بچوں کو کیا پڑھایا جائے؟ والدین کے لیے ایک تحریری مشورہ

مولانا سید ابو الاعلی مودودی صاحب نے تفہیم القرآن کے مقدمہ یا پیش لفظ میں کہیں لکھا ہے کہ، ”ایک وقت تھا کہ وہ“ ذہنی آوارہ ”گردی میں مبتلا تھے اور“ سب کچھ ”پڑھ لیتے تھے۔“

سید صاحب کی سیاست اور نظریات سے متفق نہ ہوتے ہوئی بھی ہمارا سید صاحب سے کوئی مقابلہ نہیں۔ سورج کے آگے چنگاری بھی کہیں تو یا شیخی کہلائے گی یا شوخی! البتہ ہم تو آج بھی سب کچھ پڑھ لیتے ہیں لیکن چوں کہ ہم جناب قبلہ سید صاحب کی طرح شدت پسند نہیں ہیں، سو اس عمل کو ذہنی آوارہ گردی کے بجائے ”ذہنی سیاحت“ قرار دیں گے۔ اور یوں بھی عملی سیاست اور عملی سیاحت کوئی ”پاکستانی قلمی مزدور“ کہاں افورڈ کر سکتا ہے!

ہاں اگر بزعم خود کوئی صحافی، ادیب یا لکھاری کہلاتا ہے اور حساس لوگوں کی بے حسی اور طاقتوروں کی کمزوریوں سے واقف ہے تو کیا ہی بات ہے! بہت سے لوگ تو نہ پڑھتے ہیں نہ لکھتے ہیں اور صرف کسی نام نہاد پریس کلب کی میمبر شپ یا پریس کارڈ ہولڈر ہونے کے باعث دھڑلے سے ”صحافی“ کہلواتے ہیں اور خوب ادھم مچاتے ہیں!

سو ہم کہ رہے تھے کہ ہم سب کچھ پڑھ لیتے ہیں، اس ”سب کچھ“ سے مراد آپ نہ جانے کیا لیں ؛ لہٰذا اس سب کچھ کو ”بہت کچھ“ کر لیتے ہیں، ہم جہاں دینیات، فلسفہ، سائنس، سفرنامے، شاعری اور ناول کہانیاں پڑھیں ہیں وہی خواتین کے کئی ڈائجسٹ بھی اور نونہال اور ”گل پھل“ (بچوں کا سندھی رسالہ) بھی! اور لغات القرآن مصنفہ پرویز صاحب سمیت بعض اوقات لغات بھی کسی کتاب ہی کی طرح مطالعہ کر لیتے ہیں۔ مکمل نہ سہی کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے، کبھی کوئی کوئی صفحہ، کبھی کئی کئی صفحات!

اس پڑھائی کا لازمی نتیجہ لکھنے کا شوق تھا، سو لکھنے بھی لگے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہم پانچویں جماعت ‏ میں تھے کہ ہم نے اپنی کاپی کے کور کے اندر کی طرف خالی جگہ میں ”دین ہمارا ہے اسلام“ کے عنوان سے ایک نظم لکھ ڈالی! بھائی جان نے جب وہ نظم دیکھی تو اس وقت وہ پاکستانیت کی جذبے سے کچھ زیادہ ہی سرشار تھے انہوں نے کہا، ”دیس ہمارا ہے پاکستان“ کیوں نہیں لکھی؟ ہمیں یاد نہیں آیا کہ ان کو بتاتے کہ صوفی تبسم صاحب ہم سے پہلے یہی چیز اپنی نظم ”ہمارا دیس“ میں لکھ چکے ہیں، اور ہم نے وہ نظم دوسری جماعت میں پڑھ بھی لی۔ ہو سکتا ہے یہ نظم اسی نظم کا ”پس اثر“ ہو!

اس کے بعد نثر و نظم میں نہ جانے کیا کیا الم غلم لکھتے رہے۔ جب کے کئی خام قسم کی تصویری کہانیاں بھی بنائیں جن میں اور موجودہ بچوں کے کارٹونز میں ایک چیز مشترک تھی: ”دھماکے۔“ شاید ایک عمر میں آپ کو صرف شور و شرابا اور دھماکے ہی پسند آتے ہیں؟ (یہ چیز ماہرین نفسیات کے لیے تحقیق و تفکیر کی چیز ہونی چاہیے! کہ نہیں؟ )

پھر قسمت ہمیں سندھی کے پہلے کمپیوٹرائزڈ اخبار ”عوامی آواز“ میں لے آئی: جہاں ہم نے ڈر ڈر کر ”سٹن جا سٹکا“ (سطروں کے تازیانے ) کے عنوان سے یک۔ دو سطری خبری تبصرے لکھے، جیسا کہ:

”٭ میک اپ کا سامان خواتین کی جلد کے لیے نقصان دہ ہے (اخباری سرخی)
٭٭ اور حضرات کے نظام انہضام کے لیے (ہمارا تبصرہ) وغیرہ! ”
سلسلہ مقبول ہوا۔ پھر تو چرخا چل پڑا!

ہم قابل اشاعت و طباعت ہیں یا نہیں یہ تو خدا جانتا ہے، یا ہمارے پبلشرز، لیکن گزشتہ 33 برسوں سے سندھی کے چند ایک اخبارات میں ہماری تحریریں سکار جاکھرو سمیت مختلف قلمی ناموں سے چھپتی رہی ہیں اور اب کچھ عرصہ سے اردو میں بھی طالع و طبع آزمائی کر رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہماری لکھی ہوئی زیادہ تر چیزوں نے سند اشاعت پائی اور ایک اخباری میگزین اور ہم سب ویب سائٹ پر لوگوں نے ملاحظہ فرمائیں۔ ہماری سندھی کی ایک آدھ چیز ہماری لاعلمی میں ایک آدھ ویب سائٹ نے بھی کہیں سے اٹھا کر اپنی ویب سائٹ پر رکھ دی۔

صد شکر کے تحریر کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمارا نام بھی اٹھا کر رکھ دیا، جب کہ اردو کی ایک دو ویب سائٹس نے ہمارا ایک مضمون بہ عنوان ”مورڑو میر بحر کی داستان شجاعت“ تو موقر جریدے ”سنڈے ایکسپریس“ کی ویب سائٹ سے اٹھا کر اپنی ویب سائٹ پر رکھ دیا لیکن ان سے نہ ہمارا نام اٹھایا گیا نہ سنڈے ایکسپریس کا حوالہ! بھاری پتھر تھا؟

اپنی طرف کاپی رائٹ (Copy right) کو شاید ”رائٹ آف کاپی“ سمجھا جاتا ہے؟

وہ بچے جن کا خیال ہے کہ ہماری سندھی/اردو اچھی ہیں، وہ پوچھتے ہیں ہم کیسے لکھیں؟ تو ہم ان کو بتا دیں کہ آپ کو پوچھنا چاہیے کہ ہم کیسے پڑھیں؟ یا ہم کیا پڑھیں؟ اور اس سلسلے میں ہمارا جواب ہو گا کہ آپ بھی سب کچھ پڑھیں۔ فی الحال ہم اردو کے حوالے سے کہیں گے کہ اگر آپ مطالعے کے ابتدائی دور میں ہیں اور اپنی اردو کو اجالنا (امپروو کرنا) چاہتے ہیں تو فوراً سے پیشتر نونہال پڑھنا شروع کر دیں۔ اس کے بعد تعلیم و تربیت، پھول اور تمام اخبارات میں شائع ہونے والے بچوں کے صفحات بھی، علاوہ ازیں فیروز سنز و شیخ غلام علی اینڈ سنز کی بچوں کی کتابیں بھی پڑھیں۔

مقبول جہانگیر کی بچوں کے لیے داستان امیر حمزہ کی تلخیص اور سعید رضوی کی بچوں کی طلسم ہوشربا کی تلخیص بھی بچوں کے کلاسک ادب میں شمار ہونی چاہئیں، اور ان کا مطالعہ بھی بچوں کے لیے اہم ہے۔

صوفی غلام مصطفیٰ ”تبسم“ کی نثر اور نظم کی جتنی کتابیں پڑھ سکتے ہیں پڑھیے۔
منشی پریم چند کی بچوں کے لیے تحریریں بھی قابل مطالعہ ہیں۔

ہم اشتیاق احمد کے بچوں لے لیے لکھے گئے ابتدائی ناولوں کو بھی پسند کرتے ہیں، لیکن ان کے آخری دور کے ناول ان بچوں کو پڑھنے چاہئیں جو کہ پراپیگنڈہ اور پرچار سے فوری طور متاثر نہیں ہوتے۔ ہماری دانست میں تو ان کتب پر ”پی جی“ لکھا ہونا چاہیے!

اس کے علاوہ سیرت طیبہ ﷺ ، خلفائی راشدین، سوانحی کتب، سیاسی شخصیات قومی و بین الاقوامی، علما وسائنس دان، سلیبریٹی و مشاہیر وغیرہ کی حیات کے بارے میں کتب کا مطالعہ بھی اہم ہے کہ اس قسم کی کتب کے مطالعے سے آپ ایک کردار کی پوری زندگی جی لیتے ہیں!

آخر میں بچوں کے لیے اردو کی دس بہترین کتب کی فہرست سے قبل ہم والدین سے کہیں گے کہ وہ بچوں کو اپنے مذہب یا دھرم کے بارے میں بھی فرقہ واریت سے پاک اچھی اچھی کتب مہیا کریں۔ اگر آپ کی مذہبی کتب کسی ایسی زبان میں ہیں جو کہ آپ گھر یا سماج میں مستعمل نہیں جیسا کہ عربی یا سنسکرت تو ان کے بچوں کے لیے کیے گئے معیاری تراجم مہیا کرنے میں کوئی حرج/عار/باق نہیں ہونا چاہیے۔ اور ہاں اگر اردو آپ کی مادری زبان نہیں تو اپنے بچوں کو کبھی اپنی مادری زبانوں سے دور نہ کریں، ان میں دستیاب ادب کی طرف بھی ان کا میلان و رجحان پیدا کریں۔

مسلمان بچوں کے لیے مولانا عبد الواحد سندھی، جن کے نام کی تطہیر کر کے کچھ لوگوں نے ان کی کتابیں مولانا عبد الواحد جامعوی کے ان کے سابقہ نام سے دوبارہ شائع کی ہیں ان کی تمام دینی کتب بھی قابل مطالعہ ہیں۔

اگر آپ لامذہب ہیں تو آپ اس کے پابند نہیں۔ پھر بھی ہماری ایک بات یاد رکھیے ان غیر مسلم خاتون کا سا کام نہ کریں جن کے بارے خبر چھپی تھی کہ انہوں نے اپنے مسلم شوہر کی خواہش کے باوجود اپنے بیٹے کا ختنہ نہیں کرنے دیا کہ اس بات کا فیصلہ وہ بڑا ہو کر وہ خود کرے گا کہ اسے ختنہ کرانا چاہیے یا نہیں؟ ہم نے جب سے یہ خبر پڑھی ہم اس وقت سے اس فکر میں گھلے جا رہے ہیں کہ محترمہ نے اپنے بچے کا کوئی نام بھی رکھا ہے کہ اس کا فیصلہ بھی وہ بڑا ہو کر خود کرے گا کہ، ”رام کہلائے یا محمد یا پھر ڈیسوزا۔ یا فی الحال وہ بے چارہ“ سویٹ فنی ایڈمسن ”کہلا رہا ہوگا؟“

آخر میں ہماری پسند کی بچوں کے لیے اردو کی دس بہترین کتابوں کی فہرست بھی پیش ہے، واضح رہے یہ ہماری انفرادی پسند ہے کوئی ادارتی، قومی یا عالمی انتخاب نہیں۔ آپ اپنے بچوں کے لیے اپنی اس قسم کی اور دس سے کہیں زیادہ کتب کی فہرست مرتب کر سکتے ہیں۔

10 : میرا نام منگو ہے /جبار توقیر/فیروز سنز
9: عالی پر کیا گزری؟ /عزیز اثری/فیروز سنز
8: ستاروں کی سیر/کرشن چندر/بھارت
7: چڑیوں کی الف لیلہ/ کرشن چندر/بھارت
6: الٹا درخت/ کرشن چندر/بھارت
5: خرگوش کا سپنا/کرشن چندر/بھارت
5:الف لیلہ/ (اختصار، فیروز سنز چھ حصے ) /رتن ناتھ سرشار
3: چالاک خرگوش کے کارنامے / معراج/ہمدرد نونہال کا سلسلہ
2: طلسم ہوشربا/سعید رضوی (دس حصے ) /فیروز سنز
1:داستان امیر حمزہ/مقبول جہانگیر ( دس حصے ) /فیروز سنز

آخر میں ہم یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم نے یہ فہرست نہ صرف لکھنے اور پڑھنے کا شوق کے باعث لکھی ہے بلکہ ہم تقریباً 40 سال سے لوگوں کو پڑھاتے بھی رہے ہیں، یعنی لیاری جیسے علاقہ میں ایک عرصہ تک والد صاحب مرحوم محمد ابراہیم کے ساتھ دو دو رینٹل لائبریریاں چلاتے رہے ہیں، جو کہ اب لوگوں کی ناقدری کی وجہ سے بند ہو چکی ہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words