کنگ خان کی منطق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


منطق ایک قدیم سائنسی علم ہے جس میں کسی بھی لفظ کی تعریف اور استدلال کے طریقہ کار اور اصولوں پر بحث کی جاتی ہے۔ اس کا بانی ارسطو کو قرار دیا جاتا ہے۔ منطق لفظ نطق کا مصدر میمی ہے جس کے معنی ہے گفتگو کرنا۔ کیونکہ یہ علم، ظاہری اور باطنی نطق میں نکھار پیدا کرتا ہے اس لیے اسے منطق کہتے ہیں۔ نطق ظاہری (تکلم) میں نکھار سے مراد یہ ہے کہ اس علم کا جاننے والا دوسروں کے مقابلے میں اچھے انداز سے گفتگو کر سکتا ہے۔

اور نطق باطنی (ادراک) میں نکھار سے مراد یہ ہے کہ اس علم کا جاننے والا اشیاء کے حقائق یعنی ان کی اجناس اور فصول وغیرہ سے واقف ہو جاتا ہے منطق کا استعمال ارسطو کے بعد پاکستان میں جتنا عمران خان یا اس کے فالورز نے کیا ہے شاید ہی انسانی تاریخ میں کسی نے منطق کا استعمال کیا ہو۔ جب پٹرول میاں محمد نواز شریف کے دور میں 64 روپے لیٹر تھا تو اس وقت عمران خان اور ان کے سب سے ہونہار اور پی ٹی آئی کا دماغ سمجھنے والے اسد عمر منطق پیش کرتے تھے کہ حکومت کو یہ 45 روپے میں ملتا ہے اور یہ عوام کو 64 روپے دے کر بیس روپے جیب میں ڈالتے ہیں۔

بجلی جب عوام 8 روپے یونٹ ملتی تھی تو عمران خان منطق پیش کرتے تھے یہ حکمران چور ہیں ان کی چوری کی قیمت میں کیوں ادا کروں اس لیے میں اپنا بل جلانے لگا ہوں۔ ڈالر کی منطق پیش کرتے ہوئے عمران خان کہتے تھے کہ جب روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں ایک روپے گرتی ہے تو پاکستانیوں پر سات سو ارب روپے قرضے میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ آج پٹرول عمران خان کی حکومت میں 126 روپے لیٹر ہے تو پھر منطق پیش کی جاتی ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت زیادہ ہے۔

2020 پیٹرول بحران کے دوران جب دنیا میں پٹرول کی قیمت بالکل گر گئی تھی پاکستانی عوام نے اس وقت بھی ایک سو ساٹھ روپے لیٹر پیٹرول عمران خان کی حکومت کے دوران خریدا اور سارا پیسہ عمران خان اور ان کے وزیروں مشیروں کی جیب میں گیا۔ آج بجلی اور گیس بہت زیادہ مہنگی ہو چکی ہے عمران خان کے وزیر اور مشیر الگ منطق پیش کرتے ہیں۔ آٹا چینی ادویات عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں لیکن اس کی منطق ان کے پاس کوئی نہ کوئی ہوتی ہے جو عمران خان ایک روپیہ ڈالر کے مقابلے میں کم ہونے پر سات سو ارب روپے کے قرضوں کی پیشین گوئی کرتا تھا آج ڈالر جب تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے روپے کی ویلیو بالکل گر گئی ہے تو عمران خان ایک الگ منطق پیش کرتا ہے اور کہتا ہے روپیہ صرف 30 فیصد گرا ہے اور ڈالر کی قیمت صرف 170 روپے ہے یہ دو سو پچاس یا تین سو روپے بھی ہو سکتی تھی اس لئے آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ارسطو منطق کا فارمولہ بنا کر چھوڑ تو گیا لیکن آج پاکستان میں عمران خان۔ اسد عمر، علی زیدی عمران اسماعیل، خٹک، مراد سعید، زرتاج گل جیسے چھوٹے چھوٹے ارسطو چھوڑ گیا جو ہمیں ہر وقت وقت منطق پیش کر کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اور عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ ارسطو کو کیا پتا تھا کہ اس کی منطق عمران خان اور اس کے وزیروں مشیروں کو کھرب پتی بنا دے گی۔ عمران خان اور ان کے وزیروں مشیروں کی منطق میں بھی ایک اور منطق ہوتی ہے جو حقیقت میں عوام کو لوٹنا ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments