ہمارے معاشرے کا المیہ!

29 اگست 2021 ء کی بات ہے میں ایک موٹر سائیکل مکینک کی دکان پر موٹر سائیکل کی ٹیوننگ کروانے گیا میں نے موٹر سائیکل کھڑی کی اور مکینک کو بتایا کہ اس کی ٹیوننگ کر دو۔ اس کے دو شاگرد موٹر سائیکل ٹھیک کرنے لگ گئے اور میں پاس ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک شخص آیا اور اس نے استاد یعنی مالک کو کہا کہ یار آپ نے کل موٹر سائیکل کی جو چین ٹھیک کی تھی وہ دوبارہ ٹوٹ گئی ہے۔ اس نے اپنے شاگرد سے پوچھا کہ وہ کس نے ٹھیک کی تھی؟

ایک لڑکا جو کہ دس یا گیارہ برس کا ہو گا اس نے کہا میں نے کی تھی بس پھر کیا تھا استاد نے اسے فحش بکنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی اس کو پیٹنا بھی شروع کر دیا۔ وہ لڑکا بیچارہ خاموشی سے سب برداشت کر گیا۔ لیکن مجھے بہت سی باتیں سوچنے اور لکھنے پر مجبور کر دیا۔ مجھے اس کا وہ معصوم سا چہرہ اور اس کے ماتھے پر کوئی شکن نہ تھی نہیں بھول رہا ہے۔ میں نے اس کے چہرے کو غور سے پڑھا تو معلوم ہوتا تھا کہ یہ ایک دن کی بات نہیں بلکہ اس کا روزمرہ کا معمول تھا اور وہ یہ سب پتہ نہیں کن مجبوریوں کے تحت برداشت کر رہا تھا۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ بھی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس طرح کے واقعات ہر اس غریب بچے کے ساتھ پیش آتے ہیں جو حالات کے ہاتھوں مجبور ان جیسی دکانوں پر کام کرتے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں کمسن بچے جن کے کندھوں پر کتابوں کا بوجھ ہونا چاہیے تھا وہ ہوٹلوں، گھریلو فیکٹریوں، ورکشاپس، اینٹوں کے بھٹوں، حجام کی دکانوں اور اس طرح کے کئی اڈوں پر روزی کمانے جاتے ہیں اور زد و کوب ہوتے ہیں۔ اس طرح کے بچے حالات سے تنگ ہو کر ہو سکتا ہے کہ کسی بڑی برائی میں مبتلا ہو جائیں۔

اسی طرح کمسن بچے اور بچیاں لوگوں کے گھروں میں کام کر رہے ہیں اور آئے روز ان پر بھی جسمانی تشدد کے واقعات ہوتے ہیں لیکن غریب والدین غربت کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں کرواتے اور جو منظرعام پر کسی وجہ سے آ بھی جائیں تو والدین میں اتنی مالی قوت نہیں ہوتی کہ وہ مقدمے کی پیروی کریں اور انصاف کے لئے سالہا سال عدالتوں کے دھکے کھائیں اور مجبورا صلح نامہ کرتے ہیں۔

والدین مہنگائی اور معاشی مسائل کی پریشانی کی وجہ سے بچوں کو ان کے پاس چھوڑتے ہیں تاکہ شام کو گھر میں چار آنے آ جائیں اور دو وقت کی روٹی نصیب ہو سکے۔ وہ گیارہ بارہ برس کا بچہ جو سکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے اور ایک وہ بچہ جو کسی دکان یا ورکشاپ پر کام کر رہا ہے ان کے جذبات، احساسات، خواہشات اور خوشیوں میں کوئی فرق نہیں ہے؟ وہ بچہ جو سکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے اس کی بھلائی کے لئے اگر اساتذہ اس کو ڈانٹ دیں تو اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے لیکن کیا اس بچے کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی؟

حکومت نے چائلڈ لیبر قوانین بھی بنائے ہوئے ہیں لیکن وہ صرف فائلوں کی حد تک ہی ہیں یا پھر سینئر افسران کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائے جاتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم صاحب نے کہا کہ ملک میں دو کروڑ بچے سکول نہیں جاتے ہیں۔

یہ تعداد تعلیمی میدان سے کیوں باہر ہے؟ کیا یہ وجوہات جاننے کے لئے حکومت نے کوئی سروے کیا ہے؟ اگر اس بات پر غور کیا جائے تو آپ اندازہ کریں کہ مستقبل میں یہ بچے اس قوم کی بہتری کے لیے کیا کریں گے؟ وہ بچے جو سرے سے سکول ہی نہیں گئے وہ ملت کی ترقی میں کیا کردار ادا کریں گے؟ ہمارے ملک کی ستر فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جہاں تعلیم کی سہولیات مناسب نہیں ہیں اور نہ ہی لوگوں کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو شہر میں تعلیم دلوا سکیں۔ اگر سرکاری سکولوں میں تعلیم مفت ہے تو وہاں کوئی اپنے بچوں کو پڑھانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ جہاں پر تمام اساتذہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور میرٹ پر منتخب ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات کسی کو بھی سمجھ میں نہیں آتی ہے۔

حالانکہ والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروانے کے بعد سکول کا رستہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے بچے بھی کسی سکول میں پڑھتے ہیں اور ہم نے ان سے بھی کوئی پوچھ گچھ کرنی ہے۔ کئی طلباء ایسے ہیں جو سکول سے واپسی کے بعد اپنا بستہ کھول کر پڑھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور مجال ہے کہ والدین بھی پوچھ لیں کہ آج سکول میں کیا کام کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں والدین کی غلطی ہے جو بچوں کی تعلیم پر توجہ نہیں دیتے۔

بلکہ اپنی ناکامیوں کا غصہ بھی ان معصوم بچوں پر نکالتے ہیں نتیجے میں بچہ باغی ہو جاتا ہے اور پھر اس کو ان کاموں میں لگا دیتے ہیں کہ اگر تم نے پڑھنا نہیں ہے تو پھر یہ کام کرو۔ بچوں کی اصلاح نہیں کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے اپنے بچے کو فنی تعلیم دلوانی ہی ہے تو بہتر ہے کہ وہ اپنے بچے کو ووکیشنل ٹریننگ کے اداروں میں داخل کروائیں تاکہ بچے کی ایک مناسب ماحول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ہو اور ساتھ ہی وہ حکومت سے ماہانہ وظیفہ بھی حاصل کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ ووکیشنل ٹریننگ کے اداروں میں فنی تعلیم کے ساتھ نصاب بھی پڑھایا جائے تاکہ وہ بچے جو پرائمری، مڈل یا میٹرک نہیں کر سکے وہ فنی تعلیم کے ساتھ ان جماعتوں کی اسناد بھی حاصل کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
جاوید اقبال مرزا کی دیگر تحریریں