شکریہ عمران خان


ابھی ابھی دیکھا کہ ہمارے عزیز دوست مزمل اسلم نے نہ صرف مہنگائی بڑھنے کے بیانیے کو مسترد کیا بلکہ کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر سب کو عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، حق تو یہ کہ حق ادا نہ ہوا۔ مزمل اسلم سچے ہیں بھئی اور یہ ہم سے اب تک بڑی کوتاہی ہوئی کہ عمران خان صاحب کا اب تک شکریہ ادا نہیں چنانچہ آج اس جرم کی تلافی کی کوشش کرتے ہیں۔ تو شکریہ عمران خان صاحب آپ کا اگر آپ نہ ہوتے تو آج ہم پسماندہ ملکوں کی طرح، ڈالر ایک سو بیس، چینی پچاس اور تیل ستر روپے کا خرید رہے ہوتے۔

شکریہ عمران خان صاحب کہ آپ نے پوری قوم کو شوگر جیسے مرض سے بچانے کے لیے دور رس اقدامات کیے ہیں، چینی اب اس قدر مہنگی ہے کہ کوئی خریدنے کی ہمت ہی نہیں کر سکتا، ویسے بھی میٹھا تو لوگ خوشی کے مواقع پر کھاتے ہیں تو وہ بھی نہیں آتے شوگر کے مریضوں میں نمایاں کمی ہونی چاہیے۔ یہاں ایک بدخواہ ڈاکٹر کی رائے لی تو بد بخت انسان کہنے لگا کہ ذیابیطس کی اصل وجہ ٹینشن ہے اور اس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ کیوں کہ شوگر کا اسپیشلسٹ ہے تو اس نے بھی شکریہ عمران خان ہی کہا

پارس خورشید نے ایک بار پوچھا کہ لوگ مہنگائی سے خود کشیاں کر رہے ہیں تو آپ نے جواب میں کہا کہ تو میں کیا کروں؟ کہنے کا مقصد غالباً یہ تھا کہ بھئی اب تو میں وزیر اعظم بن گیا ہوں یہ کافی نہیں ہے کیا؟ جیسے شفیق الرحمان کے کردار روفی نے گاڑی سے ٹکر مار کر سوری کہا تھا۔ ویسے بھی لوگ اگر خودکشی کر رہے ہیں تو وہ خان صاحب کے ووٹر تو ہوں گے نہیں یہ دن کے دو سو روپے کمانے والے جاہل لوگ کیا جانے کہ کلر سمائل والے ہینڈسم وزیر اعظم کو رکھنے کی کیا قیمت ہوتی ہے؟

یہ گنوار لوگ مزمل اسلم کی طرح ڈیٹا چیک کر کے مشکل (اور غلط) سا حساب کر کے یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ مہنگائی تو کم ہو رہی ہے۔ کیوں کے ان کے بھوک سے بلکتے بچوں کو یہ اعداد و شمار سمجھ نہیں آتا نہ ان کی بھوک مٹتی ہے۔ ان لوگوں کا مسائل تو ذرا سنیں آپ، بچوں کے لئے کھانا نہیں مل رہا، بجلی کا بل ادا نہیں کرپا رہے، گھر کا کرایہ نہیں دے سکتے، اسکول کی فیس نہیں دے سکتے، دوائیں اس قدر مہنگی ہو گئی ہیں خریدنے کے سکت نہیں رہ گئی۔

اب ذرا سوچیں ان مسائل سے دوچار بد تمیز عوام کو یہ ادراک کیسے ہو کہ ان کا وزیر اعظم کس قدر عظیم انسان ہے۔ وہ تو عالمی دنیا کے مسائل بھی حل کر دیتا مگر وہ عالمی والے ان کو فون ہی نہیں کرتے، ہم تو بیلنس بھی ڈلوانے کو تیار ہیں مگر نہیں۔ خود ہی بھگتیں گے جب ٹویٹر پر کرائے کے ٹرینڈ چلیں گے تو معافیاں مانگتے پھریں گے

بہت شکریہ عمران خان صاحب، کچھ لوگ دوائیں نہ ہونے کہ وجہ سے بیماری سے مر جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو زندہ رہنا چاہتے مگر نہیں جانتے کہ سکون صرف قبر میں ملتا ہے

شکریہ عمران خان کہ اب بیرون ملک سے لوگ پاکستان میں نوکریاں کرنے آتے ہیں، زلفی بخاری، شہباز گل اور سنتھیا رچی اس کی روشن مثالیں اور یہ بھی سچ ہے گزشتہ چند سالوں سے ملک سے باہر جانے والوں کو تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ حاسدین کی نظر میں اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی ملک اب ہمیں ویزہ ہی نہیں دیتا۔ ہمارے ایک دوست ایک یورپی ملک کا ویزہ لینے گئے تو پوچھا گیا کہ وہاں جا کر کیا کرو گے تو کہنے لگے جو یہاں کرتے ہیں جواب ملا یعنی کچھ نہی؟ آپ سمجھ لیں کہ بس جواب ہی مل گیا

ویسے بھی عوام کے ایک چھوٹے سے حصے نے آر ٹی ایس، دھند اور دیگر عوامل کے ساتھ آپ کو وزیر اعظم کے عہدے تک تو پہنچا ہی دیا ہے، جس کا خاطر خواہ صلہ نہیں عثمان بزدار کی صورت میں مل چکا ہے۔ اب ان کا کیا مسئلہ ہے اور اب عوام کا کیا کرنا ہے؟ یوں بھی ان کو یہ بتانے کہ لئے کہ اگر ان کے گھر کا چولہا نہیں جل رہا تب بھی انھیں آپ کا شکریہ ادا کرنا ہے مزمل اسلم جیسے لوگ موجود ہیں، شکریہ عمران خان کہ آپ نے فیاض الحسن چوہان اور گل جیسے ترجمان رکھے ہوئے ہیں جن کی باتیں سن کر پتہ چلتا ہے کہ بھوک سے بلکتے لوگ جھوٹے ہیں فراڈ ہیں۔

عمران خان صاحب پوری قوم آپ کی شکر گزار ہے کہ آپ نے سب کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا نہیں کر دیا، کیونکہ آپ اگر ایسا کرتے تو گولیوں کا ٹیکس بھی مرنے والوں سے وصول کیا جاتا پھر آپ شکایت کرتے کرتے کہ اس ملک میں مرنے والے بھی ٹیکس نہیں دیتے۔ آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ غربت کو (غریب کو) آہستہ آہستہ ختم کر رہے ہیں ورنہ ایک ہی بار ایٹم بم مار کر بھی یہ کام کیا جاسکتا تھا۔ ویسے ایک ہمارے ایک ڈرائیور دوست نے روتے ہوئے یہ تجویز دی ہے کہ وہ اقلیت جس کے آپ وزیر اعظم ہیں اس کو چھوڑ کر باقی لوگوں ایک ہی بار پار کر دیں یقین کریں غریب آپ کو دعا ہی دیں گے کہ ایک ہی مرتبہ اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا دلا دیا

آپ کا بہت شکریہ عمران خان صاحب سی طرح حکمرانی کرتے رہیں تاکہ ایک دن ہماری سرحد بھی جرمنی سے جا ملے۔

Facebook Comments HS