شنگھائی تعاون تنظیم کا روشن مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رواں برس شنگھائی تعاون تنظیم اپنے قیام کی 20 ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ عالمی تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم اگرچہ نسبتاً ایک ”نئی“ تنظیم ہے مگر اس نے گزشتہ 20 سالوں میں موثر، نتیجہ خیز اور تعمیری انداز میں ممبر ممالک کے مابین اعتماد سازی کی مضبوطی کے عمل میں خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ اپنے قیام کے آغاز ہی سے شنگھائی تعاون تنظیم نے بین الاقوامی سلامتی کے تحفظ میں مشترکہ خطرات اور چیلنجوں سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لئے اپنے آپ کو ایک ”کلیدی کھلاڑی“ کی حیثیت سے منوایا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبران نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی ”تین بری قوتوں“ کے خلاف جنگ میں قابل ذکر پیشرفت دکھائی ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ رکن ممالک کے مابین معاشی اور تجارتی تعاون کے ساتھ ساتھ افرادی اور ثقافتی تبادلے بھی ہموار ترقی سے گزر رہے ہیں۔ اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کو دنیا میں آبادی اور وسعت کے اعتبار سے سب سے بڑی جامع علاقائی تنظیم کا درجہ حاصل ہے۔ تنظیم کے آٹھ رکن ممالک، چار مبصر ممالک اور چھ مذاکراتی شراکت دار ممالک ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم ہمیشہ سے اجتماعی مشاورت، کھلے پن پر عمل پیرا ہے اور یہ بات اچھی ہے کہ مشرق اور مغرب دونوں کے مابین تعاون کے لئے آمادہ ہے۔

ابھی حال ہی میں تنظیم کا 21 واں سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان نے اظہار خیال کرتے ہوئے ایس سی او کی اہمیت اور مستقبل کے لائحہ عمل کو اجاگر کیا۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اس پلیٹ فارم کو تجارت، سرمایہ کاری اور روابط کے فروغ کے لئے اہم ترین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے پیچیدہ عالمی ماحول اور جیو پولیٹیکل کشیدگی آنے والے وقتوں میں ہمارے عزم کا امتحان لے گی۔ ہمیں بلاک سیاست کے حوالے سے ہر قسم کے رجحان کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے اور اس بات پر زور دینا چاہیے کہ تصادم کے بجائے پرامن بقائے باہمی اور تعاون عالمی سیاست کا بنیادی محرک ہونا چاہیے۔

چین کے صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ سے ویڈیو لنک کے ذریعے سربراہی کونسل کے 21 ویں اجلاس سے اہم خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ گزشتہ 20 سالوں میں تنظیم نے بھرپور ترقی کی ہے اور رکن ممالک کے درمیان باہمی سود مند تعاون کیا گیا ہے۔ اس عرصے میں ایس سی او نے ”باہمی اعتماد، باہمی مفاد، برابری، مشاورت، متنوع تہذیبوں کا احترام، اور مشترکہ ترقی کی جستجو“ پر مبنی ”شنگھائی روح“ کی پیروی کرتے ہوئے باہمی سیاسی اعتماد، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے، عالمی امن اور ترقی نیز نئے بین الاقوامی تعلقات اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کے لیے اہم تصورات پیش کیے اور عملی تجربات حاصل ہوئے ہیں۔

چین کی جانب سے واضح کیا گیا کہ آج شنگھائی تعاون تنظیم ایک نئے تاریخی نقطہ آغاز پر کھڑی ہے جہاں عالمی تعلقات میں ترقی کی صحیح سمت کا انتخاب کرنا چاہیے۔ انسانیت کی مشترکہ ترقی کی بنیاد پر اپنی ترقی کو فروغ دینا چاہیے، اتحاد اور تعاون کے ذریعے چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنا چاہیے، مزید کھلے پن سے ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیے اور انصاف کی راہ پر گامزن رہنا چاہیے تاکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت ایک مزید قریبی ہم نصیب سماج کی تعمیر کی جا سکے اور دنیا کے پائیدار امن اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مزید خدمات سر انجام دی جا سکیں۔

بیرونی طاقتوں کو کسی بھی بہانے سے علاقائی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور اپنے ملک کے ترقیاتی مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے مضبوطی سے تھامنا چاہیے۔ شی جن پھنگ نے یہ عزم ظاہر کیا کہ چین آئندہ تین سالوں میں ایس سی او ممالک کو انسداد غربت میں نمایاں طور پر مدد فراہم کرے گا اور صحت، غربت کے خاتمے، ثقافت، تعلیم اور دیگر شعبوں کو ”سلک روڈ ون فیملی“ کے فریم ورک کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔

شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ عالمی مسائل کے حل کے لیے نام نہاد ”پاور پوزیشن“ کے تحت بالادستی، تسلط اور دھونس کے بجائے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں پر عمل کرنا چاہیے اور جامع مشاورت، تعمیری شراکت اور مشترکہ مفادات پر قائم رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حقیقی کثیر الجہتی پر عمل کرنا چاہیے اور بین الاقوامی نظام کو کمزور کرنے والی سرگرمیوں کی مخالفت کرنی چاہیے۔

اجلاس کے دوران جہاں انسداد وبا کے حوالے سے رکن ممالک کے درمیان تعاون پر زور دیا گیا وہاں اس اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا کہ رکن ممالک ہمسائیگی اور مشترکہ مفادات کی خصوصی برتری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کھلے پن اور باہمی تعاون کی بنیاد پر مشترکہ ترقی میں ایک دوسرے کے معاون بنیں۔ گزشتہ بیس برسوں میں ”شنگھائی اسپرٹ“ کی رہنمائی میں شنگھائی تعاون تنظیم نے ایک شاندار راستہ اختیار کیا ہے۔ اس دوران رکن ممالک نے نہ صرف موثر تعاون جاری رکھا بلکہ ایسے تمام چیلنجوں کا مناسب طور پر جواب دیا ہے جو رکن ممالک کے مفادات اور علاقائی سلامتی اور استحکام کے لئے خطرہ تھے۔

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو نے ایس سی او کے رکن ممالک کو ایک نیا موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے انفراسٹرکچر میں چین کے تعاون اور تجربے سے سیکھتے ہوئے بہتری لائیں، پاکستان میں سی پیک اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ چین کا اس حوالے سے نظریہ بڑا واضح ہے کہ کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کا دار و مدار اس کے پڑوسی ممالک کی کامیاب ترقی پر ہے۔ اگر آپ کا پڑوسی معاشی اعتبار سے کامیاب ہے تو آپ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہی دانشمندانہ پالیسی اگر دیگر دنیا بھی اپنا لے تو انسانیت کی مشرکہ ترقی محض ایک خواب نہ رہے بلکہ حقیقت کا روپ دھار لے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments