شیخ نصیر احمد مرحوم!
کارکن کسی بھی پارٹی کا قیمتی اثاثہ ہوتے تھے کارکن پارٹی سے دیرینہ وابستگی، اپنی قربانیوں اور نظریاتی جڑت پر بڑا فخر کرتے تھے، پارٹی قیادت اپنے کارکنوں کی قربانیوں کو برملا اپنی تقریروں اور خاص مواقع پر یاد رکھتی تھی، انہیں عزت بھی دیتی تھی، پارٹی اپنے مخلص کارکنوں کو بڑے بڑے عہدے، اسمبلی میں نمائندگی اور وزارتوں تک میں حصہ بھی دیتی تھی لیکن یہ اس دور کی بات ہے جب اقتدار نظریاتی سیاست اور عملی جدوجہد کے بل پر حاصل کیا جاتا تھا اور الیکشن پارٹی منشور پر لڑا جاتا تھا پھر نظریاتی سیاست نے انتخابی سیاست کی جگہ لے لی اور انتخابی سیاست ان ہاتھوں کے گرد گھومنے لگی جو انتخابات سے پہلے ہی سیاسی مہروں کی بساط اپنی ضرورت اور مقاصد کے تحت پہلے سے ہی فکس کر دیتے ہیں اور ضرورت کے تحت انہیں پارٹیوں میں شمولیت کروا دیتے ہیں انتخاب جیتنے والے مہرے ”الیکٹیبلز“ کیا جانیں پارٹی منشور کیا ہوتا ہے کارکن کس مرض کی دوا ہوتے ہیں ان کا مطمح نظر صرف وہ طاقتیں رہ جاتی ہیں جو انہیں غلام گردشوں سے نکال کر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان کراتی ہیں بقول شیخ نصیر مرحوم کے ”کارکن پارٹی کا بالن ہوتے ہیں“ اب وہ بھی نہیں رہے اب سیاست کالے دھن کا بہترین عکس ہے جہاں نظریات صرف عملیت پسندی کا شکار ہو کر صرف شو کیس کی زینت ہیں بنیادی نعرے اب صرف فیشن اور روایت کے لئے لگوائے جاتے ہیں ہمیں موجودہ سیاسی حالات کا ماتم کیا کرنا لیکن ان پارٹی کارکنوں کی مخلص پن، دیرینہ وابستگی اور قربانیوں پر ترس آتا ہے جن پر ڈرون حملے کی طرح دوسری پارٹیوں اور دولت کے بل بوتے پر ہر دفعہ نئی قیادت مسلط کر دی جاتی ہے جب تک پارٹی کارکن ان سے شناسائی اختیار کرتے ہیں وہ اگلے اقتدار کی گاڑی میں جوت دی جاتی ہے لہذا اب کارکنوں کے رونے دھونے اور احتجاج کرنے کا وقت بھی گیا پھر بھی ہم شیخ نصیر احمد مرحوم کی پارٹی وابستگی، جڑت اور قربانیوں کو یاد رکھیں گے ہم ان کے دبنگ، بیباک اور جراتمندانہ طرز سیاست کو اپنائیں گے کہ کارکن کسی سرمایہ دار، جاگیردار اور کسی مفاد پرست کا آلہ کار نہیں بلکہ اپنے ضمیر کا قیدی اور اپنے طبقے کا بہترین نمائندہ ہوتا ہے۔ ہم شیخ نصیر احمد مرحوم جیسے کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جو نظریات کے ساتھ جڑے رہتے ہیں عہدے ختم ہونے کے باوجود بھی اپنی پارٹی تبدیل نہیں کرتے بلکہ پارٹی میں نئے آنے والے نامانوس چہروں کا بوجھ بھی برداشت کر جاتے ہیں۔


