کامیابی کے لئے اچھے نمبر نہیں چاہییں!
یہ قطعاً ضروری نہیں کہ کامیابی کے لئے آپ کو اچھے نمبروں سے پاس ہونا چاہیے ، یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ کو اچھے نمبر لینے کے لئے فرنٹ بنچ پر بیٹھنا ہو گا، اچھے نمبر لینا اتنا ضروری نہیں جتنا اس کامیابی کو برقرار رکھنا ہے، اچھے نمبر تو ہر کوئی لے سکتا ہے۔ یا کامیاب ہونے کے لئے ڈگری ہی کافی نہیں ہے، ہم کامیابی کے لئے صرف اچھے نمبروں کو ترجیح دیتے ہیں، ہم تعلیم بھی صرف روز معاش کے لئے حاصل کرتے ہیں، کامیابی کے لئے اچھے نمبر یا تعلیم ہی حاصل کر نا ضروری نہیں بلکہ زندگی میں اچھے معیار پروفیشنل، ٹیکنیکل ہونا چاہیے، اور زندگی کے ان فن کو سیکھنا ہو گا، جو موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاکہ ہم موجودہ وقت کے ساتھ چل سکیں۔
کامیابی کے لیے خاموشی سے آگے بڑھنا ہو گا، تسلسل کے ساتھ محنت کرنا ہوگی، کامیابی کے لئے کامیاب سوچ کی ضرورت ہوگی، دنیا کی ہر چیز اپنے وقت پر ہوتا ہے۔ دنیا کی کامیاب ترین افراد کی زندگی پر نظر ڈالی جائے، وہ اپنے زندگی کے ابتدائی دور میں ناکام رہے ہیں، ان کی یہ ناکامی ان کی شاندار کامیابی کی پہلی سیڑھی ثابت ہوئی، اس ناکامی کو سامنے رکھ کر ان لوگوں نے منصوبہ بندی کی اور شاندار تاریخ رقم کی۔ وہ اچھے نمبر تو نہیں لے سکے لیکن دنیا کی اچھے نمبر لینے والے ان کی زیر نگرانی روز معاش کما رہے ہیں۔
ایک طوطے کی مانند زندگی مت جیؤ، لوگوں کو خوش رکھنے کے لئے بولتا رہتا ہے اور اس میں خوش ہے، اگر کامیاب بننا چاہتے ہیں تو شاہین کی زندگی جیؤ، شاہین کو دیکھنے کے لئے آپ کو سر اٹھانا ہو گا، آسمان کی طرف دیکھنا ہو گا۔ ایک شاہین آسمان کا سینہ چھیڑ کر بلند فضاؤں میں پرواز کرتا ہے، شاہین اتنی بلندی میں جا کر بھی شور نہیں مچاتا، اس میں اتنی ہمت اور حوصلہ ہوتی ہے، وہ طوفانوں سے نہیں ڈرتا، جب ہوائیں تیز اور طوفانی بارش ہوتی ہے۔
سب پرندے چھپ جاتے ہیں، ایک شاہین ہی تو ہے وہ ان تیز ہواؤں اور طوفان کا مقابلہ کرتی ہے۔ ان تیز ہواؤں اور طوفانی موسم میں شاہین جذباتی ہوتا ہے اور طوفان کی سمت اڑان بھرتی ہے کیونکہ وہ شاہین ہے اسے مشکل وقت کا مقابلہ کر نا آتا ہے، وہ اکیلے ہی اڑان بھرتا ہے، اسے کسی دوسرے کی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آخر شاہین میں اتنی ہمت اور حوصلہ کہاں سے آتا ہے کہ وہ پرندوں کی دنیا کا راجہ کہلاتا ہے۔
وہ بلندی پر اکیلے ہی اڑتا ہے، اس کی سوچ اس کی پرواز کی مانند اونچا ہے وہ ناکامی سے نہیں ڈرتا، وہ ایک وقت میں ایک ہی چیز پر دھیاں دیتا ہے ایک ٹارگیٹ کو فوکس کرتا ہے جب تک وہ اس ٹارگیٹ کو حاصل نہ کرے سکوں نہیں پاتا، وہ بلند فضاؤں میں رہ کر خاموشی سے دیکھتا ہے، یہ فضاؤں میں اڑان، طوفانوں کا مقابلہ تیز بارش میں یخ ہواؤں کا مقابلہ یہ سب اس کی محنت کا نتیجہ ہے، تب جا کے وہ پرندوں کا راجہ کہلاتا ہے۔ کیونکہ زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے، جب اس دنیا میں ہیں آپ کو جینا ہو گا آپ کو مقابلہ کرنا ہو گا، آپ کو شاہین بننا ہو گا۔
حوصلہ افزائی کرنے والے بن جاؤ اس معاشرے میں پہلے ہی دل شکنی کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں، عظیم ہیں وہ لوگ جو کامیابی اور ناکامی کو برداشت کرتے ہیں، اور اپنے معاشرے میں اپنے محلے میں اپنوں کا خیال رکھتے ہیں۔ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔


