باہر سائے گھوم رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات کے آخری پہر کمرے کے دروازے پہ ہلکی ہلکی دستک ہوئی۔ کون ہے؟ گھر میں تو میرے علاوہ کوئی بھی نہیں۔ پھر یہ کون ہے؟ دروازہ کھولا تو یخ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آ ٹکرایا لیکن باہر تو کوئی بھی نہیں تھا۔ پھر کسی نظر نہ آنے والے وجود نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر کے میرے گالوں پہ بوسہ لے لیا۔ کون ہو تم؟ ”میں تم ہوں خود تمہارے وجود کا حصہ“ ایک ہنستی ہوئی نسوانی آواز آئی۔ ”لیکن میں تو ایک مرد ہوں اور تم عورت بھلا تم میرے وجود کا حصہ کیسے ہو سکتی ہو؟

“ میں نے کہا۔ ”ہر مرد کے اندر ایک عورت اور ہر عورت کے اندر ایک مرد اس کے وجود کا حصہ ہوتے ہیں“ اس نے اونچی آواز میں قہقہہ لگا کے کہا۔ مجھے گھبراہٹ سی ہوئی۔ میں نے گھر کا دروازہ کھول کے باہر جانا چاہا تو اس نے مجھے روک دیا۔ ”نہ جاؤ، باہر سائے گھوم رہے ہیں وہ تمہارا خون پی جائیں گے، تمہارے جسم کا گوشت کھا جائیں گے۔ تم زندہ رہو گے لیکن ایک چلتی پھرتی لاش“ ۔ میں ڈر سا گیا۔ وہ دوبارہ ہنسی اور بولی ”سائے بھی انسانوں کے وجود کا نظر نہ آنے والا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کی خوراک دوسرے انسانوں کا امن و سکون ہوتا ہے“ ۔

وہ مجھے روکتی رہی لیکن میں گھر سے باہر آ گیا۔ باہر تو کوئی نہ تھا۔ ہر طرف سڑکیں ویران تھیں۔ سویرا ہونے میں تھوڑا وقت باقی تھا۔ جیسے ہی سویرا ہو گا سب لوگ اپنے گھروں سے باہر آ جائیں گے۔ ”نہیں، ایک طویل رات طاری ہو چکی ہے۔ سب اپنے گھروں میں ہی رہیں گے، ہاں، سائے آزاد رہیں گے اور اپنی خوراک کی تلاش میں سرگرداں رہیں گے“ وہ جو میرے ساتھ ہی گھر سے باہر نکل آئی تھی، بولی۔

اچانک مجھے محسوس ہوا، سائے میرے اردگرد چل رہے ہیں۔ مجھے خوف سا محسوس ہونے لگا۔ یہ اپنے دانت میری گردن میں گاڑ کے میرا خون پینا چاہتے تھے۔ عجیب بات تھی کہ سب نے اپنے چہروں پہ نقاب لگائے ہوئے تھے۔ پاس ہی ایک مذہبی عبادت گاہ تھی وہاں سے بھی سائے باہر آ گئے۔ میں دوڑتا ہوا بڑی سڑک پہ آ گیا۔ مارکیٹ کی بند دکانوں کے اندر سے سائے باہر آ گئے۔ میں نے اپنی رفتار بڑھا دی تو کوتوال کے دفتر کے باہر سے ایک سایہ باہر نکلا اور میرے تعاقب میں تیز تیز قدم اٹھانے لگا گویا مجھے دبوچ لینا چاہتا ہو۔

میں عدالت کی طرف دوڑا کہ وہاں مجھے پناہ ملے لیکن وہاں سے بھی سائے باہر آئے اور انھوں نے مجھ پہ اپنے بڑے بڑے ناخن گاڑنا چاہے۔ میں حاکم وقت کے کئی ایکڑوں پہ پھیلے محل نما گھر کی جانب دوڑا کہ وہاں مجھے پناہ ملے گی لیکن وہاں سے تو ہیبت ناک قسم کی آوازیں آ رہی تھیں، پھر وہاں سے بھی ایک بہت بڑے سائے نے دیوار سے باہر جھانکا۔ اب میں دوڑ رہا تھا اور سائے میرے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ نہ رات کا اختتام ہو رہا تھا نہ میرے دوڑنے کا۔ میں تھک گیا تھا۔ ایک درخت کے پاس جا کے گر گیا۔ سارے سائے میرے اوپر جھکے اور انھوں نے میرا خون پینا شروع کر دیا۔ اچانک ایک سایہ خود میرے جسم سے باہر نکلا اور مجھے دیکھ کے مسکرایا۔ عجیب بات یہ تھی کہ وہ میرا ہم شکل تھا۔ پھر اس نے بھی دیگر سایوں کی طرح میری گردن میں اپنے دانت گاڑ دیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments