سازوں کو حسرت سے تکتا غریب بچہ جو موسیقارِ اعظم کہلایا

گئے دنوں کا ذکر ہے، لکھنؤ کے لاٹوش روڈ پر سازوں کی ایک دُکان ہوا کرتی تھی؛ ’’بھوندو اینڈ کمپنی‘‘۔ ایک ننھا سا بچہ بار بار سازندوں کی اِس دُکان کے چکر لگاتا۔ دُکان کے مالک غربت علی نے اس بچے سے پوچھا: ’’تم ان سازوں کو کیوں گھورتے رہتے ہو‘‘؟

بچے نے جواب دیا، ’’کیوں کہ میں انھیں خرید نہیں سکتا‘‘۔ اس کے ساتھ ہی بچے نے کہا: ’’کیا میں دُکان میں جھاڑو پوچا لگانے کا کام کر سکتا ہوں‘‘؟
غربت علی نے بچے کو رکھ لیا۔

ایک دن جب غربت علی دُکان پر پہنچے، تو دیکھا کہ وہ بچہ ہارمونیم پر اپنی انگلياں نچا رہا ہے، اور اس کی دھن ہر طرف پھیل رہی ہے۔ ہارمونیم بجانے میں منہمک بچے کا ہاتھ جب رُکا، تو اور نظر غربت علی پر پڑی،  تو بچہ کانپنے لگا۔ غربت علی نے بلند آواز میں کہا،: ’’تو دُکان کی صفائی کرنے آتا ہے، ہمارے نئے سازوں پہ اپنے ہاتھ صاف کرنے آتا ہے‘‘؟

بچہ یہ کہتے ہوئے معافی مانگنے لگا، کہ اب آگے سے ایسا نہیں ہو گا۔ لیکن غربت علی ہارمونیم پر بچے کی انگلیوں کا سحر سمجھ چکے تھے اور خاصے متاثر ہو کر انھوں نے وہ ہارمونیم اُس بچے کو مفت دے دیا۔ کبھی سازوں کی دُکان میں صفائی کرنے والا، وہ بچہ؛ برسوں بعد، بالی وُڈ میں موسیقارِ اعظم نوشاد کے نام سے مشہور ہوا۔

لکھنؤ میں عدالت کے ایک منشی جناب واحد علی کے گھر میں 25 دسمبر 1919ء کو ایک ستارہ روشن ہوا، جس کا نام نوشاد علی رکھا گیا۔ آٹھ برس کی عمر ہی سے اُس بچے کو سنگیت سے والہانہ محبت ہو گئی اور یہ محبت اتنی بڑھی کہ وہ اپنی اسکول کی پڑھائی کو نظر انداز کر کے گانے بجانے میں وقت صرف کرنے، سنگیت کی نشستوں میں شرکت کرنے اور سینما گھر کے چکر لگانے لگا۔ جس کی اس کے گھر والوں نے سخت مخالفت کی۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اپنا وقت ضائع کر رہا ہے۔ پھر ایک دن 1937ء میں نوشاد لکھنؤ کو خدا حافظ کہہ کر بمبئی چلے گئے۔ جیسا کہ انھوں نے خود بتایا ہے ریل کا کرایہ ان کے ایک دوست نے دیا تھا۔ جب وہ بمبئی پہنچے تو وہ کسی کو نہیں جانتے تھے۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں:
’’میں ایک ایک منہ تکتا تھا۔۔۔‘‘

وہ فلم اسٹوڈیوز کے پیدل چکر لگاتے رہے، کہ شاید کہیں کام مل جائے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے فلمی سنگیت کے آسمان پر جگمگانے لگے اور اپنے ساتھ بہت سے رُو پوش ستاروں کو بھی روشن کر دیا۔ اپنے شہر لکھنؤ کا نام بھی اور اونچا کردیا، جس کے ہر محلے کوچے میں نوشاد کے سنگیت اور دھنوں کی دھوم تھی۔ اہل لکھنؤ کو فخر تھا کہ نوشاد نے اپنے شہر کا نام سارے ملک میں چمکا دیا ہے۔ نوشاد نے اپنی زندگی میں بہت سی صعوبتوں کا سامنا کیا تھا؛ خصوصاً بمبئی پہنچنے کے بعدانھوں نے در بدر کی خاک چھانی تھی۔ انسان کو جائے پیدایش اور جائے سکونت سے بے پناہ محبت ہوتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نوشاد ممبئی کا ہو کے کبھی لکھنو کو بھول نہ پایا۔

فروری 1993 کے ایک خط میں اپنے بچپن کے ایک دوست نصیب اللہ کو نوشاد صاحب نے لکھا ہے:

’’آپ کا خط پڑھ کر سب کی یاد آنے لگی۔ ایک بار بچپن آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ خدا آپ سب کو سلامت رکھے۔ ہماری نانی کا گھر سلامت رہے۔ کئی بار ایسا خیال آتا ہے، کہ ایک بار تمام بچوں کے ساتھ آ کر آپ کے یہاں ہی ٹھہروں اور مسجد کی چھت پر سے پتنگ اُڑائیں، اور نانی کی آواز سنیں: ’ﺍﮮ ﻛﻢ ﺑﺨﺘﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﭼﮭﺖ ﺳﮯ ﺍُﺗﺮﻭ، ﮔﻨﺎﮦ ﺑﮍﮬﮯ ﮔﺎ۔‘ پھر تکیہ والے پیر صاحب کے مزار پر جاوں اور ہمارے بزرگ املی کے درخت سے لپٹ ککر جی بھر کر خوب رووں۔ مجھے بڑی یادیں ستاتی ہیں‘‘۔

نوشاد آخری بار 2002 میں لکھنؤ آئے تھے۔ اس وقت ان کو دیکھنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ لگ گئی تھی۔ وہ آخری موقع تھا جب نوشاد لکھنؤ آئے تھے۔ ایک بھر پور عمر گزارنے کے بعد نوشاد صاحب کا انتقال 5 مئی 2006 کو ممبئی میں ہوا۔

اسی کی دہائی میں برصغیر کے موسیقار اعظم نوشاد صاحب کی خود نوشت شمع دہلی میں قسط وار شایع ہوئی تھی، جو کہ اس وقت بہت مقبول بھی ہوئی۔ نوشاد صاحب اپنی زندگی کے حالات ظہیر ناصر سے بیان کرتے رہے، جسے ظہیر ناصر قسط وار چھپواتے رہے۔ اس کے بعد یہ پاکستان کے ایک ماہنامہ ڈائجسٹ ’’سرگزشت‘‘ میں 2005 میں شایع ہوئی۔ پھر 2006 میں اسے فرید بک ڈپو نے کتابی شکل میں نئی دہلی سے شایع کیا؛ لیکن بہت جلد یہ کتاب نایاب ہو گئی، اب ایک عرصے سے نوشاد کے چاہنے والے اس کتاب کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے تھے، تو نام ور جوان سال محقق راشد اشرف سے بھی بہت سوں نے دریافت کیا۔

راشد اشرف پرانی کتابوں کو اسکین کر کے محفوظ کرنے اور ماضی کے عظیم اور گم نام شخصیات کی خودنوشت کو مناسب قیمت پر چھپوا کر سامنے لانے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ انھیں اس بات کا احساس ہوا کہ نوشاد کی خود نوشت کو ایک بار پھر سے کتابی شکل دینا چاہیے۔ نا مساعد حالات کے باوجود نہایت مناسب قمیت کے ساتھ راشد اشرف نے نوشاد کی خودنوشت کو شایع کر دیا ہے۔ اس بار اس خودنوشت میں خاصی معلومات کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس خود نوشت میں نوشاد صاحب نے فلمی دنیا اور موسیقی سے وابستہ افراد کا ذکر ہے۔ اور ساتھ ہی نوشاد صاحب نے اپنی زندگی کے دل چسپ واقعات اور چھوٹی بڑی باتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔

نوشاد کی خود نِوشت
صفحات: 382
قیمت: 480
پبلشرز: اٹلانٹس پبلی کیشنز کراچی
اٹلانٹس کے اختر حسین صاحب سے فون پر آرڈر کرنے کیلئے رابطہ کریں۔
0300-2472238

Comments - User is solely responsible for his/her words