لالہ عطا اللہ خان عیسی خیلوی سے گلہ
لالہ تم سے یہ امید نہیں تھی کہ تم ہمارے جذبات سے اتنا زیادہ کھیلو گے، تم ہمارا عشق، جنون ہو، ہم نے تم کو دل سے چاہا، لڑکپن، جوانی اور اب بڑھاپے میں قدم رکھ دیا مگر ہم نے اپنا عشق نہیں بدلہ، اس دوران بہت سے فنکار آئے دنیا پر چھا گئے مگر ہمارا عشق لالہ تم ہی رہے لیکن تم نے اپنے عاشقوں اور چاہنے والوں کے جذبات سے ایسے کھیلو گے کبھی سوچا ہی نہیں تھا، سیانے سچ ہی کہتے ہیں معشوق بہت ظالم ہوتا ہے، تم ہمارے معشوق اور ہم تمھارے عاشق مگر تم نے ظلم کی انتہا کردی
لالہ تمھارے دکھ کو اپنا دکھ اور تمھارے درد کو اپنا درد سمجھا مگر بیوفائی اور دھوکہ دہی کی تم نے حد ہی کردی، لالہ کوئی اور نہیں وسیب کا جادوگر گلوکار ہے جس کے سحر میں دنیا رہی اور اب بھی ہے، ہم بھی اس سے نہ بچ سکے، لالہ تیری اک جھلک دیکھنے کے لئے عوام میں جتنے دھکے کھائے اتنے پوری زندگی نے نہیں دیے، لالہ ہمارا کیا قصور تھا؟
لالہ ہم جب رحیم یار خان رہتے تھے تو بذریعہ سڑک اپنی کار پر لاہور آتے، اس وقت سنگل سڑکیں ہوا کرتی تھیں، موٹر وے خواب و خیال میں بھی نہیں تھی جس ٹرک یا بس کو اوور ٹیک کرتا، عطاءاللہ کان عیسی خیلوی کے گانے بج رہے ہوتے، جی ٹی روڈ پر جو مزا ٹرک ہوٹل کے کھانوں کا ہے وہ فائیو سٹار ہوٹل کے کھانوں کا نہیں
لالہ دس، گیارہ گھنٹے کے سفر کے دوران آپ کے ہی گانے سنتے اور سفر آسان ہوجاتا، سفر کے دوران ہمیشہ کوشش کرتے کہ ٹرک ہوٹل سے کھانا کھایا جائے، ٹرک ہوٹلز کی دال اور گوشت کی ڈشز کا کوئی ثانی نہیں ہے، کمال کا ذائقہ ہوتا ہے، ٹرک ہوٹل کی میری پسندیدہ ڈش روش ہے، کیا ذائقہ ہوتا ہے روش کا، جس ٹرک ہوٹل پر رکتے لالہ کے گانے بج رہے ہوتے اور میرے سمیت ڈرائیور حضرات لالہ کی دکھی اور سریلی آواز کے سحر میں گم ہو جاتے، لالہ آپ کا گانا سننے کے لئے بعض اوقات دیر تک وہیں بیٹھے رہتے اور ہمیں لاہور پہنچنے میں کافی تاخیر ہوجاتی
”ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی، قیامت سے پہلے قیامت ہے یارو۔“ لالہ یہ گانا رات گئے ٹیپ سرہانے رکھ کر سنتا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے، لالہ آپ کے لئے دعا کرتے کہ اللہ آپ کو صبر دے کیونکہ بقول آپ کے آپ کی محبت آپ کو نہیں ملی تھی، ہم نے آپ کی بات کا یقین کر لیا اور ہم نے یک طرفہ محبوب بنا لئے وہ بھی ایک نہیں کئی، کئی بنا لئے پھر ہمارا اور آپ کا دکھ سانجھا ہو گیا
دل لگایا تھا دل لگی کے لئے بن روگ زندگی کے لئے۔ رحیم یار خان کے گلیکسی سنیما میں آپ کا کنسرٹ سننے کے لئے بہت دھکے کھائے وہ تو بھلا ہو رانا اسرار رسول کے بھائی رانا افتخار رسول کا جس نے چور دروازے سے اندر داخل کرا دیا، تین گھنٹے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر آپ کے گیتوں پر جھومتا رہا، پھر ملتان میں چمن زار عسکری میں آپ کے شو کے انتظامات بھی کیے کیونکہ وہ شو میرے والد کے دوست بچپن کے دوست بلا جی کرا رہے تھے، لوگوں کا سونامی حقیقی معنوں میں وہاں دیکھا
چمن زار عسکری کا شو کئی گھنٹے جاری رہا جس میں شہر کی ایلیٹ کلاس شریک تھی، میرا لالہ آپ سے عشق تو تھا ہی، ایلیٹ کلاس کی بیگمات کا جنون دیکھ آپ پر مزید رشک آنے لگا، پھر ایک بار ملتان کی 9 نمبر چونگی کے قریب ایک سکول کی تقریب میں آپ آئے، وہ سکول آپ کے کسی دوست کا تھا، چھوٹا سا سکول تھا مگر لالہ دوستی نبھانے آ گئے
نجی اللہ ملک کے پاس اس کے انتظامات تھے، نجی اللہ ملک نے یونیورسٹی کے دوستوں کو خصوصی دعوت دی، ہم سب دوست سجاد جہانیہ، محمد شاہد، عمران نیازی مرحوم، طارق نیازی و دیگر وہاں پہنچے تو وہ سکول بھر چکا تھا، ہمیں کہیں جگہ نہ ملی تو راقم، شاہد اور کئی دوست سیڑھیوں کی چھت پر چڑھ گئے اور وہاں سے لالہ صاف نظر آرہے تھے، لالہ نے جب قمیض تیری کالی گایا تو شائقین جھومنے لگے
لالہ ماحول گرم ہو گیا تو ہم بھی چھت پر ناچنے لگے، سیڑھیوں کی چھت کڑیوں کی تھی جو ہلنے لگی، میں نے ابھی شاہد کو روکا ہی تھا کہ چھت ہل رہی نہ ناچو، اتنے میں چھت گر گئی ہم چار دوست چھت سے نیچے گر گئے، اللہ نے کرم کیا ہم سیڑھیوں کی لینڈنگ پر گرے اور زیادہ نقصان سے بچ گئے مگر ہمارے بازوؤں اور سروں پر چوٹیں آئیں، میوزک اتنا اونچا تھا کہ صرف ساتھ کھڑے لوگوں کو علم ہوا کہ چھت گر گئی ہے، باقی کسی کو علم ہی نہ ہوا اور وہ لالہ کی گلوکاری سے محظوظ ہوتے رہے
لالہ آپ کا گانا اتنا پسند تھا کہ چوٹوں کی پروا نہ کرتا ہوا باہر آ کر دوسری منزل کی چھت پر بیٹھ کر آپ کا گانا سننے لگا، میرے دوست سجاد جہانیہ، محمد شاہد اور دوسرے مجھے سیڑھیوں کے نیچے کافی دیر تلاش کرتے رہے، جب گانا ختم ہو گیا تو میں سیڑھیوں کے پاس گیا تو سب میری طرف لپکے، کہاں تھے ہم دس منٹ سے تجھے تلاش کر رہے ہیں، میں نے کہا یار لالہ کا لائیو گانا سن کر رہا تھا، دوستوں نے پوچھا زیادہ چوٹ تو نہیں لگی تو میں نے ان کو بازو دکھایا جو کڑیوں کی وجہ زخمی ہو گیا تھا، میں نے دوستوں سے کہا یار چوٹوں کی خیر ہے، لالہ کا گانا کون سا روز روز سننے کو ملتا ہے، لالہ یہ ہمارا آپ سے عشق تھا جو چوٹوں کی پرواہ نہ کی مگر لالہ تم نے ہمارے دلوں پر چوٹیں لگائیں جس کا بہت دکھ ہے
پھر وقت گزرتا رہا، دنیا بھی بدل گئی مگر آپ سے عشق نہ بدلا، لاہور میں بھی جس جگہ آپ کا کنسرٹ ہوتا وہاں پہنچ جاتا، آج بھی لالہ آپ کے گانے میرے دل پر راج کرتے ہیں، پھر تبدیلی کی ہوا چل پڑی، اس ہوا نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا مگر بطور صحافی مجھے یہ تبدیلی کے تیور اور انداز زیادہ پسند نہیں تھے کیونکہ اب دوسرا ”لاڈلہ“ لایا جا رہا ہے، پہلے کی تابعداری میں شاید کمی آ گئی تھی، اس تبدیلی نے کچھ خاص متاثر نہ کیا مگر پھر کیا ہوا، آپ نے گا یا، ”جب آئے گا عمران، بڑھے گی اس ملک کی شان، بنے گا نیا پاکستان“ لالہ آپ کے عشق میں اس بات پر بھی یقین کر لیا اور نیا پاکستان کے گن گانے لگا
تین سال میں جو کچھ نیا پاکستان کی عوام کے ساتھ ہو رہا ہے، اب آپ کے غمگین اور دکھی گانے اور بھی زیادہ پسند آنے لگے ہیں کیونکہ عوام کا دکھ، درد عروج پر پہنچ گیا جس کے بعد سکون اب قبر میں ہی ملے گا، نیا پاکستان میں نہیں، پہلے محبوب کو یاد کر کے رویا کرتا تھا، اب اپنے اور عوام کے حالات دیکھ کر آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، اب آپ کا گانا شدت سے گاتا ہوں، ”بالو بتیاں وے ماہی ساکوں مارو سنگلاں نال۔“
لالہ آپ نے ظلم کی حد کردی جب نا اہل حکومت کی ”تین سالہ کارکردگی“ کا خود ساختہ جشن منایا گیا تو اس میں بھی آپ نے آ کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا، اس وقت لالہ آپ پر اتنا غصہ تھا کہ جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا، آپ سے تیس سالہ عشق کا بھرم نہ ہوتا تو اس دن آپ سے باقاعدہ نفرت ہوجاتی، بھلہ یہ بات کہنے والی ہے کہ ”اچھے دن آئے ہیں“ مذاق کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر کسی دل جلے نے آپ ہی کے گانے کا کلپ پوسٹ کیا تھا کہ ”ایسی بات پوچھتے کیوں ہو۔ جو بتانے کے قابل نہیں ہے“
لیکن اس دن صاف لگ رہا ہے جو آپ گا رہے تھے اس میں آپ کا وجود ساتھ نہیں دے رہا تھا، اچھے دن آئے ہیں، جی بہت اچھے دن آئے ہیں، پٹرول 123 روپے سے اوپر ہو گیا، آٹا 80 روپے کلو، گھی 350 روپے کلو، بجلی کی قیمت 22 روپے یونٹ سے بھی بڑھ گئی ہے، سبزی 100 روپے کلو سے کم نہیں ہے، بیروزگاری دن بدن بڑھ رہی ہے، کاروبار ٹھپ ہو رہے ہیں، کاروباری حضرات ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر رہے ہیں
مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کی جان نکال دی ہے، بس ایک سانس چل رہی ہے معلوم نہیں اس حکومت کے بقیہ دو سال زندگی کی سانسیں باقی رہیں گی یا نہیں، آج حالات سے تنگ آ کر اپنی کار کھڑی کردی ہے اور موٹرسائیکل کی سروس کرا لی ہے، کل سے موٹرسائیکل چلایا کروں گا، لالہ ”غضب کیا جو تیرے وعدے پر اعتبار کیا“ ، لالہ تم نے کپتان سے اپنی دوستی تو نبھا دی مگر اپنے چاہنے والوں، اپنے عاشقوں کے دلوں پر جو چوٹ لگائی ہے اس پر کبھی معافی نہیں مل سکتی، لالہ ہمارا مان تھے، سرائیکی کا معروف نغمہ ”واہ وا پیار جو کیتوں ای رول ڈیتو ای وچ روہی، واہ سجن تیڈے وعدے“


