تحریک انصاف 2023 میں کیوں کامیاب نہیں ہوگی؟

افغانستان کے حالات نے پاکستانی حکمرانوں کو کشمیر سے ہٹ کر بات کرنے اور ہمسایہ ملک میں رونما ہونے والی نئی ’حقیقت حال ‘ کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کا فریضہ ادا کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔ اب دنیا آہستہ آہستہ اس نئی ’حقیقت ‘ سے شناسا ہورہی ہے تو پاکستانی وزیروں کو بھی ایک بار پھر بھارت کی طرف دیکھنے اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا ڈھنڈورا پیٹنے کا خیال آیا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا حکومت کبھی پاکستان میں مہنگائی، بھوک، بیماری، بیروزگاری اور ناانصافی پر بھی توجہ مبذول کرپائے گی۔
جب سرکاری بیانیہ پر بڑے بڑے مسائل حاوی ہوں تو عام طور سے وہ ’چھوٹے‘ معاملات نظر انداز ہوجاتے ہیں جن کا تعلق ملک میں بسنے والے عام سے لوگوں سے ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بھول رہی ہے کہ وہ بھلے میڈیا کی مکمل زبان بندی کا اہتمام کرلے اور الیکشن کمیشن کو نذر آتش کرکے اپنے بےپایاں اختیار کا مظاہرہ کرنے کا ارادہ ظاہر کرے ، اسے بہر حال دو سال بعد انہی لوگوں کے پاس جاکر اپنا نامہ اعمال پیش کرنا ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ہونے والے مظالم یا افغانستان میں نافذ ہونے والی ’اسلامی مساوات‘ کا چرچا کام نہیں آئے گا بلکہ حکمرانوں کو ملکی معیشت اور عام شہریوں کی حالت زار بہتر کرنے کے سلسلہ میں کی گئی کارگزاری دکھا کر ہی ووٹ لینے کا موقع ملے گا۔
ابھی تک ان امور پر بات تو ضرور کی جاتی ہے لیکن کسی مسئلہ کا کوئی حل فراہم کرنے کی بجائے سابقہ حکومتوں کی نااہلی، بدعنوانی، جاہ پسندی اور اقربا پروری کے قصے سنا کر یا مدینہ ریاست کے نام سے سہانے خواب دکھا کر کام چلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ عمران خان شاید آئیندہ دو برس بھی اسی قسم کے نعرے لگاتے ہوئے اقتدار پر تصرف قائم رکھ سکیں لیکن یہ قیاس کرلینا کہ بادشاہ گروں کی پارکھ نگاہیں عمران خان کی وجاہت اور فن تقریر کے سحر میں مبتلا ہوکر صرف ان پر ہی جمی رہیں گی اور کوئی دوسری سیاسی قوت تحریک انصاف کی بدانتظامی، ناقص حکمرانی اور معاشی تباہی کا راز کھول کر عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی، خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔
شاہ محمود قریشی کابینہ کے دیگر ارکان کی طرح جس طرح افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد دنیا کو نئی ’حقیقت حال‘ تسلیم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ، بعینہ پاکستانی سیاست میں بھی یہ منوانے کا جتن کیا گیا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے دست شفقت کے بغیر کوئی سیاسی جماعت اقتدار تک پہنچنے کا حیلہ نہیں کرسکتی۔ تحریک انصاف کی حکومت نہ اپنا کوئی انتخابی وعدہ پورا کرسکی ہے اور نہ ہی اس نے بہتر گورننس کی کوئی مثال پیش کی ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر تواتر سے نئے لوگوں کی تقرریوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد کے حکمران کابل میں اقتدار سنبھالنے والے طالبان سے انتظامی و پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں بس انیس بیس کے فرق پر ہی ہیں۔ اس کے باوجود عمران خان نہ پارلیمنٹ کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ کسی اہم ترین معاملہ میں قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر بھی ان کا طوطی بولتا ہے اور وزیر مشیر اداروں اور جمہوری روایات کے بارے میں ’فرعونی‘ لب و لہجہ میں بات کرنے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے۔ اس رویہ سے یہ یقین عام کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ اول تو انتخاب چوری کرنے کے درجنوں طریقے ہیں جن میں تازہ ترین دریافت ’الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں‘ ہیں ۔ اس کے علاوہ اقتدار تو اسی کو ملے گا جس کے سر پر ’ہما بٹھا دیا جائے گا‘۔
یہ بھی ظلم ہوگا کہ ملکی سیاسی اقتدار پر اسٹبلشمنٹ کے بلا شرکت غیرے تسلط کی بات کرتے ہوئے سارا الزام صرف تحریک انصاف پر عائد کردیا جائے۔ عمران خان نے ضرور امپائر کی انگلی کے اشاروں کو پہچان کر اقتدار حاصل کیا ہے اور تحریک انصاف کو چہیتی پارٹی بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن ان سے پہلے نواز شریف بھی یہ منزل مار چکے تھے۔ تاہم نواز شریف اور عمران خان میں ایک واضح فرق دیکھااور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان خود مختاری اور اپنے مکمل ’بااختیار‘ ہونے کا اعلان کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتے لیکن انہوں نے کبھی وزارت عظمی کو پرٹوکول لینے اور میڈیا پر چھائے رہنے کے حق سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ وہ اسی پر خوش ہیں اور اس سےزیادہ کی ’چاہ‘ نہیں رکھتے۔ اسے بعض ستم ظریف یوں بھی بیان کرتے ہیں کہ عمران خان نے دعوے کرنے اور مخالفین کو کوسنے کا کام سنبھال رکھا ہے جبکہ امور حکومت انجام دینے کا کام انہی عناصر کو تفویض کررکھا ہے جو وزیر اعظم کو اپنے اشاروں پر چلانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ عمران خان نے معاملہ سیدھا کردیاکہ: اگر کام ویسے ہی ہونا ہے جیسے آپ چاہتے ہیں تو پھر مجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ پالیسی بھی بناؤ، اس پر عمل بھی کرو اور میں کسی کام میں دخیل ہو کر نہ آپ کی مشکل میں اضافہ کروں گا اور نہ اپنی پریشانی کا سبب بنوں گا۔
اس کے برعکس نواز شریف جب بھی اقتدار میں آئے، انہوں نے اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ طعنہ دیا جاتا ہے کہ نواز شریف کسی آرمی چیف کے ساتھ نہیں چل سکے۔ اس تصویر کی اصل صورت یوں ہے کہ کسی آرمی چیف نے وزیر اعظم کو اس کے آئینی ، قانونی و جمہوری اختیار پر مکمل تصرف کا موقع نہیں دیا۔ اس وقت حکومت کے نمائیندے جن دو مسائل پر خامہ فرسائی کرتے رہتے ہیں یعنی افغانستان اور اس سے جڑے سیکورٹی مسائل اور کشمیر کی آزادی، ان دونوں معاملات پر کبھی بھی ملک کی جمہوری قیادت کو فیصلہ سازی کا حق نہیں دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان کی سیاست، سفارت کاری اور معاشی ترجیحات گزشتہ کئی دہائیوں سے ان دو معاملات سے جڑی رہی ہیں لیکن ملک کی سیاسی قیادت کو کبھی بھی ان معاملات پر فیصلہ تو کجا خود مختاری سے رائے دینے کا حق بھی نہیں ملا۔ کیوں کہ ان معاملات کی حدود کا تعین جی ایچ کیو میں کرلیا جاتا ہے۔ جس بھی پارٹی یا لیڈر نے اس طریقہ کار سے اختلاف کرنے کا حوصلہ کیا اسے عبرت کا نشان بنایا گیا۔ عمران خان ایسی ’غلطی‘ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
تاہم عمران خان یہ بھول رہے ہیں کہ تمام تر خدمت گزاری کے باوجود اقتدار پر قبضہ جاری رکھنے کے لئے انہیں بالآخر عوام کے پاس واپس جانا پڑے گا۔ اس مقصد کے لئے جو زاد راہ کسی بھی حکومت کو فراہم کرنا چاہئے، تحریک انصاف بوجوہ اسے اکٹھا کرنے میں ناکا م ہورہی ہے۔ اس لئے یہ قیاس کرلینا کہ خدمت گزاری کی وجہ سے اس پارٹی کوایک بار پھر اقتدار سونپ دیاجائے گا، نرم الفاظ میں بھی خام خیالی کہلائے گی۔ 2018 میں عمران خان کو یہ منصب یوں عطا ہؤا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو کسی بھی قیمت پر اقتدار اور ممکنہ حد تک سیاست سے باہر کرنا مطلوب تھا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کرنے کے بعد مستقبل میں اس صوبے کی سیاست پر اس کی ’اجارہ داری‘ ختم کرنا بھی نصب العین کا حصہ تھا۔ عمران خان سے توقع تھی کہ وہ ملکی معیشت کو بہتر انداز میں چلائیں گے، ماضی میں ہونے والی بدنظمی کو بہتر گورننس کے نظام سے تبدیل کریں گے اور اپنی عوامی اپیل کی بنیاد پر نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کو سیاسی منظر نامہ سے غائب کردیں گے۔
ضمنی طور سے یہ توقع بھی وابستہ کی جارہی تھی کہ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف جب مرکز اور پنجاب میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی تو سندھ کے عوام بھی اس قابل رشک ترقی میں حصہ دار بننا چاہیں گے۔ اس طرح پیپلز پارٹی کا یہ خواب چکنا چور کیا جاسکے گا کہ اس کے سوا سندھ میں کوئی حکومت نہیں بنا سکتا۔ زبانی جمع خرچ کی حد تک عمران خان نے یہ سب کام کرلئے ہیں لیکن پنجاب میں وسیم اکرم پلس قرار دیے گئے عثمان بزدار کی ’پھرتیوں‘ اور اسلام آباد میں عمران خان کی پر جوش قیادت کے باوجود امور حکومت پر چھائی ہوئی ’نقاہت‘ نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن) کی پوری قیادت کے خلاف بدترین ریاستی انتقامی کارروائیوں کے باوجود یہ پارٹی پنجاب کی اہم ترین اور شاید مقبول ترین پارٹی کے طور پر اپنا لوہا منوا رہی ہے۔ حتی کہ پارٹی سے فارورڈ بلاک یا شین لیگ نکالنے کے خواب بھی منتشر ہوچکے ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی سندھ ہی میں مستحکم نہیں ہے بلکہ بلاول بھٹو کی قیادت میں اب جنوبی پنجاب کو دوبارہ جیتنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی منظر نامہ پر بلاول بھٹو زرادری کو آئیندہ وزیر اعظم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو کسی کو کوئی حیرت نہیں ہوتی۔
جو عناصر کسی بھی پارٹی کو اقتدار تک لانے میں کردار ادا کرتے ہیں، ان کی بھی کچھ توقعات ہوتی ہیں۔ اگر براہ راست اختیار پر قبضہ ہی مقصود ہو تو نہ ماضی میں ایسے کسی ماورائے آئین ہتھکنڈے کا راستہ روکا جاسکا اور نہ ہی شاید مستقبل میں اس کا کوئی اہتمام کیا جاسکے۔ لیکن وقت نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ فوج کے لئے براہ راست اقتدار پر قبضہ کرنا باعث ندامت بھی ہوتا ہے اور اس سے وہ مطلوبہ اہداف بھی حاصل نہیں ہوتے جن کی وجہ سے اقتدار پر تصرف اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے ’ہائیبرڈ‘ نظام کے نام پر امور حکومت کو بالواسطہ طور سے چلانے کا تجربہ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن تازہ ترین تجربہ میں تلاش کیا گیا ’واسطہ‘ خود مستقل ’سہارے‘ کی تلاش میں ہے۔ یہ صورت حال سہارا دینے والوں کے لئے بھی مشکل اور ناقابل قبول ہوجاتی ہے۔
گویا عوام اپنی حالت زار کو دیکھ کر ایک بار پھر تحریک انصاف کی کامیابی کا سبب بننے سے گریز کریں گے اور اسٹبلشمنٹ کسی ایسی حکومت کی خواہاں ہوگی جو کم از کم ملکی معیشت میں اتنی توانائی تو پیدا کرے کہ دفاعی اخراجات میں مسلسل کمی کا سامان نہ کرنا پڑے۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ عمران خان کے پاس اب بھی دو سال ہیں۔ البتہ اگر وہ اپنا طریقہ تبدیل نہ کرسکے تو شاید میڈیا اتھارٹی کے ذریعے صحافیوں کی زبان بندی اور ای وی ایم کے ذریعے ووٹروں کی رائے تبدیل کرنے کے ہتھکنڈے بھی 2023 کے انتخاب میں تحریک انصاف کا سہارا نہ بن سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words