کیا سب ٹھیک جا رہا ہے؟

جمہوری حکومت نے ایک بار پھر قومی خزانہ بھرنے کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ ظاہر ہے اب اس سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہو گا جو پہلے ہی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔

دراصل یہ سب آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر کیا جا رہا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق اگر عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں تو وہ ناراض ہو کر قرضہ دینا بند کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت یا حکومتیں عوامی مفادات کے پیش نظر فیصلے کرنے سے قاصر ہیں تو پھر یہ جو انتخابات کا تکلف کیا جاتا ہے، بے سود ہے کیونکہ عوام کی مرضی و منشا کو ملحوظ رکھتے ہوئے اقدامات نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی قانون سازی کی جا سکتی ہے۔

ویسے قانون سازی ہو بھی جائے تو اس پر عمل درآمد کس نے کرنا ہے لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جب تک ہمیں قرضوں کی ضرورت ہے، خوشحالی بھی نہیں آ سکتی۔ پی ٹی آئی کی قیادت سے معذرت کے ساتھ پوچھا جائے کہ کیا اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ ملکی معیشت کا پہیہ عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے رواں ہے یقیناً اسے علم ہو گا مگر اس نے کیوں اس حوالے سے حکمت عملی اختیار اور منصوبہ بندی نہیں کی اور اگر کی تو وہ کہاں ہے؟

ہم اکثر اپنے کالموں میں یہ عرض کرتے رہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت اگر انتظامی طور سے بھی کوئی پروگرام ترتیب دے لے تو چند اہم مسائل حل ہو سکتے ہیں جس سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے مگر اس پہلو پر اب تک غور ہی نہیں کیا گیا۔ بس حکمرانی کے مزے لوٹے جا رہے ہیں مگر اب اسے حزب اختلاف کی طرف سے مختلف النوع الزامات کا بھی سامنا ہے۔ عوام اس منظر کو دیکھ کر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی افسوس ہے کہ ابھی تک حزب اختلاف نے ان کے بنیادی مسائل کو زیر بحث لانے کے ساتھ کوئی تحریک چلانے کا آغاز نہیں کیا۔ اس تناظر میں بلدیاتی انتخابات میں کیسے حکومتی جماعت کو کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

بہرحال ہو سکتا ہے اگلے دنوں میں کوئی ریلیف دینے کا سلسلہ شروع ہو جائے کیونکہ ملکی خزانے میں ٹیکس در ٹیکس لگانے سے کافی دولت جمع ہو چکی ہو گی مگر اس نظام میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے نہیں بن سکتے لہٰذا وہی بات کہ جب تک موجودہ نظام زندگی کو نہیں تبدیل کیا جاتا خوشحالیوں کے در وا نہیں ہو سکتے۔ کہ اس میں اشرافیہ عام آدمی کو فائدہ پہنچانے کے خلاف ہے وہ لوگوں کو معاشی بھنور میں الجھا کر اپنے اقتدار کو مضبوط و محفوظ بنانے کے لیے یہ سب جاری رکھنا چاہتی ہے یعنی ”سٹیٹس کو“ کی حامی قوتیں کسی طور بھی ملک سے غربت، افلاس اور بیروزگاری کا خاتمہ نہیں چاہتیں اور نہ ہی قرضوں کے متبادل کوئی دوسرا پروگرام سوچتی ہیں کہ اس سے محکوم عوام کو سر اٹھانے کا موقع میسر آتا ہے اور وہ خود کو اقتدار کے اہل سمجھنے لگتے ہیں لہٰذا اس حالت موجود کو قائم رکھنا اس کا باقاعدہ منصوبہ ہے وگرنہ یہاں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو نہ صرف معیشت کو توانا بنانے کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں بلکہ ملک کو خوشحالی سے ہمکنار کرنے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں مگر نہیں آئی ایم ایف اور عالمی بینک ہی سے ڈکٹیشن لینا ضروری سمجھا جاتا ہے اور آج تک اس کی ڈکٹیشن سے کیا حاصل ہوا یہی کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوئی فلاحی منصوبے نہیں بن سکے تفکرات سے آزادی نہیں مل سکی۔

ہم مغربی و یورپی ممالک کے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ ان کی حکومتیں ان کے بارے ہر وقت سوچ بچار کرتی ہیں ان کے مسائل کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں بلا وجہ ٹیکس نہیں لگاتیں جو لگاتی ہیں ان کا پورا پورا حساب رکھتی ہیں اور انہیں عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کرتی ہیں مگر یہاں اس کے الٹ ہے کہ حساب کتاب کا کچھ علم نہیں ہوتا اور عوام پر خرچ کرنے کا بھی کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ یہ خبریں ضروری پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کہ فلاں محکمے میں کروڑوں اور اربوں کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ اب تک اس نظام حکومت میں اہل اقتدار و اختیار اربوں اور کھربوں پتی بنے ہیں مگر عوام کو کچھ نہیں ملا وہ تو صرف اور صرف قرضے اتارنے کے لیے رہ گئے ہیں۔

موجودہ حکومت ہو یا پچھلی حکومتیں سبھی نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں مگر مانتا کوئی نہیں عدالتوں میں بھی انہیں لایا جاتا ہے مگر کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے اپنے اختیارات سے کس قدر فائدہ اٹھایا۔ جاوید خیالوی کہتا ہے کہ کسی کا احتساب ہو گا نہ کسی کو کوئی سزا ملے گی کیونکہ سب اہل اقتدار اندر سے ایک ہیں یہ جو کارروائیاں دکھائی دیتی ہیں محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ بات بڑی حد تک درست ہے اب تک جس طرح کا احتساب ہونا چاہیے تھا وہ ہوا نہیں کیونکہ کوئی بھی فریق نہیں چاہتا کہ اس کو حساب دینا پڑے۔

ہر کوئی بھاری سرمائے کا مالک بننا چاہتا ہے جس سے سیاست کاری کی جا سکے اور پر آسائش زندگی بسر کی جا سکے لہٰذا آنیاں جانیاں ہی ہوتی ہیں اور کچھ نہیں۔ صحیح معنوں میں احتساب اس روز ہو گا جب عوامی حکومتیں وجود میں آئیں گی یہ تو ایک ہی طبقہ ہے جو چہرے بدل بدل کر غریب و بے بس عوام پر مسلط چلا آر ہا ہے اور دولت کے ڈھیر لگائے جا رہا ہے اور لوگوں کو اپنے جینے کی راہ تاریک دکھائی دے رہی ہے کہ آئے روز ٹیکس آئے روز اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ۔

ایسے میں کوئی کیسے جیئے کیسے آگے بڑھے۔ مگر یہ اہل زر کا مغالطہ ہے کہ وہ اسی طرح عوام کا کون نچوڑتے رہیں گے ایسا نہیں ہو گا۔ یہ منظر لازمی بدلے گا عوام کو اقتدار میں آنے کا موقع ملے گا کیونکہ ارتقائی عمل آگے بڑھتا ہے لہٰذا حکمرانوں کو عوام کے مفاد میں سوچنا ہے۔ وہ قومی خزانہ لوٹنے والوں کو کب تک برداشت کرتے رہیں کب تک غذاؤں اور دواؤں سے محروم رہیں ہر کام کی حد ہوتی ہے اور اب وہ حد یہ نظام حیات عبور کر چکا ہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ اب اگلا دور عوامی ہو گا کہ لوگ کسی بھی اشرافیہ کی سیاسی جماعت کو قبول کرنے کو تیار نہیں آخر انہیں کب تک بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words