چند دہائیاں قبل پہلی مرتبہ ملک سے باہر جانے کا موقع ملا۔ مجھے برطانیہ میں جاب مل گئی تھی۔ اس وقت تک میں نے ساری تعلیم پاکستان ہی میں مکمل کی تھی اور خدا کے فضل سے با قاعدہ ایک سپیشلسٹ بن چکا تھا۔ میرے جیسے پینڈو نے جب ایک مہذب ملک میں پہلا قدم رکھا تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ سڑکیں یا گاڑیاں اور نت نئے مشینی آلات جہاں ایک طرف مجھے مرعوب کر رہے تھے دوسری طرف کئی طریقے سے مجھے کلچرل شاک مل رہے تھے۔ اب تو چوں کہ دنیا سکڑ کر ایک گاؤں بن چکی ہے، اس لئے ہمارے بچے بھی دنیا کے کونے کونے سے واقف ہو چکے ہیں اور مختلف ممالک کے نہ صرف انفرا سٹرکچر سے مانوس ہیں بلکہ ان کے معاشرتی عادات کے بارے میں بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں انٹر نیٹ سے قبل کی دنیا کا ذکر کر رہا ہوں، جب ولایت ہمارے لئے سمندر پار کا ایک جادوئی خطہ ہوتا تھا۔
پہلے چند ہفتے مجھے ایک الجھن یہ ہوتی تھی کہ میں جب کسی سے آنکھیں چار کرتا تو وہ مسکرا دیتا۔ میں فوراً اپنے لباس پر نظر دوڑاتا کہ شاید ٹائی کی گرہ غلط لگائی ہو۔ یا شرٹ کا کوئی بٹن کھلا رہ گیا ہو۔ کہیں میرے منہ پر خون تو نہیں لگا ہوا۔ اسی ادھیڑ بن میں شروع کے دن گزرتے گئے۔ ایک دن میں نے وارڈ میں نرسنگ کاؤنٹر پر دو نرسوں کی گفتگو سنی۔ کسی کے بارے میں کہہ رہی تھیں کہ وہ تو یوں منہ بسورے رکھتا ہے کہ کسی سے نظر ملاتے وقت مسکراتا تک نہیں۔ تب میں آس پاس نظر دوڑانا شروع کی تو دیکھا کہ سبھی لوگ ایک دوسرے سے نظر ملتے ہی سب سے پہلے مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ایک جگہ تو میں نے ایک دیوار پر یہ تحریر بھی دیکھی:
Read more