پیٹرزبرگ کے عظیم موسیقار میں تم سے وداع ہوتی ہوں ہاڑ کے مہینے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تو بس اب کوئی دم میں رخصت ہوا چاہتی ہوں۔ اس شہر سے کہ جہاں میرے قیام کا ایک ہفتہ یعنی آٹھ دن جو آٹھ لمحوں کی مانند دکھتے اور محسوس ہوتے ہیں۔

میں اس وقت واستانیئے یا پلوشد (Vosstaniya Ploshehad) (بغاوت کا چوک) ریلوے سٹیشن کی عمارت کی بیرونی سیڑھیوں کے ایک کونے میں بیٹھی اپنے سامنے بکھری رونقوں کو دیکھتے ہوئے خود سے کہتی ہوں۔

تو جانے سے قبل اس عظیم بوڑھے موسیقار کے ساتھ چند لمحے نہ گزار لوں جو اس وقت مجھے بے طرح یاد آیا ہے۔

موسم گرما رخصت ہو گیا تھا اور خزاں شہر پر بکھری ہوئی تھی جب وہ پھر پیٹروگراڈ میں داخل ہوا۔ (جنگ میں پیٹرز برگ کو پیٹر وگراڈ کا نام دیا گیا تھا) ۔ شہر جنگ کی تباہ کاریوں سے نڈھال اور انقلاب کی خوانخواریوں سے خستہ حال ضرور تھا پر اس کے چہرے پر بکھری ہوئی استقامت اور شان کا پر تو بھی اپنی جگہ قائم تھا۔

اور قدیم شہر کے گلی کوچوں میں اپنے اسی چھوٹے اور سادہ سے گھر میں جو تھیٹر کی عمارت کے ساتھ تھا۔ وہ داخل ہوا۔ اپنے سادہ سے کمرے جس میں اس کا شاندار بڑا سا پیانو، اس کی کرسی، اس کی ڈائری، قلم، پنسلیں سب ویسے ہی موجود تھیں جیسی وہ انہیں چھوڑ کر گیا تھا۔

اس نے کھڑکی کھولی۔ گھر کے سامنے درختوں کو دیکھا۔ گلی کے لیمپ پوسٹ دیکھے، سڑک اور دکانوں پر نظریں دوڑائیں اور اسے محسوس ہوا کہ جیسے فضا میں ایک گونج ہے۔ ایک پکار ہے۔ سوویت کی طرف سے لوگوں کے لئے ایک اعلان ہے۔ دفاع کا۔ حفاظت کا۔ مادر وطن پیٹرو گراڈ کا۔

وہ واپس پلٹا۔ کرسی پر بیٹھا۔ اس کے گہرے دوست ملک کے بہت بڑے شاعر مایاکوفسکی نے وطن کے لئے شعلہ فشاں شاعری کی تھی۔ اس نے پیانو پر انگلیاں رکھیں اور دل کو چیر دینے والی دھنیں فضا میں بکھیر دیں اور پیٹروگراڈ کی فضاؤں میں اس حیرت انگیز موسیقی نے گویا ملکی وقار اور شان کو نیا رنگ، نیا مفہوم اور نئی تازگی دی۔

جرمنی شکست کھا چکا تھا۔ روس کا انقلاب کامیابی سے ہم کنار ہو چکا تھا پر اتحادی فوجیں ہر ہر حربے سے اسے ناکام بنانے پر تلی ہوئی تھیں۔

سفید روسی فوجوں کے جرنیل یوڈنیچ کو برطانیہ، استھونیا اور فن لینڈ کی پشت پناہی حاصل تھی اور وہ پیٹروگراڈ کا محاصرہ کر چکا تھا۔

ایسے میں سرخ فوج کے سپاہیوں نے اسے کہا۔

”پروفیسر لینن کا حکم ہے کہ آپ کو کسی محفوظ جگہ پر منتقل کر دیا جائے۔ دشمن نے شہر کو گھیرے میں لے لیا ہے۔“

” سنو اگر میں چلا گیا تو شہر کی حفاظتی دیوار گر جائے گی۔“
وہ پیانو کے سامنے بیٹھا اور فضا میں انقلاب اکتوبر کا گیت پوری توانائیوں سے گونجا۔

”دیکھو۔ ان بھوکے ننگے چیتھڑے لٹکاتے جسموں والے لوگوں کو جن کے پاؤں میں پھٹے ہوئے جوتے ہیں۔ عورتوں کو دیکھو۔ ان کی آنکھوں میں چمکتی لو ہے۔ ان کے ہاتھوں میں بیلچے اور کدالیں ہیں۔ ان کے ہونٹوں پر ایک آواز ہے۔

ہم پیٹروگراڈ کا دفاع کریں گے اور لیون ٹراٹسکی کی قیادت میں اس کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے۔ ”
اور پیٹروگراڈ کی فضاؤں میں اکتوبر انقلاب کے گیت گونجے اور شہر استقامت سے کھڑا رہا۔ ڈٹا رہا۔

اور پھر بہت سارے سال گزر گئے۔ بہاریں بہت بار آئیں۔ درخت مسکرائے اور پھولوں نے قہقہے لگائے۔ بہت سی خزائیں گزریں۔ دھندوں نے راستے گہنائے اور مکانوں نے سفید کپڑے پہنے۔ اور وہ اپنے اس چھوٹے سے گھر میں اپنے پیانو سے کھیلتے ہوئے فضاؤں میں خوبصورت دھنیں بکھیرتا رہا۔

اور وقت گزرتا رہا۔

اور خزاں ایک بار پھر اس کے سامنے تھی اور یہ سال 1941 کا تھا۔ اس وقت جب پہلی بارش کی بوندوں نے ٹپ ٹپ گرتے ہوئے تھیٹر کی چھت کو ڈرم کی گت کی طرح بجایا اور جب پہلی دھند نے اس کے گھرکی کھڑکیوں کے چہرے دھندلائے۔ پیٹروگراڈ جواب لینن گراڈ تھا پر بموں کی بارش ہوئی۔

سرخ سپاہیوں نے اس کے پاس آ کر کہا۔
”پروفیسر۔ آپ کو ایک محفوظ جگہ پر چلے جانا چاہیے۔ دشمن نے ہمارے شہر کو گھیرے میں لے لیا ہے۔“
اور اس نے اپنا سفید بالوں والا سر اٹھایا اور کہا۔
”اگر میں چلا گیا تو شہر کی دیوار گر جائے گی۔“
وہ اپنے پیانو کے سامنے بیٹھا اور فضا میں مادر وطن کے دفاع میں گیت بکھر گئے۔ اور لینن گراڈ ہنسا۔

اور ایک دن جب وہ اپنے کمرے میں تھا۔ اپنے پیانو کے پاس۔ جب اچانک اس کے ہاتھ پیلی کی بورڈ سے پھسلے۔ ہولناک آوازوں اور دھماکہ خیز مواد نے ہر چیز کو تہہ و بالا کر دیا۔ تھیٹر کی آدھی عمارت زمین بوس ہو گئی تھی۔ اینٹ روڑوں کے ملبے پر خوبصورت فاختاہیں پڑی تھیں اور سارے میں گرد و غبار اور ٹوٹ پھوٹ کا طوفان تھا۔

سرخ سپاہی پھر اس کے سامنے تھے۔
”تمہیں لینن گراڈ چھوڑنا ہے۔“
”ہرگز نہیں۔“
اس کے جواب میں وہی پختگی تھی۔ وہی اصرار تھا۔ اس نے پھر کہا تھا۔
”میں اگر چلا گیا تو فصیل شہر گر جائے گی۔“

”ہم تمہیں یہاں نہیں چھوڑ سکتے ہیں تمہیں کسی دوسرے شہر کسی محفوظ جگہ جانا ہو گا۔ کیا تم نہیں دیکھتے؟ تمہارے چاروں طرف کتنی تباہی مچی ہے؟“

انہوں نے زبردستی کرتے ہوئے اس کا پیانو گاڑی میں رکھا۔ اور بوڑھا موسیقار برف پر دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اپنی بغلوں میں پرانی اور نئی دھنوں کا پلندا اٹھائے گاڑی میں بیٹھا۔ دفعتاً اس کی بوڑھی انگلیاں ٹوٹے ہوئے پیانو پر پڑیں اور جیسے طوفان آ گیا۔ فضا میں مادر وطن کے گیت تھے۔ انسانیت کی آزادی کی دھنیں تھیں۔ ایک کے بعد ایک موسیقار کے ہاتھوں سے موسیقی کے شاہکار بن کر فضا میں بکھر رہے تھے۔

میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ میری دھنیں میری فصیل شہر کو گرنے نہیں دیں گی۔ لینن گراڈ کو سر بلند رکھیں گی۔

لینن گراڈ کھلکھلا کر ہنس پڑا تھا۔ اس نے کہا تھا۔
”جس شہر کے ایسے جیالے ہوں۔ اسے نو سو دن کیا نو ہزار دنوں میں بھی کوئی شکست نہیں دے سکتا۔“
میں تم سے وداع ہوتی ہوں اساڑھ کے مہینے میں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments