محبت


میں ہمیشہ اسی گلی کا انتخاب کرتی جہاں سے گزرتے ہوئے ایک عجیب قسم کی خوشی میرے من میں سرایت کر جاتی۔ وہ ہر روز پچھلے دن سے کہیں زیادہ حسین دکھتی۔ خوبصورت، دلکش اور موتیوں جیسی چمک اس اندھیری گلی کو روشنی بخشتی۔ اسے دیکھ کر ہمیشہ رشک آتا کہ کس قدر خوبصورت شے اللہ نے دنیا میں پیدا کی ہے۔ کیا کوئی اس حد تک بھی حسین ہو سکتا ہے۔ بس انھیں خیالوں میں گم میں اپنی منزل تک پہنچتی۔

حسب معمول کل رات جب میں اس گلی میں سے گزر رہی تھی تو ایک عجیب سماں دیکھنے کو ملا۔ میں نے خون سے لت پت ایک شے دیکھی۔ میں خوف و حیرت سے کونے میں لگ گئی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے بے دردی سے اسے سوئیوں سے چھلنی کیا ہو۔ وہ تڑپ رہی تھی اور اس کی یہ تڑپ کچھ ایسی ہی تھی جیسے بستر مرگ پر پڑا ہوا شخص اپنی زندگی کی آخری سانس لیتے ہوئے تڑپ رہا ہو اور معاشرے کی روایات کے مطابق اس کے یوں تڑپنے سے وہ تو جہنمی ٹھہرا۔

کیونکہ نیک انسان کے لیے موت اذیت نہیں بلکہ راحت کا سبب ہے۔ بالکل اسی طرح وہ بھی معاشرے کی ان کڑی زنجیروں سے ڈرتے ہوئے اندر ہی اندر مر رہی تھی۔ خوف و ہراس کی وجہ سے وہ کانپ رہی تھی۔ اس کے بدن پر موجود نشان اس بات کی گواہی تھے کہ کسی نے اس کے حسن کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی میں اسی شش و پنج میں مبتلا ہوں کہ اچانک کیا دیکھتی ہو کہ وہ شے گلی کی نکڑ پر موجود نالے کی طرف رینگنا شروع کر دیتی ہے۔ ارے رکو۔ کون ہو تم؟ کیوں کر رہی ہو یہ سب؟ کس نے یہ حال کیا تمہارا؟ مگر اب پچھتائے کیا ہو تو جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ میں یہ ہولناک منظر آنکھوں میں لیے اور بے شمار سوال ذہن میں لیے بھاری قدموں سے گھر آ پلٹی۔

اگلی صبح مسجد کے سپیکر سے یہ الفاظ سن کر میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ کہ وہ جو کل رات انتقال کر گئی اس کا نام ”محبت“ تھا

Facebook Comments HS