ابوالکلام آزاد کو اب بخش دینا چاہیے

ذوالفقار احمد چیمہ معروف کالم نویس، ادیب، اور مزاح نگار ہیں۔ معروف اس لیے لکھا ہے کہ یہاں ہر قلیم گھسیٹ معروف اور ہر تجزیہ کار سینیئر ہے۔ چیمہ صاحب کی نیک نامی کی وجہ ان کی پولیس کے لیے وہ خدمات ہیں جو تاریخ کے قرطاس پر دائمی نقوش چھوڑ چکی ہیں۔ تاہم کچھ ناہنجار اس بات پہ معترض ہیں کہ آپ غیر قانونی پولیس مقابلوں میں لوگوں کو مار دیتے تھے، ایسے لوگوں کو نظر انداز کر دینا

Read more

ایاز امیر سے کیوں ڈر گئے؟

جب سے ایاز امیر پر حملہ ہوا ہے، حضرت غامدی بار بار یاد آتے ہیں۔ سگ آوارہ تو بستی میں کھلے ہیں، لیکن حادثہ یہ ہے کہ پتھر کوئی آزاد نہیں ایاز صاحب پر حملے سے یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان کوئی ریاست نہیں ہے، پچھہتر سالوں سے پاکستان کو ریاست کا جو مکھوٹا چڑھایا گیا تھا وہ اب آخری درجے میں اتر چکا ہے۔ اس معاملے میں مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ حملہ آوروں کے ہوتے

Read more

ایلف شفق کا ناول: اپنے ہی گھر میں غیرمحفوظ ایک بچی کی کہانی

کوئی اگر غلطی کی طرف توجہ دلائے تو دو طرح کے رد عمل ظاہر ہوتے ہیں، پہلا یہ غلطی کو تسلیم کیا جائے اور پھر اس کی تلافی کی راہ تلاش کی جائے، دوسرا یہ غلطی تو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے اور غلطی کو محض توجہ دلانے والے کی ذہنی اختراع سمجھا جائے۔ ہم بحیثیت فرد اور قوم دوسرا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ غلطی ماننا تو ایک طرف رہا، غلطی کی نشان دہی کرنے والا ہی

Read more

کیا یہ ملک خواتین کے لیے نہیں بنا تھا؟

  ابھی چند ہفتے گزرے ہیں کہ ملتان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ذہنی ہذیان میں مبتلا ایک شخص نے مریم نواز کے متعلق بہت بے ہودہ الفاظ استعمال کیے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بے ہودگی کے بعد اہل دانش کے ہاں زلزلے کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی، مگر ہر طرف قبرستان کا سا سکوت تھا۔ جن کالم نگاروں نے ذرا مذمت کی تو ساتھ یہ رام لیلا بھی بیان کر دی کہ

Read more

اسرائیل سے مسئلہ کیا ہے؟

  اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہیے یا نہیں، اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہمیں دو سوال زیر بحث لانا ہوں گے، پہلا یہ کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے ہمیں کیا نقصان ہو گا؟ اور دوسرا یہ کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے سے فلسطینیوں کو کیا فائدہ ہو گا؟ ان کے ساتھ ایک ضمنی سوال بھی اگر شامل کر لیا جائے تو انگوٹھی میں نگینہ جڑ جائے گا، کیا ہم بحیثیت قوم اسرائیل کو مذہب کی

Read more

کرناٹک سے لاہور تک

پچھلے دنوں یہ رجحان دیکھنے میں آیا کہ ملک کی مختلف جامعات نے طلبہ و طالبات کے لیے ہدایات جاری کیں کہ وہ یونیورسٹی میں جینز نہیں پہن سکتے۔ جینز پہننے پر پابندی کی جو وجوہات بیان کی گئیں وہ نہایت مضحکہ خیز تھیں۔ ان وجوہات سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک مفروضہ قائم کرتے ہیں۔ فرض کیجیئے کہ اس پابندی کے باوجود ایک طالبہ جینز پہنے ہوئے بائیک پر یونیورسٹی آتی ہے۔ یہ ایک سرکاری یونیورسٹی ہے جہاں پر

Read more

ظلم اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے

خطابت کے جواہر اس قدر کہ عطاء اللہ شاہ بخاری اور آغا شورش کاشمیری کے فن تقریر کے چراغ کی لو ٹمٹما جائے اور لہجہ ایسا پر اعتماد کہ صادقین بھی کو اپنی سچائی پر شبہ گزرنے لگے۔ کوئی دن ایسا ڈھلتا نہیں کہ جب تقریر سے دل نہ بہلایا جائے۔ آج سے دو برس قبل جب مقرر نے اقوام متحدہ میں تقریر کے ذریعے فاتحین عالم کا خطاب پایا تھا تو ڈاکٹر طاہر مسعود گویا ہوئے تھے کہ ”تقریر

Read more

علی احمد کرد کا نعرہ مستانہ

گھٹن زدہ سکوت کی ظلمت کا پردہ چاک کرنے کے لیے درکار ایک آواز تھی جس کی چمک سے ان کی (ان کی سے مراد وہ ہیں، جن کا نام ہم نے نہیں لکھا مگر بخوبی آپ سمجھ جائیں گے ) آنکھیں چندھیا اور کڑک سے حاملین باطل کی آوازیں پست ہو جاتیں۔ منتظر اس بات کے لوگ تھے کہ کوئی ابر تو چھائے جو اتنا برسے کہ دبنے والی آوازیں کونپلوں کی صورت دوبارہ پھوٹ سکیں۔ وہ بات، کہ

Read more

مہنگائی کی رت اور موسم کا ملال

اکیسویں صدی کے اکیسویں سال کا نومبر اب کیلنڈر پر اتر آیا ہے۔ اشجار کے زردی مائل ہوتے پتے، پنچھیوں کے غمگین گیت، سورج کی گھٹتی تپش، اور مہتاب کا افسردہ ہالہ، ماحول کو جیسے ہر چیز اداس کرنے پہ تلی ہے۔ ایسے ماحول میں شیفتگی طبیعت کی برقرار کیسے رہ سکے ہے۔ کچھ سال پہلے تک یہی موسم نوابی کا ہوتا تھا۔ گھر کی چھت پر دھوپ میں پڑی چارپائی، گول تکیہ، اور پڑھنے کو اردو کا بہترین ادب،

Read more

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب

خدا سخن وروں کو دے زور بیاں اور۔ سوشل میڈیا ہو کہ اخبارات، ہر جگہ رجز با آواز بلند پڑھے جا رہے ہیں کہ مہنگائی بہ نسبت دوسرے ممالک کے ریاست مدینہ، امیر المومنین جہاں تقریروں سے دل بہلاتے ہیں، میں اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔ ہماری رہ نمائی پر معمور امریکہ سے درآمد شدہ شہباز گل صبح شام بند ذہنوں کے کواڑ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذرا دیکھو تو، انڈیا، امریکہ، اور بنگلہ دیش وغیرہ سے تو اب بھی اپنے ہاں پٹرول سستا ہے۔

Read more

جاوید احمد غامدی کے انگریزی بال

کچھ چار پانچ برس پہلے کی بات ہو گی سردیوں میں جب روز اتوار کے ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا کہ وقت بیت جائے۔ وقت دن کے دس ساڑھے دس کا ہو گا۔ تب ٹاک شوز اور نیوز بلیٹن ہی اوڑھنا بچھونا تھے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ دن کو دس گیارہ بجے عموماً رات کے شوز ہی دوبارہ نشر کیے جاتے ہیں۔ اس لیے بے چینی سے چینل تبدیل کر رہے تھے۔ کبھی اس چینل پر تو کبھی

Read more

ریاست کو تحریکِ لبیک سے جان چھڑوانا ہو گی

لمحے دنوں میں، دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینے میں کس طرح ڈھلتے ہیں، کچھ خبر نہیں ہوتی۔ کولہو کے بیل کی مانند صبح دفتر پہنچو اور شام ڈھلے راہ واپسی کی لو۔ بس یہی اپنی زندگی ٹھہری۔ اپنے مدار سے چاہ کر بھی نکل نہیں سکتے۔ ہر مہینے کے آخری ایک دو دن گھر بیتاتے ہیں کہ اماں اداس ہو جاتی ہے۔ اس کے چار بیٹے ہر وقت اس کے پاس ہوتے ہیں، اس کا دل مگر پانچویں بیٹے

Read more

عائشہ اکرم، مینار پاکستان اور ہمارا مقدمہ

غدر کے بعد دہلی اجڑنے کی باتیں محض افسانہ ہیں۔ دہلی تو تب اجڑی تھی جب مرزا نوشہ یعنی ہمارے حضرت اسداللہ خاں غالب راہی سفر فنا ہوئے تھے۔ حضرت غالب کے بعد میر انیس نے وہ علم تھاما کہ جس کے امیں کبھی سودا و میر تقی و غالب تھے۔ یہ میر انیس ہی تھے جنہوں نے مراثی لکھ کر اردو ادب کے قطرے کو قلزم کر دیا۔ ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ دنیائے ادب کو پیش کرنے کے لیے اردو ادب کے پاس صرف غالب کی غزلیں اور میر انیس کے مراثی ہیں۔ آج جب آپ کی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرنے کو کمر سیدھی کی تو میر انیس خوب یاد آنے لگے۔

Read more

بخشش یقینی بنانے اور بیٹا پیدا کرنے کا طریقہ

گزشتہ جمعہ کے خطبے کے آخری لمحات میں ہم مسجد پہنچے ہی تھے کہ دو لطیفے سننے کو مل گئے۔ لطیفے سنانے والا کوئی اور نہیں بلکہ امام مسجد ہذا تھے جو واعظ فرما رہے تھے۔ ہلکی سی پشیمانی بھی ہوئی کہ مسجد تھوڑا پہلے آنے سے زیادہ لطیفے بھی سننے کو مل سکتے تھے۔ مگر کیا کریں کہ گناہ گار طبیعت اور واعظ کی دروغ گوئیوں کی وجہ سے خطبے کے اختتام پر ہی مسجد پہنچا جاتا ہے۔ واعظ

Read more

گم نام گاؤں کا آخری مزار

کالج میں طالب علمی کا زمانہ شروع ہوا ہی تھا کہ شناسائی ان سے ہو گئی۔ شناسائی بھی ایسے ہوئی کہ ایک دن اخبار میں ان کا کالم دیکھا اور پھر پڑھ لیا جو کہ ایک معجزہ تھا۔ کافی ماہ تک صرف ان کے کالم کا انتظار رہتا کیوں کہ کالم کسی اور کا تب پڑھتے ہی نہ تھے۔ جس دن ان کا کالم چھپتا، اسی دن صبح لائبریری جا کر اخبار اٹھاتے اور صرف ایک کالم پڑھ کر راہ واپسی کی اختیار کرتے۔ یاد داشت اگر ساتھ دیتی تو پہلا کالم جو پڑھا تھا اس کے موضوع کا تذکرہ کچھ ہو جاتا مگر، حافظے بے کار ہو گئے صاحب۔

Read more

تاریخ کا گلشن اور اختلاف کی مہک

آج ذرا تاریخ کے گلشن سے اختلاف کی مہک کشید کرتے ہیں۔ سال 93 ہجری کا ہے۔ مدینہ میں انس کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام مالک رکھا گیا۔ شہاب زہری ایسے جلیل القدر اور عالی مرتبت استاذ سے فیضان علم حاصل کرنے کے بعد اس بچے نے فقط سترہ سال کی عمر میں مسند درس و تدریس کی سنبھالی۔ یہ بچہ پھر فقہیہ، مجتہد، اور محدث بنا جس کے علم کی دھاک چہار دانگ عالم میں

Read more

کہ قلم ملا تو بکا ہوا

تعصب کی گرد جب دماغ کے اجلے شیشے پر پڑ جائے تو حقیقت دھندلانے لگتی ہے اور اگر ناصح بھی متعصب ہو جائیں تو پھر سوچ و بچار کی ہموار سرزمین پر جھاڑیاں جہل کی جا بجا نمودار ہو جاتی ہیں جن پر سعدان کے کانٹے سجے ہوتے ہیں اور ان کانٹوں بھری جھاڑیوں کو ہٹانے والوں کے پور زخمی جب کہ ہمت جواب دینے لگتی ہے۔ ایسے موقع، جب کہ حوصلہ کئی وجوہ سے متزلزل ہونے لگے، پر بے

Read more

دین کو تخت پر لانا ہو گا

سورج اس وقت محو سفر مغرب کو تھا، مگر ماحول میں روشنی ابھی ہنوز باقی تھی۔ شاہراہ پر ٹریفک قدرے کم تھی۔ چار شاہراہوں کے ملاپ پر بتی باری باری سرخ اور سبز ہو رہی تھی۔ بتی سبز ہونے پر اس ملاپ سے تھوڑا آگے بڑھے ہی تھے کہ ایک رکشے پر نظر جا ٹھہری۔ ایسی بات نہیں کہ رکشے میں کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، بلکہ نظر تو رکشے کے پچھواڑے پر لگے ایک اشتہار پر پڑی جو تحریک

Read more

تنگ نظری کا ریلا اور مختلف مساجد میں نماز کا تجربہ

اوائل گرمی کے دن تھے۔ آپ کو خبر ہو گی لائل پور میں گرمیوں کا اوائل بھی شباب ہوتا ہے۔ گورنمنٹ کالج میں تب تیسرا سال تھا۔ شغل کرنے کو کچھ نہ تھا اور معیشت کا بار ابا حضور اٹھا رہے تھے۔ ہفتے میں ایک ادھ دن عشاء کی نماز مختلف مساجد میں ادا کی جاتی تھی تا کہ معلوم کیا جا سکے کہ رواداری کے پیڑ کی جڑیں کس قدر گہری ہیں۔ اس دن بھی عشاء کی نماز ادا کرنے ایک مسجد میں گئے جس کا شمار لائل پور کی بڑی مساجد میں ہوتا ہے۔

Read more

طالبان کے خود ساختہ ترجمان شرمندہ ہوں گے

آج کچھ ذکر اپنے ابائی دیہات کا رہے گا جو صحافت کی کہکشاں کے درخشندہ ستارے حضرت ظفر علی خاں کی جائے پیدائش اور جناب عطاء الحق قاسمی کے دار الہجرہ یعنی وزیر آباد سے پچیس کلومیٹر کا فاصلہ برقرار رکھے ہوئے صدیوں سے کنارے چناب کے واقع ہے۔ اس گاؤں کو سیلاب کے تھپیڑوں نے خوب ہلایا مگر مٹی کی محبت اس قدر لوگوں کے دلوں میں راسخ ہے کہ ویرانی کا خدشہ ہزار سال تک بھی نہیں۔ زبانی

Read more

کہ وہ پر وقار چلا گیا

یاد داشت کے توشہ خانے پر دستک دینے سے بھی یاد نہ پڑے ہے کہ آخری بار ٹیلی ویژن کب دیکھا تھا۔ ہر خبر، سب تجزیے، اور تمام پروگرام سنسر شب کی چھاننی سے گزار نے کے بعد عوام کو پیش کیے جاتے ہیں۔ اس لیے اب صوتی و بصارتی ڈبے کی طرف کچھ رغبت نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر بھی موجودگی صرف ثبوت دینے کی حد تک ہے کہ کبھی کبھار اس محلے میں بھی قدم رنجہ فرما لیا

Read more

اقتدار ہی نہیں، قوم بھی مجبور ہے

خود نوشت میں کوئی بھی انصاف سے کام نہیں لیتا۔ پیش نظر سب کے یہی ہوتا ہے کہ خود کو پارسائی کا ہمالہ ثابت کیا جائے۔ شہاب نامہ ہو یا دو ٹوک باتیں، سب اسی کوشش میں مبتلا ہوئے کہ اپنی خوبیاں بیان کی جائیں تا کہ خلق خدا جان سکے کہ ان میں کیسی کیسی نابغہ روزگار شخصیات کا ظہور ہوا ہے۔ صرف ایک خود نوشت ایسی گزری ہے جس میں مصنف نے بغیر جھجکے اور بنا شرمائے اپنی

Read more

اٹھو کہ وہی معرکہ روح بدن ہے

فکری پسماندگی اور ذہنی افلاس کا نوحہ کیا لکھا جائے کہ صد بار وہی دلائل، وہی ڈھاک کے تین پات، اور وہی رویہ کہ ذبح کر کے ثواب بھی سمیٹنا۔ عقل کی ناؤ جب بحر جہالت میں ہلکورے کھانے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ سوچ کے پتوار دریا برد ہو چکے ہیں۔ قوموں پر فکری زوال بھی آتے ہیں، مگر چند سالوں کے لیے۔ ہمارے یہاں تو ایسا اندھیر ہے کہ لفظ ”زوال“ اس مفہوم کو ادا کرنے سے

Read more

یہ غلامی سے غلامی کا سفر لگتا ہے

غلامی کی یہ رسن بہت طویل ہے۔ اس کا سرا کبھی مغلوں کے ہاتھ میں رہا تو کبھی افغانیوں کے ہاتھ۔ سرے کو تھامنے والے حوادث کے تھپیڑوں سے بدلتے رہے۔ جن کی گردنوں میں یہ رسن تھی وہ بھی بدلتے رہے، مگر فرق صرف اس قدر تھا کہ یہ رسن ایک نسل سے اگلی نسل میں منتقل ہوتی رہی، خوش فہمی بھلا کیوں ہمیں بھی ہو کہ نسل در نسل چلنے والا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ میٹھی

Read more

زوان، اوریا مقبول جان اور طالبان

خدا اوریا مقبول جان کو عمر خضر عطا کرے۔ قوم کو آج کل جذبہ جہاد پر خوب ابھار رہے ہیں۔ مولانا وحید الدین خان اگر زندہ ہوتے تو اس جذبے کو ”جذبہ فساد“ کہتے، مگر کم علمی بلکہ جہالت کی بنا پر درویش ایسا کچھ بھی کہنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ حضرت اوریا مقبول کا بس نہیں چل رہا وگرنہ تو کل ہی غزوہ ہند برپا ہو جائے۔ ویسے غزوہ ہند کا بھی عجب قصہ ہے۔ حدیث کی پہلے درجے

Read more

نور مقدم کے خلاف مقدمہ

کیا اس قسمت جلی کو مذبوحہ لکھا جا سکتا ہے؟ کیسے لکھیں کہ وہ کوئی بہیمتہ الانعام تو نہ تھی۔ اور کیوں نہ لکھیں کہ وہ ذبح کر دی گئی۔ موقع تعزیت کا تھا مگر داہنی طرف والوں نے ہاتھ خوب صاف کیے۔ بنیادی دلیل ان کی یہی تھی کہ نہ نور اس کے ہاں جاتی اور نہ ذبح ہوتی، ہمارے کچھ کہنے سے پہلے ذرا دیکھ لیجیے کہ ایسوں کے بارے انشا اللہ خاں انشا کیا ارشاد فرما گئے

Read more

ایک امام مسجد کی تصویریں اور طالبہ کا استحصال کرنے والا پروفیسر

وہ فعل گویا دین کا علم اٹھانے والوں کے لیے شمع ہے جس کی طرف سبھی لپکتے ہیں۔ جب سبھی اس حمام میں بے لباس ہو رہے تھے تو انہوں نے سوچا ہو گا کہ ہم اگر تن ڈھانپے رہے تو اس قبیل سے ہمیں نکال باہر کیا جائے گا۔ لائل پور کے کسی امام مسجد (کیا امام ایسے ہوتے ہیں ) کے میموری کارڈ سے لڑکوں اور لڑکیوں کی نازیبا تصاویر برآمد ہوئی ہیں۔ شاید ہمارے اور تمھارے نزدیک وہ تصاویر نازیبا ہوں، ان امام صاحب کے لیے تو تفریح کا سامان تھیں وہ تصویریں۔

Read more

برقعہ بکری کو بھی پہنا دیجیئے

دھوکے میں خود کو ہم کیوں ڈال رہے ہیں۔ یہ اقرار کرنے میں ہچکچاہٹ کیسی کہ مقدس سرزمین پر کوئی بھی محفوظ نہیں۔ نہ دودھ پیتا بچہ، نہ پانچ برس کا پھول، نہ بیس برس کی جوانی، نہ اسی سالہ بڑھاپا، اور نہ میت جو قبر میں اتاری جا چکی ہے۔ کیا اب بھی کسی کو یقین آتا نہیں کہ شہوت نے اس قوم کا دماغ کسی گٹر کی طرح بند کر دیا ہے کہ اور کچھ سوچ ابھرتی ہی

Read more

ماؤں نے چومنا ہوتے ہیں بریدہ سر بھی

وہ کوئی جنت سے بھجوایا ہوا دنبہ تو نہ تھی جو اس طرح ذبح کر دی گئی۔ اک اور ہالہ نور بحر ظلمات کی عمیق تاریکیوں میں ڈبو دیا گیا۔ معلوم نہیں یہ سلسلہ کب اور کہاں جا کر تھمے۔ کیا نور کے قتل کے بعد بھی ظلم کی تعریف وہی رہے گی۔ کیا اب بھی ہم خود کو معاشرہ کہہ سکیں گے۔ نہیں صاحب! یہ معاشرہ نہیں ہے، یہ وحشیوں کا جمگھٹا ہے جو ہوس زدہ مدقوق کتوں کی مانند ہمیشہ تاک میں رہتا ہے کہ کب جھپٹا مارنے کا موقع حاصل ہو۔

Read more

کیا ضرورت گلاب دیوی کو تھی؟

دن اواخر جون کے تھے۔ باہر سورج فضا کو آگ کر رہا تھا جب کہ اندر غموں نے دہکا جہنم کو رکھا تھا۔ آب نمکین تھا کہ جسم کے ہر اعضاء سے بہے جاتا تھا جیسے کوہ ہندو کش کی پہاڑیوں سے چشمے مسلسل پھوٹ رہے ہوں۔ اشجار کے پتے حرکت کرنے سے معذور تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ فضا سے ہوا کو عزارئیل نے قبض کر لیا ہے۔ لواحقین مریضوں کے دھوپ سے بچاؤ کی ہر تدبیر کرتے تھے

Read more

ہر مخالف کو نہ غدار پکارا جائے

چلی ہے اب عجب رسم کہ ہر حال میں مخالفین کو غدار ٹھہرایا جائے۔ بات اگر ہم عصر مخالفوں پر غداری کا لیبل چسپاں کرنے تک محدود رہتی تو معمول سے ہٹ کر کچھ نہ ہوتا کہ مخالفین کو غدار کہنا بہرحال ہمارا قومی فریضہ ہے۔ چارہ گروں کی ستم گری ملاحظہ ہو کہ وہ شخص بھی آج غدار ٹھہر رہا ہے جو آج سے کچھ بیالیس برس قبل دار پر چڑھا دیا گیا تھا۔ جب سے سیاہ بوتلوں میں

Read more

بانو قدسیہ اور اشفاق و شہاب پر تنقید

چلیے پھر یہی کر گزریے کہ ناقدین کا گلہ گھونٹ کر اپنے خداؤں کو تنقید سے بچا لیجیے۔ آپ کے مزاج فقط اس لیے برہم ہیں کہ لوگ بانو قدسیہ۔ اشفاق احمد۔ اور قدرت اللہ شہاب پر تنقید کیوں کرتے ہیں۔ کیا اختلاف روا رکھنا یا تنقید کرنا گناہ کبیرہ ٹھہر گیا ہے۔ ایک کہانی جو لکھی گئی ہے۔ اک سبق جو پڑھایا گیا ہے۔ ایک سوچ جس کا پرچار کیا گیا ہے۔ اس پر تنقید تو ہو گی۔ لوگ

Read more

کئی چاند تھے سر آسماں

ایک دکھ ہے جو دامن سے لپٹ رہا ہے، ایک درد ہے جو جگر کو لہو کر رہا ہے، ایک ٹیس ہے جو دل کو چھلنی کر رہی ہے، ایک برسات ہے جو آنکھوں سے جاری ہے، ایک فغاں ہے جو لبوں پر رقصاں ہے اور خیالات ہیں کہ شکست خوردوں کی مانند منتشر ہو رہے ہیں، فقط اس لیے کہ اپنے محبوب سے ملاقات نہ ہو سکی، جن کو محبوب کا فراق لاحق ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ محبوب سے ملاقات نہ ہونا کتنی بڑی اذیت ہے، جو نہیں جانتے وہ ان کے مردہ دلوں کے لیے دعائے خیر، شمس الرحمان فاروقی سے فقط اتنا تعارف تھا کہ وہ نقاد ہیں، کبھی کبھار یوٹیوب پر کوئی ویڈیو بھی دیکھ لی جاتی تھی، مگر ابھی ان کو پڑھا نہیں تھا، یہ کم بخت رزق کی پریشانی کہیں اور بسیرا کرے تو ادب کی طرف توجہ مرکوز ہو، جہانزیب ساحر کا شعر تھوڑی سے تبدیلی کے ساتھ ملاحظہ ہو۔

Read more

جنرل صاحب، پانچ جولائی اور واشنگ پاؤڈر

بہتیروں کو اس واشنگ پاؤڈر کا اشتہار یاد ہو گا جس میں ہمیں باور کروایا جاتا تھا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں، جنہیں یہ اشتہار یاد نہیں وہ اپنی دماغی صلاحیت تیز کرنے کے لیے حکیم جاہل جان لیوا کا گاؤزبان چار ہفتوں تک استعمال کریں، اگر اللہ نے چاہا تو کچھ افاقہ محسوس نہیں ہو گا، خیر بات ہو رہی تھی داغوں کی، لباس کو لگنے والا داغ تو اچھا ہو سکتا ہے مگر تاریخ کی پیشانی پر

Read more

ایک ٹھرکی کی داستانِ حیات

میرا نام ہوشیار خاں ٹھرکی ہے اور تعلق عظیم ملک ٹھرکستان کے شمال مغرب میں بہتے ہوئے دریائے راوی کے کنارے ایک چھوٹے سے گاؤں تاڑ نظر سے ہے جس سے دریائے سندھ نکلتا ہے جو روس تک بہتا چلا جاتا ہے، میرے نام سے آپ بخوبی سمجھ گئے ہوں کہ یہ میرا اصلی نام نہیں ہے جو پیدائش کے موقع پر مجھے دیا گیا تھا، جب میں پیدا ہوا تو سردیوں کے دن تھے، پیدا ہوتے ہی ابا گود

Read more

…اور وہ قتل کر دی گئی

تیسرا پہر رات کا شروع ہو چکا تھا کہ جب پستول سے ہونے والے دو فائروں نے فضا میں قبرستان کا سکوت توڑا، گھر میں ثلاثہ اشجار پر رات بسر کرتے ہوئے پرندوں نے فائروں کی آواز سن کر اڑان بھر لی، پہلا فائر اس لڑکی کی ابھری ہوئی چھاتی سے ہو کر چیرتا ہوا دل کو گدے میں دھنس گیا جس پر وہ لڑکی آج رات آخری بار سوئی تھی، کیوں کہ اب اسے صور پھونکے جانے کے بعد

Read more

سیرت ﷺ پڑھانے سے کیا ہو گا؟

معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلا دیا ہے، تجویز یہ دی ہے کہ سیرت النبیﷺ کو بطور مضمون نصاب میں طفلان مدرسہ کے لیے داخل کرنا ہو گا۔ جیسے ہی یہ عظیم کاوش اپنے انجام کو پہنچے گی، حسن اخلاق کے پیکر مجسم سکولوں سے نکلیں گے بدولت جن کے انقلاب کی ہوا چل پڑے گی، ملک عظیم سے معاشرتی برائیاں دامن لپیٹ کر مہاجر ہو جائیں گی، رائے آپ بھی کیا یہی

Read more

بنام وجاہت مسعود: سخت سزائیں اور کچھ اعتراضات

امید ہے دامن دریدہ نہ ہو گا اور آنگن میں چہار سو خوشیوں کی چہکار ہو گی۔ گزشتہ ہفتے آپ کا پروگرام دیکھا جو دو حصوں پر مشتمل تھا، بعنوان ’کیا سزائے موت ہونی چاہیے، کیا عبرت ناک سزاؤں سے جرائم ختم ہو سکتے ہیں‘ ، پروگرام دیکھتے ہی آپ کو کچھ لکھنے کا ارادہ بندھا تھا مگر کچھ مشکلات گہری کھائی بن کر قلم کی راہ میں حائل ہو گئیں جن کو پاٹنا ممکن نہ ہو سکا تھا جو

Read more

ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتے کالم سے

عبقری شخصیات جب بھی اپنے نظریات پیش کرتی ہیں تو دھتکار دی جاتی ہیں، ناموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ ابو الکلام آزاد اس فہرست میں اول درجہ پر ہیں، مولانا کی شخصیت کے ہر پہلو کا جائزہ اگر آپ لینا چاہتے ہیں تو آغا شورش کاشمیری کی تصنیف ”ابوالکلام آزاد“ زیر نظر کرنا ہو گی، سکولوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ پاکستان کی بنیاد پر اپنے دلائل پیش کرنے والوں کے لیے یہ کتاب شمالی کوریا کے ہائیڈروجن بم

Read more

ملالہ کو روایات سمجھنا ہوں گی

ہر معاشرے کی کچھ روایات ہوتی ہیں جن سے مفر ممکن نہیں ہوتا، یہ بات اس تئیس سالہ لڑکی کو خوب سمجھ لینی چاہیے جو نوبل انعام کی حق دار ٹھہرائی گئی تھی، ان روایات کے ہالے میں قید کی لذت ہی ایسی ہے کہ کوئی بھی آزادی کی چاہ نہیں کرتا، بہتیروں نے کوشش کی کہ روایات کو پس پشت ڈالا جائے مگر وائے ناکامی، جون ایلیا یاد آتے ہیں، ایک مشاعرے میں جون سلیم جعفری کو مخاطب کر

Read more

بقا صوفی ازم میں نہیں، سائنس میں ہے

دل جب بحر ظلمات کی گہرائیوں میں ڈوب چکا ہو تو آفتاب کی کرنیں بھی ضیا پاش نہیں بنتیں، چارہ سازوں کی چارہ سازی بھی کچھ کام نہیں آتی، اور چارہ ساز ہی اگر عقل گنوا بیٹھیں تو پھر قسمت کبھی یاوری نہیں کرتی، ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ وزیراعظم کا ہے جو پوری قوم کو صوفیوں کے جبے میں دیکھنا چاہتے ہیں، اگر بائیس کروڑ بھی صوفی بن جائیں تو کون سا ستاروں پہ کمندیں ڈالنے کا آغاز ہو

Read more

لیاقت علی خان کی غلطی اور کشمیر

تنقید کا ہتھیلی پر گل، جس کی مہک سے معاشرے کی فضا معطر ہو جاتی ہے، کھلانے والے کی پیٹھ پر اگر گالی کے کوڑے برسائے جائیں تو تحقیق کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، اور جب کسی خطہ ارض پر محققین کے اشجار کا سایہ نہ ہو تو جہالت کی چلچلاتی دھوپ میں لوگ اختلاف رائے کی بنیاد پر ایک دوسرے کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں، آج سے کچھ تین سال قبل صاحب تیشہ نظر نے لکھا

Read more

دل آنکھ سے کٹ کٹ کے بہے

بجز قلیل خرد مندوں کے، اکثریت نعرہ زن تھی کہ سروں پر عمامے باندھ کر، گھوڑوں پر زینیں کس کے، اور سیاہ جھنڈا لہرا کر اسرائیل کے خلاف جہاد کا نقارہ بجایا جائے، تفکر پہلے بھی ہماری کچھ صفت نہ تھی، اب ترک ڈرامے ارطغرل نے تو جیسے اذہان کے دریچوں کے کھلے کواڑ بھی بند کرنا شروع کر دیے ہیں، تاریخ میں بھلا کب ایسا ہوا تھا کہ ڈرامہ کسی قوم کی نفسیات پر اثر انداز ہوا ہو، تعلیم

Read more

بوڑھی ماں کی سسکیاں

رات کا ایک پہر بیت چکا تھا، کوری ڈور میں مریضوں کے اکا دکا لواحقین آ جا رہے تھے، گہرے اندھیرے میں برقی قمقموں کی سفید روشنیاں فضا کی فسوں خیزی کو مزید بڑھا رہی تھیں، سیکیورٹی گارڈز کی آنکھوں میں اترنے والی لالی نیند کی پیغام رسانی کا فریضہ سر انجام دے رہی تھی، وہ کبھی جمائیوں سے تو کبھی انگڑائیوں سے نیند کو دفع کرنے کی کوشش کرتے، مگر نیند کا غلبہ تو دار پر بھی ہو جاتا

Read more

کیا محمد بن قاسم مظلوم عورت کی مدد کے لیے آیا تھا؟

مالک بن دینار بیان کرتے ہیں جب حجاج بن یوسف کا انتقال ہوا تو اس کے قید خانے میں تیس ہزار مرد اور بیس ہزار عورتیں قید تھیں، عام اندازے کے مطابق حجاج نے ڈیڑھ لاکھ بے گناہ افراد کو قتل کیا تھا (نقوش تاریخ) یہ حجاج بن یوسف وہی ہے جس نے سیدہ اسماء (سیدنا ابوبکر کی بیٹی) کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں تجھے سر کے بالوں سے گھسیٹوں گا، یہ حجاج وہی ہے

Read more