ویجائنا؛ عورت کے جسم کا گندا عضو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ خاتون انتہائی پراسرار انداز میں ہماری طرف جھکیں اور جھکتی ہی چلی گئیں۔ ہم گھبرا کر کچھ پیچھے ہٹے اور کھسکتے کھسکتے دیوار سے جا لگے۔
”جی فرمائیے؟“ ہم نے کہا۔
”وہ۔ وہ۔ مجھے بہت تکلیف ہے“ وہ رک رک کر دبی آواز میں بولیں۔

”کہاں؟“
”میں نہ بیٹھ سکتی ہوں، نہ لیٹ سکتی ہوں۔ ایسے لگتا ہے کہ وجود زخم زخم ہے“
”بتائیے تو کہاں؟“
ان کی آواز سرگوشی میں بدل گئی
”جی وہ نیچے۔“

” نیچے؟ آپ کا مطلب ہے پاؤں میں؟“
”نہیں وہ نیچے۔ وہ۔ وہ۔ میرا مطلب ہے کہ ماہواری والی جگہ۔“
وہ ہچکچاتے ہوئے بولیں۔

”اوہو، آپ کا مطلب ہے ویجائنا“ ہم نے کہا۔
”جی جی وہی“
وہ شرما کر بولیں۔
”وہاں سے گندا پانی بہت آتا ہے، سوزش ہو جاتی ہے اور اٹھنا بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے“
”کیا کوئی علاج کیا اس سے پہلے؟“ ہم نے پوچھنا چاہا۔

”جی بہت دوائیاں استعمال کر چکی ہوں۔ صفائی کا بھی بہت خیال رکھتی ہوں لیکن کچھ دن ہی افاقہ رہتا ہے“
”صفائی کا کیسے خیال رکھتی ہیں؟“ ہمارا متجسسانہ سوال۔

” جی بہت دھوتی ہوں اسے۔ باہر سے تو ہر وقت لیکن وضو کرتے وقت تو اندر سے بھی صاف کرتی ہوں۔ وضو کے لئے تو اندرونی صفائی لازم ہے نا“

”اندر سے صفائی، ہر وضو میں؟“ ہم کچھ حیران ہو کر بولے۔

”جی دیکھیے نا یہ ایک گندا عضو ہے اور وضو کرتے وقت گندے جسم کو تو دھونا ہوتا ہے نا“ وہ زور دے کر بولیں۔

”کچھ بتائیں گی کہ یہ عضو گندا کیوں اور کیسے ہے؟“
وہ کچھ دیر چپ رہیں پھر آہستہ سے بولیں،
”دیکھیے نا ماہواری کا خون یہاں سے نکلتا ہے، پھر وہ۔ وہ۔“
”جی، جی کہیے“
”شوہر سے تعلق بھی ہوتا ہے تو گندا عضو تو ہوا نا“

”گندے عضو تو آپ کے جسم میں اور بھی ہیں کیا انہیں بھی آپ اندر سے صاف کرتی ہیں؟“
”جی کون سے ؟“
”آپ کا مقعد ( Anus) جہاں سے پاخانہ خارج ہوتا ہے کیا آپ وضو سے پہلے اس کے اندر بھی انگلی ڈال کر صفائی کرتی ہیں؟“

”جی نہیں۔ وہ تو جی۔“
وہ گڑبڑا گئیں۔

”اور آپ کے مثانے کا منہ جہاں سے پیشاب باہر نکلتا ہے۔ کیا اس کے اندر بھی انگلی ڈال کر طہارت کرتی ہیں؟“

اب کے وہ کچھ بھی نہ بول سکیں، ٹک ٹک دیدم ہمیں دیکھتی رہیں۔

”جب پاخانے پیشاب کو خارج کرنے والے اعضا کو صرف باہر سے صاف کیا جاتا ہے جبکہ دونوں طرح کی غلاظت میں لاکھوں بیکٹیریا پائے جاتے ہیں تو ویجائنا کو دن میں پانچ مرتبہ اندر سے دھونے کا مطلب؟“

”دیکھیے وہ اصل میں ماہواری وہاں سے آتی ہے نا“ وہ آہستہ سے بولیں۔

”جی بالکل، ماہواری آتی ہے اور مہینے میں ایک دفعہ آتی ہے اور اس میں کوئی جراثیم نہیں پائے جاتے۔ یہ خون بچے دانی سے خارج ہوتا ہے اور یہ وہ خون ہے جو حمل ہو جانے کی صورت میں بچے کی پرورش کرتا ہے“

”لیکن دیکھیے نا، ویجائنا گندی جگہ ہے“
وہ بضد رہیں،

”دیکھیے، ویجائنا آپ کے جسم کا ویسا ہی ایک حصہ ہے جیسے کہ آنکھ، ناک، کان، گلا۔ کیا وہ بھی ویسے ہی گندے ہوتے ہیں جیسے کہ ویجائنا؟“

ہم نے سوال کیا

”نہیں لیکن ہمیں بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ یہ گندی جگہ ہے اسے بار بار اندر سے صاف کرنا لازم ہے اور پھر یہیں سے گندا پانی آتا رہتا ہے“

” گندا پانی آنا انفیکشن کی نشانی ہے، بالکل آشوب چشم کی طرح جب آنکھوں سے گدلا چپچپاہٹ والا مادہ خارج ہونا شروع ہو جائے۔ بالکل اسی طرح جیسے زکام میں ناک سے گاڑھا ریشہ بہنا شروع ہو، اور اسی طرح جیسے کان سے پیپ آنے لگے“

وہ حیرانی سے ہماری طرف دیکھتی رہیں۔

”ویجائنا کو گندا عضو قرار دے کے اس سے بے زاری پیدا کرنا اور طہارت کے مختلف طریقے ایجاد کرنا انہی روایات کا ایک حصہ ہے جس سے عورت کو کمتر اور حقیر ہونے کا یقین دلایا جاتا ہے“

وہ اب بھی خاموش تھیں۔

”میرے ایک سوال کا جواب دیجیے؟ وہ عضو جس کے راستے زندگی جنم لیتی ہے، جس میں سے رینگتے ہوئے ہم سب اس دنیا میں آ کے آنکھ کھولتے ہیں۔ وہ جو ہر مرد و عورت کو دنیا میں لانے کا موجب ہے، وہ جو اپنے آپ کو اذیت دے کر ان کو سہارا دیتی ہے وہ نفرت کے قابل اور گندی کیسے ہوئی؟

بچے، آنکھ کا نور اور دل کا سرور اسی ویجائنا سے ٹکراتے پھسلتے، خاندان کی گود میں آ ٹھہرتے ہیں جو انہیں گلے سے لگا، چوم چاٹ کر اپنی اہم ترین متاع جانتے ہیں۔

ان بچوں کو ماں باپ سے ملانے والا عضو اگر کسی بھی وجہ سے نارمل نہ ہو تو سوچ سکتی ہیں کہ کیا ہو گا؟ ”

جان لیجیے بچے دانی اور ویجائنا وہ اعضا ہیں جن کے بنا عورت عورت نہیں اور عورت نہیں تو زندگی کی نمو نہیں۔

خالق کا بنایا ہوا ہر عضو اس کی کاملیت کا عکس ہے اور ہر عضو جسم کی اہم ترین ضرورت بھی ہے اور ناگزیر بھی، سو اسے حقیر جان کر وہ سلوک نہ کیجیے جس سے وہ زخمی ہو کر تکلیف اور پریشانیوں کا سبب بن جائے۔

ویجائنا کو بیزاری اور نفرت کے جذبات سے دیکھنے کا سلسلہ صدیوں سے چلتی روایات کا ایک حصہ ہے۔
بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی سو ہماری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments