نائن الیون کے 20 برس: صدر بائیڈن کی قومی یکجہتی کی اپیل

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بیس برس قبل ہونے والے نائن الیون واقعات کو یاد کرتے ہوئے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ وہی جذبہ ایک بار پھر پیدا کریں جو ان واقعات کے بعد نظر آیا تھا۔

جو بائیڈن اس وقت سینیٹر تھے جب ہائی جیکرز نے 2001 میں چار جہازوں کو اغوا کر کے امریکی تاریخ کے بد ترین حملے کیے تھے۔ جب کہ رواں سال امریکی صدر بیس برسوں بعد بطور کمانڈر ان چیف موجود ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے اس موقع پر جمعے کو رات گئے صدر بائیڈن کا پہلے سے ریکارڈ شدہ بیان جاری کیا جس میں انہوں نے نائن الیون واقعات کے بعد دکھائی دینے والے ‘قومی یکجہتی کے حقیقی جذبے’ کے بارے میں بات کی جو ان کے بقول ہر طرف دکھائی دے رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے گیارہ ستمبر 2001 کو ہونے والے حملوں کا یہی سبق تھا۔ ان کے بقول یکجہتی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

صدر بائیڈن جمعے کی رات اس وقت نیو یارک پہنچے تھے جب روشنیوں کے ذریعے منہدم ہونے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کے ٹوئن ٹاورز کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا تھا۔

گیارہ ستمبر بروز ہفتے کو امریکی صدر کا پہلا پڑاؤ نیشنل ستمبر الیون میموریل طے کیا گیا جہاں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز حملوں کی وجہ سے زمین بوس ہو گئے تھے۔

امریکی صدر کے لیے ریاست پینسلوینیا میں شینکس ویلے کے قریب واقع ان کھیتوں کا دورہ بھی رکھا گیا جہاں ہائی جیک ہونے والا چوتھا جہاز، جس کا ہدف واشنگٹن تھا، مسافروں کی دہشت گردوں کے ساتھ ہونے والی لڑائی کے سبب گر کر تباہ ہوا تھا۔

گیارہ ستمبر 2001 کو دہشت گردوں نے پینٹاگون کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ صدر بائیڈن کے دورے میں پینٹاگون بھی شامل کیا گیا۔

صدر بائیڈن کے ان دوروں کا مقصد ان کے جانشینوں کی طرح اس موقع پر دکھ اور سلجھاؤ کا اظہار کرنا ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں امریکی صدر نے ان واقعات کی یاد میں ہونے والے صدمے کو موضوع بنایا اور کہا کہ ان حملوں کو چاہے جتنا بھی وقت گزر گیا ہو، ہر سال یہ موقع اس رنج کو یاد دلاتا ہے کہ جیسے یہ خبر چند سیکنڈ پہلے ہی سنی ہو۔

سابق امریکی صدر براک اوبامہ کے ساتھ بطور پریس سیکریٹری خدمات سر انجام دینے والے رابرٹ گبز کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کے لیے یہ موقع ایسا نہیں ہے کہ لوگ انہیں بطور ڈیموکریٹ صدر دیکھیں بلکہ ان کے بقول انہیں امریکہ کے صدر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

یہ حملے اس وقت ہوئے تھے جب امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش ریاست فلوریڈا کے ایک اسکول میں بچوں کے سامنے موجود تھے اور طیارے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارتوں سے ٹکرائے۔

صدر بش نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر وہ دن دارالحکومت واشنگٹن سے باہر گزارا۔ ایک ایسا فیصلہ جس پر اس وقت کے سینیٹر بائیڈن کے بقول نظرِ ثانی کی جانی چاہیے تھی۔

نائن الیون واقعات کو ایک سال گزرنے پر قوم سے خطاب کے لیے صدر بش نے ایلس جزیرے پر قائم اسٹیچو آف لبرٹی کا انتخاب کیا تھا جہاں ان کا کہنا تھا کہ جو ان کے دشمنوں نے شروع کیا ہے، اس کا اختتام وہ کریں گے۔

عراق اور افغانستان میں جاری جنگ اس وقت بھی جاری تھی جب 2009 میں اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما کا پینٹاگون میں خطاب میں کہنا تھا کہ کوئی بھی الفاظ دلوں کے زخموں کو نہیں بھر سکتے۔

اس رپورٹ میں مواد خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words