پنجشیر میں لڑائی: جب انڈین میڈیا نے ویڈیو گیم میں لڑائی کو افغانستان میں پاکستانی فوج کی کارروائی قرار دے دیا

افغانستان کے شمالی علاقے پنجشیر میں جہاں طالبان اور قومی مزاحمتی محاذ کی جھڑپوں کے بارے میں متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں وہیں اس لڑائی میں مبینہ طور پر پاکستانی طیاروں اور ڈرونز کی شمولیت کے بارے میں انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر بڑھ چڑھ کر دعوے کیے جا رہے ہیں۔

جہاں پاکستان کی فوج نے اس لڑائی میں طالبان کی امداد کی تردید کی ہے وہیں طالبان نے بھی پاکستانی مدد کو رد کیا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے گذشتہ روز کہا ہے کہ ’افغانستان کے اندر جو بھی ہو رہا ہے اس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے وہ پنجشیر ہو یا کہیں اور۔‘

طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پنجشیر پر قبضہ کر چکے ہیں اور انھوں نے وہاں اپنا پرچم لہرا دیا ہے جبکہ افغان ’قومی مزاحمتی محاذ‘ کے سربراہ احمد مسعود نے افغانوں سے ’قومی بغاوت‘ کی اپیل کی ہے جس کے بعد بی بی سی فارسی کے مطابق لوگوں کی مزارِ شریف اور کابل سے اپنے گھروں سے نکلنے کی اطلاعات بھی ہیں۔

دریں اثنا انڈیا کے متعدد ٹی وی چینلوں نے نہ صرف پنجشیر کی لڑائی میں پاکستان کی طالبان کو دی جانے والی مبینہ مدد دکھانے کی کوشش کی ہے اور اس حوالے سے مباحثے بھی منعقد کیے گئے ہیں۔

انڈیا میں ہیش ٹیگ پنجشیر کئی روز سے ٹرینڈ کر رہا ہے اور اس لڑائی میں خاصی دلچسپی پائی جاتی ہے۔

انڈیا میں جعلی خبروں کو فیکٹ چیک کرنے والی ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے لکھا کہ کل کا دن انڈیا میں خبریں فیکٹ چیک کرنے والوں کے لیے بہت ہی مصروف دن تھا اور اس کی وجہ انڈین نیوز چینل ہیں۔

محمد زبیر نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’رپبلک ٹی وی، زی ہندوستان اور ٹائمز ناؤ اور نوبھارت نے ایک ویڈیو گیم آرما-3 کے ویڈیو کلپ کو نشر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ افغانستان کے علاقے پنجشیر میں پاکستان کا فضائی حملہ ہے۔ اسی طرح آرما-3 کی ہی ایک مختلف فوٹیج کا استعمال ٹی وی نائن بھارت ورش نے سنہ 2020 اور سنہ 2021 میں کیا تھا۔‘

ان کے علاوہ برطانوی ڈیفنس جرنل نے اس حوالے سے ایک خبر شائع کی ہے اور لکھا ہے کہ ‘ایک انڈین نیوز چینل نے امریکی ایف-15 کا ایک کلپ نشر کیا ہے جو کہ ویلز پر پرواز کر رہا ہے اور اسے اس نے افغانستان میں ’پاکستانی حملے کا مکمل ثبوت‘ کہا ہے۔‘

اس سے قبل ٹی وی-9 بھارت ورش کے سینیئر ایگزیکٹو ایڈیٹر نشانت چترویدی نے پنجشیر کے حوالے سے ٹویٹ کیا تھا: ‘ذرا غور فرمائیے! پاکستان کی فوج افغانستان کی جنگ میں طالبان کی مدد کر رہی ہے لیکن کوئی بھی بین الاقوامی برادری سے اس کے خلاف نہیں بول رہی۔‘

’کیا پاکستان کو طالبان کی مدد کرنے کا خمیازہ ایف اے ٹی ایف میں بھگتنا پڑے گا؟‘

واضح رہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی تنظیم فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں رکھا گیا ہے۔

اس کے بعد محمد زبیر نے ٹی وی-9 بھارت ورش اور نشانت چترویدی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے ‘پھر سے پنجشیر وادی کے نام پر آرما-3 کا ویڈیو دکھایا ہے (وہی ویڈیو نہیں دکھایا ہے جو کہ رپبلک نے دکھایا ہے)۔‘

انھوں نے ایک دوسرے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ گذشتہ سال آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ میں بھی انھوں نے نو اکتوبر کو وہی کلپ دکھایا تھا۔

محمد زبیر کے ان ٹویٹس کے بعد نشانت چترویدی نے لکھا: ‘معافی میرے دوست۔۔ مستقبل میں اسے ضرور ڈبل چیک کروں گا۔‘

اے وائٹ شرٹ نامی ایک صارف نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ یہ معافی ٹی وی پر مانگیں گے کیونکہ آپ کے ناظرین وہیں ہیں جنھوں نے وہ (خبریں) دیکھی ہیں۔

پنجشیر پر ٹویٹس کا ذکر کیا جائے تو انڈیا کے معتبر میڈیا ہاؤسز ’انڈیا ٹوڈے‘، ’آج تک‘، ’ہندوستان‘ اور ’روزنامہ بھاسکر‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’پنجشیر کے جنگجوؤں نے ایک پاکستانی فائٹر جیٹ کو مار گرایا ہے‘ لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ خبر احمد مسعود کے ایک جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ کی بنیاد پر چلائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر پاکستان میں ’خانہ جنگی‘ کی جھوٹی خبریں

پاکستان طیارہ حادثے پر انڈین سوشل میڈیا صارفین خوش کیوں؟

ارنب گوسوامی: انڈیا کے سب سے ’مقبول‘ اور ’ناپسندیدہ‘ ٹی وی اینکر

اس کے بعد ’آج تک‘ اور ’انڈیا ٹودے‘ نے اپنے ٹویٹس کو ہٹا لیا ہے۔ پاکستان کے صحافی حمزہ اظہر سالم نے انڈیا ٹوڈے کو جواب دیتے ہوئے لکھا: ’آپ کی رپورٹ میں جس احمد مسعود کے اکاؤنٹ کا استعمال ہوا ہے وہ جعلی ہے۔

’اس میں استعمال ہونے والی تصویر پنجشیر میں پاکستانی جیٹ کی نہیں ہے، یہ سنہ 2018 میں ایریزونا میں امریکی جیٹ کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنی رپورٹ کو درست کر لیں گے۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے ثبوت کے طور پر ملٹری ڈاٹ کام کی ایک سٹوری کا لنک بھی شیئر کیا۔

ان کے جواب میں ارسلان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’وہ کبھی بھی اس کی تصحیح نہیں کریں گے۔ اس کامیڈی شو کو جاری رہنے دیں۔‘

احمد مسعود کے جس جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ کی بنیاد پر یہ خبریں نشر کی گئیں اب وہ اکاؤنٹ ہی بند ہو چکا ہے۔

دوسری جانب انڈیا میں نیوز لانڈری کی صحافی منیشا پانڈے نے رپبلک ٹی وی کے اینکر ارنب گوسوامی کے خصوصی پروگرام ‘ویسٹرن میڈیا ایکسپوزڈ’ پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ‘مغربی میڈیا کی قلعی اس وقت کھل گئی جب رپبلک (ٹی وی) ویڈیو گیمز کی فوٹیج کو ’پنجشیر سے خصوصی‘ کہہ کر پیش کر رہے تھے۔‘

ترنمول کانگریس کے رکن اور سابق صحافی ساکیت گوکھلے نے لکھا کہ انڈین میڈیا میں افغانستان کو ایک دن میں جتنا کوریج ملتا ہے اتنا کشمیر اور شمال مشرقی (ریاستوں) کو ایک سال میں نہیں ملتا ہے۔

’جب چین نے گلوان پر حملہ کیا اور اب اس پر قابض ہے تو نریندر (مودی) نے کچھ نہیں کہا لیکن اب چین کے افغانستان میں ہونے پر پاگل بنا ہوا ہے۔ دوست ممالک کے حق کے لیے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ کیا آسام اور میزورم کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بارے میں اس کا عشرِ عشیر بھی دکھایا گيا جو کہ پنجشیر کے بارے میں دکھایا جا رہا ہے۔

ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کیوگلمین نے لکھا: ’بعض انڈین ٹی وی میڈیا اصل فوٹیج کے بجائے ویڈیو گیم کی تصاویر کا استعمال پنجشیر میں ہونے والے حملے کے طور پر دکھا رہے ہیں۔‘

طاہر نقوی نامی صارف نے لکھا کہ انڈین میڈیا کو عالمی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس کے حوالے میں انھوں نے برطانوی ڈیفنس جرنل کا ایک سکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے۔

ایکسس پاکستان نامی ایک صارف نے میم کے طور پر ایک آبدوز کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’انڈیا میڈیا کے مطابق یہ پاکستانی آبدوز ہے جو کہ پنجشیر میں ہے۔‘

بہرحال پنجشیر کے حوالے سے دعوے اور ان کی تردید کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر جب کوئی خبر چلا دی جاتی ہے تو عوام اسے حقیقی سمجھ لیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر معافی تلافی کا معاملہ بہت کم لوگوں تک محدود رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words