پرائے جنازے میں عبداللہ دیوانہ

تاریخ کا مطالعہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ ہندوستان پر جتنے حملے ہوئے ان میں سے زیادہ تر افغانستان کے راستے سے ہوئے،

جو بھی حملہ آور ہندوستان کی طرف بڑھا اس نے سب سے پہلے افغانستان پر حملہ کیا، چٹیل پہاڑوں کی یہ سر زمین زیادہ تر افغانی چرواہوں پر مشتمل تھی، شاید یہی وجہ تھی کہ سکندر اعظم ہو یا منگول یہ کسی کو روک نہ پائے بلکہ بہت سے قبائل مال و دولت کے لالچ میں کامیاب حملہ آوروں کے ساتھ ملتے بھی گئے،

اس سر زمین کو فتح کرنے کے بعد ہر فاتح کا اصل نشانہ ہمیشہ ہندوستان ہی رہا، جہاں کی سونا اگلتی سرزمین اور ہیرے جواہرات سے بھرے مندر ان حملہ آوروں کے اتنے لمبے اور کٹھن سفر کی اصل وجہ تھی،

ان تمام فاتحین کی افغانستان کی سرزمین میں دلچسپی ایک گزرگاہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھی کیونکہ یہاں ان کی دلچسپی کی کوئی چیز موجود نہیں تھی، اس لیے وہ یہاں اپنا گورنر مقرر کرتے (جو ہمیشہ جزوقتی ہی ہوتا تھا) اور آگے بڑھ جاتے، کسی بھی حملہ آور حکمران نے یہاں مستقل حکمرانی کی نہ کبھی خواہش کی اور نہ ہی کوشش،

تاریخ گواہ ہے کہ سکندر اعظم کو سب سے مشکل مہم کا سامنا پنجاب میں کرنا پڑا تھا جب ایک پنجابی حکمران ”راجہ پورس“ اپنی سر زمین کو بچانے کے لئے ایک غیرت مند حکمران کی طرح بے جگری سے لڑا، گو کہ اس کو شکست ہوئی لیکن اس نے سکندر اعظم کو اس قدر نڈھال کر دیا کہ اسے اپنی مہم ختم کر کے واپس لوٹنا پڑا،

افغانستان کی سرزمین نے بہت ظلم دیکھا، جو بھی آیا اس کو برباد کر کے چلا گیا، یہ ایک مظلوم سرزمین ہے۔

انگریزوں نے تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ محسوس کر لیا تھا کہ ہندوستان میں ان کی حکمرانی کو سب سے بڑا خطرہ اگر کہیں سے ہو سکتا ہے تو وہ افغانستان سے آنے والے راستے کی طرف سے ہو سکتا ہے، اس لئے وہاں انہوں نے بے شمار فوجی چھاؤنیاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بنائیں، پوٹھوہار، این ڈبلیو ایف پی (خیبر پختونخوا) کے علاقے سے بے شمار فوجی بھرتی کیے، جو انگریز حکومت کی حکمرانی کے سب سے بڑے محافظ اور وفادار ثابت ہوئے، جنہوں نے انگریز حکمرانی کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔

آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ جب پاکستان بنا تو ہندوستان سے آزادی کے بعد پاکستان کو جہاں 19 فیصد اثاثے ملے وہاں 33 % فوج حصے میں آئی، اس کی سب سے بڑی وجہ این ڈبلیو ایف پی (خیبر پختونخوا) اور نارتھ پنجاب میں بے شمار انگریز حکومت کے مقامی فوجیوں کا ہندوستان کی فوج میں ہونا تھا،

بہت سے لکھنے والے اور عوام افغانستان کی سرزمین کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے یہ کبھی کسی سے فتح نہیں ہو سکی حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، اس مظلوم سرزمین نے بہت دکھ سہے ہیں اور موجودہ حالات سب سے خطرناک صورت اختیار کر چکے ہیں، ایک طوائف الملوکی کا سا سماں ہے، فوجی اور سماجی ترقی کے ساتھ معاشی ترقی اب

” نیو ورلڈ آرڈر“ کا درجہ اختیار کر چکی ہے، کسی بھی ریاست کی کامیابی کی ضامن صرف معیشت ہے باقی تمام چیزیں اس کے بعد آتی ہیں۔

عالمی طاقتوں کی لڑائی میں یہ سرزمین بموں اور حملوں سے چھلنی ہو چکی، کئی نسلیں برباد ہو گئیں، ہر گھر میں بھوک اور افلاس کے ساتھ کئی شہیدوں کا دکھ۔

عالمی طاقتیں اپنا الو الٹا یا سیدھا کر کے یہاں سے چلتی بنتی ہیں اور پیچھے رہ جاتی ہیں سسکیاں، آہیں اور بھوک یا ہمسایہ ملکوں کا مفت میں جشن یا سوگ یعنی پرائے جنازے میں عبداللہ دیوانہ،

ہم اپنے آرام دہ بستر اور ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر آرام دہ سٹوڈیوز میں ریکارڈ کیے گئے خوشحال صحافیوں کے افغانستان کے بارے میں تجزیے سن کر محظوظ ہوتے رہتے ہیں، جو ہمیشہ ایک خاص طرز فکر اور اسٹیٹ پالیسی کے مطابق عوام کی ذہن سازی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں، یہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، خدارا خود تحقیق کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words