امریکہ اور برطانیہ، آسٹریلیا کو جوہری توانائی کی آبدوز ٹیکنالوجی دیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم وڈیو لنک پر صدر بائیڈن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (اے پی)

امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کی جوہری مواد سے چلنے والی آبدوزوں کا دستہ بنانے میں مدد کریں گے۔ یہ بات امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بدھ کو اس وقت کہی جب تینوں ممالک کے سربراہان نے انڈو پیسفک ریجن پر توجہ کی متقاضی نئی سہہ فریقی شراکت داری کا اعلان کیا۔

صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ خطے کے موجودہ اسٹرٹیجک ماحول اور اس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹ سکیں۔

تینوں ممالک کے اتحاد کو ‘اے یو کے یو ایس’ (آکس) کا نام بھی دیا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ کے لیے پیٹس ویڈاکوسوارا اور انیتا پاول کی رپورٹس کے مطابق امریکہ کے صدر جو بائیڈن، آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن اور برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری مواد سے چلنے والی آبدوزیں ایٹمی ہتھیار لے کر نہیں جا سکیں گی۔

‘آسٹریلیا جوہری ہتھیار بنانے کا خواہش مند نہیں ہے’

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کا خواہش مند نہیں ہے، نہ ہی غیر فوجی جوہری استعداد کار چاہتا ہے۔

امریکہ کے صدر اور برطانوی وزیرِ اعظم کے ساتھ ویڈیو لنک پر گفتگو میں آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔

بائیڈن انتظامیہ کے ایک اہل کار کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزوں کی فراہمی کے لیے آئندہ برس 18 مئی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے جس کے دوران تینوں ممالک ان آبدوزوں کی حوالگی کے مراحل پر کام کریں گے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا کہ ان کا ملک آسٹریلیا کے ساتھ معلومات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ آسٹریلیا برطانیہ کی سابق نو آبادیات کا حصہ رہا ہے اور اب بھی کامن ویلتھ کا حصہ ہے۔ کامن ویلتھ ایک ایسی تنظیم ہے جس کی قیادت ملکہ الزبتھ دوئم کے پاس ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ برطانیہ کی کئی نسلوں پر محیط مہارت کے حصول کا متقاضی ہے جو اس نے 60 سال قبل رائل نیوی کی پہلی نیوکلیئر سب میرین ایجاد کرتے ہوئے حاصل کی تھی۔

نئی شراکت داری تینوں ملکوں کے لیے اہم ٹیکنالوجی، جیسا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی، کوانٹم ٹیکنالوجی، انڈر واٹر سسٹمز سمیت مختلف شعبوں میں معلومات اور مہارت کے تبادلے کو مزید آسان بنائے گی۔

چین، ساوتھ چائنہ سی کے متنازعہ پانیوں میں اپنی بحری قوت کا مظاہرہ کر رہا ہے (فائل)
چین، ساوتھ چائنہ سی کے متنازعہ پانیوں میں اپنی بحری قوت کا مظاہرہ کر رہا ہے (فائل)

صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس جدید صلاحیتیں موجود ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے کہ ہم تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف اپنا دفاع کر سکیں۔

کیا پیشِ نظر چین ہے؟

اگرچہ کسی رہنما نے اپنے خطاب میں چین کا ذکر نہیں کیا لیکن تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے کا مقصد مغربی اتحادیوں کی جانب سے چین کی عسکری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی کا مقابلہ کرنا ہے۔

سنگا پور میں انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز میں ایشیا پیسفک سیکیورٹی کے امور کے ماہر، سینئر فیلو یان گراہم کا کہنا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ سب میرینز کیا کام کرتی ہیں اور ایسی ہی طاقت رکھنے والا ممکنہ طور پر مخالف ملک بھی واضح طور پر ایک ہی ہے۔

جولیان کو ہافسٹرا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں جو بین الاقوامی تنازعات اور قوانین میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ممالک (آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ) کے درمیان معاہدہ ہوا ہے جو پہلے ہی بہت قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ ان کے بقول یہ واضح علامت ہے کہ امریکہ خطے میں ایک غالب قوت کے طور پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ان کے بقول امریکہ مؤثر انداز میں وہ سب کچھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے جو اس کے پاس ہے۔

چین کے پاس 60 آبدوزوں پر مشتمل دستہ موجود ہے جن میں سے چھ جوہری طاقت کی حامل ہیں۔

آسٹریلیا نے فرانسیسی ڈیزائن والی سب میرینز تیار کرنے کے لیے اس سے قبل فرانسیسی کمپنی نیول گروپ کے ساتھ بھی مذاکرات کیے ہیں۔ اس پروگرام پر70 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

صدر بائیڈن نے اس حوالے سے کہا کہ یہ معاہدہ کثیر فریقی کوششوں کا متقاضی ہے اور تینوں ملک اپنے پرانے اتحادیوں کے تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔ بائیڈن نے کہا کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھیں گے ہم فرانس اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ بھی مل کر کام کرنے کا بھی خیر مقدم کریں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3106 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments