چائے اور سیاست

میرے بہت کم دوست ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن جو ہیں وہ میرے مہا کے قابل بھروسا ساتھی ہیں کیونکہ میرا ماننا ہے کہ آج کے دور میں نئے دوست میں اضافے کا مطلب ایک نئے مخالف یا ایک نئے حریف یا دشمن کا بڑھاوا کرنا ہے اور پرانے دوستوں کو چھوڑنا نہیں کیونکہ ان کو آپ جانتے ہیں ان کی ہر اچھائی اور ہر برائی آپ پر آشکار ہو چکی ہوتی ہے۔ ان سے بچنا آپ کے لئے اسان ہوتا ہے۔ میں ہر مہینے اپنے ایک دوست جس کا نام واحد ہے جسے میں لاڈ سے کہیں یا بہت گہری دوستی کی وجہ سے سنگولر کہہ کر پکارتا ہوں اور وہ ہے بھی اسم بامسمیٰ کیونکہ چھڑا ہے ابھی اس نے شادی کا طوق بقول ان کے گلے میں نہیں پہنا ہے، کے ساتھ ایک دن کے لئے چھٹی کے دن آؤٹ ڈور جا کر پروگرام بناتا ہوں۔

میرا یہ دوست مہا کا سٹوڈنٹ، پڑھاکو، دانشور، فلسفی، ملکی اور بین الاقوامی سیاست سے باخبر آدمی ہے، آدمی میں نے اس لئے کہا کہ وہ چالیس کا ہندسہ اپنے زندگی کے تختہ سیاہ پر ازبر کر کے گزار چکا ہے اور نصف صدی کے پروجیکٹر پر اپنی زیست کی پریزنٹیشن پیش کرنے کے لئے پر تول رہا ہے۔ تو اس مہینہ کے ایک دن کے پروگرام میں وہ ملکی تازہ ترین سیاسی صورت حال کو بڑے مزے سے زیر بحث لاتا ہے۔ ان کی عادت ہے کہ باقاعدہ ٹیبل اور کرسیاں لگا کر بات ہو جس میں پانی، چائے اور ساتھ ساتھ کھاؤ اور چباؤ کا بھی دور چلتا رہے۔

آج جب ہم حسب معمول دونوں ٹیبل کے آمنے سامنے بیٹھ گئے تو جیسے ان کی عادت ہے بات کسی جوک، مثال یا کہاوت سے شروع کرتے ہیں بالکل اسی طرح پہل کی کہ یار ایک ٹیبل پر فور ٹی کپ پڑے ہوئے تھے اس میں سے دو ٹوٹ کر نیچے گر گئے تو کتنے بچے، ظاہر ہے میرے جیسے فوری ردعمل دکھانے والے کی جانب سے اس کا جواب یہی ہوگا کہ اڑتیس کپ بچ گئے۔ جس پر وہ قہقہہ لگا کر ہنسے اور بے تکلفانہ انداز میں بولے تو ڈھگا ہی رہے گا۔ اوہ ڈھگے!

فور ٹی کپ کا مطلب چالیس پیالیاں نہیں میرے سر پر اپنے سیدے ہاتھ کے چار انگلیوں سے تپکی دے کر بولے اس عقل کو بھی کبھی کبھار استعمال کیا کریں، استعمال کرنے سے یہ کم نہیں ہو جائے گا اور نہ یہ سیکنڈ ہینڈ ہو جائے گا۔ جس پر میری بھی ہنسی چھوٹی اور دونوں کے قہقہے ایک ساتھ شروع ہو کر ایک ہی ساتھ ختم ہوئے۔ واحد بولنے لگے یہ جو چائے ہے اس کا سیاست میں بڑا ہاتھ ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی چاٰئے کے کاروبار کی شکل میں برصغیر میں آئی اور یہاں پر صدیوں حکومت کر کے چلی گئی۔

خود نہیں پیتے تھے لیکن ہمیں عادی بنا کر چھوڑ گئے اور آج تک ہم اس کے رسیا ہیں بلکہ ایک نشے کی رسی ہے جو ہمارے گلے میں باندھ دی گئی ہے اور ہم ہیں کہ اس عادت یا نشے میں ہانکے جا رہے ہیں۔ ہاں تو میں بات کر رہا تھا کہ چائے کا سیاست میں بڑا ہاتھ ہے تو آپ کو یاد ہوگا ہم نے مطالعہ پاکستان میں پڑھا ہے کہ سن پینسٹھ کی جنگ میں انڈیا نے حملے سے پہلے کہا تھا کہ ہم صبح کی چائے لاہور میں پئیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا بلکہ چائے تو درکنار سادہ پانی بھی بھاگ کر اپنے گھروں میں تب منہ سے لگایا جب وہ یخ اور ٹھنڈے پڑ گئے۔

اس کے بعد اگر ہم انڈو پاک کی عسکری تاریخ پر نظر دوڑائیں اور ماضی قریب میں آئیں تو انڈین پائلٹ ابی نندن کی مثال ہمارے سامنے ہیں جب ان کا جہاز مار کر گرایا گیا اور ان کو پکڑا تو ہمارے وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں ان کے واپس کرنے کا اعلان کیا۔ اور واپس کرنے سے پہلے جب ان کو ہماری عسکری انٹیلیجنشیا میڈیا کے سامنے لائے تو ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا جس سے وہ بار بار منہ سے لگاتے تھے اور پھر ایک خاص انداز سے شو کیا کرتے تھے۔

جسے عسکری اصطلاحات میں خاص سگنلز یا مخصوص اشارے کہا کرتے ہیں اور اس پر مخصوص لوگ سمجھتے ہیں اور یہ ہوتے بھی مخصوص لوگوں کے لئے ہیں۔ اور دور کیوں جائیں ابھی کل کی بات تو ہے جب ہمارے انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ادارے کے سربراہ جنرل فیض حمید طالبان کے افغانستان کو فتح کرنے کے بعد کابل گئے تو صبح صبح کی ان کی ایک تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ کھڑے کھڑے ہاتھ میں چائے کی پیالی لئے ہوئے ناشتہ کر رہے ہوتے ہیں جس سے بذات خود سمجھانے والوں کے لئے ایک عسکری اصطلاحی پیغام ہے۔

وہ مزید بولے چائے کو محض کالی یا سبز پتی مت سمجھنا یہ ایک ایسا مشروب ہے کہ یہ اپنی ذات میں گرم ہے پر مخالف کو ٹھنڈا کرنے یا کرانے کے لئے کپ میں انڈیل دیا جاتا ہے۔ پھر یہ مخالف پر منحصر ہے کہ اس کو نگلتا ہے یا اگلتا ہے لیکن یہ ذہن میں رہے کہ چائے جب پکنے پر آئے تو ابلتی ہے۔ اور میرے دوست واحد کی ان باتوں سے میں میز پر پڑی ہوئی چاٰئے کی طرف دیکھ رہا تھا کہ کافی دیر سے پڑی ہوئی تھی اور جو دھواں اس چاٰئے سے اٹھ رہا تھا اب وہ ختم ہو چکا تھا اور چائے کے اوپر ملائی کی تہہ جم چکی تھی اس کو ہم نے اپنی شہادت کی انگلیوں سے کپ کے کناروں پر لاد دیا اور اپنی اپنی پیالیاں چسکی لگانے کے لئے اسی شہادت کی انگلیوں سے دستوں سے پکڑ کر لب آشنائی کے مراحل سے گزارنا شروع کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words