طالبان کی وہی چال بے ڈھنگی اور پاکستان کی مشکلات

وزیراعظم کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس نے افغانستان میں پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر ملک میں سیکورٹی کی صورت حال کا جائزہ لیا ۔ کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والے شرپسند عناصر، مذہبی تفریق اور سائیبر سیکورٹی کے معاملات سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ یہ اجلاس ایک ایسے موقع پر ہؤا ہے جب سرکاری طور پر پاکستان کا مؤقف ہے کہ طالبان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے وعدے پورے کئے ہیں اور دنیا کو انہیں ایک نیا موقع دینا چاہئے۔

 اس دوران کابل میں اعلان کیا گیا ہے کہ ملک کی نئی عبوری حکومت دو روز بعد 11 ستمبر کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھائے گی۔ یہ اعلان اس لحاظ سے علامتی اہمیت کا حامل ہے کہ دو دہائی پہلے اسی روز نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گرد حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں افغانستان میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی واپسی کے سوال پر اختلاف پیدا ہونے کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے اور طالبان کی حکومت ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔ تکنیکی لحاظ سے اقوام متحدہ اس فیصلہ کی حامی تھی لہذا یہ امریکی کارروائی دہشت گردی کی حمایت کرنے والی ایک حکومت کے خلاف دنیا کا اعلان جنگ تھا۔ اگرچہ بعد از وقت اسے طالبان اور القاعدہ کے خلاف امریکہ کی جنگ کا نام دیا گیا اور امریکی انخلا کے بعد طالبان اسے دنیا کی سپر پاور پر اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔

صدر جو بائیڈن نے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد میں طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں افغانستان سے امریکی و تحادی افواج کے انخلا کا فیصلہ کیاتھا تو اس مقصد کے لئے 11 ستمبر ہی کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ یہ اعلان دراصل اس بات کی علامت تھا کہ امریکہ بیس سال تک ایک بے مقصد جنگ لڑنے کے بعد بالآخر اب ایک ایسے روز بیرون ملک عسکری سرگرمی ختم کرے گا جس روز القاعدہ کے دہشت گردوں نے اس پر حملہ کیا تھا اور تین ہزار سے زائد امریکی شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس اعلان کو ایک لحاظ سے نائن الیون کی بیسویں برسی کے موقع پر افغانستان اور دنیا کے لئے امریکہ کا اعلان خیر سگالی بھی کہا جاسکتا ہے۔ البتہ جب طالبان کی نئی عبوری حکومت بھی اسی روز حلف لینے کا شیڈول مقرر کرتی ہے تو یہ دراصل کسی خیر سگالی کا مظاہرہ نہیں ہے بلکہ امریکہ اور دنیاکو یہ باور کروانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے کہ طالبان کی جو حکومت بیس سال پہلے طاقت کے زور پر ختم کی گئی تھی، اس نے ملک پر دوبارہ اپنا تسلط قائم کرلیا ہے اور وہ انہی اصولوں کے مطابق افغان معاملات چلائے گی جو اس نے اپنی پہلی حکومت کے دوران متعین کئے تھے۔ نئی حکومت میں شامل عناصر کی فہرست دیکھ کر اور ان کے ماضی کے بارے میں تفصیلات پڑھ کر یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ نہ حکمت عملی تبدیل ہوئی ہے اور نہ ہی طالبان نے دنیا کے ساتھ مفاہمت و تعاون کا کوئی نیا لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ اس بارے میں باقی تفصیلات عبوری حکومت قائم ہونے اور اس کے احکامات صادر ہونے کے بعد معلوم ہوجائیں گی۔

اس پس منظر میں 11 ستمبر کو اپنی حکومت کا باقاعدہ آغاز کرنے کا فیصلہ کسی خیر سگالی کا اعلان نہیں ہے بلکہ طالبان نے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ وہ اسی روز سے اپنی حکومت کے دوسرے دور کا اعلان کرنے والے ہیں، جس روز وقوع پذیر ہونے والے ایک سانحہ کو بنیاد بنا کر افغانستان پر جنگ مسلط کی گئی تھی۔ اس فیصلہ سے ضد ، انتقام اور ہٹ دھرمی کے ایک خاص مزاج کی عکاسی ہوتی ہے جو نہ تو افغانستا ن کے مستقبل کے لئے کوئی اچھی خبر ہے اور نہ ہی دنیا کو اس میں کوئی خیر کا پہلو دکھائی دے گا۔ پاکستان اس وقت ’ چکی کے دو پاٹوں‘ کے درمیان ہے۔ ایک طرف وہ کسی بھی قیمت پر طالبان کو خوش و مطمئن کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف وہ امریکہ کو ناراض کرکے یک طرفہ طور سے طالبان کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہا ہے۔ البتہ پاکستان انتہائی سرگرمی سے افغان عبوری حکومت کے لئے سفارتی حمایت حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دنیا کو باور کروا رہے ہیں کہ طالبان دشمنی میں افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑا جائے اور اس ملک کے لئے معاشی و سفارتی مشکلات پیدا نہ کی جائیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان ان کوششوں میں کس حد تک کامیاب ہوگا۔ لیکن جاننا ضروری ہے کہ پاکستان طالبان کی خدمت گزاری کے لئے جو مہم جوئی کررہا ہے اور جس طرح کابل کے نئے حکمرانوں کے لئے نرم گوشہ ظاہر کیا جارہا ہے ، اس سے پاکستان کو سفارتی یا معاشی طور سے کیا فائدہ ہوگا۔ حکومت ابھی تک عالمی طاقتوں سے معاملات طے کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ، اس لئے اس کی طرف سے پاکستانی عوام کے دلوں میں اٹھنے والے اندیشوں کا جواب دینے کی کوئی باقاعدہ کوشش نہیں کی گئی ۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کابل کا دورہ بھی کرآئے اور طالبان رہنماؤں سے ان کی ملاقات بھی ہوگئی تاہم اس دورہ میں بظاہر کوئی ایسا بریک تھرو حاصل نہیں کیا جاسکا جس کی بنیاد پر اسلام آباد کی حکومت اپنی سفارتی کامیابی کا کوئی نیا دعویٰ سامنے لاتی۔

اس دورہ میں تین امور پر گفتگو یا طالبان سے کوئی رعایت لینے کا قیاس کیا گیاتھا۔

ایک: نئی افغان حکومت پاکستان تحریک طالبان کے ان عناصر کو لگام ڈالے جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں ۔ طالبان کی حکومت اس حوالے سے اب تک اس بیان سے آگے نہیں بڑھی کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جنرل فیض حمید کے ساتھ بھی اس سے زیادہ کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ اب ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا طالبان واقعی ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرسکیں گے۔ ان عناصر کے ساتھ طالبان لیڈروں کی طویل نظریاتی ہم آہنگی ہے۔ ٹی ٹی پی، پاکستان میں بھی اسی ’منشور‘ کو نافذ کرنے کا دعویٰ کرتی ہے جسے طالبان افغانستان میں مروج کررہے ہیں۔ اس لئے اس تحریک کے حوالے سے عملی مشکلات کے علاوہ طالبان کو ایک دیرینہ ساتھ ختم کرنے کا اہم اور مشکل فیصلہ بھی کرنا ہوگا۔ اس فیصلہ کے نتیجہ میں ٹی ٹی پی کے عناصر داعش جیسے گروہوں کے ساتھ مل کر نہ صرف پاکستان بلکہ طالبان کی حکومت کے مسائل میں بھی اضافہ کرسکتے ہیں۔ شاید اسی تناظر میں بعض نیم سرکاری تجزیہ نگار ٹی ٹی پی کے عناصر کے لئے عام معافی کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ ایک انتہا پسند حکومت سے رعایت حاصل کرنے کی کوئی صورت پیدا ہو۔ پاکستان کا یہ فیصلہ البتہ ملک میں مذہبی بنیاد پر فساد پیدا کرنے کے ایک طویل المدت رجحان کو فروغ دے گا۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اس رجحان اور ایسے عوامل کی بیخ کنی کا اعلان کیا گیا ہے۔ صورت حال کے تضادات سے پاکستانی حکومت کی مشکل کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

دوئم: جنرل فیض حمید کے دورے کا دوسرا مقصد کابل میں جاری حکومت سازی کے بارے میں کوئی رعایت حاصل کرنا تھا۔ ایسی کسی رعایت سے پاکستان دنیا کو یہ باور کروا سکتا تھا کہ افغانستان کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے پاکستان کی اہمیت و کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دو روز پہلے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جس عبوری حکومت کے خد و خال کا اعلان کیا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ پاکستان طالبان سے اس حوالے سے کوئی رعایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ نئی حکومت میں نہ صرف طالبان سے دیرینہ تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا گیا ہے بلکہ ان میں اکثریت ان عناصر کی ہے جو طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ سے قربت رکھتے ہیں۔ یہ انتہائی رجعت پسند اور کٹر خیالات رکھنے والا ٹولہ ہے جو کسی قسم کی مفاہمت یا سفارتی نزاکت کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ۔

سوئم: پاکستانی انٹیلی جنس کے سربراہ کے دورہ کابل کا تیسرا مقصد ان تمام غیر ملکیوں اور اتحادی فورسز کے لئے کام کرنے والے افغان شہریوں کے انخلا کی حکمت عملی کے بارے میں معاملات طے کرنا تھا تاکہ فوری طور سے طالبان اور عالمی برادری کے درمیان کسی براہ راست تصادم کی کوئی صورت پیدا نہ ہو ۔ اس بارے میں کسی مشترکہ افہام و تفہیم سے پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کا امکان ہے۔ طالبان غیر ملکیوں کے انخلا پر راضی ہیں لیکن افغان شہریوں کے بارے میں ان کی پالیسی واضح نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کابل کے نئے حکمران اس رعایت کے بدلے امریکہ اور یورپ سے معاشی وسفارتی مراعات کا تقاضا کررہے ہوں۔

اس دوران البتہ پاکستان نے طالبان کے لئے لابنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہؤا ہے۔ وزیر خارجہ بالواسطہ طور سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں حالانکہ طالبان بنیادی انسانی حقوق اور معاشرے میں خواتین کے کردار کے بارے میں کوئی رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ نئی حکومت نے حلف اٹھانے سے پہلے ہی ہر قسم کے احتجاج اور مظاہروں پر پابندی عائد کردی ہے۔ متعدد شہروں سے طالبان مخالف مظاہرین پر تشدد کی معلومات سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی نے ایک تفصیلی رپورٹ میں ایسے متعدد واقعات کا حوالہ دیا ہے جن میں صحافیوں کو ہراساں کیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔

آسٹریلین کرکٹ بورڈ نے افغانستان کے ساتھ طے شدہ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کے لئے یہ شرط عائد کی تھی کہ طالبان خواتین کرکٹ ٹیم پر پابندی عائد نہ کریں۔ تاہم طالبان کے ثقافتی مشن کے نائب سربراہ احمداللہ واثق نے ایک آسٹریلین ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’خواتین کا کھیلوں میں حصہ لینا مناسب نہیں ہے۔ لڑکیوں کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس کھیل میں ان کے چہرے اور جسم اسلامی شریعت کے مطابق ڈھانپے نہیں جاسکتے ۔ ہم کسی ایسے فعل کی اجازت نہیں دیں گے جو اسلامی احکام کے خلاف ہو‘۔ یہ رویہ طالبان کی طرف دنیا کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کا سبب بنے گا تاہم پاکستان ابھی ان معاملات کو نظر انداز کرکے طالبان کے ساتھ کوئی ایسا تعلق استوار کرنا چاہتا ہے جس میں اسے ہمسایہ ملک کے طور براہ ر است تصادم کا خطرہ نہ رہے۔ شاید اسی لئے اب پاکستانی حکومت نے انسانی امداد بھیجنے کے بعد اپنی استطاعت کے مطابق افغانستان کو مالی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا ہے کہ افغانستان کے زر مبادلہ کے مسائل کی وجہ سے اب اس کے ساتھ تجارت ڈالر کی بجائے روپوں میں کی جائے گی۔

ان رعایتوں کے باوجود پاکستانی حکام کو اندازہ ہے کہ افغانستان کی صورت حال براہ راست پاکستانی سیکورٹی، سی پیک کے چینی ورکرز کی زندگی اور ملک میں مذہبی فرقہ وارانہ انتشار و تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم اپنا دفاع کرنے کے اعلانات اور میڈیا پر پابندیوں کے علاوہ حکومت اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں لائی۔ ایپکس کمیٹی کے اعلامیہ میں جن امور پرتشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اسے ختم کرنے کے لئے انتظامی اقدامات کے علاوہ عوام کو اعتماد میں لینا اہم ہوگا۔ تاہم ابھی اس طرف توجہ نہیں دی جارہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words