یا الٰہی ماجرا کیا ہے؟

دور حاضر میں گزشتہ چند سالوں میں روئے زمین پر ایک نادیدہ آفت نے انسانوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ آغاز میں تو یہاں تک نوبت آئی کہ تمام ذرائع نقل و حمل (بری، بحری، فضائی) کو اس آفت ناگہانی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے معطل کرنا پڑا۔ دنیا کے تمام کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔ اسکولز، کالج، یونیورسٹی، تربیتی ادارے تک اس آفت کی شدت کے کم ہونے تک معطل کرنے پڑے۔ اس ناگہانی آفت کو کورونا نامی وائرس کا نام دیا گیا۔

یہ بیماری چین کے شہر وہان سے شروع ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی پھیل گئی۔ اس بیماری کی اہمیت کا اندازہ معاشی اور سماجی اشاریوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ اربوں ڈالر کے درآمدات اور برآمدات متاثر ہوئیں۔ بلا رنگ و نسل و مذہب کئی افراد موت کا شکار ہوئے۔ صنعتی ترقی میں زوال دیکھا گیا۔ شاید اور بھی کئی براہ راست یا بلاواسطہ نقصانات ہیں جو کہ شمار نہیں کیے جا سکتے۔

وائرس جسامت میں انتہائی چھوٹا، بیماری پھیلانے والا ذرہ ہے۔ یہ ذرہ جانداروں کے زندہ خلیوں میں تقسیم کے عمل سے بڑھتا ہے بیماری پھیلاتا ہے۔ وائرس زمیں پر پائی جانے والی زندگی کی تمام اشکال میں بیماری پھیلا سکتا ہے۔ یہ جاندار اور بے جان اشیاء کی درمیانی کڑی ہے۔ روئے زمین پر ہر قسم کے ماحولیاتی نظام میں پا یا جاتا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں کورونا انفیکشن کا شکار ہونے والوں کی تعداد 4.33 ملین ہے۔ جب کہ اس بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد کا تعین 205 ملین ہے۔ کورونا کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے امریکہ ( 36.3 ملین) سر فہرست ہے جبکہ بھارت ( 32.1 ملین) دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں آج کے دن تک ( 10 / 08 / 2021 ) مریضوں کی تعداد 1.09 ملین اور کل اموات 24,187 ریکارڈ کی گئی ہیں۔

موجودہ وقت اور حالات کو عالمی جنگ عظیم کی طرح ایمرجنسی کا دور ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اپنی حفاظت اور بقا ء کے لئے دنیا بھر میں تمام ممالک نے جہاں اپنے عوام کو اینٹی وائرل ویکسی نیشن بہم پہنچائی وہیں ان میں اس عالمی وبا کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے کے لئے روایتی طریقوں کو بھی فروغ دیا۔ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مختلف ممالک کو اپنی سرحدوں کو بند کرنا پڑا تاکہ دنیا کے دوسرے ممالک سے انفیکشن ان کے ملک میں نہ در آئے۔ اگرچہ مقامی اور غیر مقامی افراد کے داخلے اس بات سے مشروط تھے کہ وہ ملک میں آتے ہی اپنے وائرس انفیکشن ٹیسٹ کروائیں اور بجائے اپنے گھر جانے کے سرکاری طور پر بنائے گئے قرنطینہ مراکز میں دو ہفتے کا وقت گزاریں۔

اس وقت دنیا میں سوائے چند ممالک کے زندگی معمول پہ آ رہی ہے۔ لیکن صحت سے متعلق حکومتی ادارے اپنے عوام کو احتیاطی اور حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کے لئے ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ آپ میڈیا پر دیکھیں یا اپنے علاقے میں اکثریت چہرے پر ماسک پہنے نظر آئیں گے۔

حالیہ کھیلوں کے اولمپک مقابلے 2020 ء جن کا انعقاد جولائی 23 تا اگست 8، 2021 تک جاری رہے۔ کھیلوں کے اس میگا ایونٹ کے دوران سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ شریک کھلاڑی جن کی تعداد 11,656 تھی ان سب کے لئے بھی کورونا سے بچاؤ کی تمام ہدایات پر عمل کو یقینی بنایا گیا۔ کھیلوں کے ان مقابلوں میں عوام کو شرکت کی اجازت نہ تھی۔ بلکہ مقابلوں کے دوران اسٹیڈیم میں صرف کھلاڑی، ان کے کوچز اور منتظمین موجود تھے۔

حکومت وقت نے ملک میں ویکسی نیشن کے لئے سب سے پہلے 60 برس اور اس سے زائد عمر کے لوگوں کو ویکسی نیشن لگا نے کا آغاز کیا۔ پھر آہستہ آہستہ ویکسی نیشن کا اسٹاک جیسے جیسے بڑھتا گیا، 60 سے نیچے کی عمر کے افراد کو بھی ویکسی نیشن لگنے گی۔ موجودہ حالات میں 18 برس تک کے نوجوانوں کو بھی ویکسی نیشن لگائی جا رہی ہے۔ اس وقت پاکستان میں سائنو فارم، سائنو ویک، کینسائنو بائیو، ایسٹرا زینیکا اور اسپوٹینک ویکسین سرکاری ویکسین مراکز پر عوام کو مفت لگائی جا رہی ہے۔ یہ تمام کووڈ ویکسین ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (DRAP) کے منظوری سے عوام کو لگائی جا رہی ہیں۔ رائٹرز کے ذرائع کے مطابق آج کے دن ( 12 / 08 / 2021 ) تک پاکستان میں کووڈ ویکسی نیشن کی 40,664,110 خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔

جہاں ایک طرف کورونا کی وبا سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر کی آگاہی کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں، وہیں ایک منفی پراپیگنڈہ بھی ہمیں سوشل میڈیا پہ گردش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے کچھ دوست ویکسین نہ لگوانے کے لئے عجیب باتوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ مثلاً ویکسین لگوانے سے قوت افزائش نسل متاثر ہو گی۔ ویکسین لگوانے کے زیادہ سے زیادہ دو سال میں انسان کی وفات ہو جائے گی وغیرہ۔ اس کے علاوہ ایک افواہ سننے میں آ رہی ہے کہ دنیا کے امیر ترین افراد کی سرمایہ کاری سے کورونا تخلیق کیا گیا اور اس کے بعد اس کی ویکسین لگانے سے اموات بھی واقع ہوں گی۔

ویکسین پروگرام کے خلاف اس طرح کے منفی پراپیگنڈا کی وجہ سے شروع شروع میں لوگوں نے ویکسین نہ لگوانے کو ترجیح دی۔ لیکن بعد ازاں حکومت کی مناسب تشہیر اور کووڈ انفیکشن میں تیزی کے باعث عوام کا رجحان ویکسین کی طرف ہوا۔ اس کے علاوہ عوام کو ویکسین کا پابند کرنے کے لئے حکومت کے سخت اقدامات کے عندیوں کے باعث اب ویکسی نیشن مراکز پر کھڑکی توڑ رش نظر آتا ہے۔ اب بھی کچھ لوگوں کے نزدیک کورونا ایک عالمی ڈرامہ ہے۔ لیکن ماحولیاتی حقائق دنیا بھر میں کو رونا کی تباہ کاریوں کو بیان کر رہے ہیں۔ کاش! عوام اپنی صحت اور زندگی کو محفوظ رکھنے کی طرف دھیان دیں اور اس نادیدہ دشمن جان کے حملے سے پہلے قوت مدافعت کے بند باندھ لیں اور ایسا کرنا اسی وقت ممکن ہوگا جب عوام خود کو ویکسین لگوائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words