اگلے انتخابات میں دھاندلی کے امکانات

میڈیا میں ہرروز عمران خان کی کوئی نہ کوئی تصویر ہوتی ہے جس میں وہ کسی نئے ”ترقیاتی منصوبے“ کا فیتہ کاٹ رہے ہوتے ہیں یا نقاب کشائی میں مصروف ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اُن پر لوگوں کا دل جیتنے کے لیے شہبا زشریف جیسا ”فعال حکمران“ بننے کا جنون طاری ہے۔ نئے وزیر خزانہ شوکت ترین کو ترقیاتی بجٹ بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف، جس نے ہاتھ تنگ رکھنے کی پالیسی بنانے کی تجویز دی تھی، سے کہا گیا ہے کہ اب وہ موجیں مارے۔ تمام ترمشکوک معاملات پر وزیرا عظم کے معاون خصوصی، بابر اعوان نے اعلان کیا ہے آندھی آئے یا طوفان، حکومت اگلے عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر کراکررہے گی۔ اس کے لیے کم و بیش پانچ لاکھ ووٹنگ مشینیں استعمال کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ 70 لاکھ سے زیادہ سمندر پار پاکستانی بھی الیکٹرانک مشینوں کے لیے ذریعے ووٹ ڈالیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اس پر سنجیدگی دکھاتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین بل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا تاکہ حزب اختلاف کی اکثریت رکھنے والا سینٹ اسے تاخیر کا شکاریا مسترد نہ کرسکے۔

قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ اگلے عام انتخابات شیڈول کے مطابق 2023 ء کے وسط کی بجائے 2022 ء اختتام کے قریب ہونے جارہے ہیں۔ جب سے مریم نواز نے یقین دلایا ہے کہ نواز شریف ”بہت جلد“ وطن واپس آکر پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے تحریک انصاف کو پچھاڑ کر رکھ دیں گے، افواہ ساز ی کا عمل تیز تر ہوگیا ہے۔

لیکن جب عمران خان کی مقبولیت کا گراف انتہائی پستی پر ہے، تووہ قبل از وقت انتخابات کے لیے کیوں کر تیار ہوں گے؟

اس کی بہت سی وجوہ بیان کی جاتی ہیں۔ اس وقت حزب اختلاف منقسم اور افراتفری کا شکار ہے۔ اس کے مقبول راہ نما یا تو جیلوں میں ہیں یا جلاوطن۔ یا پھر پیہم دباؤ کے سامنے اُن کی سکت کمزور پڑچکی ہے۔ عمران خان کو سہارا دے کر اٹھانے والی اسٹبلشمنٹ افغانستان میں اپنی ”فتح“ کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد ہے۔ اس پس منظر میں شوکت ترین نچلے اور درمیانے طبقے کی مشکلات کا مدوا کرنے کے لیے کمر باندھ چکے ہیں۔

تاہم اس والہانہ جوش و جذبے کی راہ میں کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔ اگر پاکستان جلد ہی کابل میں اسلام آباد کی طرف جھکاؤ رکھنے والی مستحکم افغان حکومت جسے مغرب کی حمایت بھی حاصل ہو، کی ضمانت نہ دے سکا اور اسے افغانستان میں امریکی ناکامی پر قربانی کا بکرا بنایا گیا تو اسے آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف اور جی ایس پی پلس جیسے شکنجوں میں کسا جائے گا۔ اور اگر سرحد پار دھشت گردی اس کی سیاسی پریشانی بڑھاتی رہی تو یہ ”ہائبرڈ نظام“ انتہائی دباؤ میں آسکتا ہے۔ درحقیقت اگر حزب ختلاف باہم اتحاد نہ کرسکی توبھی وہ بدترین مالی مشکلات کواپنے سیاسی فائدے میں ڈھالنے کے لیے اپنی کمزوریاں جھٹک کر پارلیمنٹ میں اور سڑکوں پر حکومت کو چیلنج کرنا شروع کردے گی۔ اس صورت میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کو تشویش لاحق ہے۔ وہ اگلے عام انتخابات میں کامیابی کے لیے کوئی حربہ بھی اختیار کرسکتے ہیں۔اس کے لیے وہ بہت جلدی میں ہیں۔

مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آرٹی ایس کو کنٹرول کیا جائے جیسا کہ2018 ء کے انتخابی معرکے بعد نصف شب کے وقت آرٹی ایس میں خلل ڈال کر من پسند نتائج حاصل کیے گئے تھے۔ لیکن اب یہ طریقہ کام نہیں دے رہا کیوں کہ سیاسی جماعتیں اپنے پولنگ ایجنٹوں کو انتہائی چوکس کررہی ہیں کہ وہ تمام انتخابی عمل پر نگاہ رکھیں۔ بہترطریقہ یہ ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے ایسے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کیے جائیں۔ یہ مشینیں مقامی اور غیر ملکی ووٹوں کی من پسند چھانٹی کرسکتی ہیں۔

آزاد ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں ملک گیر عام انتخابات کے لیے قابل اعتماد ذریعہ نہیں، خاص طور پر اُس وقت جب اعتماد کا شدید بحران پایا جاتا ہو۔ ان مشینوں کے سافٹ ویئرمیں گڑبڑ کرکے دھاندلی کی جاسکتی ہے۔ ایک ماہر کے مطابق پہلے سے طے شدہ انتخابی حلقوں کی 0.7 فیصد مشینوں میں خرابی کرکے انتخابی نتیجے کو کسی بھی طرف موڑا جاسکتا ہے۔ دو یا تین ممالک جو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو قابل اعتماد بنانے کے لیے ایک طویل عرصے سے مسلسل تجربات کررہے ہیں، کے ماہرین کی رائے تو شاید ان کے حق میں ہوگی۔ لیکن باقی دنیا تومشینوں کو مسترد کرکے ووٹ کی پرچی او ر شخصی شناخت کے عمل کی طرف رجوع کرچکی ہے۔نیز ان مشینوں اور ا ن پر کام کرنے والے ماہرین کو تربیت دینے کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے۔

اگلے انتخابات کی تاریخ اورطریقہ عمران خان کے سیاسی اندازوں میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 2023ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے جارہے ہیں۔ اُن کی آئین پاکستان سے وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اُنہوں نے اسٹبلشمنٹ کی غیر آئینی سیاسی مداخلتوں کے علاوہ ایگزیکٹو کی عدلیہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ یہ چیز ناقابل تصور ہے کہ جسٹس عیسیٰ الیکشن کمیشن کو کمزور کرکے یا الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں گڑبڑ کرکے انتخابی دھاندلی کی اجازت دیں۔ اب تک اسٹبلشمنٹ اُنہیں سپرم کورٹ سے نکال باہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن بار اور سول سوسائٹی کے دباؤ نے ایسی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ اس لیے کمزور الیکشن کمیشن یا عدلیہ کے تعاون سے دھاندلی زدہ انتخابات کرانے کے لیے صرف اگلا سال باقی بچا ہے۔

ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ نومبر میں عمران خان کو ایک او ر اہم فیصلہ بھی کرنا ہوگا۔ کیا وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مزید دوسال کی توسیع کریں یا جنرل فیض حمید کو اگلا آرمی چیف نامزد کریں؟ اگر انتخابات اس تاریخ، بائیس نومبر، سے قبل ہوجاتے ہیں تو عمران خان کو ان دونوں افسران کی حمایت حاصل ہوگی۔ دونوں میں ہر کوئی اپنے من پسند عہدے کے لیے کوشاں ہوگا۔ لیکن انتخابات 2023ء میں ہوتے ہیں اور عمران خان اپنے پتے مخفی رکھتے ہیں تو ان میں سے کوئی ایک، یا دونوں، سوچیں گے کہ وہ تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں 2022 ء میں مختلف قسم کے امکانات سامنے آسکتے ہیں۔

بشکریہ: فرائیڈے ٹائمز

Comments - User is solely responsible for his/her words