قادیانی افسروں سے پاکستان کو بچاؤ

آج کل ہمیں ایک کے بعد دوسری تشویشناک خبر سننے کو مل رہی ہے۔ صاحبان اقتدار شاید سوئے ہوئے ہیں کہ انہیں ابھی تک یہی علم نہیں ہوا کہ ملک میں کیا طوفان برپا کیا جا رہا ہے۔ اس ملک کے بے خبر عوام کے ساتھ کیا کیا دھوکہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران ایسی ہی کچھ خبریں سننے کو ملیں کہ عقل چکرا گئی۔ مثال کے طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دن دیہاڑے ایک احمدی کو چیف افسر تحصیل کونسل راولپنڈی مقرر کر دیا گیا۔ اور نہ صرف یہ کہ اس افسر کو مقرر کر دیا گیا بلکہ ظلم پر ظلم یہ کہ اسے یہ ہدایت بھی دے دی گئی کہ وہ اپنے کام کا چارج لے لے۔

علاقے کے علما تو جانتے تھے کہ آئین پاکستان میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ان کے وفود اعلیٰ حکام سے ملے اور اس سانحے کی اطلاع کی۔ اور شاید اس خیال سے کہ حکام اس مسئلہ کو فراموش نہ کردیں شہر میں ایکشن کمیٹی تحفظ ختم نبوت کی طرف سے کچھ پوسٹر بھی لگا دیے گئے کہ اس قادیانی کو فوری طور پر برطرف کر دیا جائے ورنہ 27 اگست کو کچہری چوک میں دھرنا دے دیا جائے گا۔ علما کی یہ بیدار مغزی کام آئی اور اس افسر کو سیکریٹریٹ لاہور بھجوا کر پاکستان کو ایک اور دھرنے سے بچا لیا گیا۔

لیکن حکومت نے کچھ سبق حاصل نہیں کیا۔ یہ زخم ابھی تازہ تھا کہ ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ چکوال میں ایک احمدی ڈاکٹر کو محکمہ صحت کا سی ای او مقرر کر دیا گیا۔ اور یہ تقرری بھی علی الاعلان کی گئی یعنی رات کی تاریکی کا انتظار بھی نہیں کیا گیا۔ اس دیدہ دلیری پر خانقاہ حبیبیہ نقشبندیہ چکوال نے ایک تحریری انتباہ جاری کیا کہ ابھی تک تو ضلع میں مثالی دینی ہم آہنگی موجود ہے لیکن اگر اس تقرری کو واپس نہ لیا گیا تو یہ خوشگوار ماحول متاثر ہو جائے گا۔

اس عہدے پر احمدی افسر کی تقرری نا قابل برداشت ہے اس لئے اس احمدی ڈاکٹر کی تقرری کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور اس کی جگہ ایسے ڈاکٹر کو مقرر کیا جائے جو آئین پاکستان اور ملک کے ساتھ مخلص ہو۔ گویا پاکستان میں دینی ہم آہنگی اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب کہ صرف کسی مخصوص مسلک سے وابستہ افراد کو ایسے عہدوں پر مقرر کیا جائے۔ اور ملک سے وفاداری پر صرف مخصوص مسلک کی اجارہ داری ہے۔ بہر حال خانقاہ حبیبیہ نقشبند یہ چکوالیہ کی بیدار مغزی رنگ لائی اور 31 اگست کو حکومت پنجاب کے متعلقہ شعبہ نے یہ تقرری واپس لے لی۔ اور اس طرح اس عہدے پر ایسے شخص کو تقرر کرنے کا راستہ صاف ہو گیا جس سے آئین پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔

معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پنجاب نے تہیہ کیا ہوا کہ وہ یہ کہتی رہے گی کہ ”آ بیل مجھے مار بلکہ بار بار مار“ ۔ چنانچہ ایک اور احمدی افسر کو ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ مقرر کر دیا۔ چنانچہ بیل نے پھر حکومت کو سینگوں پر اٹھا لیا۔ چنانچہ انٹرنیشنل ختم نبوت راولپنڈی ڈویژن نے ایک بیان جاری کیا کہ یہ تعیناتی اہل اسلام کے جذبات مجروح کرنے کی کوشش ہے یا ان کے ایمان کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ یا یہ افسران خود کو تماشا بنانا چاہتے ہیں۔ اور ساتھ یہ اشارہ دے دیا کہ اگر یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو حالات گمبھیر ہو جائیں گے۔ چنانچہ دو ستمبر کو یہ تقرری واپس لے کر اس مطالبے کے آگے سرتسلیم خم کر دیا گیا اور اہل اٹک یہ ایمانی امتحان اختتام پذیر ہوا۔

یہ واقعات صرف گزشتہ تین ہفتے کے دوران ہوئے ہیں۔ جن کے نتیجہ میں کبھی دھرنے کی دھمکی موصول ہوتی ہے اور کبھی ایمان کا امتحان شروع ہو جاتا ہے اور کبھی آئین خطرے میں پڑتا ہے اور کبھی امن عامہ درہم برہم ہوتا ہے اور کبھی پاکستان سے وفاداریاں مشکوک ہو جاتی ہیں۔ مناسب ہو گا کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ پاکستان کا دستور اس بارے میں کیا اعلان کرتا ہے؟

آئین پاکستان کی شق 27 یہ اعلان کرتی ہے :

کسی شہری کے ساتھ جو باعتبار دیگر پاکستان کی ملازمت میں تقرر کا اہل ہو، کسی ایسے تقرر کے سلسلہ میں محض نسل، مذہب، ذات، جنس سکونت یا مقام پیدائش کی بنیاد پر امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان میں کسی ملازمت کے عہدے پر کسی شخص کی تقرری کی اس بنیاد پر مخالفت کی جا رہی ہے کہ اس کا تعلق کسی مخصوص مسلک یا عقیدہ سے ہے تو یہ مخالفت یا ایسے شخص کی تبدیلی یا برطرفی کا مطالبہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اور اگر ایسے مطالبات کے آگے سر تسلیم خم کر کے حکومت ایسے مطالبات تسلیم کرتی ہے تو یہ فعل آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اور آئین کے اس حصہ کی خلاف ورزی جس کا تعلق بنیادی حقوق سے ہے۔ یعنی جن حقوق کو پارلیمنٹ بھی منسوخ یا کم نہیں کر سکتی۔

کیا یہ ایک معمولی بات ہے کہ کسی ایک عقیدہ سے وابستہ افراد کی تقرریوں کو اس بات پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ ایک نا واقف یہ خیال کرے گا کہ چند لوگوں کی ملازمتیں خطرے میں پڑیں۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

بات یہاں تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ عمل اور آگے بڑھتا ہے۔ اس کے بعد کسی بھی عہدیدار پر خواہ وہ وزیر یا وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ شخص قادیانی یا قادیانی نواز ہے۔ ذرا تصور کریں کہ یہی الزام خواجہ ناظم الدین صاحب پر لگایا گیا، یہی الزام ذوالفقار علی بھٹو صاحب پر لگایا گیا اور تو اور یہ الزام جنرل ضیا الحق صاحب پر بھی لگایا گیا۔ احمدیوں کے خلاف فسادات کے دوران یہ اعلانات کیے گئے کہ اکثر سینئر جرنیل قادیانی ہیں۔ پاکستان سے ان کو بچایا جائے۔

وقتی طور پر بزدلی دکھا کر چند افسران کو تبدیل کر دیا جاتا ہے لیکن پھر ایک تنگ نظر طبقہ کے ہاتھ میں بلیک میلنگ کا ایسا ہتھیار آ جاتا ہے کہ جس کو استعمال کر کے یہ طبقہ اپنے کاروبار کو وسیع سے وسیع تر کرتا جاتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ جنرل ضیا صاحب نے احمدیوں کے خلاف انتہائی اقدامات کئے تھے۔ لیکن اس کے باوجود یہ ہتھیار ان کے خلاف بھی استعمال کیا گیا۔ اس طبقہ نے نے صدر جنرل ضیا صاحب پر بھی قادیانی ہونے کا الزام لگایا اور جنرل صاحب کو جلسوں میں تردید کرنی پڑی کہ وہ قادیانی نہیں ہیں۔

اور جب ایک اجتماع کے سامنے جس میں علما کی بڑی تعداد شامل تھی جنرل ضیا صاحب نے یہ تردید کی تو بڑی دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ اس پر جنرل صاحب نے کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ بات یہاں تک بڑھ چکی ہے اور مجھے آپ کی تالیوں سے اندازہ ہوا ہے کہ یہاں اس چیز کو بڑی ہوا دی گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ کچھ جرائد یہ لکھ رہے تھے کہ ملک بھر میں یہ تاثر موجود ہے کہ حکومت قادیانیوں کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ اس کا مقصد یہی تھا کہ یہ مجرب نسخہ استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں اور حکومت کو اس دباؤ میں رکھا جائے کہ اگر تم نے ہماری فرمائشوں کو پورا نہ کیا تمہیں قادیانی یا قادیانی نواز قرار دینے کے لئے صرف پانچ منٹ درکار ہوں گے اور اس کے بعد تم کئی مہینوں تک صفائیاں دیتے رہو گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words