طالبان کے خود ساختہ ترجمان شرمندہ ہوں گے

آج کچھ ذکر اپنے ابائی دیہات کا رہے گا جو صحافت کی کہکشاں کے درخشندہ ستارے حضرت ظفر علی خاں کی جائے پیدائش اور جناب عطاء الحق قاسمی کے دار الہجرہ یعنی وزیر آباد سے پچیس کلومیٹر کا فاصلہ برقرار رکھے ہوئے صدیوں سے کنارے چناب کے واقع ہے۔ اس گاؤں کو سیلاب کے تھپیڑوں نے خوب ہلایا مگر مٹی کی محبت اس قدر لوگوں کے دلوں میں راسخ ہے کہ ویرانی کا خدشہ ہزار سال تک بھی نہیں۔ زبانی روایات سے یہ بات ہم تک پہنچی ہے کہ کسی زمانے میں اس دیہات کی سرحدیں اس قدر پھیلی تھیں کہ گاؤں کی شمالی حصے سے گم ہونے والا بیل ایک سال کی تگ و دو کے بعد گاؤں کے جنوبی حصے سے بازیاب ہوا تھا۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا بیل چوری ہوا تھا یا مالک سے ناراض ہو کر گوشہ تنہائی میں چلا گیا تھا۔ گاؤں کی خوبی ایک یہ بھی ہے کہ دن ڈھلے کسی بوہڑ کے درخت تلے بزرگان، نوجوان، اور بچگان اکٹھے بیٹھتے ہیں۔ باتوں کے دور خوب چلتے ہیں۔ دنیا کا کوئی موضوع ہو گا جس پر سیر حاصل گفت گو نہ ہو۔ سائنس، مذہب، سیاست، سماجیت، معیشت، گویا کہ ہر شعبے کا ماہر موجود ہوتا ہے۔ وہ دن ابھی یاد داشت کے قرطاس سے مٹا نہیں ہے جب بچپن میں ایک دفعہ اس پاکیزہ محفل میں حاضری نصیب ہوئی تھی۔

ایک بزرگ تھے جنہوں نے کہاوت سنائی تھی کہ ایک جانور کی دم اگر بارہ سال بھی لوہے کی نالی میں رکھی جائے تو پھر بھی سیدھی نہ ہو گی۔ کچھ وجوہات کی بنا پر اس جانور کا نام نہیں بتایا جائے گا کہ تضحیک کسی کی مقصود نہیں۔ اس کہاوت کا مطلب بعد میں عیاں ہوا کہ انسان کی عادات کبھی تبدیل نہیں ہوتیں الا یہ کہ تعصب سے کوئی اوپر اٹھ جائے۔ خبر ہے کہ طالبان نے شریعت کے نفاذ کے ضمن میں پہلا قدم یہ اٹھایا ہے کہ جامعات کی طالبات اور گھر سے باہر نکلنے خواتین کے لیے برقعہ لازم قرار دیا ہے۔ اس حکم سے معلوم ہوتا کہ طالبان کے نزدیک عورت کے لیے برقعہ اسلام کے بنیادی احکامات میں سے ہے۔ طالبان چوں کہ خنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے اخناف کے کچھ اکابر علماء کی رائے نقل کریں گے۔

تفسیر عثمانی میں مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں کہ عورت کے لیے چہرے اور ہاتھ پاؤں ڈھانپنا ضروری نہیں ہے۔ باقی جہاں تک اعضائے مخصوصہ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں عورتوں کے لیے بھی وہی احکامات ہیں جو مردوں کے لیے ہیں۔

مولانا شمس پیر زادہ اپنی تفسیر دعوۃ القرآن میں بھی یہی لکھتے ہیں کہ عورت کے لیے چہرے اور ہاتھ پاؤں کا پردہ ضروری نہیں ہے۔

مولانا امین احسن اصلاحی بھی موقف یہی تدبر القرآن میں اپناتے ہیں کہ عورتوں کے لیے چہرے کا پردہ لازم نہیں ہے۔

تفسیر طبری میں جلیل القدر صحابی عبداللہ بن عباس اور دوسرے کبائر تابعین کے صحیح سند کے ساتھ قول موجود ہیں کہ عورت کا چہرہ ستر میں شامل نہیں ہے۔ جس نقطے پر صدیوں سے فقہا کا اختلاف چلا آ رہا ہے، اس کو اسلام کا حکم بنا کر نافذ کر دیا گیا۔ پاکستان میں طالبان کے ترجمان (اب نام کیا لکھنے ) بار بار بات دہراتے تھے کہ اب طالبان بدل چکے ہیں، وہ احکامات کے معاملے میں سختی سے کام نہیں لیں گے مگر، پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ Silence نامی فلم میں وہ ایک بہت شاندار جملہ کہتا ہے۔

Mountains and Rivers can be moved, but a human nature can ’t be changed

یہی بات طالبان پر بھی صادق آتی ہے کہ ان کی فطرت کبھی نہیں بدلے گی۔ کچھ دن پہلے بزرگوار سلیم صافی نے سہیل شاہین سے پوچھا تھا کہ آپ علماء موسیقی کو حرام کیوں سمجھتے ہیں؟

یہ بات علماء کے نظریے کی نہیں مگر اسلام کے اصولوں کی بات ہے۔ یہ بات امام ابو حنیفہ کے مسلک کی ہے کہ موسیقی حرام ہے۔ (اخناف علماء) پہلے ہی اجتہاد کر چکے ہیں کہ موسیقی حرام ہے، اس سلسلے میں ہمیں نئے اجتہاد کی ضرورت نہیں ہے، یہ جواب سہیل شاہین نے دیا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شاہین کچھ دلائل دیتے کہ موسیقی حرام کیوں ہے، مگر انہوں نے امام ابو حنیفہ کے خیمے میں پناہ لینے ہی کو بہتر خیال کیا۔ صافی صاحب کو ویسے پوچھنا چاہیے تھا کہ اسلام کے وہ کون سے اصول ہیں جن کی رو سے موسیقی حرام ہے۔

اور رہی یہ بات کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک موسیقی حرام ہے تو سوال یہ بنتا ہے تابعین کے اقوال کب سے اسلام میں حجت بن گئے ہیں۔ اسلامی قوانین کے صرف دو ماخذ ہیں، قرآن اور حدیث۔ کوئی بھی حکم نافذ کرنے کے لیے کسی امام کے قول کو بطور حجت پیش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کبھی کیا گیا ہے، مگر لشکر اسلام غالب آیا ہے، جو مرضی کر گزرے۔ اب پرلے روز کے احتجاج کے دوران ایک عورت پر مجاہد بندوق تانے کھڑا تھا۔ حیرانی ہوئی کہ شلوار ٹخنوں سے اوپر اور سر ڈھکا ہوا تھا، گویا کہ اپنی طرف سے اسلام کی مکمل طور پر پیروی کی جا رہی تھی۔

مگر سیرت سے بے بہرگی اس حد تک تھی ایک عورت پر بندوق تان لی۔ ایسوں کے لیے ایک واقعہ نقل کریں گے جو زرقانی وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ سیدنا ابو دردا کے سامنے احد میں ہندہ آ گئیں تو ابو دردا نے تلوار روک لی کہ یہ زیبا نہیں کہ میدان جنگ میں بھی ایک عورت کو قتل کیا جائے۔ ادھر شرافت کا یہ عالم کے میدان جنگ میں بھی عورتوں پر ہتھیار نہیں تانے جاتے اور ادھر جہاد کے جذبہ اس قدر ہے کہ احتجاج کرنے والی عورتوں پر بندوقیں تانی جا رہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words