کیا فتنہ ایک بار پھر سر اٹھانے کو ہے؟
نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اچانک اپنا دورہ منسوخ کر کے واپس وطن روانگی کا ٹکٹ کٹوا دیا، جواز یہ بنایا کہ انہیں سکیورٹی تھریٹ ملا ہے لیکن کس نے اور کہاں سے دیا یہ نہیں بتایا، کپتان نے سبز پاسپورٹ کی عزت تکریم کی خاطر اپنی نیوزی لینڈ کی ہم منصب کو فون کر کے قائل کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بھی یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ میچز سے زیادہ اہم ان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کی جان کا تحفظ ہے اور یوں دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی تمام ہوا۔
شنید ہے کہ یہ دورہ فرار کروائے گئے طالبان دہشتگرد احسان اللہ احسان کے ایک ٹویٹ کا نتیجہ ہے جس کو ہندستان نے نیوزی لینڈ کا دورہ منسوخ کروانے کے لیے استعمال کیا اور وہ اس میں کامیاب ہوا جب کہ پاکستان کے پڑھے لکھے ہینڈسم وزیراعظم اور اور وزیر خارجہ کی خارجہ پالیسی کی شاندار کارکردگی کا مظہر ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کو پاکستان پہنچا کر بھی واپسی سے نہیں روک سکے۔
اب آ جاتے ہیں ایسے ہی سکیورٹی تھریٹس کی جانب کہ جن کی وجہ سے یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ کیا طالبانی فتنہ کہیں پھر سے تو سر نہیں اٹھا رہا۔ جس دن افغانستان میں طالبان نے اقتدار پہ قبضہ کیا پاکستان میں ان کے حامیوں نے جشن منایا اور بھنگڑے ڈالے، شہر اقتدار میں ملکی سلامتی کے اداروں کی ناک کے نیچے سابقہ لال اور اب سفید مسجد کے روح رواں مولوی عبد العزیز نے، ان کے زیر تسلط جامعہ حفصہ کی چھتوں پہ افغانستان کے جھنڈے لہرا دیے، اس کا مطلب ہے کہ جو پاکستانی طالبان کے ہمدرد افغانستان کے طالبان کو اپنا رہبر و رہنما مانتے ہیں ان کو نہ صرف تقویت ملی بلکہ مستقبل قریب میں وہ قوتیں ایک بار پھر پاکستانی عوام پہ قہر بن کر ٹوٹنے کی کسی بھی وقت جسارت کر سکتی ہیں، یہی دہشتگرد قوتیں پاکستان میں ستر ہزار سے زائد بے گناہ شہریوں، معصوم بچوں، سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں و افسران کے قتال میں پہلے بھی شریک رہی ہیں اور اب پھر اسی کام کے لیے پر تولنے لگی ہیں۔
کچھ روز قبل میڈیا پہ دیکھا کہ اسلام آباد پولیس جامعہ حفصہ پہ لگے افغانستان کے جھنڈے اتارنے گئی تو مولانا عبد العزیز ماضی کی طرح جامعہ حفصہ کی طالبات کے ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑائے اور خود آٹومیٹک آتشیں اسلحہ پکڑے دارالحکومت میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے اور پولیس والوں کو مغلظات بکتے نظر آئے، مولانا عبد العزیز سیکورٹی اہلکاروں کو مسجد اور جامعہ حفصہ سے دور رہنے اور کسی بھی کارروائی کی صورت میں سنگین نتائج کی کھلے عام دھمکیاں دیتے نظر آئے۔
جبکہ ہمارے سکیورٹی ادارے نجانے کس مصلحت کے تحت ابھی تک خاموش تماشا دیکھنے میں مصروف ہیں۔ افغانستان میں جو کچھ ہوا اس کا اثر پاکستان پہ نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا، کیونکہ اکثر لوگ اور معاشرے ایک دوسرے کا اثر بہت جلد قبول کر لیتے ہیں اور پڑوسی ملکوں میں آنے والی تبدیلیوں، واقعات کا اثر دوسرے پڑوسیوں پہ پڑتا ہی ہے، اسی لیے ہی کچھ خدشات ایک بار پھر پاکستان میں بھی سر اٹھانے لگے ہیں کہ طالبانی فتنہ دوبارہ سر اٹھانے لگا ہے۔
پچھلے ہی دنوں وزیر خارجہ جو بڑے تواتر سے غیر ملکی دورے تو کرتے رہتے ہیں مگر خارجی محاذ پہ ان کی کارکردگی پچھلے تین سالوں میں قوم کے سامنے ہے کروڑوں روپے غیر ملکی دوروں پہ خرچ کرنے کے باوجود ان سے صرف لفاظی ہی کروائی جا سکتی ہے، بونگیاں ہی سنی جا سکتی ہیں، موصوف ستر ہزار معصوم و بے گناہ پاکستانیوں کے درندہ صفت قاتلوں کو معافی دینے پہ غور کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں، مگر ذرائع بتاتے ہیں کہ پاکستانی طالبان ان کی یہ پیش کش جوتے کی نوک پہ رکھ چکے ہیں۔
دوسری طرف ان کے باس یعنی کپتان دو شنبے میں روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بولے کہ پاک فوج کے بعض افسران نے طالبان کی تربیت کی۔
اب وہی طالبان افغانستان میں اقتدار اعلیٰ پہ قابض ہو چکے ہیں اور پاکستانی طالبان ان کے روحانی، نظریاتی پیروکار ہیں تبھی لال مسجد کے منتظم کو اتنی جرات ہوئی کہ اس نے افغانستان کا جھنڈا دارالحکومت کے ایک مدرسے پہ لگا کر پاکستانی فورسز کو چیلنج کر دیا ہے۔ لال مسجد کے خطیب سمیت کئی طالبان سوچ کے حامل پاکستانی سیاستدان و میڈیائی دانشور ان افغانی طالبان کی کامیابی پہ خاصے مسرور نظر آتے ہیں۔
ہمارے اکثر دانشور سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہونے سے پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، طالبان اقتدار قائم ہونے کی وجہ سے تو انڈیا افغانستان سے بھاگ گیا ہے، پھر پاکستان کی فوج ایک انتہائی مضبوط اور پروفیشنل فوج ہے، دوسرے ہم ایٹمی طاقت ہیں تیسرے اس وقت ملک پہ عمران خان حاکم ہیں جو ماضی میں طالبان کے خاصے حامی رہے یہاں تک کہ وہ طالبان کو دفاتر فراہم کرنے کے بھی بیانات دیتے رہے ہیں۔
آج اسی عمران خان کی حکومت کو طالبان کسی صورت کمزور نہیں کرنا چاہیں گے جو یہ بیانات بھی دے رہی ہے کہ وہ طالبان کو عام معافی دینے پہ بھی غور کر سکتی ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود پاکستان طالبان کی دہشتگردی کے خطرات سے بری طرح دوچار ہے، ابھی کچھ ہی روز پہلے خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے میں سات فوجی جوانوں کی شہادت کی خبریں ملیں، اس سے پہلے بلوچستان میں پاک فوج کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کی زمہ داری بھی طالبان ہی قبول کر چکے ہیں۔
پاکستان ہی وہ واحد افغانی پڑوسی ملک ہے جس کے ایک صوبے کا کلچر افغانستان کے کلچر جیسا ہے، جہاں افغان بہت بڑی تعداد میں بستے ہیں، جبکہ ملک کے طول و عرض میں لاکھوں افغانی باشندے رہتے اور بڑی بڑی جائیدادوں اور کاروبار کے مالک ہیں، جہاں طالبان کی حمایت بہت زیادہ ہے، ان تمام تر حالات و واقعات کے باوجود بھی اگر ہم افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے پہ شادیانے بجائیں اور بھنگڑے ڈالیں اور یہ سوچ کر خوش ہوتے رہیں کہ ہمارے اپنے لوگ، ہمارے ہم خیال افغانستان پہ برسر اقتدار آ گئے ہیں تو ہم خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔
مولانا فضل الرحمان بار بار طالبان کو بلا تاخیر قبول کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ایسے حالات میں لگتا تو ایسا ہے کہ شاید ہم ڈیڑھ دہائی پیچھے کے زمانے میں واپس آ گئے ہیں اور اب یہ ہم پر نربھر کرتا ہے کہ ہم افغانی طالبان کی کامیابی پہ شادیانے بجائیں، ادھم مچائیں، خوشی سے پھولے نہ سمائیں یا پھر ان ہی خونخوار بھیڑیوں سے ایک اور جنگ کی تیاری پکڑیں جو ڈیڑھ دہائی قبل ہمارے بچوں، بزرگوں، خواتین و نوجوانوں اور سکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے کیونکہ مجھے ایک اور فتنہ سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے۔


