتی تھی۔ بستر مریضوں سمیت برآمدے میں ڈالے جاتے۔ اب شو مئی قسمت سے ہماری ہی ایمرجنسی تھی۔ یہ سن 1984 کی بات ہے۔ ابھی نہ پی جی ایم آئی بنی تھی اور نہ کارڈیالوجی کا یونٹ تھا۔ الف خان نے نرسوں کو بھی ای سی جی اور چیسٹ ایکسرے، خون کے ٹسٹ پڑھنے میں ماہر

Read more

ایک حنوط شدہ نسل کے اعترافات

چند ماہ پہلے ایک دوست کے بیٹے کی شادی کا سندیسہ وٹس ایپ پر ملا۔ ”میرے بیٹے ڈاکٹر احمد کی شادی خانہ آبادی ڈاکٹر سمیرا سے طے پائی ہے۔ دلہا اور دلہن کی خواہش پر ، تقریب نکاح مسجد شمسی میں جمعہ کی نماز کے بعد ہوگی۔ اگر آپ اسی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو آپ کی شمولیت ہمارے لئے باعث عزت ہوگی اور منہ بھی میٹھا کرسکیں گے۔ ولیمہ محدود ہے۔ مقامی دار الایتام میں صرف بچوں کے

Read more

بالغ کون

کئی سال قبل ایک چھوٹی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے قتل کر دیا گیا تھا۔ پورا ملک احتجاج میں کھڑا ہو گیا تھا۔ ہر جگہ مطالبہ ہو رہا تھا کہ مجرموں کو پکڑ کر سرعام پھانسی دی جائے۔ پشاور میں سول سوسائٹی، این جی اوز، خواتین اور علماء کی ایک میٹنگ ہوئی۔ میں بھی مدعو تھا۔ میں نے درخواست کی کہ مجھے تلاوت کا موقع دیا جائے۔ میں نے تلاوت سورۃ بقرہ کی اس آیت سے کی

Read more

مسیحائی کی اذیت

آج کا دن صبح ہی سے نحوست پھیلا چکا تھا۔ کل جس مریضہ کو ٹسٹ لکھے تھے، ان سب کے نتائج زرسانگہ کے لئے پھانسی کے احکامات سے کم نہیں تھے۔ اس کی عمر اٹھائیس سال تھی۔ تین سال کی ایک تتلی جیسی اڑنے والی بیٹی تھی اور ایک نوجوان وفادار شوہر جو میرے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ زرسانگہ کو میں نے کلینک سے باہر نشست پر بٹھایا ہوا تھا۔ اس کی چھاتی کا کینسر آدھی چھاتی تو

Read more

مستقبل کی پلاننگ

اس وقت بالخصوص پاکستان اور بالعموم مسلمان ممالک کے بڑے مسائل کسی مذہب سے تعلق ہی نہیں رکھتے۔ وہ عام معاشرت کے مسائل ہیں۔ جدید تعلیم سے جہالت سب سے بڑا سانحہ ہے۔ یہی سانحہ نہ صرف ہمارے تنزل کا ذمہ دار ہے بلکہ ہمیں روز بروز غربت میں بھی دھکیل رہا ہے۔ دنیا بھر کی معیشت زرعی سے صنعتی ہوئی۔ مواصلات کی بہتری سے ترقی کا دوسرا اور انٹرنیٹ سے تیسرا انقلاب بپا ہوا۔ اس وقت ذہانت کی معیشت

Read more

باوا بندر، بنوں اور ارتقا

جب مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ ملا تو میری سب سے زیادہ دلچسپی علم الابدان (اناٹومی) میں پیدا ہوئی۔ اور سچ بتاؤں تو آج یہ دلچسپی پینتالیس سال بعد بھی اُسی طرح برقرار ہے۔ بالکل بچوں کی مانند یہ جسم اب بھی میرے لئے ایک حیرت کدے سے کم نہیں۔ اسی دل چسپی کی بنیاد پر مجھے اناٹومی میں گولڈ میڈل ملا۔ انسانی گھٹنے کے مطالعے کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ ایشیائی باشندوں اور مغرب کے رہنے والوں کے

Read more

دس ڈالر

دیوار گریہ یہودیوں کا ایک مقدس مقام ہے۔ یہ دراصل ان کے ایک پرانے دور کے معبد کی چہار دیواری کا باقی ماندہ حصہ ہے جہاں وہ جمع ہو کر عبادت کرتے تھے۔ اب اس دیوار کو رخ کر کے استغفار کرتے ہیں۔ روتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں۔ ایک مفلوک الحال یہودی زور سے چلا چلا کر دعا مانگ رہا ہے اے خدا، دس ڈالر چاہئیں۔ جلدی سے دے دے۔ پاس میں ایک امیر یہودی خاموشی سے دعا مانگ رہا

Read more

بچوں کی پیدائش اور ہمارا رویہ

پچھلے سال ہم مونٹریال میں تھے۔ وہاں ہم نے چند راتیں ایک ائر بی این بی میں میں گزاریں۔ اُس کا مالک ایک نہایت ہی تیز اور قابل بندہ تھا۔ ساری دُنیا دیکھی تھی۔ اُس نے ائر بی این بی کھولا ہی اس مقصد کے لئے تھا کہ دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ وقت گزارے۔ چُنانچہ وہ ہمارے ساتھ ناشتے پر اور رات کو سونے سے قبل گپ شپ لگاتا۔ اُسکی پہلی بیوی سے ایک بیٹی تھی جو جوان

Read more

موت کی پہلی علامت

موت کی پہلی علامت صاحب  یہی احساس کا مر جانا ہے  (ڈاکٹر عُبیداللہ) مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی عید کے دن آپریشن تھیٹر کی چھٹی کی ہو۔ ایک تو میں پشاور ہی میں رہتا ہوں۔ باقی سٹاف دور دراز علاقوں سے ہوتا ہے اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ عید وہیں گزار سکیں۔ اس دفعہ عید سے ایک دن قبل ایک جوان خاتون ”پریشر کوکر“ کے پھٹنے کا شکار ہوئیں۔ ان کا چہرہ بالکل درمیان سے گویا کلہاڑی سے مارا گیا ہو۔ تین چار ہسپتالوں سے واپس

Read more

انا کے سارے شیشے آخر چکنا چور ہوئے

آج سے دو دہائی قبل میرے پاس صوابی سے ایک پندرہ سولہ سالہ یتیم لڑکی آئی۔ اسے گھر میں کھانا بناتے آگ لگ گئی تھی۔ ان دنوں میں واحد پلاسٹک سرجن تھا پورے صوبے میں۔ ایک خر دماغ گورنر کے سرکاری پریشر کے تحت استعفیٰ دے کر ایک پرائیویٹ ہسپتال منتقل ہو گیا تھا۔ بچی کو جلے ہوئے سال ہو گیا تھا اور اس کی ٹھوڑی سینے سے چپکی ہوئی تھی۔ اسی حالت میں وہ لوگوں کے کپڑے سی کر

Read more

مرگی کے مریض کی دیکھ بھال کیسے کی جائے؟

میرے ’نیکسٹ‘ کہنے سے قبل ہی ایک بزرگ صورت شخص شٹل کاک برقعے میں ملبوس خاتون کے ساتھ کلینک کے معائنہ خانے میں داخل ہوا۔ بزرگ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ میں نے تسلی دی اور اتنا وقت دیا کہ خاتون برقع سنبھال کر آرام سے دو سانس لے سکیں۔ بزرگ سے تو بولا نہ گیا اس لئے میں خاتون کی طرف متوجہ ہو گیا۔ ہمارے معاشرے میں اگرچہ ڈاکٹروں کو اب بھی ’مائی باپ‘ کہا جاتا ہے

Read more

جوڑوں میں پیار بڑھانے والی محبت کی پانچ زبانیں

فرید میرے کزن تھے۔ ان کی شادی اپنے بچپن کی محبت میری کزن ثریا سے ہوئی تھی۔ لیکن شادی کے بعد فرید نے محبت کی آنچ میں کوئی کمی نہیں آنے دی تھی۔ فرید ہر وقت اپنی دنیا میں مست رہنے والے تھے۔ ہم ہمیشہ ان کو ہنستے مسکراتے ہی دیکھا تھا۔ ان کا فطری قہقہہ ہمیشہ سے مجھے یاد رہا۔ اس جوڑے کی محبت ایک شمع کی طرح ٹمٹماتا شعلہ نہیں تھا بلکہ تاریک سمندر کے درمیان ایک روشنی

Read more

بچوں کا جنسی استحصال

ہم سب کے بچے بھی نعیم ہیں۔ سینتالیس منٹ، جی ہاں صرف سینتالیس منٹ اور شرم کے تھپڑوں کی بارش۔ یہ ایک ڈاکومنٹری اگر آپ نے نہیں دیکھی تو آپ میرے پیارے شترمرغ ہیں جو سر ریت میں دبا کر یہ سمجھتے ہیں کہ ”باقی سب خیر ہے“ نعیم ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ آٹھ سال کی عمر میں اس کے والدین فوت ہوئے تو سر سے پیار کا سایہ اٹھ گیا۔ دو تین سال تک ہر جگہ سے

Read more

ملالہ کی کتاب سے ماخوذ: ہم دیس سے نکالے گئے لوگ

ایک چھوٹی بچی کے لئے جنت کا تصور کیا ہو سکتا ہے؟ ہر طرف سبزے کی چادر، بہتی ندیاں اور دریا، برف سے ڈھکے ارد گرد کے پہاڑ! اگر یہی جنت ہو سکتی ہے تو یہی اس کا گھر، قصبہ اور جائے پیدائش تھی۔ تبھی تو لوگ اسے مشرق کا سوئٹزرلینڈ کہتے تھے۔ اس بچی کا بچپنا اسی جنت میں تھا۔ اچانک ایک خوفناک زلزلہ آیا اور بہت سے گھروں کو زمین بوس کر دیا۔ کئی لوگ مرے اور زخمی

Read more

مسیحاؤں کی اذیت

آج کا دن صبح ہی سے نحوست پھیلا چکا تھا۔ کل جس مریضہ کو ٹسٹ لکھے تھے، ان سب کے نتائج زرسانگہ کے لئے پھانسی کے احکامات سے کم نہیں تھے۔ اس کی عمر اٹھائیس سال تھی۔ تین سال کی ایک تتلی جیسی اڑنے والی بیٹی تھی اور ایک نوجوان وفادار شوہر جو میرے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ زرسانگہ کو میں نے کلینک سے باہر نشست پر بٹھایا ہوا تھا۔ اس کی چھاتی کا کینسر آدھی چھاتی تو

Read more

بہو کا استحصال اور طبی دیانت داری

آج میں آپریشن اور او پی ڈی ختم کر کے نکل ہی رہا تھا کہ میری سیکریٹری نے بتایا کہ ایک خاتون ابھی آئی ہیں۔ اور کل آنے سے قاصر ہے۔ میں واپس اپنے آفس کی طرف مڑ گیا۔ ثمینہ ایک نوجوان اور با اعتماد خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کر دیا۔ داہنے ہاتھ کی الٹی سطح آدھی سے زیادہ جل گئی تھی۔ میرے کریدنے پر بتایا کہ وہ چند ماہ قبل کھانا پکاتے ہوئے جل گئی

Read more

اجتہاد سے فرقہ پرستی تک

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب پیٹ کے زخم کے باعث وفات کے قریب پہنچے تو انہوں نے چھ صحابہ کرام پر مشتمل کمیٹی بنائی جس کو اگلے امیرالمومنین کے انتخاب کا کام سونپا گیا۔ کمیٹی کے ارکان یہ تھے : علی بن ابی طالب عثمان بن عفان عبد الرحمن بن عوف سعد بن ابی وقاص زبیر بن عوام طلحۃ بن عبیداللہ یہ وصیت بھی کی کہ عبداللہ بن عمر کو امارت نہ سونپی جائے۔ کمیٹی نے اتفاق رائے سے

Read more

تعلیم اور پیشہ: بچوں کو سرمایہ کاری اور ہنر سکھائیں

ضرار کو میڈیکل کالج میں داخلہ ملا تو اس کے والد نے پورے پانچ سال کی فیس اس کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی اور کہا ”بیٹا! یہ تمہاری ساری پونجی ہے۔ اس سے کسی بھی چیز میں سرمایہ کاری کرو اور اپنا جیب خرچ اور کالج کی فیس اسی سے نکالنی ہے“ ۔ ضرار نے فوراً ادھر ادھر سے معلومات لینی شروع کیں۔ ایک بینک کے میوچل فنڈز اسے قابل اعتبار لگے اور کچھ پیسے اس میں جمع کر

Read more

مرگی: دماغ کا شارٹ سرکٹ

آج میں جیم سے نکلا تو اگلے چوک پر ایک ہجوم سڑک کے بیچ رستہ بند کیے ہوئے تھا۔ گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک دس بارہ سالہ لڑکا زمین پر پڑا جھٹکے کھا رہا ہے۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ آس پاس امرسوں کی ٹوکری الٹی پڑی تھی۔ لوگوں نے اس کے پاؤں اٹھائے تھے۔ جبکہ ایک شخص بچے کو جوتا سنگھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ ہر لحاظ سے مرگی کا ایک دورہ

Read more

عمران خان اور پختونخوا

آپ پختونخوا کی عوام کو جاہل سمجھیں، ان پڑھ کہہ لیں یا جانگلی کہیں۔ ایک خوبی مانیں گے۔ یہاں کوئی خان اور غریب کا فرق نہیں۔ بڑے بڑے لینڈ لارڈ جب اپنی زمینوں پر کسی کسان سے ملتے ہیں تو پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی طرح، کسان ان کے پیروں نہیں پڑتا۔ بلکہ مٹی سے لتھڑے ہوئے ہاتھ اپنے قمیض سے پونچھ کر خان سے ملاتا ہے۔ وہ کسی کے کہنے اور برادری کو بھی خال خال ووٹ دیتا ہے۔

Read more

سلامتی کا راستہ

ٹورانٹو ائر پورٹ سے سیدھے ہم میریٹ ہوٹل پہنچے۔ وہاں چیک ان کرنے والوں کی قطار دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ اس ویک اینڈ پر دراصل ایک تہائی کینیڈا کا نہ صرف انٹرنیٹ ڈاؤن تھا بلکہ ہوٹل کا اپنا نیٹ ورک بھی بند پڑا تھا۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کون سے کمرے خالی ہیں۔ ادھر ہم بیس گھنٹے کے سفر کے بعد پہنچے تھے۔ میری بیگم کے گھٹنے میں ذرا درد ہو رہا تھا تو احتیاطاً اپنے

Read more

ڈاکٹر کی نظر میں اچھا مریض کون ہے؟

گزشتہ روز میرا پہلا مریض ایک تین سالہ بچہ تھا۔ میں نے اس کی ماں کو سٹول پر بیٹھنے کو کہا کہ بچے کو گود میں لے لے اور اس کے والد کو کرسی پیش کی۔ حسب معمول میں نے دراز کھولی اور ایک لالی پاپ بچے کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ اس کے دونوں ماں باپ نے ایک آواز سے کہا ”تھینک یو بولو!“ میں ہنس پڑا اور مزاحاً دونوں سے کہا کہ اگر آپ اس بچے کو گھر

Read more

کچھ ادائے کافرانہ: مغربی ممالک کے کچھ تجربات اور مشاہدات

میں کسی کام سے لندن میں ایک ڈاکخانے گیا۔ قطار لمبی تھی تو میں ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ میرے سامنے ایک جوان جوڑا بیٹھا ہوا تھا۔ میں ویسے ہی خلا میں گھور رہا تھا۔ اچانک اس لڑکی نے میری طرف دیکھ کر اپنے بوائے فرینڈ کو کہا کہ دیکھو یہ شخص مجھے گھور رہا ہے۔ میں پہلے تو سمجھا نہیں لیکن جب سمجھ آئی تو جاکر ان سے معافی مانگی کہ میں ان کو نہیں گھور رہا تھا، میں

Read more

مرگی یا دماغ کا شارٹ سرکٹ

آج میں جیم سے نکلا تو اگلے چوک پر ایک ہجوم سڑک کے بیچ رستہ بند کیے ہوئے تھا۔ گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک دس بارہ سالہ لڑکا زمین پر پڑا جھٹکے کھا رہا ہے۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ آس پاس امرسوں کی ٹوکری الٹی پڑی تھی۔ لوگوں نے اس کے پاؤں اٹھائے تھے۔ جبکہ ایک شخص بچے کو جوتا سونگھا نے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ ہر لحاظ سے مرگی کا ایک

Read more

ایک لیڈی ڈاکٹر کے دن بھر کی عیاشی، اسی کی زبانی

گزشتہ ہفتے میرے ایک دوست کی بہو ہسپتال میں ڈیلیوری کے لئے داخل ہوئی۔ میں خود تو گائناکالوجسٹ نہیں لیکن میری بیگم تخلیق کے اس عمل میں برابر کی شریک ہے۔ میرے دوست ہر دو گھنٹے بعد فون کرتے کہ آپریشن کیوں نہیں شروع کرتے۔ تنگ آ کر میں نے فون اپنی بیگم کو پکڑا دیا۔ بیگم نے بتایا کہ یہ نئی ماں پہلے بچے کی پیدائش کے عمل سے گزر رہی ہے۔ پہلی ڈیلیوری عموماً ایک سسپنس زدہ، مشکلات

Read more

دماغ کی جادوگری

یہ جو کلو بھر، نرم نرم، خوبصورت نقش و نگار والا پیڑا سا، ہمارے جسم کے اوپر ایک ہڈیوں سے بنے مضبوط سیف میں پڑا ہوا ہے نا، بڑا جادوگر ہے۔ یہ جو ہمیں کسی حقیقت پر قائل کرے، ہم اسے ہی حقیقت مانتے ہیں۔ خواہ وہ شے صرف واہمہ ہو۔ غرض اگر یہ مصرعہ کسی جادوگر کے بارے کہا جائے ”جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے“ تو وہ یہی دماغ ہے۔ یہ اتنا کائیں ہے کہ ہماری

Read more

راوی چین ہی چین کیوں نہیں لکھتا

اب کے وبا آئی تو خود پھیلنے سے قبل ہی اتنا اضطرار پھیلا چکی تھی کہ مہذب ممالک میں بھی لوگوں نے ذخیرہ اندوزی اور گرانی کو اٹھانے میں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ کنزیومر پرائس انڈیکس گرانی اور افراط زر کے حساب لگانے کا ایک حد تک صحیح پیمانہ ہے۔ اس کے بڑھنے میں کئی عوامل کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر روزمرہ کی خوراک کی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ایک وجہ تو انفرادی ذخیرہ

Read more

حرکت میں برکت

ارتقاء کا عمل کسی بھی جاندار کو بقا کی جنگ کے لئے مضبوط بناتا ہے تاکہ وہ ماحول کا مقابلہ کر سکے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کوئی پودا بھی اگر دھوپ یا جگہ نہ ہو تو اپنی شکل موڑ کر کسی نہ کسی طریقے سے دھوپ تک پہنچنے کے لئے اپنی بقا کو برقرار رکھتا ہے۔ ہمارے آبا و اجداد کی زندگی ساری بقا کی جنگ تھی۔ بھوک کے لئے شکار کرنا پڑتا اور ہر قسم کے خطرے

Read more

گالیاں کھانے اور بد دُعائیں کمانے کے طریقے

اس وقت پورنوگرافی یا ننگی فلموں کا کاروبار سالانہ بارہ ارب ڈالر کماتا ہے۔ اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آپ کسی بھی موضوع پر کسی قسم کی فم دیکھنا چاہیں وہ کسی حد تک مفت اور زیادہ دورانیہ یا اچھی ریزولوشن پیسے دے کر مل جاتی ہیں۔ بونڈیج یا BDSM کے نام جو فلمیں ہوتی ہیں ان می تشدد دکھایا جاتا ہے۔ یہ تشدد ہاتھ پیر باندھ کر چابک سے مار کھانا، ٹانگوں کے درمیان نازک اعضاء

Read more

صفر اور ایک کے درمیان پھنسا چغد

کیا آپ کسی ایسے چغد کو جانتے ہیں جس کو سوائے صفر اور ایک کے نہ کوئی دوسرا عدد آتا ہو اور نہ حرف۔ اور پھر بھی آج کی دنیا میں اس کی مالی حیثیت ایک سو پچاس کھرب ڈالر کی ہے۔ مجھے یقین ہے آپ نہ صرف جانتے ہیں بلکہ اس وقت اسی کے دماغ سے یہ الفاظ بھی پڑھ رہے ہیں۔ جی ہاں کمپیوٹر یا اس کی ہتھیلی میں پکڑنے والی قسم یعنی سمارٹ فون ہے۔ ٹھہرئیے میں

Read more

شوگر اور پاؤں

سلیم صاحب ویل چیئر میں بیٹھ کر میرے کلینک میں تشریف لائے۔ وہ ابھی ابھی ایک ڈائرکٹر کی پوسٹ سے ریٹائر ہوئے تھے۔ گزشتہ دس سال سے شوگر کے مریض تھے اور اب ایک پاؤں میں کافی بڑا زخم تھا جو ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میں نے علاج کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ ان کا شوگر کنٹرول میں ہے۔ مزید بتایا کہ مہینے میں ایک بار خون کے شوگر کا ٹسٹ کرتے رہتے

Read more

راوی چین ہی چین کیوں نہیں لکھتا

راوی چین ہی چین کیوں نہیں لکھتا؟ اب کے وبا آئی تو خود پھیلنے سے قبل ہی اتنا اضطرار پھیلا چکی تھی کہ مہذب ممالک میں بھی لوگوں نے ذخیرہ اندوزی اور گرانی کو اٹھانے میں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ کنزیومر پرائس انڈیکس گرانی اور افراط زر کے حساب لگانے کا ایک حد تک صحیح پیمانہ ہے۔ اس کے بڑھنے میں کئی عوامل کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر روزمرہ کی خوراک کی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی

Read more

کلچر اور مذہب

حضرت عمر رض کے دور میں ایران فتح ہوا۔ ایرانی مسلمانوں کا ایک وفد مدینہ اس شان سے آیا کہ سب نے عرب لباس پہنا ہوا تھا۔ حضرت عمر رض بڑے رنجیدہ ہوئے۔ بلکہ کوڑا لہرا کر ان کو کہا کہ یہ عرب کلچر ہے، اسلام کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ آپ فوراً جاکر اپنا ایرانی لباس پہنیں۔ اپنے کلچر کو چھوڑنا اسلام اور ایمان کا حصہ نہیں۔ جب رسول اللہ نے نبوت کا اعلان کیا اور لوگ

Read more

انگلینڈ میں ایمان کیوں تازہ ہوتا ہے؟

جب مجھے انگلینڈ میں پہلی تنخواہ کی سلپ ملی تو میں بھنا گیا۔ ایک تو مجھ سے ٹیکس زیادہ کاٹا گیا تھا اور دوسرے میری سینیارٹی ساری غتر بود کی گئی تھی جس سے میری تنخواہ میں کافی کمی آئی تھی۔ میں غصے سے بھرا ایڈمنسٹریٹر کے دفتر میں پہنچا، جو کہ ان دنوں ایک سینئر خاتون تھیں۔ انہوں نے عزت سے بٹھایا۔ چائے کافی کا پوچھا۔ میں نے معذرت کی اور سیدھا برسر مطلب آیا۔ میری شکایت پر انہوں

Read more

اللہ کے گھر پر قبضہ ختم کرو

خطیب صاحب کی آواز میں زبردست گھن گرج تھی۔ مسجد کے گرد مارکیٹ تو یوں سمجھ لیں ان کی جاگیر تھی۔ میرے ایک دوست پراپرٹی ڈیلر سے ایک دن اپنی بیٹی کے جہیز کے لئے واشنگ مشین مانگی۔ انہوں نے ایک عام پاکستانی مشین خرید کر مولانا صاحب کے گھر بھجوا دی۔ اس پر غضب ناک ہو کر انہوں نے مشین میرے دوست کے آفس کے سامنے پھنکوا دی کہ غیر ملکی آٹومیٹک کیوں نہیں خریدی؟ موصوف کی زبان کی

Read more

سینڈوچ کا مزا

ایک نظام کے تحت ہمیں اپنے ماتحتوں کی غلطیوں کی نشاندہی کا مہذب طریقہ ورک شاپس کے ذریعے سے سمجھایا گیا۔ اسے کہتے ہیں فیڈ بیک۔ اور مہذب طریقے سے تنقید کے انداز کو سینڈوچ ٹیکنیک کا نام دیا گیا۔

جب آپ کسی ماتحت کی غلطی کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں تو سب سے اہم امر یہ ہے کہ وہ دوسروں کے سامنے نہ ہو۔ ہر انسان کی عزت نفس ہوتی ہے خواہ وہ دو سال کا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔ سینڈوچ کی پہلی تہہ اس ماتحت کی خوبیوں، محنت کوشی اور ڈیوٹی کے بارے ہوتی ہے۔ اس تعریف سے ماتحت میں اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر نہایت آرام سے اور آواز اونچی کیے بغیر اس کی کسی کوتاہی، دانستہ یا غیر دانستہ غلطی یا کسی اور کمی کو زیر بحث لایا جاتا ہے

Read more

اسلامی نظام: کوہ قاف کی پری

میں نے کوہ قاف کی پری تو نہیں دیکھی لیکن بچپن میں عمرو عیار کی کہانیاں ضرور پڑھی تھیں۔ کوہ قاف کا سلسلہ روس اور جارجیا وغیرہ میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کی عورتیں اگرچہ خوبصورت ضرور ہیں لیکن مولانا طارق جمیل کے معیار پر ہرگز پوری نہیں اترتیں۔ یعنی امکان نہیں کہ کہیں ہمارا ٹکراؤ اس حسین ماورائی مخلوق سے ہو جائے۔ ایک جھیل سیف الملوک کے بارے مشہور ہے کہ وہاں آتی رہتی ہیں۔ لیکن کئی راتیں گزارنے

Read more

ایک اور طرح کی تبلیغ

صبح کے وقت شہروں میں تقریباً ہر گھر میں ایک ہنگامہ برپا ہوتا ہے۔ کسی بچے کے سکول کی ایک کاپی گم ہو گئی ہوتی ہے اور کسی کے جوتے پالش نہیں ہوئے ہوتے۔ صاحب نے کام پر جانا ہوتا ہے اور جلدی میں بغیر استری کیے شرٹ پہن لیتا ہے کہ اس کے اوپر ویسے بھی کوٹ ہی تو پہننا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں (اصل میں بے وقت ہی) دروازے پر کوئی آ کر ملنا چاہے تو دل

Read more

نکمے اور شریر بچوں کو کیسے سدھارا جائے؟

میرے ایک دوست ہیں۔ سلیم نام فرض کر لیں۔ ایک قابل ڈاکٹر ہیں۔ جب انگلینڈ میں سپیشلائزیشن کرلی تو بڑے شوق سے اپنے ملک میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے آ گئے۔ ان کے دوسرے بھائی بہن بیرون ملک مقیم تھے اس لئے ان کو اپنے والدین کی خدمت کا بھی خیال تھا۔ ظاہر ہے جب تمام بچے ملک سے باہر ہوں تو والدین کو پریشانی ضرور ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے والد جو خود بھی ڈاکٹر ہیں، بہت

Read more

سلام یا مرتبے کا اظہار

’السلام علیکم سر‘ ہسپتال کے کار پارک میں گاڑی سے نکلتے ہی وہاں کے اردلی نے ہاتھ سر پر رکھتے ہوئے کہا۔ میں نے جواب دیا اور ہاتھ بھی سر تک لے گیا۔ تاہم جب میں گاڑی سے اپنا بریف کیس نکالنے لگا تو وہ دوڑ کر آیا اور میرے ہاتھ سے لینے لگا۔ میں نے نرمی سے انکار کیا لیکن وہ مصر رہا کہ میرا سامان میرے ساتھ ہی لے جائے گا۔ آخر کار میں نے سختی سے منع کیا اور اپنا بریف کیس ہاتھ میں لے کر وارڈ روانہ ہوا۔ میرے پہلے پہلے دن تھے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ میں تازہ تازہ انگلینڈ سے آیا تھا اور ابھی ایک ترقی یافتہ قوم کی اخلاقیات کے زیر اثر تھا۔ چند لوگوں کے سوا ہسپتال کا زیادہ تر سٹاف مجھے نہیں جانتا تھا۔ چنانچہ اندرونی گیٹ پر اردلی نے روکا۔ میرے حلیے کو اوپر نیچے دیکھا اور میرے ہاتھ میں بریف کیس دیکھ کر میڈیکل ریپ سمجھ بیٹھا۔ ہاتھ دراز کر کے دوائیوں کے سیمپل مانگے۔ میں ہنس پڑا اور اپنا تعارف کروایا۔

Read more

بزرگوں کے لئے بیڈے ٹوائلٹ کی اہمیت

یہ سن اسی کی بات ہے کہ ایک جاپانی انجنیئر کے والد کو گھٹنوں میں تکلیف کے باعث ٹوائلٹ استعمال کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ انجینئر نے اس کا حل بڑی محنت کے بعد یہ نکالا کہ ٹوائلٹ کے اندر سے ایک پائپ نکال کرایسے سیٹ کیا کہ بٹن دبانے سے پانی کی ایک خود کار دھار نکل کر استنجا کرلیتی ہے۔ اس دھار کے رخ اور زاوئے پربہت تحقیق ہوئی اور اس کے بعد اسے استعمال میں

Read more

نوکری اور آزادی

میری چھوٹی بیٹی صبا نے جب لمز میں داخلہ لیا تو ہمیں بڑی تشویش ہوئی کہ گھر سے اتنا دور ہاسٹل میں کیسے رہے گی۔ تاہم وہ بہت جلد ہی لاہور میں مانوس ہو گئی۔ بلکہ جب ہم کبھی اس سے ملنے جاتے تو وہ ہماری رہنمائی کرتی۔ جب اس کا کورس درمیان میں پہنچا تو چھٹی پر گھر آئی۔ تاہم یہاں بھی کاغذات کا ایک پلندا لے کر آئی۔ ایک دن میں نے پوچھا کہ ان کاغذات میں کیا کر رہی ہے تو بولی کہ دو سال بعد جب وہ لمز سے فارغ ہوگی تو اس کا ارادہ کوئی معمولی ملازمت کرنے کا ہے۔

Read more

منبر و محراب کے رکھوالوں سے ایک درخواست

پروفیسر فیروز شاہ صاحب کو خدا بخشے، ہمارے استاد تھے۔ اچھے سرجن تھے اور بزلہ سنج تھے۔ حافظ قرآن تھے اور سمجھتے بھی تھے۔ ہمیشہ کتاب کا ساتھ رہتا تھا۔ ہمیں بھی ہسپتال یا کالج میں کتاب کے بغیر دیکھتے تو کہتے ’کافر مت بنو، اہل کتاب بنو‘ ۔ ایک دفعہ کہنے لگے کہ آدم علیہ السلام کو بھی تو اللہ نے نقل دی تھی۔ تبھی تو فرشتوں کے مقابلے میں پاس ہو گیا تھا۔ فیرزشاہ مرحوم کا اپنا انداز

Read more

مشق مشق کی بات ہے

پرانے زمانے کی بات ہے، گاؤں میں ایک مداری اپنے کرتب دکھانے آیا۔ اس کے پاس ایک بندر تھا اور ہاتھ میں تیر کمان۔ بندر کو ایک سیب دے کر دور کھڑا کیا۔ بندر نے سیب سر پر رکھا۔ مداری نے تیر کمان میں لگایا اور کمان کھینچ کر سیب کا نشانہ لیا۔ سب تماشائیوں نے سانس روک لیا۔ تیر چھوٹا تو عین سیب کے درمیان جا ٹھہرا۔ تالیاں بجیں اور بجتی رہیں۔ جب شور کم ہوا، تو پیچھے بیٹھا تیلی بولا:

”یہ تو کچھ بھی نہیں۔ بس مشق مشق کی بات ہے۔“

Read more

اقلیت کا درد

میں جب پہلی بار برطانیہ گیا اور کام شروع کیا، تو ہمیں با جماعت نماز کے لئے بہت کم مواقع ملتے تھے۔ برمنگھم برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں پر ایک مرکزی مسجد بنی ہوئی ہے، لیکن یہ میری قیام گاہ اور اسپتال دونوں سے دور تھی۔ میں چوں کہ ٹراما سنٹر میں کام کر رہا تھا، اس لئے ہر وقت بس آپریشن تھیٹر کے کپڑے پہن کر ہی دن رات گزرتے تھے۔ جمع کو بھی خال خال ہی موقع ملتا کہ ایک طرف سیریئس مریض ہوتے تھے اور دوسری طرف ایک مذہبی ذمہ داری تھی۔

ہمیں حلال گوشت بھی صرف چند دکانوں پر ملتا تھا۔ جب تک میں اکیلا تھا، تو ایک نزدیکی مسلمان کے ریستوران سے کھانا لیتا تھا۔ تاہم مسئلہ یہ تھا کہ وہ صرف چکن اور چپس بناتا تھا۔ مجھے ان چند مہینوں میں چکن اور آلو سے اتنی نفرت ہو گئی تھی کہ کئی سال میں نے ان کا بائیکاٹ کیے رکھا۔ خیر یہ تو وہ وقت تھا، جب حلال کھانا پھر بھی مل جاتا تھا۔ چار پانچ سال گزار کے میں واپس پاکستان آ گیا۔

Read more

مولوی گائیڈننگ سسٹم

میں پشاور سے رات کے وقت ایک شادی میں شرکت کے لئے اسلام آباد جا رہا تھا۔ شادی ہال کا پتا نکالا، گوگل میپس میں لگایا اور جی پی ایس آن کیا۔ رستے میں دوستوں سے پرانی باتیں کر کر کے رستہ کم کر رہے تھے۔ اسلام آباد ٹول پلازا کراس کر کے میں نے کچھ پوچھا۔ کسی نے ریڈیو پر نغمہ لگایا اور ہم اس وقت چونکے جب فون سے آواز آئی کہ ”اب آپ کو متبادل رستہ فراہم کیا جا رہا ہے“۔ یعنی ہم اپنا اسلام آباد کا ایگزٹ کراس کرچکے تھے۔ دل ہی دل میں اپنے آپ کو کوسا کہ اگلا ایگزٹ پورے پینتالیس کلومیٹر دور چکری پر تھا۔ خیر اپنے اعصاب ٹھنڈے کیے۔ دوستوں سے درخواست کی کہ ذرا جی پی ایس کو غور سے سنیں اور فون کا والیوم بڑھا دیا۔

اب آپ ایک لمحے کو تصور کریں کہ گوگل میپس میں گلوبل پوزیشننگ سسٹم کی بجائے مولوی گائیڈننگ سسٹم لگا ہوا ہے۔ میں نے جونہی رہنمائی سے تھوڑی سی روگردانی کی اور اوپر سے فتویٰ دے دیا۔ ”جا تو بھی کافر۔ اور ہاں تمہارا نکاح بھی ٹوٹ گیا۔ نہیں بتاتا آگے رستہ۔“ اور کٹ سے میرا فون ہی ڈیڈ ہو گیا۔ اب مسئلے کی تو وضاحت ہو گئی۔ یعنی ایک مسلمان اسلام چھوڑ کر کافر ہو گیا۔ مرتد ہو گیا۔ اب اس کا قتل لازم ہے۔ کون عدالت کے بکھیڑے پالے۔ بس ایک گولی۔ وکیل ایک دوسرے سے بڑھ کر عدالتوں میں دفاع کے لئے تیار۔ مقتول کا جنازہ بھی نہیں پڑھا جا سکتا۔ بیوی پہلے ہی سے مطلقہ۔ بچے یتیم اور والدین ایک دوسرے سے منہ چھپا رہے ہیں۔

Read more

حلیم یا دلیم

میرے اچھے خاصے پڑھے لکھے دوست فیس بک اور سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگاتے جاتے ہیں کہ ”خدا“ اللہ کا نام نہیں، بلکہ یہ مشرکوں کا رب ہے۔ اس لئے خدا حافظ کے بجائے اللہ حافظ کہنا چاہیے۔ روز بروز یہ مضحکہ خیز صورت احوال بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

پتا نہیں لوگ ان جزئیات ہی کو کیوں مقصد بنا لیتے ہیں۔ کہیں ”خدا حافظ“ پر اعتراض تو کہیں ان شا اللہ کا پوسٹ مارٹم۔ ہنسی تو اس وقت آتی ہے، جب اچھے پڑھے لکھے لوگ ایک طرف تو حلیم کو دلیم کہنے پر مصر ہوتے ہیں، تو دوسری سانس میں اپنے ڈرائیور کو گالی کے ساتھ ”رحیمہ“ ہ کا لاحقہ لگا کر بلاتے ہیں۔ اور یہ ساری نئی تعلیمات بین الاقوامی شہرت رکھنے والے عالموں کی طرف سے شروع ہوتی ہیں۔ گویا مسلمانوں میں یہی کمی رہ گئی تھی، ورنہ کفار، ہنود و یہود کی توپوں میں کیڑے پڑنے ہی والے تھے۔

Read more

مسکراہٹ کا جادو

چند دہائیاں قبل پہلی مرتبہ ملک سے باہر جانے کا موقع ملا۔ مجھے برطانیہ میں جاب مل گئی تھی۔ اس وقت تک میں نے ساری تعلیم پاکستان ہی میں مکمل کی تھی اور خدا کے فضل سے با قاعدہ ایک سپیشلسٹ بن چکا تھا۔ میرے جیسے پینڈو نے جب ایک مہذب ملک میں پہلا قدم رکھا تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ سڑکیں یا گاڑیاں اور نت نئے مشینی آلات جہاں ایک طرف مجھے مرعوب کر رہے تھے دوسری طرف کئی طریقے سے مجھے کلچرل شاک مل رہے تھے۔ اب تو چوں کہ دنیا سکڑ کر ایک گاؤں بن چکی ہے، اس لئے ہمارے بچے بھی دنیا کے کونے کونے سے واقف ہو چکے ہیں اور مختلف ممالک کے نہ صرف انفرا سٹرکچر سے مانوس ہیں بلکہ ان کے معاشرتی عادات کے بارے میں بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں انٹر نیٹ سے قبل کی دنیا کا ذکر کر رہا ہوں، جب ولایت ہمارے لئے سمندر پار کا ایک جادوئی خطہ ہوتا تھا۔

پہلے چند ہفتے مجھے ایک الجھن یہ ہوتی تھی کہ میں جب کسی سے آنکھیں چار کرتا تو وہ مسکرا دیتا۔ میں فوراً اپنے لباس پر نظر دوڑاتا کہ شاید ٹائی کی گرہ غلط لگائی ہو۔ یا شرٹ کا کوئی بٹن کھلا رہ گیا ہو۔ کہیں میرے منہ پر خون تو نہیں لگا ہوا۔ اسی ادھیڑ بن میں شروع کے دن گزرتے گئے۔ ایک دن میں نے وارڈ میں نرسنگ کاؤنٹر پر دو نرسوں کی گفتگو سنی۔ کسی کے بارے میں کہہ رہی تھیں کہ وہ تو یوں منہ بسورے رکھتا ہے کہ کسی سے نظر ملاتے وقت مسکراتا تک نہیں۔ تب میں آس پاس نظر دوڑانا شروع کی تو دیکھا کہ سبھی لوگ ایک دوسرے سے نظر ملتے ہی سب سے پہلے مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ایک جگہ تو میں نے ایک دیوار پر یہ تحریر بھی دیکھی:

Read more

اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے

میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔ اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔ اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی

Read more

کہیں ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے

مسلمانوں کے خلاف عالمی سازشیں عروج پر ہیں۔ جب بھی مسلمان قوت پکڑنے لگتے ہیں، ہنود و یہود کوئی نہ کوئی نئی سازش کے ساتھ رستہ روک لیتے ہیں۔ اب اس کرونا وائرس کی کہانی ہی دیکھ لیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان الحمد لللہ اب ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگے ہیں، اتنی بڑی عالمی سکیم بنائی کہ پوری دینا کو بیک جنبش قلم ساکت کر دیا صرف اس لئے کہ ہماری مسجدیں اور حرمین اس مبارک

Read more