عمران خان بتائیں اب کیسے پار اترنا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھوڑا عرصہ پہلے کی ریل گاڑی کے سفر کا منظر ذہن میں لاتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ریل کسی چھوٹے قصبے کے سٹیشن پر رک جاتی۔ کچھ مسافر ریل گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر چہل قدمی شروع کر دیتے۔ اکا دکا خوانچے والے آوازیں لگا کر اپنی چیزیں فروخت کرنے کی کوشش کرتے۔ پکوڑے والے کے مٹی کے تیل کے چولہے کا دھواں پکوڑوں کی خوشبو سے زیادہ پھیل جاتا۔ ریل کے سٹارٹ انجن کا شور مسلسل جاری رہتا۔ ریل کے ڈبوں کے اندر بچوں کی دھماچوکڑی کچھ کے لیے رونق اور کچھ کے لیے زحمت کا باعث ہوتی۔

خواتین قریب بیٹھی خواتین سے راہ و رسم بڑھانے لگتیں۔ گرمیوں کا موسم ہوتا تو کچھ لوگ اخبار یا ہاتھ کے پنکھوں سے اپنے منہ پر ہوا مارنے لگتے۔ یہ ماحول کچھ دیر برقرار رہتا پھر اس میں اس طرح تبدیلی آتی کہ پلیٹ فارم پر ٹہلتے مسافر واپس ریل گاڑی کے اندر آنے لگتے۔ کچھ شرارتی بچے دروازوں سے پلیٹ فارم پر اتر جاتے اور کھڑکی کے ساتھ بیٹھی اپنی ماؤں بہنوں کو آوازیں دیتے اور ان سے ڈانٹ پڑنے پر دوبارہ ریل گاڑی کے اندر آ جاتے۔

مسلسل آنے والی خوانچہ فروشوں کی آوازیں اب وقفے وقفے سے آنے لگتیں۔ پکوڑے والے کے چولہے کے تیل کا دھواں ٹھنڈا ہو کر اپنی بو کھو دیتا۔ اس سب کے بعد بھی ریل وہیں کھڑی رہتی اور سٹارٹ انجن کا شور مسلسل آتا رہتا۔ پھر مسافروں میں گاڑی کے رکے رہنے کی وجوہات پر گفتگو شروع ہو جاتی۔ کوئی کہتا دوسری گاڑی کا کراس ہے، کوئی بولتا گاڑی کا انجن تبدیل ہو گا، بعض کے خیال میں گاڑی کے نہ چلنے کی وجہ کسی وی آئی پی مسافر کا انتظار ہوتا۔

غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ ریل گاڑی کے رکے رہنے اور اس کے نہ چلنے کی وجوہات کا معلوم نہ ہونا مسافروں میں اضطرابی کیفیت پیدا کرنا شروع کر دیتا لیکن ابھی مسافروں کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہوا ہوتا۔ اسی لیے کچھ سنجیدہ مسافر دوبارہ پلیٹ فارم پر نکل آتے اور ٹی سٹال یا بک سٹال کی طرف چلے جاتے۔ کچھ بزرگ سٹیشن کے نل سے وضو کرنے لگتے۔ بھاگتے دوڑتے بچے ایک جگہ کھڑے ہو جاتے اور ادھر ادھر دیکھنے لگتے۔ خواتین کی آوازوں میں بھی بیزاری سی محسوس ہونے لگتی۔

یعنی ان مسافروں کا جوش و خروش بوریت میں تبدیل ہونے لگتا اور اس سٹیشن پر ریل کے رکنے کے بعد مسافروں نے جو دیہاتی سٹیشن سے لطف اندوز ہونا شروع کیا تھا وہ آہستہ آہستہ اکتاہٹ میں بدلنے لگتا۔ گویا ریل کا انجن سٹارٹ ہو، عملہ موجود ہو، مسافر بیٹھے ہوں اور ریل ایک ہی جگہ پر دیر تک رکی رہے تو لوگوں میں بے چینی پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے کیونکہ آگے بڑھنے کا عمل رکا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو آئے تین سال ہو گئے۔

ان کے سفر کے آغاز کے موقع پر انہی کے ووٹروں میں جو جوش و خروش تھا وہ اب کسی دیہاتی سٹیشن پر دیر تک رکی رہنے والی ریل کی طرح کم ہو چکا ہے۔ وہ ووٹر جو پی ٹی آئی کے لیے چیخ چیخ کر بولتے تھے اب دھیمی آواز میں کہتے ہیں کہ تبدیلی میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ ان کا اونچی آواز سے کم آواز کی طرف آجانا پی ٹی آئی سے کچھ قدم دور ہو جانا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے حکومتی سفر کا آغاز جن نعروں سے کیا تھا وہ نعرے دیہاتی سٹیشن پر رکی ریل کے سٹارٹ انجن کی طرح شور تو کر رہے ہیں لیکن انجن ریل کو لے کر آگے نہیں بڑھ رہا۔

انتخابات سے پہلے کی وہ پی ٹی آئی جو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے پر خودکشی کو ترجیح دیتی تھی، پھر وہ وقت بھی آیا کہ اسی پارٹی کے سربراہ عمران خان وزیراعظم بننے کے بعد آئی ایم ایف کے سربراہ سے مل کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے۔ پرانے پاکستانی جو امریکہ اور دوسرے ممالک کی پالیسیوں کی فرمانبرداری سے بیزار تھے، وہ تحریک انصاف کے ہاتھوں انہی ممالک کی خوشامد دیکھ کر سناٹے میں چلے گئے۔ وہ تحریک انصاف جو انتخابی مہم میں حکومت میں آنے کے بعد چند دنوں کے اندر لوٹی ہوئی کھربوں ڈالر کی رقم واپس لانے کا دعویٰ کر رہی تھی، تین سال میں ایک روپیہ بھی واپس نہیں لاسکی۔

وہ تحریک انصاف جو ملک کو شیشے کا محل بنانے کا دعویٰ کر رہی تھی، ٹوٹ جانے والی سڑکوں کی مرمت کے لیے چند ہزار روپے بھی نہیں نکال سکی۔ وہ پارٹی جو حکومت میں آنے کے بعد کرپشن کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی قسم کھاتی تھی، کرپشن کے خلاف اب تک کوئی موثر قانون سازی بھی نہ کر سکی۔ ان حقائق کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا تحریک انصاف کو صرف مہمان خصوصی کی کرسی پر ہی بیٹھنا تھا؟ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایک ہی جگہ رکی ہوئی ریل کے مسافر آہستہ آہستہ بیزار ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر فساد کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سٹارٹ انجن کا شور مسافروں کو مطمئن نہیں کر سکتا جب تک ریل آگے نہ بڑھے۔ اس کا تازہ ترین ثبوت کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کے دوران پنجاب میں پی ٹی آئی کی بدترین شکست ہے۔ بیشک کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کے اجتماعی ملکی نتائج میں پی ٹی آئی عددی اعتبار سے چند زیادہ سیٹیں لے کر پہلے نمبر پر آئی ہے لیکن صرف چار نشستیں پیچھے رہنے والی نون لیگ ووٹروں کی رائے کے اعتبار سے بہت بہتر رہی ہے۔ اس لیے کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کے بارے میں پی ٹی آئی کی عددی جیت کے باوجود یہ تجزیہ درست ہو گا کہ ان انتخابات میں پی ٹی آئی کو شکست ہوئی ہے اور نون لیگ جیت گئی ہے۔ فیض احمد فیض نے لکھا تھا :

جب دکھ کی ندیا میں ہم نے، جیون کی ناؤ ڈالی تھی
تھا کتنا کس بل بانہوں میں، لوہو میں کتنی لالی تھی
یوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے، اور ناؤ پورم پار لگی
ایسا نہ ہوا، ہر دھارے میں کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں
کچھ مانجھی تھے انجان بہت، کچھ بے پرکھی پتواریں تھیں
اب جو بھی چاہو چھان کرو، اب جتنے چاہو دوش دھرو
ندیا تو وہی ہے ناؤ وہی، اب تم ہی کہو کیا کرنا ہے
اب کیسے پار اترنا ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments