یکساں نصاب تعلیم: اب کدھر جائیں؟
آج کل یکساں نصاب تعلیم کی اصطلاح زبان زدعام ہے۔ ایک قوم، ایک نصاب کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔ نئے سلیبس کے مطابق کتابیں چھپ کر بچوں تک پہنچ چکی ہیں۔ کچھ لوگ اس سے خوش ہیں مگر زیادہ تر شاکی ہیں۔ اخباروں میں آئے دن اس پر مضامین چھپتے ہیں اور برقی ذرائع ابلاغ پر بھی اس کا چرچا ہے۔ ہم سب کے قارئین کے لئے اس پر چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔
سب سے پہلے تو اس کے معانی پر غور کر لیتے ہیں۔ (SNC) Single National Curriculumکا مطلب یکساں نصاب تعلیم ہے لیکن صرف کتابیں ایک کرنے سے Syllabus ایک ہوتا ہے، اس سے Curriculum ایک نہیں ہوتا۔ نصاب میں کتابوں کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیاں، اساتذہ کی اہلیت و تربیت، سکولوں میں موجود سہولیات، لائبریری، لیبارٹریز، پلے گراؤنڈ، موجود بجٹ سب شامل ہوتا ہے۔ کیا پبلک اور پرائیویٹ تمام سکولوں اور مدرسوں میں یہ عناصر برابر کر دیے گئے ہیں۔
بہت سے پبلک سکول تو ایسے ہیں جہاں پورے پرائمری سکول کے لئے ایک استاد اور ایک کمرہ ہے، لیٹرین اور چار دیواری جیسی ضرورتیں میسر نہیں جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں تو مختلف مضامین کے ماہر خصوصی موجود ہیں، کھیلوں کے لئے علیحدہ استاد، پلے گراؤنڈ، لائبریری، لیبارٹریز اور ہم نصابی سرگرمیوں کا پورا انتظام۔ حکومت نے ان تمام ضروریات کو برابر کرنے کے لئے کوئی بجٹ نہیں مختص کیا اور نہ یہ یکساں ہوئی ہیں۔ اس لئے یکساں نصاب یاSingle National Curriculumکا نفاذ کہنا سراسر غلط ہے۔
اب بات کر لیتے ہیں ایکSyllabusکی تو ایسا بھی نہیں ہوا کہ سب سکولوں کا سلیبس ایک ہو گیا ہو۔ ایچی سن، لاہور گرامر سکول اور بیکن ہاؤس سکول سسٹم وغیرہ کو حکومت کی طرف سے NOC مل چکا ہے کہ وہ اپنی کتابیں شائع کر سکتے ہیں۔ وزارت تعلیم کی Technical Advisor عائشہ رزاق نے اس پر کہا ہے کہ Minimum Education Standards مقرر کیے گئے ہیں جو ہر سکول نے لازمی پورے کرنے ہیں اس سے اوپر وہ جتنا چاہے جا سکتے ہیں۔ تو کم زیادہ، اونچ نیچ اب بھی برقرار ہے۔
لفظ یکساں بھی پوری توجہ کا مستحق ہے۔ یکساں اور برابر دو مختلف الفاظ ہیں۔ یکسانیت اور برابری میں فرق ہے۔ پاکستان کے سب شہری یکساں نہیں ہیں۔ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود وہ آئین اور قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ پاکستان ایک کثیر الاقومیت، کثیر المذاہب، کثیر المسالک اور کثیر اللسان ملک ہے۔ آئین پاکستان ان تمام شناختوں کا تخفظ کرتا ہے۔ ان سب شناختوں سے ہی ملک میں تنوع اور خوبصورتی ہے اور انھیں celebrate کرنا چاہیے نا کہ انھیں ختم کرنے کے اقدامات کرنے چاہیے۔ یکسانیت علاقائی، لسانی اور مذہبی شناختیں مٹانے کی کوشش ہے۔
پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت میں یکسانیت نہیں ہوتی۔ یہاں آمریت نہیں جو سب کو ایک ہی سلیبس پڑھنے پر مجبور کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں میرا بیس سال سے یہ ویژن تھا کہ میں یکساں نظام تعلیم لے کر آؤں گا۔ کیا انھیں لو گوں کے ذہنوں کو کنٹرول کرنا تھا۔ ان کی تعلیمی اور فکری آزادی سلب کرنا تھی۔ انھیں ایک مشین میں سے نکلے ہوئے روبوٹ بنانا تھا۔ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں یکساں نصاب تعلیم نہیں ہے۔ بلکہAcademic Freedom کا پرچار کیا جاتا ہے تاکہ تنقیدی شعور پیدا ہو اور نئے آسمانوں کو سر کرنے کی تراکیب ہوں۔
وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا خیال ہے کہ ملک میں یکساں سلیبس نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں طبقاتی تقسیم ہے جبکہ یہ معاشیات کا سادہ سا اصول ہے کہ طبقاتی تقسیم وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔ انھوں نے ملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لئے کیا اقدامات کیے ہیں یہ فی الحال موضوع بحث نہیں۔ ہم صرف سکولوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے بات کرلیتے ہیں۔ کیا اس حکومت نے سرگودھا کے گاؤں 36 جنوبی کے گورنمنٹ پرائمری سکول کا بجٹ اتنا بڑھا دیا ہے کہ وہ گیریژن جونئیر لاہور جتنا کھیل کا میدان بچوں کو مہیا کر سکے؟ کیا لاہور کے علاقے بہار کالونی کے گورنمنٹ پرائمری سکول کا بجٹ اتنا بڑھا دیا ہے کہ وہ ایچی سن لاہور جیسی کمپیوٹر لیب بچوں کو مہیا کر سکے؟
جس طرح سے نظام تعلیم بدلنے کا نعرہ لگایا جا رہا ہے اس تناسب سے تعلیم کے لئے بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ اب بھی پاکستان اوسطا اپنی GDP کا 2.5 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ Human Development Report، 2019 کے مطابق Human Development Index (HDI) کی رینکنگ میں پاکستان 189 میں سے 152 نمبر پر ہے۔ سکول جانے کی عمر کے دو کروڑ تیس لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ طبقاتی تقسیم پر یہ کس طرح سے اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں حکومت نے کیا سوچا ہے؟
اب بات کچھ نئے سلیبس کی، تو سب سے پہلے تو یہ اقدام آئین پاکستان کے منافی ہے۔ آئین میں موجود اٹھارہویں ترمیم کے مطابق تعلیم ایک صوبائی معاملہ ہے۔ یہ صوبوں کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ہاں کیسا نظام تعلیم چاہتے ہیں اور اس معاملے میں انھیں پوری خودمختاری حاصل ہے۔ صوبہ سندھ نے تو بڑی دلیری کے ساتھ اپنی خودمختاری برقرار رکھی ہے۔ انھوں نے یہ واضح کیا ہے کہ سندھ کے مقامی ہیرو، سندھی زبان اور سندھی ثقافت کو سلیبس میں مناسب جگہ دی جائے گی اور وہ اپنا سلیبس صوبائی سطح پر ہی تیار کریں گے۔
مزید برآں وفاقی وزارت تعلیم کی طرف سے جاری کردہ 1 سے 5 جماعت کی اردو، انگریزی اور معلومات عامہ کی کتب میں اکثریتی مذہب کی تعلیمات کو شامل کر کے آئین کے آرٹیکل 22 ( 1 ) کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کے مطابق۔ کسی بچے کو اس کے اپنے مذہب سے ہٹ کر کوئی مذہبی تعلیم نہیں دی جائے گی۔ سپریم کورٹ میں اس حوالے سے رٹ بھی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے 19 جون 2014 کو اقلیتوں کے حقوق سے متعلق تاریخ ساز فیصلے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے جنوری 2019 میں یک رکنی کمیشن کا قیام عمل میں آیا، جس کے سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل ہیں۔
اس کمیشن کے SNC کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات ہیں۔ ان کی رائے میں بھی اردو، انگریزی اور معلومات عامہ کے لازمی مضامین میں اسلامی موضوعات شامل کرنا آئین کے آرٹیکل 22 کی خلاف ورزی ہے۔ اس طریقے سے مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے طلبا اسلامی مواد پڑھنے پر مجبور ہوں گے۔ تمام اسلامی مواد اسلامیات کے مضمون میں شامل ہونا چاہیے۔ انھوں نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ انھیں اقلیتی حقوق کے لئے کام کرنے والے بہت سے کارکنان اور علما نے یہ بات پہنچائی ہے کہ لازمی مضامین میں اسلامی موضوعات کی تدریس اقلیتی طلبا کو زبردستی اسلامیات پڑھانے کے مترادف ہے۔
حکومتی وزرا اس پر کہتے ہیں کہ جب لازمی مضامین میں اسلامی اسباق پڑھائے جائیں تو اقلیتی طلباء جماعت سے باہر چلے جائیں۔ یہ اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ باہر بیٹھے بچے امتحان میں شامل ان اسباق کے سوالوں کے جواب کیسے دیں گے؟ مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے اردو، انگلش اور معلومات عامہ کے اساتذہ یہ مضامین کیسے پڑھائیں گے؟
علاوہ ازیں مدرسوں کے مولانا اور تمام مسالک کو خوش کرنے کے لئے پرائمری کے بچوں پر اسلامیات کا بھاری سلیبس ڈال دیا گیا ہے جو کہ سکولوں کو مدرسوں میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔ اگر ہم صرف جماعت سوم کے اسلامیات کے سلیبس کا جائزہ لیں تو اس میں بچے کو پارہ تین سے آٹھ تک ناظرہ پڑھنا ہے۔ آٹھ احادیث یاد کرنی ہیں۔ سورہ فاتحہ، کوثر، اخلاص، الناس اور نصر یاد کرنی ہے۔ اللہ اکبر، استغفراللہ، جزاک اللہ خیرہ اور درود ابراہیمی ترجمے کے ساتھ یاد کرنا ہے۔
کھانا شروع کرنے اور ختم کرنے کی دعا یاد کرنی ہے۔ توحید کا تعارف، نبوت اور رسالت کا تصور پڑھنا ہے۔ کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت بمع ترجمہ پڑھنا ہے۔ سیرت نبوی، اخلاق و آداب، حقوق العباد سے متعلق پڑھنا ہے۔ حضرت آدمؑ، حضرت نوحؑ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ کے بارے میں پڑھنا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں صحت کے مسائل پڑھنے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اذان، وضو، قبلہ، مسجد اور نماز کے بارے میں سیکھنا ہے۔ جبکہ تنظیم المدارس میں تیسری جماعت کے بچے کو پہلے پانچ سپارے ناظرہ پڑھنے ہیں اور اذان، وضو، قبلہ، مسجد اور نماز کے بارے میں تربیت حاصل کرنا تھی۔ تو سکول کا اسلامیات کا موجودہ سلیبس مدرسے کے پچھلے سلیبس سے زیادہ ہے۔ تیسری جماعت کے بچے کو اردو بولنا تو ٹھیک سے آتی نہیں وہ عربی کا اتنا زیادہ کورس کیسے پڑھے گا؟
ڈان اخبار کی ایک سٹوری کے مطابق اس کورس کو پڑھانے کے لئے دو لا کہ ساٹھ ہزار سکولوں میں فی سکول دو اسلامی علماء کے حساب سے پانچ لاکھ بیس ہزار علماء کی ضرورت ہوگی۔ یہ بنیادی سکیم کا حصہ تو نہیں لیکن یہ کرنا پڑے گا۔ یہ علماء کس مسلک اور فرقے سے ہوں گے؟ دیوبندی یا بریلوی؟ شیعہ یا سنی؟ اس سے کتنی مذہبی منافرت پھیلے گی؟ کتنی بنیاد پرستی اور انتہا پسندی جنم لے گی؟ بجائے اس کے کہ مدرسے کے بچوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کیا جاتا، سکولوں کے بچوں کو مدرسوں سے بھی آگے لے جایا گیا ہے۔
متحدہ علماء کونسل نے بیالوجی کی کتابوں پر اعتراض کیا ہے کہ اس میں ننگی ڈائیگرامز نہیں ہونی چاہیے اس سے طلباء میں فحاشی پھیلے گی۔ جدید تعلیم اور سائنسی تصورات سے دور کر کے طلباء کو اندھیروں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حضرت محمدﷺ نے جدید علوم کے حصول پر خاص زور دیا۔ جنگ بدر کے بعد ان کے پاس جو غیر مسلم جنگی قیدی تھے ان میں سے ہر ایک کو ایک مسلمان کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے بدلے میں آزاد کر دیا۔
مزید برآں صنفی برابری کے لحاظ سے بھی یہ کتابیں عالمی معیارات پر پوری نہیں اترتی۔ اگر عذر اپنی روایات اور ثقافت کو بنایا جائے تو بھی خواتین اور بچیوں کے خلاف امتیازی سلوک صاف دکھائی دیتا ہے۔ جماعت دوم کی انگریزی کی کتاب کے سرورق پر ماں کے ساتھ دو بچوں کو بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ ماں اور بیٹی نے تو اپنے آپ کو خوب ڈھانپا ہوا ہے جبکہ بیٹا پینٹ شرٹ پہنے تشریف فرما ہے۔ پورے سلیبس میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کی بیشمار مثالیں ہیں۔
چند دن پہلے Single National Curriculum کی ڈائریکٹر، ڈاکٹر مریم چغتائی سے ملنے کا موقع ملا۔ میں نے پوچھا بچوں کے ساتھ زیادتی اور جنسی ہراسانی کے ایشوز کو ایڈریس کرنے کے لئے SNC میں کیا شامل کیا گیا ہے؟ انھوں نے کہا ابھی تو کچھ نہیں شامل کیا گیا۔ لیکن کتابوں پر نظر ثانی ہو گی۔ اس بات کیRecognition وزارت تعلیم میں بھی مو جود ہے۔ میں نے کہا بچوں کو اپنی حفاظت کی تربیت دی جانی چاہیے۔ انھیں دوسرے انسانوں اور مخالف جنس کی عزت کرنا سکھانا چاہیے۔ انھیں بقائے باہمی کے اصول بتانے چاہیے۔ بچوں کو بچپن سے ہی اس بات کے لئے تیار کرنا چاہیے کہ وہ اپنا تحفظ کرسکیں، ذمہ دار شہری بنیں اور دوسروں کا احترام کریں۔
اس سلیبس اور یکساں نصاب تعلیم کے تصور پر واقعی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ حکومت (صوبائی حکومتوں ) کو ایسی تعلیمی پالیسی، Curriculum اور سلیبس لے کر آنا چاہیے جس سے پاکستانی طلباء جدید علوم سے آراستہ ہوں، ان کا Learning Level بڑھے، معیار تعلیم بلند ہو، تنقیدی شعور پیدا ہو۔ امتحانی نظام بہتر ہو۔ اساتذہ کی بہترین تعلیم و تربیت ہو۔ سکولوں میں بہترین انفراسٹرکچر ہو۔ اس سب کے لئے سوچ کی تبدیلی اور ذرائع کی بھرپور تخصیص ضروری ہے۔ سب سے بڑھ کر قومی ترجیحات کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔


