مرد کو جنت نہیں چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک کہانی بڑی پرانی ہے۔ لیکن آج بھی گردش کر رہی ہے اور حیرت ہے کہ لوگ آج بھی اسی جہالت کے ساتھ اسے پھیلاتے ہیں۔ اور اس پر من و عن یقین بھی کرتے ہیں۔ پہلے اس کہانی کو مختصر پیش کردوں پھر آگے چلتے ہیں۔ ایک مرد دھوم دھام سے شادی کرتا ہے۔ لیکن شادی کی پہلی ہی رات بھیگی بلی بن کر بیوی کے قدموں میں گر جاتا ہے۔ اب یہ مت سمجھ لیجیے گا کہ وہ بیوی کو دیکھتے ہی اس کا مرید ہو گیا تھا۔ اور کہنے لگا تھا کہ جو سرکار کا حکم ہو گا وہی چلے گا۔

جی نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ قدموں میں گر کر اس نے ایک راز بتایا تھا، اور اس نے درخواست کی کہ اس کمرے کے راز کو کمرے ہی میں دفن کردے۔ تاکہ کمرے سے باہر اس کی عزت بنی رہے، اور کوئی اس کی مردانگی کو چیلنج نہ کرے۔ بیوی ( شاید انتہا کی بیوقوف تھی، یا پھر مجبور ) شوہر سے وعدہ کر لیتی ہے، کہ وہ اس کا راز کسی کو نہیں بتائے گی۔ ان کے ہاں اولاد نہ ہو سکتی تھی سو نہ ہوئی۔ سالوں بیت جاتے ہیں، جوانی گزری، بڑھاپا آ گیا۔

اور پھر آخر کار فرشتہ اجل نے دستک دی، اور عورت اگلی منزل کو روانہ ہو گئی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ کہانی یہاں ختم ہوجاتی، لیکن یہاں سے کہانی کو ایک نیا موڑ ملتا ہے۔ اس سے اگلی صبح لوگوں کو قبرستان میں عجیب سی خوشبو آتی ہے۔ جس کے بارے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ یہ کسی نیک انسان کی قبر سے آ رہی ہے۔ گورکن بتاتا ہے کہ یہ خوشبو اس عورت کی قبر سے آ رہی ہے جسے کل دفنایا گیا ہے۔ اب لوگ پوچھتے پوچھتے اس عورت کے شوہر تک پہنچ گئے۔

اور عورت کے بارے دریافت کیا کہ یہ عورت ایسا کیا عمل کیا کرتی تھی جو اس کی قبر سے اتنی خوشبو آ رہی ہے۔ تب آدمی وہ حقیقت بتاتا ہے، جس کو اپنی بیوی کی زندگی میں لوگوں سے چھپاتا رہا۔ اس نے بتایا کہ وہ نامرد ہے، لیکن اس کے باوجود اس نے ( ایک عورت کی زندگی برباد کی ) شادی کی۔ اس کی بیوی کو بانجھ ہونے کے طعنے سننے کو ملے۔ لیکن وہ خاموش رہی، اپنے خاوند کا عیب چھپا کر خود الزام سہتی رہی۔ اس نے ساری زندگی صبر کیا، اور یہ اس کے صبر کا صلہ ہے کہ مرنے کے بعد اس کو خدا نے انعام سے نوازا ہے، اور اس کی قبر سے خوشبوئیں آ رہی ہیں۔

یہ سن کر لوگ آبدیدہ ہو گئے۔ اور کہنے لگے کہ سبحان اللہ کتنی نیک عورت تھی، خاوند کی خامی پر پردہ ڈالے رکھا۔ صبر کرنے والی عورتوں کے لیے اجر عظیم ہے۔ بے شک ایسی ہی عورتوں کے لیے جنت بنی ہے۔ اب اس عورت کی قبر کا مزار بنا ہے۔ اور لوگ اولاد کی منتیں مانگنے آتے ہیں اور ہمیشہ مراد پا کر جاتے ہیں۔ کہانی سننے والوں نے اس میں مزید اضافہ کیا، اور مشہور کر دیا کہ جس جس نے یہ کہانی سنی اس پر واجب ہے کہ وہ بڑھا چڑھا کر اس کو آگے پھیلائے۔ نہ پھیلانے والا شدید گنہگار ہو گا اور ساری عمر اولاد کو ترسے گا۔

یہ کہانی سنیں تو اس کے تخلیق کار کو داد دینا پڑتی ہے جس کو یقین تھا کہ یہ کہانی صدیوں بعد بھی مقبول رہے گی۔ شاید اسے پختہ یقین تھا کہ لوگ کبھی بھی باشعور نہیں ہوں گے۔ اور دکھ کی بات یہ کہ اس کا یقین جیت چکا ہے۔

یقین کریں ایسی باتیں کہانیوں میں بھی سخت بری لگتی ہیں۔ تف ہے ایسے مردوں پر جو ایک عورت کی زندگی برباد کر کے رکھ دیں اور بعد میں کہیں، یہ عورت عظیم ہے کہ اس نے صبر کیا۔ ایک جیتی جاگتی عورت کو زندہ لاش بنا دیں۔ اور اس کے مرنے کے بعد فخر سے کہیں، کہ اس نے میرے گھر والوں کے طعنے سہے، ایک گھٹن میں زندگی گزار دی، اپنی خواہشوں کو مار کر زندہ رہنے کی کوشش میں جتی رہی، میری خامی پر پردہ ڈالے رکھا اس لیے یہ عورت جنتی ہے۔

کیوں معاشرے میں ایسی واہیات کہانیاں پھیلائی جاتی ہیں؟ کیا ہمارے ذہن ابھی بھی شعور حاصل نہیں کر سکے۔ کیوں ہماری سوچ آج بھی نا پختہ ہے، کیوں بچیوں کے ذہن میں یہ صور پھونک دیا گیا ہے کہ چاہے کسی نامرد کے ساتھ زندگی گزارو لیکن طلاق لے کر واپس مت آنا۔ ایسے مرد کا تو شادی کرنا ہی جائز نہیں کجا کہ عورت کا ساری عمر اس کے ساتھ بندھے رہنا۔ کسی کی زندگی برباد کرنے والے مرد کاش کبھی اس عورت کا درد محسوس کریں، جس کو نکاح کے نام پر خود سے باندھ تو لیتے ہیں، لیکن اس کا حق ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

عورت کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود خاموش تماشائی بن جائے۔ اپنی انا بچانے کے لیے عورت کو سولی پر چڑھا کر اس کو جنت کی بشارت دیتا رہے۔ ایک کی عورت کی بے بسی کا فائدہ اٹھانے والا مرد مرد تو کیا انسان کہلانے کا بھی حق دار نہیں، جو محض اپنی انا بچانے کے لیے عورت کو زندہ مار دے۔ ٹی وی سکرین پر ہی عورت کو چست لباس میں دیکھ لے تو مرد کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، اور عورت ایک مرد کے ساتھ شرعی رشتے میں بندھی ہو، لیکن اپنے جذبات دبائے رکھے۔

کیوں؟ صبر کے اجر کی نوید سنانے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ عورت کے بھی اسی طرح جذبات ہیں جیسے مردوں کے ہیں۔ یا پھر وہ عورت کو جذبات سے عاری سمجھتے ہیں، یا پھر سرے سے اس کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ میں ہمیشہ سوچتی ہوں کہ آخر صبر کو عورت کے ساتھ ہی کیوں منسوب کیا جاتا ہے۔ مرد کو صبر کرنے کا مفید مشورہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ کبھی کسی نے یہ کہانی بھی سنی ہے کہ کسی مرد کی بیوی بانجھ تھی اور اس نے صبر کیا۔ اور اس پہ لگنے والا بانجھ پن کا الزام اپنے سر لیا، یا پھر ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا ہو، کہ مجھے ساری زندگی ہاتھ مت لگانا، اس کے شوہر صبر کیا، جنت کے لالچ میں ساری زندگی مجرد گزار دی، اور پھر مرنے کے بعد اس مرد کی قبر سے خوشبوئیں آنے لگیں۔

اخر مرد کو بھی تو جنت کی چاہت ہوگی، تو پھر مرد بھی صبر کر کے جنت میں کیوں نہیں جاتا۔ یا پھر صبر کے بدلے ملنے والی جنت مردوں کو نہیں چاہیے۔

شروع میں بیان کی گئی کہانی کہانی کا تخلیق کار تو کب کا دنیا سے جا چکا لیکن اس کہانی پر یقین رکھنے والوں سے پوچھا جائے کہ ایسی صابر عورتوں کے لیے تو جنت ضرور بنی ہوگی، لیکن یہ بتاؤ ان کی عورتوں کی زندگی تباہ کرنے والے مردوں کے لیے کیا بنا ہے۔

ایسی من گھڑت کہانیاں جب نظر سے گزرتی ہیں تو دل چاہتا ہے کہ کسی مفتی سے عرض کروں، حضور صبر کرنے والی عورتوں کو تو جنت کی نوید دیتے ہیں لیکن کسی کی زندگی تباہ کرنے والے ایسے مردوں کو بھی جہنم کی بشارت کبھی سنائیے۔ دن کی تھکی ہاری عورت کے مرد کو انکار کرنے پر ساری رات اس پر فرشتے لعنتیں بھیجتے ہیں۔ تو ذرا اس پر بھی روشنی ڈالیے مولانا، کہ کیا عورت کے جذبات مجروح کرنے والے مرد بھی اسی طرح ملعون ہوتے ہوں گے۔ اگر عورت کے صبر پر جنت واجب ہے تو جان بوجھ کر کسی کی زندگی برباد کرنے والے مرد پر جہنم واجب ہوتی ہوگی؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments