ہمارا نصاب کیسا ہو، علامہ اقبال جیسا ہو (مکمل کالم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”غضب خدا کا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مملکت خدادا د پاکستان میں یہ دن بھی آئے گا۔ نہ جانے ہماری غیرت کو کیا ہو گیا ہے، ویسے تو ہم آئے دن ذرا ذرا سی باتوں پر ہنگامہ مچا دیتے ہیں مگر یہاں تو طوفان آ کر گزر بھی گیا اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ کہاں گئے وہ لکھاری اور دانشور جو حکومتی اہلکاروں کو معمولی لغزشوں پر آڑے ہاتھوں لیتے تھے مگر اب کسی کو یہ توفیق نہیں ہو رہی کہ اِس موضوع پر قلم اٹھائے، سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ خیر کوئی بات نہیں، میری غیرت ابھی زندہ ہے اور اپنے زور قلم پر بھروسہ ہے، میں اِس سازش کو بے نقاب کر کے چھوڑوں گا۔ اب ذرا دل تھام کر پڑھیے۔ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے اِس ملک کے طلبا کے لیے جو نصاب تیار کیا گیا ہے اُس کی نویں جماعت کی اسلامیات کی کتاب میرے سامنے ہے۔ یہ کتاب سرکار سے منظور شدہ ہے اور اِس کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھا ہے کہ یہ نئے قومی نصاب کے مطابق شائع کی گئی ہے۔ اِسلامیات کی اِس کتاب میں منٹو کا افسانہ ’صاحب کرامات‘، بیدی کا افسانہ ’ کوارنٹین‘ اور منشی پریم چند کا افسانہ ’کفن ‘شامل ہے۔ یہی نہیں بلکہ غالب، حسرت موہانی اور مومن کی عشقیہ غزلیں اور ابن انشا اور پطرس بخاری کے مزاحیہ مضامین بھی اسلامیات کی اِس کتاب میں شامل ہیں۔“

یہ تحریر جو آپ نے ابھی پڑھی ہے اسے میں نے واوین میں اِس لیے لکھا ہے کہ یہ جھوٹ ہے، ایسا کچھ نہیں ہوا، اسلامیات کی کوئی ایسی کتاب شائع نہیں ہوئی جس میں اردو ادب کی تحریریں یا شاعری ہو۔ یہ بات ناممکن ہے کہ ایسی کوئی کتاب شائع ہو جائے کیونکہ اسلامیات کی کتاب میں اردو ادب یا کسی بھی دوسرے مضمون کی تحریروں کی کوئی توجیہہ نہیں ہو سکتی۔ یہ ”جھوٹ“ لکھنے کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ اِس سوال کا جواب تلاش کیا جا سکے کہ کیا اردو اور انگریزی کی نصابی کتب میں مذہبی مواد شامل کیا جانا ضروری ہے؟ ہمارے دائیں بازو کے دانشوروں کا مقدمہ یہ ہے کہ قومی نصاب کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہیے، نصاب میں بچوں کو ایسی کتب پڑھانی چاہئیں جن سے اُن میں دین سے قربت پیدا ہو، وہ اچھے اور با اخلاق مسلمان بن سکیں، اُن کی کردار سازی ہو تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔ دوسری طرف لبرل خواتین و حضرات کو اِس بات پر اعتراض ہے کہ قران پاک کو ناظرہ (یا ترجمے کے ساتھ) پڑھانا لازمی کیوں قرار دیا جا رہا ہے، نصاب میں مذہبی مواد حد سے زیادہ ہے اور اِس میں اقلیتوں کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے اور یوں یہ نصاب انتہا پسندی کو فروغ دینے کا باعث بن رہا ہے۔

ہمارا قدامت پسند طبقہ نصاب کے بارے میں جو باتیں کر رہا ہے وہ عام آدمی کے لیے بہت کشش رکھتی ہیں، ہم 97 فیصد مسلمان اِس ملک میں رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اسلامی تعلیمات کے مطابق ہی تعلیم حاصل کریں۔ اُن کی یہ خواہش ناقابل فہم نہیں مگر کیا ِاِس کا یہ مطلب لیا جائے کہ اردو اور انگریزی کی کتب میں بھی اسلامیات ہی پڑھائی جائے؟ پاکستا ن کے اقلیتی اساتذہ کی تنظیم نے نئے قومی نصاب کے تحت شائع ہونے والی چند ’ماڈل‘ کتب کی پڑتال کی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ اردو انگریزی کی درسی کتب میں کتنا مذہبی مواد شامل ہے۔ مثلاً پانچویں جماعت کی انگریزی کتاب 21 فیصد اور چوتھی جماعت کی انگریزی کتاب 23 فیصد مذہبی مواد پر مشتمل ہے۔ یہی حال اردو اور معاشرتی علوم کا بھی ہے۔

عین ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ دلیل دے کہ اگر اردو کی کتاب میں حمد یا نعت شامل ہے یا بچوں کی کردار سازی کے لیے مذہبی تعلیمات کا حوالہ دیا گیا ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔ حرج اِس میں کوئی نہیں مگر ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر ہم مسلمان اِس ملک میں  97 فیصد ہیں تو باقی تین فیصد غیر مسلم بھی ہیں اور آئین کی شق 22 (1) کے تحت غیر مسلم طلبا کو اسلامی مواد پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اِس مسئلے کا حل محکمہ تعلیم نے یہ نکالا ہے کہ اِن کتب کے نیچے ایک جملہ لکھ دیا ہے کہ غیر مسلم طلبا کو یہ مواد پڑھنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا غیر مسلم طلبا اُس وقت کلاس سے باہر نکل جایا کریں جب مسلمان بچے اسلامی تعلیم حاصل کر رہے ہوں ؟ اور بالفرض محال اگر وہ باہر نکل بھی جائیں تو کیا اُن کے لیے کوئی علیحدہ امتحان لیا جائے گا ؟ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ نہ کوئی بچہ کلاس چھوڑ کر باہر جاتا ہے اور نہ اُن کے لیے علیحدہ امتحا ن کی کوئی ’سہولت‘ حاصل ہے۔

یاد رہے کہ معاشرتی علوم میں ہم اپنے بچوں کو دو قومی نظریہ پڑھاتے وقت بتاتے ہیں کہ کانگریسی وزارتوں کے دور میں مسلمان بچوں کو اسکول میں وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہماری درسی کتب میں مسیحیت، بدھ مت، یہودیت یا ہندو مذہب سے متعلق مضامین کیوں نہیں؟ کیا اِن مذاہب کے اربوں پیروکار دنیا میں نہیں بستے؟ بقول میر: کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے، حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا۔

مسلم اور غیر مسلم کی تفریق سے ہٹ کر ایک اور بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اردو اور انگریزی کے مضامین طلبا کو مذہبی تعلیم دینے کے لیے نہیں پڑھائے جاتے، اُس کے لیے اسلامیات کا لازمی مضمون علیحدہ سے ہے، اردو اور انگریزی کا نصاب ایسا ہونا چاہیے جسے پڑھ کر طلبا کو زبان سیکھنے میں مدد ملے اور انہیں ادب کی چاٹ لگے۔ جس طرح اسلامیات کے مضمون میں صرف اسلام اور قران پڑھایا جانا چاہیے اسی طرح اردو کے مضمون میں صرف زبان و ادب پڑھایا جانا چاہیے۔

 ہماری تاریخ میں ایک صاحب گزرے ہیں، نام تھا اُن کا محمد اقبال، ہم نے انہیں شاعر مشرق کا لقب دے رکھا ہے، علمی اور ادبی لحاظ سے اُن سے زیادہ دیو قامت شخصیت ہمارے پاس نہیں۔ کسی زمانے میں علامہ نے پانچویں سے آٹھویں تک کا اردو نصاب تیار کیا تھا۔ ذرا دیکھیے اِس نصاب میں کیا تھا۔ آٹھویں جماعت کی کتاب کے فہرست مضامین ملاحظہ کیجیے : معرفت الہی (نظم ) جوش ملیح آبادی، دنیا کی دلچسپیاں (نثر) شیخ سر عبد ل قادر، حب وطن (نظم) مولانا محمد حسین آزاد، قلعہ شاہ جہان (نثر) ڈاکٹر سر سید احمد خان مرحوم، رام چندر جی کا بن باس (نظم) پنڈت برج نرائن چکبست، مسٹر دادا بھائی نورو جی (نثر) پنڈت تلوکی ناتھ کول، جوگی (نظم)خوشی محمد ناظر، زبان کی تمیز اور اس کا فرق (نثر) سید احمد دہلوی، ریچھ کا بچہ (نظم) نظیر اکبر آبادی مرحوم، ستارہ (نظم) ڈاکٹر سر محمد اقبال، ایمان کا فیصلہ (نثر) منشی پریم چند۔ ۔ ۔ ۔ یہ فہرست آگے بھی ایسی ہی ’سیکولر‘ ہے۔ علامہ نے پانچویں، چھٹی اور ساتویں جماعت کے لیے بھی اسی قسم کی نصابی کتب تیار کیں۔

آج اگر محکمہ تعلیم اردو کی ایسی درسی کتاب شائع کرے جس میں نہ صرف رام چندر جی اور راجہ ہریش چندر سے متعلق مضامین ہوں بلکہ ’ید ہشٹر کا پہلا سبق بھی شامل ہو‘ جو اِن الفاظ سے شرو ع ہوتا ہوکہ ”جب کورو اور پانڈو پڑھنے کے قابل ہوئے تو راجہ دھرت راشٹر نے اُن کو مہاراج درد ناچاریہ کے سپرد کر دیا۔۔۔ “تو ایسی کتاب کے مولف کے لیے ہم کم از کم پھانسی کا مطالبہ کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ تمام مضامین علامہ اقبال نے اردو کی درسی کتب میں شامل کیے۔ وجہ یہ ہے کہ علامہ کو اچھی طرح علم تھا کہ بچوں میں ادب سے لگاؤ کیسے پیدا کرنا ہے، انہیں زبان کی باریکیاں کیسے سمجھانی ہیں۔ اسی لیے اِن کتب میں جہاں حمد بھی شامل کی گئی وہاں اُس کے آخر میں زباندانی کے سوالات پوچھے گئے نا کہ مذہبی۔ اب اگر کسی کو اقبال کی علمیت اور اسلام دوستی پر بھی شک ہے تو ایک فتویٰ اقبال کے خلاف بھی جاری کر دے !


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 239 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments