کیمپ کمانڈر دتیال: 1947

حال ہی میں لاہور کے ایک بڑے اور معتبر ادارے ً ماورا پبلشر ً نے آزاد کشمیر کے ایک گاؤں دتیال میں 1947 میں بننے والے ایک کیمپ کے بارے میں مصنفہ ً امتہ المنان طاہر ً کی ایک کتاب ً کیمپ کمانڈر دتیال۔ 1947 شائع کی ہے۔ یہ کتاب ہمیں 1947 میں آزاد کشمیر کی آزادی کے وقت پیش آنے والے واقعات سے روشناس کرواتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ 1947 میں میرپور میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں بہت کم لکھا گیا ہے اور جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں ایک ہی پہلو یعنی سکھ اور ہندو خواتین اور بچوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مصنفہ کی یہ کتاب اس ظالمانہ تاثر کو زائل کرنے میں مدد دیتی ہے اور دکھاتی ہے کہ 1947 کے فسادات میں بلوائیوں کو چھوڑ کر مجموعی طور پر اس علاقے کے لوگوں نے یہاں سے بچ کر جانے والوں کے ساتھ اپنی طبع کے مطابق کیسا حسن سلوک کیا۔

چونکہ راقم کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے، جس کو مصنفہ نے اپنا موضوع بنایا ہے، اور چونکہ راقم کے والد کا بھی کیمپ کمانڈر خواجہ عبد العزبز کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتا تھا، جو اکثر ملاقات کے لئے راقم کے والد صاحب کے پاس تشریف لاتے تھے۔ ، جن کی درمیانہ قد، سفید داڑھی، حلیم طبیعت اور چہرے پر مسکراہٹ راقم کو یاد ہے۔ کتاب میں مذکورہ ان کے گاؤں دتیال (جسے موہڑا۔ مقامی بولی میں چھوٹا گاؤں کہا جاتا ہے ) سے باہر نہر کی جانب قیام پاکستان سے قبل پکی اینٹوں سے بنا ہوا دیودار کے شہتیروں اور کڑیوں والا دو منزلہ مکان، جس کی ڈیوڑھی پر لکڑی کا بہت بڑا دروازہ تھا، حویلی کے مغرب کی جانب ایک رائیٹ والا کنواں، اور مکان کے سامنے مختلف پھلوں کا باغ بھی راقم کا دیکھا بھالا ہے۔

مصنفہ کی یہ کتاب پڑھ کر لگا کہ اس حویلی سے وابستہ کیمپ اور کیمپ کے دوران پیش آنے والے کانوں سنے واقعات اب تحریری شکل میں نظروں کے سامنے آ گئے ہیں۔ خواجہ عبدالعزیز کے میرے والد صاحب کے پاس ہندو خاندان کو پناہ دلوانے کے بارے میں راقم نے کچھ عرصہ قبل ایک کالم لکھا تھا۔ جس کا حوالہ بھی مصنفہ نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔

کتاب ً کیمپ کمانڈر۔ 1947 ً کے بارے میں کچھ لکھنے سے قبل ضروری ہے کہ 1947 کے فسادات کے وقت آزاد کشمیر کی تاریخ کے بارے میں مختصراً بیان کیا جائے۔ کشمیر خوبصورت جھیلوں، آبشاروں دریاؤں اور پہاڑوں پر مشتمل ایک خوبصورت ریاست ہے، جس کی حیثیت سینکڑوں سال تک ایک آزاد ملک کی رہی ہے۔ ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے بعد انگریزوں نے یہ ریاست 1846 میں ایک سکھ سردار گلاب سنگھ کو پچھتر لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض بیچ دی۔

یوں مہاراجہ گلاب سنگھ ریاست کشمیر کے سیاہ و سفید کا ملک بن بیٹھا۔ 1947 میں ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کے قیام کے وقت ریاست کشمیر میں اسی فیصد مسلمان آبادی تھی۔ اس موقع پر مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیری مسلمانوں کی مرضی کے خلاف ہندوستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ جس پر ہندوستان نے اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دیں۔ ڈوگرہ فوج نے کشمیری مسلمانوں کو زبردستی پاکستان ہجرت پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں دس لاکھ سے زیادہ کشمیری مسلمان ہجرت کر کے پاکستان اور آزاد کشمیر چلے گئے۔ کشمیر میں جموں کے اور دوسرے ریاستی مسلمانوں سے فریب سے اسلحہ لے لیا گیا۔ سینکڑوں مسلمان ریاستی ملازم بے دردی سے قتل کر دیے گئے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جموں، راجوری، پونچھ اور مختلف دوسری جگہوں پر ہجرت کرنے والے ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو ڈوگرہ فوج، ہندو اور سکھ بلوائیوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ان بلوائیوں نے انتہائی بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں عورتوں اور لڑکیوں کو بے آبرو کر کے قتل کر دیا۔ دودھ پیتے معصوم بچوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ ہندو اور سکھ غنڈے جوان عورتوں اور بچیوں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ جہاں انہوں نے ان کا مذہب زبردستی تبدیل کروا کر ان سے شادیاں رچا لیں۔

1947 میں میرپور شہر میں ہندو آبادی کی اکثریت تھی جو کہ تقریباً دس ہزار سے زیادہ تھی۔ مسلمان اقلیت میں تھے اس لئے جب ہندوؤں نے ان کو تنگ کرنا شروع کیا تو بہت سے لوگ شہر چھوڑ کر عارضی طور پر شہر سے ملحق دیہاتوں میں منتقل ہو گئے، جس پر شہر کے ہندوؤں نے ان کے گھر لوٹ لئے۔ میرپور میں ڈوگرہ فوج نے ان دیہاتوں پر گولہ باری کی تاکہ وہاں کے لوگ ڈر کر پاکستان چلے جائیں۔ لیکن ضلع میرپور میں بسنے والے مسلمان نوجوانوں نے علاقے کے سابق فوجیوں کے ساتھ مل کر مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور میرپور شہر کو ڈوگرہ فوج سے آزاد کروا لیا۔

میرپور فتح ہونے کے بعد بلوائیوں نے مقامی لوگوں کے منع کرنے کے باوجود ہندوؤں کے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ بہت سے ہندو اور سکھ مردوں کو قتل کر دیا اور عورتوں کو اغوا کر لیا۔ اس موقعے پر میرپور کے علاقہ کھڑی کے کچھ خاندانوں نے انسانیت کے ناتے سے سکھ اور ہندو خاندانوں کی مدد کی، انہیں پناہ دی اور انہیں کیمپوں تک پہنچایا۔ انہی میں سے ایک اس علاقے کی بڑی شخصیت خواجہ عبدالعزیز نے میرپور میں فسادات کے وقت بے گھر ہونے والی سینکڑوں ہندو اور سکھ خواتین اور ان کے بچوں کو اپنی حویلی میں پناہ دی۔

اپنی حویلی کو ریفیوجی کیمپ کا درجہ دیا۔ کیمپ میں مقیم عورتوں اور بچوں کی حفاظت اور بلوائیوں سے بچاؤ کے لئے با اعتماد گارڈز کا بندوبست کیا۔ اور ان بچ جانے والی خواتین کو بحفاظت سرحد پار پہنچانے کا بندوبست کیا۔ ان کے تبادلے میں ہندوستان میں اغوا ہونے والی سینکڑوں مسلمان خواتین کو پاکستان لانے میں بھی مدد گار بنے۔

چونکہ تقسیم پاک و ہند اور کشمیر کے دوران اور بعد میں رونما ہونے والے سانحے اور اس کے بعد زندہ بچ جانے والی ہندو اور سکھ خواتین کے لئے دتیال میں کیمپ بننے کے واقعات مصنفہ کی پیدائش سے پہلے پیش آئے تھے۔ اس لئے ظاہر ہے اور جیسے کہ مصنفہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ان واقعات کے بارے میں اپنے خاندان کے لوگوں، نانا، نانی اور والدہ سے اس بارے میں بہت کچھ سنا ہوا تھا، لیکن یہ ان کے آنکھوں دیکھے واقعات نہیں تھے، اس لئے اس کیمپ کے بارے میں مستند کتابوں سے تصدیق ہونے اور اس کیمپ میں رہنے والے کچھ افراد کے بیانات سے ان واقعات کی تصدیق کے بعد مصنفہ نے ان واقعات کو قلمبند کیا ہے۔

کتاب کے پیش لفظ میں مصنفہ نے مستند مثالوں کے ساتھ کیمپ کے قیام کے بارے میں آگاہی دی ہے۔ جس میں آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد یوسف صراف کی کتاب ً کشمیر کی آزادی کی جدوجہد ً میں اس کیمپ کے تذکرے کے علاوہ کیمپ میں قیام کرنے والی ہندو کرشنا مہتا کی تصنیف 1947۔ A Survivor ’s Story میں ان کے اس کیمپ کے بارے میں تاثرات اور سنتوش کماری سے تا حال اپنے تعلق کو بھی شامل کیا ہے۔

تعارف کے باب میں حفیظ الرحمن نے کیمپ سے متعلقہ اہم افراد کا تعارف کروایا ہے۔ جن میں خواجہ عبدالعزیز، سنتوش کماری کے کردار زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، جن کے بیچ ایک باپ اور بیٹی کا رشتہ بنا اور خواجہ صاحب کی بیٹی مبارکہ اور سنتوش بہنیں بنیں۔ اور اسی رشتے کے ناتے سے کیمپ کی پناہ گزین سنتوش کماری نے اس کتاب کی تکمیل میں مرکزی کردار ادا کیا۔ جنہوں نے خود مصنفہ سے جرمنی میں رابطہ کیا اور مصنفہ کو ان کی بالمشافہ ملاقات سے اپنے سرحد پار کرنے تک کے واقعات سے انہیں آگاہ کیا، جن کی تفصیل کتاب میں موجود ہے۔

1947 کے فسادات میں مظفرآباد میں مارے جانے والے مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر وزیر وزارت کی اہلیہ کرشنا مہتا جو کافی لمبا عرصہ اس کیمپ میں مقیم رہیں، کی تصنیف 1947۔ A Survivor ’s Story میں اس کیمپ کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں، ان کا حوالہ بھی مصنفہ نے ً کیمپ کمانڈر دتیال۔ 1947 میں دیا ہے۔

مصنفہ نے اس زمانے کے اپنے نانا کے گھر کے رہن سہن، گھرداری اور خاندان کے بارے میں، علاقے کی روایات، طرز زندگی اور اس وقت اس گاؤں کی صورت حال کے بارے میں تفصیل سے جو بیان کیا ہے، اس گاؤں کی موجودہ نسل شاید اب اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ تقسیم کے تاریک سایوں کے اثر سے دتیال کے اس مکان کے ہنستے بستے گھرانے میں پناہ گزینوں کی آہوں اور سسکیوں کی داستان قاری کو اداس کر دیتی ہے۔ پھر اسی مکان سے ان خواتین کو بحفاظت سرحد پا ر پہنچانے کا ذکر بھی تفصیل سے کیا گیا ہے۔

کتاب میں سند کے طور پر چھاپے جانے والے خطوط اور دستاویزات کی سکیننگ زیادہ معیاری نہیں، جس سے قاری کو انہیں پڑھنے اور سمجھنے میں دقت ہوتی ہے، اس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ ان ثبوتوں کو قیمتی نہ جان کر انہیں احتیاط سے نہیں رکھا گیا۔

کتاب کے آخر میں ضمیمے کے طور پر ایک باب وسیم امجد نے اور ایک باب ایڈنبرا سے بشری حفیظ نے بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ جس میں وسیم امجد نے اپنی والدہ کے ساتھ سنتوش کماری سے ملاقات کے لئے بھارت جانے کی تفصیلات لکھی ہیں، جن کے بارے میں راقم ان سے زبانی طور پر بھی سن چکا ہے۔ بشری حفیظ، جن کی عمر کیمپ کے قیام کے وقت پانچ اور چھ سال کے درمیان تھی، انہوں نے بھی اپنے بھارت کے سفر اور سنتوش کماری سے ملاقات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

راقم کو یقین ہے کہ 1947 میں میرپور کے فسادات کے بارے میں اور بھی کئی لوگوں کے پاس معلومات ہوں گی۔ اس موضوع پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے، جس کے لئے خطے کے مصنفین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words