این آر او دینے والا ظالم، ایم کیو ایم سے اتحاد اور حامد میر کا قصور؟

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق ’این آار او نہیں دوں گا‘ کی صدا لگانے والا ’میاں مٹھو ‘ بالآخر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہؤا ہے کہ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے کسی قانونی اختیار کے بغیر سیاست دانوں کو این آر او دیا تھا جس کے تحت ان کے خلاف سب مقدمات واپس لے لئے گئے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور خود کو انصاف کا سب سے بڑا علمبردار بنا کر پیش کیا۔

موجودہ حکومت کی انصاف پسندی کے متعدد نمونے تلاش کئے جاسکتے ہیں لیکن سب سے پہلے تو عمران خا ن کے اس دلچسپ اعتراف حقیقت پر غور کرنا چاہئے جس میں انہوں نے پرویز مشرف کی آئین شکنی اور سیاست دانوں کو این آر او دینے کے اقدامات کا ذکر کیا ہے۔ پرویز مشرف نے جو این آر او یعنی قومی مصالحتی آرڈی ننس جاری کیا تھا،اسے بعد میں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیاتھا۔ پرویز مشرف کی آمریت میں جاری ہونے والے اس آرڈی ننس سے اگر کسی نے فائدہ اٹھایا تھا تو وہ متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان تھے جو اس وقت الطاف حسین کی قیادت میں جمع تھے اور الطاف حسین پر غداری کا ٹھپہ لگنے کے بعد اب ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے موجودہ حکومت کا دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔ ملک کے انصاف پسند وزیر اعظم نے نہ تو کبھی ان کی سیاسی قلابازی کے بارے میں دریافت کیا اور نہ ہی یہ سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس کی کہ جو کل تک ایک غدار کی تعریف میں رطب اللساں رہتے تھے ، وہ اب انصاف کیسے کریں گے؟

عمران خان نے آج وکیلوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں معاملات کو ملا کر من پسند سہانی تصویر بنائی اور خود کو 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک کا ہیرو بنا کر پیش کیا۔ تاہم اس موقع پر وکیلوں کی قربانی اور اپنے ایثار کا ذکر کرتے ہوئے ، وہ یہ بتانا بھول گئے کہ جس پرویز مشرف کا این آار او دینا انہیں اس وقت ملک و قوم کے لئے بھاری دکھائی دے رہا ہے ، اسی فوجی لیڈر نے اسلام آباد میں اپنی طاقت ظاہر کرنے کے لئے مکا لہرایا تھا اور ان سے اپنی مکمل وفاداری ثابت کرنے کے لئے ایم کیو ایم نے کراچی شہر کو بند کردیا تھا۔ 12 مئی 2007 کو کراچی میں کی گئی خوں ریزی میں پچاس سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے تھے اور ان کے قاتلوں سے ابھی تک حساب نہیں لیا جاسکا کیوں کہ ملک کے نئے حکمرانوں کو ان کے ساتھ اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود ملک کا وزیر اعظم انصاف پسند ہونے کا دعوی ٰ کرنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتا۔

عمران خان نے بجا طور سے ’بنانا ری پبلک‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ نہیں لی جاسکتی کہ کوئی ملک وسائل سے محروم ہوگیا ہے بلکہ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انصاف کی بجائے ظلم کی عمل داری ہو۔ کیا کسی ملک میں عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے سے بڑا کوئی ظلم ہوسکتا ہے اور کیا عمران خان خود اپنے اقتدار کے لئے فوجی چھتر چھایا میں یہی ظلم عظیم ، پاکستانی عوام پر مسلط نہیں کررہے؟ تحریک انصاف کی حکومت کو چوتھا برس شروع ہوچکا ہے لیکن اب بھی اس کا سربراہ یہی دعویٰ کررہا ہے کہ ملک میں قانون کے دو نظام ہیں۔ ایک غریبوں کے لئے دوسرا امیروں کے لئے۔ کیا عمران خان کا ضمیر انہیں کبھی اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ خود ہی اس سوال کا جواب بھی ارزاں کریں کہ اقتدار میں اپنی حکومت کی نصف مدت پوری کرنے کے بعد بھی وہ انصاف کی فراہمی کے اس دوہرے نظام کو کیوں ختم کرنے سے قاصر ہیں۔ اور اگر انہیں خود میں اس کی اہلیت محسوس نہیں ہوتی تو وہ کس کو اس ’نااہلی‘ کا ذمہ دار قرار دیں گے؟

وزیر اعظم انصاف کا نام تو لیتے ہیں کیوں کہ عام لوگوں کو گمراہ کرنے اور نعرہ دینے کے لئے اس قسم کی فقرے بازی بہت سود مند ہوتی ہے لیکن وہ جس لب و لہجہ میں اپوزیشن لیڈروں، عوام کے منتخب نمائیندوں اور اپنے سیاسی و نظریاتی مخالفین کے بارے میں بات کرتے ہیں یا کسی قانونی جواز کے بغیر ان پر الزامات عائد کرتے ہیں، وہ قانونی حکمرانی کے بنیادی اصول سے متصادم ہے۔ عمران خان کے سب سیاسی مخالف خواہ ان کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہو یا پیپلز پارٹی یا وہ جمیعت علمائے اسلام (ف) اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہوں، چور اچکے اور قومی دولت کے لٹیرے ہیں۔ کسی معاملہ پر گفتگو کرنا ہو عمران خان اور ان کے چہیتوں کی تان اسی بات پر آکر ٹوٹتی ہے کہ سابقہ حکمران قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک لے گئے لیکن وہ تین برس تک اقتدار میں رہنے کے باوجود کوئی ایسا قانون نافذ نہیں کرسکے جس کے تحت قومی دولت لوٹنے والوں کو فوری سزا دی جاسکے۔ اس کے برعکس حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کے ایسے ججوں کو عہدوں سے علیحدہ کروانے کے لئے ضرور تمام وسائل اور صلاحیت صرف کی ہے جو اپنے فیصلوں میں موجودہ حکومت کے لئے خطرہ بنتے دکھائی دیتے ہیں یا ملک پر آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہوئے ان تمام اداروں کو بھی قانون کے دائرہ میں لانا چاہتے ہیں جو کسی سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے مختلف نوع کے دھرنوں کا اہتمام کرتے ہیں پھر برسر اقتدار لوگوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ عمران خان خود ایک ایسے دھرنے کے ’ہیرو‘ رہ چکے ہیں، اس لئے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ایسے کون سے عناصر قانون کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں۔

زیادہ دور جانے کی کیا ضرورت ہے۔ حال ہی میں جب لاپتہ افراد کے لواحقین نے وزیر اعظم سے ملاقات کئے بغیر اسلام آباد میں احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا تھا تو طوعاً کرہاً عمران خان کو اس ملاقات پر راضی ہونا پڑا تھا لیکن وہ کوئی وعدہ کرنے یا اس حوالہ سے کسی اقدام کا اعلان کرنے میں ناکام رہے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ ملک کا انصاف پسند حکمران جو سب کے لئے مساوی قانون کے اصول پر یقین رکھتا یا کم از کم اس کا دعوے دار ہے، ایک ایسی لاقانونیت کا تدارک کرنے میں ناکام ہے جو کئی دہائی سے جاری ہے اور جس پر قومی مفاد اور ریاستی تحفظ کے نام کا پراسرار اور غیر واضح پردہ ڈال دیا گیا ہے۔

قانون کی حکمرانی نافذ کرنے کا خواہاں وزیر اعظم تو اپنے مختصر سے دارالحکومت کی حدود پر بھی قانون کی مکمل بالادستی نافذ کرنے سے قاصر ہیں۔ جب بھی کوئی صحافی یا ایکٹویسٹ ملک کے ’حساس اداروں‘ کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہنے کی غلطی کر بیٹھے تو اسے سبق سکھانے کے لئے ہر طرح کا ماورائے قانون ہتھکنڈا اختیار کیا جاتا ہے۔ عمران خان کے سابقہ ممدوح اور ملک کے ممتاز صحافی و اینکر حامد میر صرف اس گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں کہ انہوں نے ’دستانے پہن کر‘ جرم کرنے والوں سے کہا تھا کہ’ اگر صحافیوں کو گھر میں گھس کر مارنے کا سلسلہ بند نہ ہؤا تو صحافی گھروں میں تو نہیں گھسیں گے لیکن وہ اندر کی باتیں باہر ضرور بتادیں گے‘۔ کیا عمران خان یہ بتانے کی زحمت کریں گے کہ ان فقروں میں ملک و قوم کے کون سے راز فاش کردیے گئے تھے کہ حامد میر کو نہ ٹی وی پروگرام کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی کالم لکھنے کا حق باقی رہا ہے۔

انصاف کا ضامن بننے والا میڈیا اور آزادی اظہار کے بارے میں تحریک انصاف کی حکومت کا یہ رویہ ہے کہ اس کا وزیر اطلاعات ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں میڈیا اداروں کا نام لے کر یہ بتا رہا ہے کہ وہ قومی مفاد کے خلاف سرگرم ہیں۔ ملک کے ممتاز انگریزی روزنامہ ڈان نے اپنے اداریے میں وزیر اطلاعات کے غیر ذمہ دارانہ اور خلاف واقعہ بیان پر احتجاج کیا ہے۔ اگر ملک میں انصاف و قانون کی عمل داری پر یقین رکھنے والی حکومت قائم ہوتی تو بنیادی سیاسی اخلاق سے گری ہوئی بات کرنے پر وزیر اعظم اپنی کابینہ کے ایسے رکن کی بازپرس کرتے اور اسے اپنے کہے کی معافی مانگنے پر مجبور کیاجاتا۔ اس کے برعکس فواد چوہدری ایک ایسی میڈیا اتھارٹی بنانے کے قانون پر کام کررہے ہیں جسے ملک کے تمام صحافی اور میڈیا ادارے آزادی صحافت پر سنگین حملہ قرار دے چکے ہیں۔ لیکن اس میڈیا قانون کے بارے میں ایسی پراسرار رازداری سے کام لیا جارہا ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ارکان کو بھی قانون کا مسودہ فراہم کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔ فواد چوہدری کا دعویٰ ہے کہ ان کی باتوں کو سند مان کر خوشی خوشی قبول کرلیا جائے۔ کیا عمران خان کسی ایسے انصاف پسند معاشرے کی مثال پیش کرسکتے ہیں جہاں قانون سازی عوامی نمائیندوں کے علم میں لائے بغیر کی جاتی ہو اور جہاں میڈیا کو پابند کرکے معاشرتی ناہمواری ختم کرنے کا کام کیا گیا ہے؟

وزیر اعظم نے پرویز مشرف پر عوام دشمن اور طاقت ور لیڈروں کو این آار او دینے کا الزام تو لگایا ہے لیکن انہیں یہ بتانے کا موقع نہیں ملا کہ ملکی آئین کے اس غدار پر جب خصوصی عدالت نے فیصلہ سنایا تھا تو کیا وجہ تھی کہ عمران خان کی انصاف پسند حکومت نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اور وزیروں کی فوج مرحوم جسٹس وقار سیٹھ کی کردار کشی کے لئے میدان عمل میں کود پڑی تھی۔ اگر این آر او دینے والا ظالم تھا تو کیا اس کی جان بچانے والی حکومت ’مہا ظالم ‘کے رتبے پر فائز نہیں ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words