مفاہمت یا مزاحمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لو جی نون لیگ کو بھی ایک پیج پر لانے کا فیصلہ پارٹی قائد نے کر لیا ہے۔ مزاحمت اور مفاہمت کے بیانئے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا اور ظاہری بات ہے کہ پارٹی قائد میاں نواز شریف ہی ہیں تو ان کا بیانیہ ہی چلے گا۔ اب پارٹی میں موجود خاموش لیڈروں کو کھل کر قائد کے بیانیے کی حمایت کرنی پڑے گی اور اس کے لیے میاں جاوید لطیف نے پہلا کنکر پھینک دیا ہے۔ بہت سوچا سمجھا بیان تھا جو میاں جاوید لطیف نے دیا یا ان سے دلوایا گیا۔ اس پر فوری ایکشن ہوا اور ان کو پارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔ اب پارٹی کی عدالت سجے گی اور میاں جاوید لطیف بولیں بلکہ خوب با آواز بلند بولیں گے اور ان کے بیان کی حمایت میں ایک شور مچ جائے گا۔

ن لیگ میں میاں جاوید لطیف کی حمایت میں بیانات کا سلسلہ شروع ہو گا اور یوں نون لیگ میں مفاہمت کا بیانیہ اکیلا رہ جائے گا اب یا تو پارٹی کے ورکرز سے مفاہمت ہوگی یا پھر ان دوستوں سے جن کے ساتھ مفاہمت کی خاطر چپ کا روزہ رکھا گیا ہے۔ فیصلہ کرنا پڑے گا ویسے پارٹی ورکرز کے ساتھ ہی مفاہمت ہوگی کیونکہ موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں لہذا دریا میں رہنا ہی عقلمندی ہوگی۔ کیونکہ عمومی تاثر یہی ہے کہ پارٹی اور ووٹ وڈے میاں صاحب کا ہے۔ لہذا پارٹی قائد میاں نواز شریف اور ملک میں قائد مریم نواز شریف ہوں گی اور نون لیگ کے مطابق شاید اگلی بار وزارت عظمیٰ کی امیدوار بھی کیونکہ ایک بات تو طے ہے کہ وہ کراوڈ پلر ہیں اور یہ خاصیت میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز میں نہیں ہے

یہی نہیں کہ فقط ہم ہی اضطراب میں ہیں ہمارے چاہنے والے بھی اسی عذاب میں ہیں۔ نون لیگ کی طرح تحریک انصاف بھی مخمصے کا شکار ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر کالعدم تحریک طالبان پاکستان شدت پسندانہ کارروائیاں چھوڑ دے اور ہتھیار ڈال دے تو حکومت انہیں معاف کر سکتی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بیان شاید کچھ قبل از وقت تھا ہو سکتا ہے کہ ٹمپریچر چیک کرنے کے لیے یہ بیان دیا گیا ہو اس پر طالبان کی طرف سے جو جواب ملا وہ پریشان کن ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے مطابق ”ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم نے کبھی دشمن سے معافی نہیں مانگی مزید یہ کہ معافی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے معافی دینے کی مشروط پیشکش دیتے ہوئے کہا گیا کہ“ اگر ملک میں شرعی نظام نافذ کرنے کا وعدہ یا ارادہ کیا جائے توہم اپنے دشمن کے لیے معافی کا اعلان کر سکتے ہیں ”

کالعدم تحریک کا جواب بی بی سی اردو نے وضاحت کے ساتھ دیا ہے۔ اب کالعدم تحریک کے جواب سے بہت سے نئے سوال پیدا ہو گئے ہیں۔ پہلا سوال کہ کالعدم تحریک کو مذاکرات کی میز پر کیسے لایا جائے۔ کیا یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور اگر نا ہوئے تو کیا ہم ماضی کی طرح ایک نئے آپریشن کی طرف جائیں گے۔ افغانستان کے طالبان کس حد تک کالعدم تحریک پر اثر انداز ہوسکتے ہیں کیا ان کی طرف سے مدد ملے گی یا نہیں۔ اگر ہم نے کالعدم تحریک کے خلاف آپریشن شروع کیا تو افغان طالبان کا عمومی رویہ کیا ہو گا۔ اس کے علاوہ اور بہت کچھ ہے جو توجہ طلب اور جواب طلب ہے۔

اس ضمن میں یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ خدا وطن عزیز کی اس کی عوام اور اس کی افواج کی حفاظت فرمائے۔ بظاہر جو نظر آ رہا ہے اس کے مطابق تو یہی لگ رہا ہے کہ ہمارے لیے ایک کڑا امتحان ابھی باقی ہے۔ ہمارے دشمن بھی یہی چاہیں گے کہ ہم کسی نا کسی طرح اس میں الجھیں اور ہماری کامیابی یہی ہوگی کہ ہم مذاکرات کے ذریعے معاملات کو سنبھال جائیں۔ لیکن انڈیا اور امریکہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ یہاں پر امن ہو ان کی کوشش ہوگی کہ کسی طرح حالات خراب ہوں۔ یہاں بھی مفاہمت یا مزاحمت میں سے ایک بیانیہ اپنانا ہو گا

حالات تو بلوچستان حکومت کے بھی اچھے نہیں ہیں۔ جام کمال کے خلاف ان کی اپنی جماعت کے اراکین نے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہوئی ہے۔ اور معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی قیادت میں ایک وفد بلوچستان اسمبلی کے اراکین سے مذاکرات کر رہا ہے بظاہر جو اطلاعات مل رہی ہیں اس کے مطابق ناراض اراکین جن کی قیادت اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو اور سردار محمد صالح بھوتانی کر رہے ہیں شدید ناراض ہیں اور کھلے عام وزیراعلیٰ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ پرامید ہیں کہ یہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی۔

بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد 65 ہے اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 اراکین اسمبلی کی حمایت ضروری ہیں۔ جبکہ اسمبلی میں اپوزیشن کے اراکین کی تعداد 23 ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن نے نہیں بلکہ حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین نے جمع کرائی ہے اور ان کی تعداد 15 ہے۔ جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے اس بلوچ اور تحریک انصاف کے میر نصیب اللہ مری بھی ناراض اراکین کے ساتھ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ناراض اراکین مزاحمت کرتے ہیں یا مفاہمت کے ذریعے ان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔

اگر بلوچستان حکومت ٹوٹ گئی تو اس کے بہت سے معانی اور مطلب نکالے جائیں گے۔ مختصر یہ کہ اگر جام کمال سرکار گئی تو اس کا مطلب ہے کہ سیاسی بساط لپیٹنے کی تیاری ہو چکی ہے۔ اور یہ وفاق کے لیے پریشان کن ہوگی ویسے بھی مہنگائی، بے روزگاری کے سبب حکومت دباو کا شکار ہے رہی سہی کسر نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ منسوخ کر کے نکال دی ہے۔ اور تو اور امریکی صدر کا بھی تاحال فون نہیں آیا خدا جانے کہاں مصروف ہے۔ مطلب یہ کہ فی الوقت کہیں سے اچھی خبر سننے کو نہیں مل رہی۔ ڈالر ہو یا پٹرول، بجلی ہو یا گیس کسی کے نرخ کنٹرول نہیں ہو رہے۔ غرض کوئی محکمہ ایسا نہیں جہاں معاملات ٹھیک چل رہے ہوں پھر بھی جناب صدر بضد ہیں کہ دنیا کو کپتان کے ویژن سے استفادہ کرنا چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments