تم شکر کیوں نہیں مناتے یار

اگر تم کاغذ پینسل لے کر بیٹھ جاؤں اور صرف ان موٹی موٹی بیسک چیزوں کا حساب لگانا شروع کرو جو تمہارے پاس موجود ہیں۔ پھر ذرا ان لوگوں کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھو جن لوگوں کے پاس یہ تمام اشیاء میسر نہیں۔ اگر یہی بیسک چیزیں تمہیں نعمت نہ محسوس ہوئی تو بھئی کہنا۔ ہزاروں لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں اور تمہیں وہ تھوڑی سی محنت کے بعد ٹیبل پر سجی ملتی ہے۔ کئی لوگ جو تم معمول کے مطابق کپڑے پہنتے ہو، وہ پہننے سے محروم ہیں۔

کئی لوگ بغیر چھت کے سوتے ہیں اور تم پنکھا یا اے سی لگا کر سوتے ہو۔ کئی لوگ وہ بائیک خریدنے کا سوچ رہے ہوں گے جسے تم حسب معمول کام پر یا یونیورسٹی جانے کے لیے استعمال کرتے ہو۔ کئی لوگ اپنے بجٹ میں سے پیسے بچا کر وہ موبائل خریدنے کا سوچ رہے ہوں گے جسے تم ہر وقت ہاتھ میں اٹھائے رکھتے ہو۔ کئی لوگ ہسپتالوں میں لیٹے صرف باہر کا ایک منظر دیکھنے کو ترستے ہوں گے جسے تم ہر روز یا بعض دفعہ دن میں کئی بار دیکھتے ہو۔ کئی لوگ پیسہ ہونے کے باوجود اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر کسی ڈھابے پر چائے پینا چاہتے ہوں گے مگر تم ہر روز نہیں تو ہفتے میں دو تین مرتبہ ضرور پیتے ہوں گے ۔ یہ سب چیزیں تمہیں تو آسانی سے میسر ہیں مگر کئی لوگ کے خواب ہیں یہ۔ ان سب کے باوجود تم شکر نہیں مناتے یار۔

بچپن میں ماں نے نازوں سے پالا۔ باپ نے اچھے سکول میں ایڈمیشن کروا دیا۔ سکول گئے، واپس آئے کھیلے کودے اور رات کو چین کی نیند سو گئے۔ اگلے دن کوئی نئی چیز کسی دوست کے پاس دیکھ لی تو گھر آتے ساتھ ہی فرمائش کر ڈالی اور اگلے دن صاحب کی خدمت میں وہ چیز حاضر کر دی گئی۔ تمہارے والدین نے کبھی تمہیں ننگے پیر فرش پر بھی چلنے نہیں دیا۔ لیکن کئی بچے ایسے بھی ہیں جن کے ہاتھوں میں حالات نے پینسل کے بجائے پیچ کس پکڑا دیا اور بیٹ کی جگہ جھاڑو پکڑا دیا۔

کئی بچے ایسے بھی ہیں جو خود کھلونے سے کھیلنے کی عمر میں خود کھلونے بیچتے ہیں۔ ان کا من کبھی نہیں کیا کہ وہ بھی ان کھلونوں کو دیکھ خوشی سے اچھل پڑے۔ انھیں وہ کھلونا کھلونا نظر نہیں آتا۔ انھیں اس کھلونے میں دو وقت کا کھانا دکھتا ہے۔ انھیں ان کھلونوں میں اپنے زندہ بچ جانے کی آخری امید نظر آتی ہے۔ کئی بچے ایسے بھی ہیں جن کو تپتی دوپہر میں سڑک پر بھی چلنے کے لیے جوتے میسر نہیں۔ تمہیں تو ہر چیز پلک جھپکتے میسر تھی مگر تم نے کبھی شکر نہیں کیا۔

تمہارے پڑھنے لکھنے کے لیے ہر سہولت میسر کی گئی۔ تمہارے سیکھنے کے لیے اچھی کتابیں لائیں گئی۔ رات کو سونے سے پہلے دودھ کا گلاس پلایا گیا اور صبح سکول جاتے وقت زبردستی ناشتہ کروایا گیا اور سکول واپسی پر گھر میں تمہاری من پسند کھانا پکایا گیا۔ مگر ان تمام نعمتوں کے باوجود تم خود کو دنیا کا بد بخت ترین انسان قرار دیتے ہو۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود آج بھی تم اوروں کی چیزوں اور سہولتوں پر نظر رکھے ہوئے ہو۔ ان سب کا کبھی شکر ادا نہیں کیا جو پہلے ہی تمہارے پاس موجود ہیں۔

تمہیں میری بات کا یقین نہیں آتا تو خود کبھی کسی بازار کے چوک میں کھڑے ہو کر دیکھ لینا، کبھی کسی گلی کی اس نکڑ پر کھڑے ہو کر جہاں سے کہیں لوگ گزرتے ہو دیکھ لینا۔ کیسے لوگ صرف ان بیسک چیزوں کے لیے دوڑ رہے ہیں جو تمہیں ہر دن اور پچھلے دن کی بہ نسبت اچھی حالت میں کئی عرصے سے میسر آ رہی ہیں مگر تم نے کبھی غور نہیں کیا۔ کبھی ان کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں کیا۔ مانا کہ تم ان چیزوں کے عادی ہو چکے ہو، مانا کہ وہ چیزیں تمہارے پاس وافر موجود ہیں، مانا کہ ان چیزوں سے تمہارا دل بھر چکا۔ مگر اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ ان کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ وہ کل بھی نعمت تھی وہ آج بھی نعمت ہیں اور آنے والے وقت میں بھی نعمت ہی رہیں گی۔ مگر پھر بھی تم شکر نہیں مناتے۔

تم آج کالج، یونیورسٹی یا کام پر سے دیر ہو جائے تو گھر کے کئی فرد فون پر فون کریں گے۔ تمہاری چنتا کریں گے۔ اگر تمہارا موبائل آف ہوا تو اس جگہ جا کر تمہارا پتا کریں گے۔ جب تک تمہارا پتا نہیں چلتا، چین سے نہیں بیٹھے گے۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے لیے لیٹ ہونے پر کوئی پریشان نہیں ہوتا۔ کوئی فون نہیں کرتا۔ اگر تم اندازہ لگاو تو یہی لوگ جو تمہارے لیے اتنے پریشان ہوتے ہیں یہی بہت بڑا اثاثہ ہے۔ یہی بہت بڑی نعمت ہے۔ ایسی نعمت جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی چیز نہیں کر سکتی۔ اب ذرا ٹھیک سے یاد کر کے بتاو؟ تم نے کس دن یا کس وقت اس نعمت کا شکر ادا کیا! تم تو بڑے خوش قسمت ہو میرے بھائی۔ ہم سب بڑے خوش قسمت ہیں۔ مگر آج تک اپنی خوش قسمتی کا احساس تک نہیں ہوا۔

اور ہاں یہ بھی یاد رکھنا کہ شکر منانا یہ نہیں ہے کہ صرف استعمال کے بعد الحمدللہ کہہ دیا جائے۔ اصل شکر منانا تو یہ ہے کہ اس کو صحیح طرح سے استعمال کیا جائے۔ اس کا بے جا ضیاع نہ کیا جائے۔ اصل شکر تو یہ ہے ان بھائیوں کے ساتھ وہ چیزیں بھی شیئر کی جائے جن کے پاس یہ نہیں ہیں اور تمہارے پاس وافر مقدار میں موجود ہیں۔ کھانا کھاتے وقت اگر تم نے ایک بھوکے کو بھی کھانا کھلا دیا تو تمہارا اس کھانے کا شکر ادا ہو جائے گا۔

اگر تم نے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے وقت کسی انجان پھیری والے کو ساتھ بیٹھا کر چائے پلا دی تو سمجھ تمہارا اس چیز کا شکر ادا ہو گیا۔ اگر تم نے اپنے دو بچوں کے ساتھ کسی غریب کے بچے کو بھی تعلیم دلوا دی تو اس کا شکر ادا ہو گیا۔ خوشیوں کا بھی شکر ادا غمگین لوگوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کر کے ہی ہوگا۔ اصل شکر تو یہی ہے میرے بھائی کہ اپنی چیزیں اوروں کے ساتھ شیئر کی جائے، اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کیا جائے، کسی گرتے کو سہارا دیا جائے، کسی بیگانے کو اپنا محسوس کیا جائے۔ یہی اصل شکر ہے اگر تم جانو تو۔

Latest posts by زین العابدین،سوہاوہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
زین العابدین،سوہاوہ کی دیگر تحریریں