پانی بہتا رہنے دیں

کہتے ہیں کہ پانی جب نہ بہے تو اس میں کائی لگ جاتی ہے۔ اس پانی سے بدبو آنے لگتی ہے۔ کہتے کیا ہیں سچ ہی تو ہے۔ بہتا پانی ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ تعریف کیے بغیر بندا رہ نہیں سکتا۔

ہمارے ہاں پچھلے دنوں کئی ایک ایسے واقعات ہوئے کہ جنہیں سن کر اور دیکھ کر آدمی لرز اٹھتا ہے۔ چھوٹی بچیوں کے ساتھ زنا، چلتی لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، کئی ایک کو ریپ کرنے کے بعد مار دیا گیا۔ لوگ کہتے ہیں قانون نے کچھ نہیں کیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ سب حکومت کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ہے۔

کچھ بزرگوں نے کہا کہ لڑکے اور لڑکی کو شروع سے علیحدہ رکھا گیا۔ تعلیم کے لیے سکول و کالج میں الگ الگ کیمپس بنا دیے گئے۔ لڑکوں کے ذہن میں یہ بٹھا دیا گیا کہ لڑکی نا جانے کیا مخلوق ہے۔ جس چیز کو جتنا پردے میں رکھا جائے لوگ اس کے بارے میں جاننے کے لیے اتنا ہی متجسس ہوتے ہیں۔ لہذا لڑکے اور لڑکی کو تعلیم اکٹھی دی جائے تا کہ وہ یہ جان سکیں کہ لڑکی بھی ہمارے جیسی مخلوق ہوتی ہے اس لیے اسے دوست اور انسان کے طور پہ دیکھا جائے سیکس ڈیزایئر کے طور پر نہیں۔ مگر ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں نے اے اور او لیول کے لڑکوں کو بھی لڑکیوں کے بارے میں بے ہودہ گوئی کرتے ہوئے سنا ہے، میں نے ان کو بھی لڑکیوں کے اعضاء ناپتے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ تو شروع سے ایک دوسرے کے ساتھ پڑھے ہیں۔ تو پھر ان میں پاکیزہ دوستی کیوں نہیں ہے۔

کچھ لبرلز یہ کہتے ہوئے سنے گئے کی یہ سب عورت کے پردے نے کیا ہے۔ وہ اپنا سارا جسم ڈھانپ کر رکھتی ہیں اور لڑکے متجسس ہوتے ہیں کہ ان کی اصل بناوٹ کیا ہے۔ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یورپ کی لڑکیاں ہاف جینز پہن کر پھر رہی ہوتی ہیں مگر کسی گورے نے ان کی طرف کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا مگر ہمارے ہاں تو برقعے والی کو بھی برابر تاڑتے ہیں اس لیے یہ کہنا کہ پردہ کرنے سے بے حیائی کم ہوتی ہے بہت غلط ہے۔ ارے بھائی ہر معاشرے میں کلچر نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ہر علاقے کا اپنا لباس ہے۔ کہیں لوگ جینز پہنتے ہیں تو کہیں شلوار قمیض۔ کہیں لڑکیاں سر پر دوپٹہ لیتی ہیں تو کہیں نہیں۔ ہمارے ہاں دوپٹہ سر پر اوڑھنا کلچر ہے۔ پر قوم کا وجود کلچر سے ہوتا ہے۔ اس لیے کلچر کو اس معاملے سے دور رکھا جائے۔

آپ ایک منٹ کے لیے فرض کر لیں کہ آپ گھر سے نکلے اور آپ کے دماغ میں ایک سوچ ہے کہ گھر کا راشن ختم ہو چکا لہذا اس کے لیے کہیں سے چار پیسے جیب میں آنے چاہئیں۔ آپ سارا رستہ یہی سوچیں گے کہ کس طرح مزدوری ڈھونڈی جائے یا اپنے باس سے ایڈوانس تنخواہ لے لی جائے۔ یہی سوچیں گے نا آپ یا پھر یہ طے کر کے گھر سے نکلیں گے کہ گزرتی ہر لڑکی کو تاڑنا ہے۔ اس کے کپڑے پھاڑ کر اس کا جسم دیکھنا ہے۔

یا پھر کوئی سائنسدان کسی فیلڈ پر ریسرچ کرتے ہوئے یہ سوچے گا کہ اس فارمولے میں عورت کو ادھیڑ کر رکھا جائے تو مطلوبہ نتیجہ نکل آئے گا۔ نہیں ایسا تو بالکل بھی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے کام پر دھیان رکھتا اور آوارہ سوچ سے محفوظ رہتا ہے۔

ہمارے ہاں چونکہ زیادہ لوگ بیشتر وقت دماغ بند کر کے گزارتے ہیں۔ تو جب دماغ چلے گا نہیں بالکل تالاب کے پانی کی طرح تو پھر سوچ سے بدبو تو آئے گی۔ ہمارے ملک میں کتنے دماغ ہیں جو تعمیری کاموں کی طرف لگے ہوئے ہیں۔ بالکل نا ہونے کے برابر۔ ہمارے سکول کالج اور یونیورسٹی کا پروفیسر برسوں سے رٹا ہوا ٹاپک سمجھانے کے بعد کیا کرتا ہے، ہمارے طلباء فزکس، کیمسٹری اور میتھ کے فارمولے رٹنے کے بعد کون سے کارہائے نمایاں سر انجام دیتے ہیں۔

کتنے مدارس ہیں جہاں اپنے آپ کو عالم کہنے والے آیات کی کہیں سے رٹی ہوئی تفسیر اور فرقہ واریت کا سبق دینے کے بعد کون سی نئی کتاب لکھتے ہیں۔ تو جناب ایسے بند ذہن ہی شیطان کی رہائش گاہ ہیں۔ یہ گندے جوہڑ ہیں جن سے بدبو آتی ہے۔ بہتے دریا تو وہ علماء ہیں جن کے دن رات قرآن و حدیث پہ ریسرچ کرتے ہو گزرتے ہیں، وہ پروفیسر ہیں جو ریسرچ میں مغز کھپاتے ہیں اور وہ طلباء ہیں جو نت نئی چیزوں کو ڈھونڈتے اور قدرت سے سوال کرتے نظر آتے ہیں۔

خدا کی قدرت کا شکر کہ جو یہ کب سے چیخ رہی ہے کہ ساکن رہنے والا پانی جوہڑ ہوتا ہے جس سے بدبو آتی ہے اور چلنے والا پانی دریا کہ جو نظر کو بھلا لگتا ہے۔

Latest posts by سلمان صابر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
سلمان صابر کی دیگر تحریریں