اشفاق احمد اور ڈرامہ من چلے کا سودا

اسلامی روایت میں تصوف کی تحریک اپنی جگہ مستقل اہمیت کی حامل ہے، جس کی ابتداء دنیوی اغراض سے منہ موڑ کر ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے ہوئی تھی، مگر دھیرے دھیرے دوسری تہذیبوں سے اختلاط کے باعث اس میں بھی ارتقاء کا عمل نمودار ہوا اور یوں آج اس کی موجودہ شکل جس میں ہم اس کو دیکھتے ہیں، وہ اپنے ابتدائی تصور سے کافی مختلف ہے۔

اسلامی تصوف کے اندر پہلی نمایاں تبدیلی اس وقت پیدا ہوئی جب مامون الرشید کے عہد حکومت میں بیت الحکمت کا قیام عمل میں لایا گیا اور وہاں اطراف عالم سے مختلف علوم کے ماہرین کو بلا کر ان سے مختلف خدمات حاصل کی گئیں۔ چنانچہ یہ وہی زمانہ ہے جب یونان، مصر، ہندوستان اور فارس کے علوم عرب دنیا میں داخل ہوئے اور یوں علمیات کی نئی شاخوں کے سوتے پھوٹے۔

اس زمانے میں جبکہ یہ علوم حالیہ بغداد میں وارد ہوئے تھے، عرب اپنے آپ کو صرف دو علوم سے وابستہ کیے ہوئے تھے، جس میں قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تعلیم شامل تھی۔ مگر ان نئی تہذیبوں کے علوم نے اب ایک نئی راہ بھی متعارف کروا دی اور یوں حساب، فلسفہ، حکمت، منطق اور علم ہیئت جیسے علوم بھی عوام الناس کی توجہ کا مرکز بننے لگے۔ اور چونکہ تصوف کی روایت بھی اس وقت تک منظر عام پر آ چکی تھی، لہذا جب اس کا مقابلہ فلسفہ کے ساتھ ہوا تو یک گونہ مشابہت کے باعث صوفیاء نے اپنی قلبی واردات کو بیان کرنے اور ان کی تشریح کی خاطر فلسفہ کی اصطلاحات کا سہارا لیا اور یوں ایک ایسا ملغوبہ نکھر کر سامنے آیا جس نے آگے چل کر وحدت الوجود کی شکل اختیار کر لی۔

اس نئے مکتبہ فکر کے زیر اثر اب ایسے احوال بھی سامنے آنے لگے، جو اس سے ماقبل اسلام کی روایت میں ہرگز نہ سنے گئے اور نہ دیکھے گئے۔ جس میں سب سے نمایاں روایت منصور الحاج کی ہے، جس نے انا الحق کا نعرہ لگا کر ایک ایسا انداز متعارف کروایا جس سے لوگ قطعاً آشنا نہ تھے۔ بعد میں اسی وحدت الوجود کے پرچارک کے طور پر محی الدین ابن عربی اور مولانا رومی بھی سامنے آئے، تاہم ان کے کلام میں جذبات کے اظہار میں وہ شدت نمایاں نہ تھی، لیکن بہر طور ان دونوں شخصیات نے بھی اپنے قلبی احساسات اور مکاشفات کو وحدت الوجود کی لڑی ہی میں پرو کر عوام الناس کے سامنے رکھا۔ جس کی امثلہ مثنوی اور فصوص الحکم میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

اس مکتبہ فکر کی روایات میں بہت سی چیزیں وہ بھی شامل ہیں، جو شرعی معاملات سے متصادم اور ایک نئی راہ پہ گامزن کرنے والی ہیں، لہذا اپنے اپنے وقت کی برگزیدہ ہستیوں نے ان کے خلاف کھلم کھلا تحریکات چلا کر عوام الناس کو ان سے دور رہنے کی تنبیہ کی اور اس کی جگہ جماعت الصحابہ کے افعال و اقوام سے رہنمائی حاصل کرنے کو اصل قرار دیا، جن میں ابن تیمیہ اور مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی کا نام بہت نمایاں ہے۔ ابن تیمیہ تو خطوط اور کتب کے ذریعے ان سے برات کا اظہار کرتے رہے، تاہم مجدد الف ثانی نے باقاعدہ ان کے مقابلے میں ایک نئے مکتبہ فکر اعنی وحدت الشہود کی بنیاد رکھ کر عوام الناس کو ان سے دور رہنے کی تلقین کی۔

چونکہ وحدت الوجود کا نکتہ نظر حکمائے یونان سے مستعار لیا گیا ہے، بلکہ اس کے اندر بعض تعلیمات ہندوستان کے مذہبی رہنماؤں کی بھی شامل ہیں، لہذا ان تہذیبوں کے مذہبی نظریات اور افکار کو بھی اس راہ کے ذریعے اسلامی روایت میں جگہ مل گئی اور یوں ایک نئے تنازع نے جم لیا جو ہنوز جاری و ساری ہے۔ وحدت الوجود کے کتبہ فکر کی بنیاد اس سوچ پر ہے جس کے مطابق کائنات کے اندر صرف خدا کا وجود موجود ہے، اور باقی سب کچھ اس کے مظاہر ہیں۔

لہذا وہ ہر مخلوق کے اندر بتمامہ موجود ہے، اور ان کے افعال گویا ان کے واسطے ایک نسبت اضافی ہین وگرنہ حقیقت میں کوئی اور ہے۔ چنانچہ بابا بلھے شاہ کے مشہور کلام ”کی جانڑاں میں کونڑ بلھیا“ میں ہمیں اسی طرف واضح اشارہ ملتا ہے، کہ جہاں موسیٰ اور فرعون، کافر اور مسلمان، پاک اور پلید سب کو ہم پلہ قرار دے کر ان سب کو خدا کے ہی مختلف مظاہر شمار کیا گیا ہے، جس کی رو سے ان کی بابت کچھ بات کرنا گویا خدا کے اوپر اعتراض کرنے کے برابر ہے۔

اسی نظریہ کو لے کر ملک کے مشہور ڈرامہ نگار اشفاق احمد مرحوم نے بھی خامہ فرسائی فرمائی ہے اور اپنے خیالات کا اظہار ایک ڈرامے ”من چلے کا سودا“ میں کیا ہے، جو انیس صد نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن سنٹر لاہور سے دکھایا گیا تھا۔ اس ڈرامے کے اندر ایک انسان (خیام سرحدی مرحوم) کو ایک باطنی کشمکش میں مبتلاء روپ میں پیش کیا گیا، جو ہر طرح کی دنیوی نعمتوں سے فیضیاب ہونے کے باوجود راحت و اطمینان کے حصول کے واسطے کوشاں ہے اور پھر اس کی ملاقات ایک ایسے شخص (فردوس جمال) سے ہوتی ہے جو اس کو نئی راہ دکھلا کر اس کی زندگی کا رخ پہ پھیر دیتا ہے۔

تاہم اس میں سب سے حیرت انگیز پہلو ایک ہی انسان کے مختلف روپ کا دکھایا جانا ہے، جس کے تحت وہ کہیں موچی کے لبادے میں، تو کہیں ڈاکیے کے لبادے میں، کہیں راہب کے لبادے میں تو کہیں ڈاکو بن کر ہمارے سامنے آتا ہے، جس سے یہ صریح تاثر ملتا ہے کہ اشفاق احمد مرحوم کا قلبی رجحان شدید طور پہ وحدت الوجود کی جانب تھا اور گویا ایک ہی انسان ایک ہی وقت میں مختلف روپوں میں ظاہر ہو کر مختلف افعال سر انجام دے رہا ہے۔

اگر نظریہ وحدت الوجود کی اس شکل کو درست مان لیا جاوے، تو کیا ہم پھر ہم اصلی نیکی اور بدی میں تمیز کر پاویں گے؟ اگر ایک ہی شخص دوسرے انسان کو لوٹ بھی رہا ہے، اور اسی کا دوسرا بہروپ عین اسی موقع پر پہنچ کر لٹنے والے کی مدد بھی کر رہا ہے، تو آخر اس کا حقیقی چہرہ کون سا ہے؟ وہ جو لوٹ رہا ہے یا وہ جو بچا رہا ہے؟ اور سب سے بڑی بات کیا یہ صفت خدا کے علاوہ ہم کسی اور مخلوق کے ساتھ منسلک کر سکتے ہیں جو کائنات میں ہر جگہ موجود اور ماکان وما یکون کے علم سے بہرہ ور ہو؟

اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو گویا یہ وہی مقام ہے جہاں ایک انسان خدا کے ہم پلہ ہوجاتا ہے اور پھر وہی بلھے شاہ والا حال ہوجاتا ہے کہ جہاں موسیٰ اور فرعون قدر مشترک بن کر باہم تفاوت ختم کر دیتے ہیں۔ لہذا جب دو اشیاء میں امتیاز کا پردہ اٹھ گیا، تو گویا وہ حقیقتاً ایک ہی چشمے کا پانی ہیں، لہذا فرعون جو افعال سر انجام دے رہا ہے وہ بھی درست تصور کیے جائیں گے اور جو کچھ موسیٰ سے صادر ہو رہا ہے وہ بھی درست گردانا جائے گا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر بدی کا مقام کہاں ہے؟ اور ہم کس فعل کو بدی اور کس فعل کو نیکی سے تعبیر کریں گے؟ جب زید ہی بکر ہے اور بکر ہی زید ہے تو پھر انتساب الگ الگ کیوں ہے، ہم دونوں کو ایک ہی نام دے کر اس جھگڑے کو ہی کیوں نہ ختم کردیں تاکہ خس کم جہاں پاک ہو جائے۔

لہذا ہمیں اس باریک فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ دنیا میں نیکی اور بدی کا الگ الگ مستقل وجود ہے، جس سے پہلو تہی کرنے کا مطلب کارخانہ قدرت کے خلاف بغاوت کرنا ہے۔ کیونکہ جو چیزیں مسلمات ہیں اور تواتر کے ساتھ ساتھ عقلی لحاظ سے بھی ثابت ہوں، ہم ان کو حرف مکرر کی طرح لوح جہاں سے مٹا کر ایک نئی عمارت کی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔ چنانچہ انہی وجوہات کی بناء پر متاخرین میں سے جو لوگ معتدل قسم کے صوفی تھے، انہوں نے وحدت الوجود کے اس فکری تناظر کی مخالفت کر کے، تصوف کو اس کی اصلی روایت سے جوڑنے کی از سر نو کوشش کی۔

جس میں سب سے نمایاں نام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صاحب کا ہے۔ آپ نے اس وقت ہندوستان میں انہی وجودی صوفیوں کے ہاتھوں جو شریعت کے ساتھ کھلواڑ رچایا جا رہا تھا، اس کے خلاف سینہ سپر ہو گئے اور یہاں کی مسلمان عوام کو قرآن اور حدیث سے تمسک کی تلقین کی۔ کیونکہ یہ بات ہر صاحب عقل اور صاحب ہوش صوفی کے نزدیک مسلم ہے کہ اسلام میں صرف اور صرف وہی طریقت قابل قبول ہے جو شریعت کے ماتحت ہے۔ وگرنہ ہر وہ تصوف جو شریعت اسلامی سے متصادم اور اس کی روش کے مخالف ہو، خواہ وہ کسی بھی لبادے اور کسی بھی نام سے پیش کیا جائے، وہ سراسر گمراہی اور بد عقیدتگی میں ہی شمار ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words