زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور نظام انصاف



کسی معاشرے میں جہاں اچھے لوگ پائے جاتے ہیں۔ وہیں برے لوگوں کی بھی بہتات ہوتی ہے۔ ایک برے شخص سے کسی اچھائی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ اور نہ ہی اس کی فطرت میں تبدیلی ممکن ہے۔ ایسے لوگوں کی قبیح اور غیر انسانی حرکات کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ بہت پراگندہ ہو چکا ہے۔ گندی ذہنیت رکھنے والے اپنی ہوس پوری کرنے کے لئے لڑکیوں کے سکولوں اور کالجز کے اردگرد منڈلاتے رہتے ہیں۔ اور معصوم لڑکیوں کو ہراساں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

چاند رات اور دوسرے ایونٹس پر مالز میں شاپنگ کے لئے آئی ہوئی ماؤں بہنیں آزادی سے خریداری بھی نہیں کر سکتیں۔ اس کے علاوہ مسافر بسوں میں سفر کرنی والی خواتین بھی ہوس پرستوں سے بمشکل اپنا دامن بچا پاتی ہیں۔

آج کل روزانہ کی بنیاد پر ہراسمنٹ، جنسی زیادتی اور دوسرے جرائم کی خبریں اخبارات اور میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ کمسن بچیاں، نوعمر لڑکیاں، چھوٹے بچے، نوجوان لڑکیاں، حاملہ خواتین اور بعض مدارس میں زیر تعلیم طلباء اور طالبات برے کردار کے ان جانور نما انسانوں کے ہاتھوں ہراسمنٹ، ریپ اور جنسی زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ بدبخت بڑے سنگدل اور ظالم ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہ معصوم جانوں کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

اوباش افراد کو چونکہ تفتیشی نظام کی کمزوریوں اور خامیوں کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ بے دھڑک اپنی کارروائی کر جاتے ہیں۔ انتظامی مشینری کی طرف سے مطلوبہ تعداد میں سیکورٹی کے انتظامات جس میں مختلف مقامات پر پولیس کی عدم تعیناتی یا گشت کا نہ ہونا بھی جرائم میں اضافے کا باعث ہیں۔ بدقسمتی سے حکومت کی ترجیحات میں عوام کے جان و مال کا تحفظ بالکل نہیں ہے۔ وہ خواص اور وی وی آئی پی کو تحفظ دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ عام لوگ تو شاید بھیڑ بکریوں کی مانند ہیں۔ جو اپنے بچاؤ کے لئے کبھی ادھر بھاگتے ہیں اور کبھی ادھر۔

موجودہ قوانین جو انگریزوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ اس میں مختلف جرائم کے لئے متعدد سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ بدقسمتی سے مگر ان پر عملدرآمد کرانے والی مشینری نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق ریلیف دینے میں غفلت برتتی ہے۔ موجودہ نظام میں غریب کے لئے انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ عدالتیں دولت مندوں کے لئے ہر وقت کھلی رہتی ہیں۔ مگر غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اگر نچلے طبقے کے فرد کے ساتھ کوئی انہونی ہو جاتی ہے۔

تو وہ تھانے کچہری میں پیش آنے والی ذلت سے گھبرا کر رپورٹ درج کرانے سے گریز کرتا ہے۔ اگر وہ رپورٹ درج کرانے چلا بھی جائے۔ تو سب سے پہلے اس کی متاثرہ بیٹی یا بہن پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ تفتیشی افسر کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے۔ کہ اس عورت کا ملزم کے ساتھ کوئی چکر تو نہیں چل رہا تھا۔ اس کے علاوہ تھانیدار کے دیکھنے کا انداز اور باڈی لینگویج بھی مدعی کے لئے پریشان کن ہوتے ہیں۔

تعزیرات پاکستان کے تحت جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کے لئے موت یا کم سے کم دس سال یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ مگر پولیس یہاں با اثر ملزمان کے ساتھ مکمل تعاون کرتی ہے۔ جب کہ غریب متاثرہ خاندان کو صلح صفائی کے لئے آمادہ کرنے کے لئے ہر حربہ اختیار کیا جاتا ہے۔

چند افراد نے مظفر گڑھ میں ایک غریب عورت کو بے لباس کر دیا تھا۔ خبروں کے مطابق پولیس نے متاثرہ خاندان کی مدد کرنے کے بجائے انہیں ہی تھانے میں بند کر دیا۔ اس سے بڑی زیادتی کی بات اور کیا ہوگی۔ محض اسی وجہ سے ہراسمنٹ، زیادتی اور قتل و غارت کے واقعات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

موجودہ وزیراعظم اور ان کے رفقا ہر وقت ریاست مدینہ کی گردان کرتے رہتے ہیں۔ مگر کیا ان کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ ریاست مدینہ کا بنیادی فلسفہ مساوات پر مبنی تھا۔ خلفائے راشدین کے دور میں نہ گورے کو کالے پر یا کالے کو گورے پر، امیر کو غریب پر یا غریب کو امیر پر، نہ عربی کو عجمی پر اور نہ عجمی کو عربی پر فوقیت حاصل تھی۔ اس دور میں ریاست مدینہ کا حاکم رات کو گشت پر نکل کر اپنی رعایا کی خبر گیری کرتا تھا۔ اور ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ پاکستان میں اس کے بالکل برعکس صورت حال ہے۔

پاکستان میں حکمران ریاست مدینہ کے نام کی بڑھکیں تو مار سکتے ہیں۔ مگر اس عظیم ریاست کے طرز کی ایک اینٹ بھی رکھنے کی سکت نہیں رکھتے۔

بدقسمتی سے جب بھی ہراسمنٹ کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اردگرد موجود لوگ بجائے اس کے متاثرہ خاتون کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ وہ بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تماش بین بن جاتے ہیں۔ لاہور میں موٹر سائکل رکشے پر سوار ایک خاتون کی سرعام تذلیل کا واقعہ پیش آیا تھا۔ جب ایک بدبخت شخص نے رکشے پر چڑھ کر پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی ایک عورت کو بوسہ دے ڈالا۔ اس رکشے کے پیچھے بہت سے موٹر سائکل سوار بھی چل رہے تھے۔ مگر وہ صرف تماشا دیکھنے اور وڈیو بنانے میں مصروف رہے۔ کسی نے اس اوباش شخص کو روکنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

اس رکشے میں ایک نوعمر لڑکا بھی سوار تھا۔ وہ عورت اس کی بہن یا ماں ہوگی۔ اس کے معصوم ذہن میں یہ شرمناک واقعہ چپک کر رہ جائے گا۔ وہ اس تذلیل کو فراموش بھی کرسکے گا یا نہیں۔

جنسی زیادتی، ریپ اور ہراسمنٹ کے جو واقعات پیش آرہے ہیں۔ ان پر صرف اسی صورت میں قابو پایا جاسکتا ہے۔ جب ہمارا پولیس سسٹم انصاف اور میرٹ کے مطابق چلنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ پولیس کی طرف سے فیس کے بجائے کیس پر توجہ دینے سے جرائم کافی کم ہوسکتے ہیں۔

Facebook Comments HS