ماہواری میں خیال
ماہ واری (menstruation) ایک قدرتی حیاتیاتی عمل ہے اور حیات کی امید ہے۔ عورت کے خوبصورت وجود سے ہی زندگی ہے۔
حیض کے خاص دنوں میں عورت کو شدید جذباتی اور جسمانی تبدیلیوں سے گزرنا ہوتا ہے، تکلیف اور درد برداشت کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں عورت کو ہمدردانہ رویہ کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ مرد کا منافقانہ رویہ اس کے لئے مزید تکلیف کا باعث بنے۔ شوہر کو چاہیے بیوی کا احساس کرے۔ اسے روزمرہ کے کام کاج میں آسانی دے اس کی مدد کرے نہ کہ حکم پر حکم چلائے۔ اور اگر شوہر انتہائی ڈھیٹ ہے اور مردانہ بالا دستی کے خمار میں مبتلا ہے تو صرف خاموشی اختیار کرے اور زوجہ کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے جو کہ اس کی تھوڑی سی ہمدردی کا آخری درجہ ہو گا۔
اگر کچھ دن اسے مرضی کے مطابق گول روٹی نہیں ملتی، گرم چائے نہیں ملتی۔ مایا لگی قمیض شلوار نہیں ملتی اس کے جوتے روزانہ پالش کرنے، اتارنے چڑھانے اور پانی پلانے میں تھوڑی تاخیر ہو جائے تو بھڑکنے کی بجائے بس تھوڑا سا حوصلہ کرے اور پیار سے بات کرے، کیا مرد اتنا بھی نہیں کر سکتا؟ اور کوشش کرے کچھ گھڑیوں کے لئے اپنے بچوں کا بھی تھوڑا خیال رکھے تاکہ کچھ لمحوں کے لئے ہی سہی خاتون خانہ آرام ہی کر لے۔ دوا نہیں کر سکتے کم از کم حال ہی پوچھ لیا۔
میں آج دن تک اس منافقانہ رویے کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ماہواری کے دنوں میں استعمال ہونے والے پیڈز کیوں چھپا کر فروخت کیے جاتے ہیں؟ اسٹور والے کیوں اسے چھپا کر فروخت کرتے ہیں؟ یہاں خواتین کو بھی چاہیے وہ بلا جھجھک اپنا مطلوبہ سامان خریدیں اور چھپا کر نہ لائیں یہ کوئی غیر قانونی شہ تو ہے نہیں۔
مرد کیوں نہیں عورت کے لئے سینیٹری پیڈز خریدتا؟
کیوں حیض کو ایک چھوت اور اچھوت کی طرح لیا جاتا ہے؟
معاشرتی رویوں نے کیوں عورت کو اس قدرتی عمل کو چھپانے پر مجبور کیا ہے؟
کیوں اسکول، کالج، یونیورسٹی اور دفاتر میں ماہ واری کے دنوں میں عورت کو مرد کی طرف سے طنز اور مذاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
کیوں عورت کو ان دنوں میں دھتکارے اور ہارے ہوئے رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
کیوں مشرقی عورت اس عمل کو اس قدر چھپاتی ہے؟
جو خواتین نوکری کرتی ہیں ان کے لئے کام کرنے کی جگہ پر سینیٹری پیڈز کی تبدیلی کے لئے علیحدہ جگہ کیوں نہیں ہوتی؟
ماہواری سے جڑے غلط تصورات اور بے تکی پدر شاہی تشریحات نے اسے مشرقی معاشرے میں ایک عجیب و غریب شرم و حیاء کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ بجائے اس کے کہ اس پر رائے عامہ ہموار کی جائے اسے چھپایا جاتا ہے۔ اس معاملہ پر نصاب میں بات ہونی چاہیے گھر پر آگاہی ملنا چاہیے۔ شرم اور ناپاکی سے آگے سوچنا ہو گا۔ اپنی غلطی کو ماننا ہو گا اور سچائی کو اپنانا ہو گا۔
یہاں سرکار کو بھی چاہیے کہ ماہ واری میں استعمال ہونے والے پیڈز سستے دام میں ہر خاتون کے لئے دستیابی کا سبب کرے۔ بلکہ فیملی پلاننگ کی طرح ایک سرکاری اسٹور ہر سرکاری ہسپتال میں ہو جہاں سے غریب کو یہ پیڈز مفت میسر ہونے چائیں۔ اور سرکار کو چاہیے کہ وہ مہنگی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو مہنگے برینڈز کے پیڈز کی قیمت پر کڑی نگرانی رکھے اور کاروباری مناپلی نہ ہونے دے بلکہ اسے کاٹیج انڈسٹری کا درجہ دے تاکہ معیاری اور کم قیمت پیڈز بازار میں با آسانی دستیاب ہوں۔
ان پیڈز کی تیاری میں پلاسٹک کا استعمال ترک ہونا چاہیے۔ پلاسٹک ماحول اور جسمانی صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔ اس کے بنانے میں قدرتی ماحول دوست دوبارہ استعمال ہونے والا کاٹن اور کپڑے کا پیڈ نہ صرف جسم بلکہ ماحول دوست بھی ہو گا اور ساتھ ساتھ دوبارہ استعمال کے قابل بھی کم از کم پانچ مرتبہ دوبارہ استعمال کے قابل اور یو ٹیوب پر اسے آسانی سے بنانے کے بہت آسان طریقے دستیاب ہیں۔ ویسے بھی ہمیشہ جیسے ملٹی نیشنل برانڈز جن کے مشہور پیڈز کی تیاری میں پلاسٹک استعمال ہوتا ہے اور ایک بار ہی قابل استعمال ہو سکتا ہے یہ زمین پر ڈی کمپوز ہونے کے لئے پانچ سو سال کا عرصہ لیتا ہے۔ تو اس سے کہیں سستا اور بہتر کاٹن اور کپڑے کا بنا سینیٹری پیڈ ہے۔ ویسے بھی کمپنی کی پلاسٹک پراڈکٹ سے پہلے نسلوں سے کپڑا ہی استعمال ہوتا آ رہا تھا اور اماں سے بیٹی تک یہی روایت چلتی رہی پر کمپنی کی آمد روایت نگل گئی اور اس میں بے تکی میڈیا مارکیٹنگ نے بہت بڑا کردار ادا کیا۔
اور آخر میں جو معاشرہ عورت کی عزت نہیں کرتا وہ انسانوں کا معاشرہ نہیں ہو سکتا۔ عورت کو عزت دو اور مرد نہیں انسان بنو۔


