ثمینہ نذیر اور ان کی عورتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مکتبہ دانیال کی روح رواں ہماری پیاری دوست حوری نورانی کا واٹس اپ آتا ہے کہ ہم اسلام آباد آ رہے ہیں تو ملاقات ہونی چاہیے اور میں تمھارے لیے ”کلو“ بھی لا رہی ہوں۔ میری کم علمی کہ مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی کہ کون کلو۔ ”مکتبہ دانیال“ کے فیس بک پیج پر ثمینہ نذیر اور ان کی تخلیق ”کلو“ سے میرا پہلا تعارف ہوا۔ اس اشاعتی ادارے کا کمال ہی یہی ہے کہ ان کی مطبوعات نا صرف تخلیقی اعتبار سے بلکہ ان کی کتابوں کی طباعت، کتابت، چھپائی اور سرورق بھی اعلی معیار کا ہوتا ہے۔

ثمینہ نذیر کی ماسٹرز کی ڈگری تو اینٹو مولوجی میں ہے لیکن فنون لطیفہ سے شغف نے انھیں لکھاری کے ساتھ ساتھ اداکاری اور ہدایتکاری کی طرف مائل کیا اور کیا خوب کیا۔

”کلو“ جیسا کہ نام سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کسی عورت کی کہانی ہے، بلکہ کتاب کے تمام افسانوں کے مرکزی کردار عورتوں کے ہی ہیں اور ثمینہ نذیر نے ہر عورت کے کردار کو روایات اور اخلاقیات کا لبادہ اوڑھائے بنا ہی قاری کے سامنے رکھ دیا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ عورت کے احساسات و جذبات ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے لیکن منٹو اور رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنے قلم سے عورتوں کے مختلف پہلووں کو اس طرح اجاگر کیا ہے کہ جیسے وہ ان کے دل و دماغ کے اندر جھانکنے کی دسترس رکھتے ہوں۔

اسی طرح ثمینہ کے تمام افسانوں میں عورتوں کے کردار بہت مضبوط، بھرپور اور بے باک ہیں جس نے مجھے عصمت چغتائی کی یاد دلا دی۔ خاص طور سے انھوں نے اپنے افسانوں میں حیدر آبادی بولی کا جس طرح استعمال کیا ہے وہ بہت لطف انگیز ہے۔ اس کے علاوہ ثمینہ نے نا صرف کراچی کی سیاست بلکہ ملکی سطح پر بتدریج ہونے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کو بہت خوبصورتی سے اپنے الفاظ میں پرویا ہے۔

جی بالکل کلو ان افسانوں کے مجموعے کی پہلی کہانی ہے جس میں پاکباز مشتری بانو اور سارے محلے کی دھتکاری ہوئی گشتی کلو مرکزی کردار ہیں۔ میں نے یہ افسانہ فیری میڈوز کے ہوٹل کے یخ بستہ کمرے میں رات کو پڑھتے ہوئے اپنے وجود کو ان دونوں عورتوں کے آس پاس محسوس کیا۔ ایسے حساس موضوع کو جتنے موزوں انداز سے لکھاری نے لکھا ہے وہ قابل داد ہے۔ سوچا تو تھا کہ ایک ہی نشست میں تین چار افسانے پڑھ ڈالو گی لیکن جس طرح کچھ مزیدار کھانا کھانے کے بعد اس کے ذائقہ کو برقرار رکھنے کے لئے آپ کو کسی اور لوازمات کی طلب نہیں ہوتی بالکل اسی طرح پہلا افسانہ پڑھ کر میں نے کتاب بند کی اور اس کہانی کو اپنے اندر جذب ہوتا محسوس کیا۔ میں دوسرا افسانہ پڑھ کر کلو کے تاثر کو زائل نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اس کے بعد ثمینہ مجھے ”رجو“ سے ملواتی ہیں۔ رجو ایک نسوانیت سے بھرپور ہندو لڑکی ہے۔ جس کے غریب والدین نے اسے پیسوں کی غرض سے ایک نہایت مذہبی مسلم گھرانے میں نوکرانی کے لئے رکھ چھوڑا تھا جہاں اس کے روز مرہ کے فرائض میں گھر کے کام کاج اور چولہا گرم اور ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے صوم و صلاۃ کے پابند مردوں کے گرم جذبات کو ٹھنڈا کرنا بھی شامل تھا۔ جس کو وہ بخوشی نبھا رہی تھی

دکنی گالیاں دیتی ”باجی“ ایک ایسی اکھڑ مزاج عورت کی کہانی ہے جس کو زندگی نے نا سہاگن ہونے کا رتبہ دیا تھا نا ہی بیوہ ہونے کا ماتم۔ اپنی بد نصیبی کو گالیوں کے توسط سے اپنے ارد گرد موجود لوگوں تک پہنچا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا ان کی عادت بن گئی تھی لیکن کسی کو ان گالیوں میں چھپے ان کے دل کے زخم نظر نہیں آتے تھے۔

کتاب کی اگلی منزل پر میری ملاقات ”مس رضیہ“ سے ہوتی ہے۔ جن کے رعونت آمیز رویے سے اسکول کے عملے سے لے کر طالبات تک سب نالاں رہتے تھے سوائے اسپورٹس ٹیچر وحید امتیاز کے، جس نے مس رضیہ کے دل اور گھر دونوں پر ڈیرہ ڈال رکھا تھا کیونکہ عورت جب واقعی کسی سے محبت کرتی ہے تو اپنی عقل و شعور پر سخت پہرے لگا دیتی ہے۔

کتوں سے پیار کرنے والی ثمینہ کی پانچویں اور میری پسندیدہ عورت ”انا جی“ ہے۔ اس افسانہ میں انا جی کی کتوں سے محبت اور اپنے خاندان کے ساتھ بے حسی کے پیچھے ایک راز تھا۔ انا جی ٹوٹی ہوئی ہونے کے باوجود ایک مکمل عورت تھی۔ جب ایک لڑکی سے اس کے خواب ہی چھن جائیں تو پیچھے صرف حسرت یا نفرت ہی بچتی ہے۔ انا جی کی کہانی پڑھ کر وہ آنکھ بھی بھر آئے جو آسانی سے روتی نہیں۔ انا جی تو کائنات کی گتھی سلجھانے کے لئے اس دنیا میں آئی تھی لیکن مرتے دم تک اپنی قسمت سے ہی الجھتی رہیں۔

نیو کراچی کی میراں بی عرف ”بی اماں“ بڑی بہنوں کی اس اقسام سے تعلق رکھتی تھیں جو اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو ماں بن کر پالتی ہیں۔ پھر وہی چھوٹے بھائی بہت بڑے اور بہن چھوٹی رہ جاتی ہیں۔ بی اماں کی کہانی میں برصغیر کی تقسیم سے لے کر مجبور و لاچار انسانوں کا مذاہب کی بنیادوں پر تفریق کرنا اور کس طرح ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے تک کا احاطہ بڑی گہرائی سے کیا گیا ہے۔ بی اماں کا افسانہ دراصل مکافات عمل کی ایک مثال ہے کہ ”منہ اوپر کر کے تھوکے تو ، تھوک اپنے منہ پے گرتا۔“

ثمینہ چونکہ تھیٹر کی بھی فنکارہ ہیں تو یہ کیسے ممکن تھا کہ مجموعے میں ڈرامے شامل نا ہوں۔ چجی پاشا کو ثمینہ نے نا صرف تحریر کیا بلکہ ہدایات بھی انہی کی تھی۔ ایک ایسی عورت جو بیک وقت ماضی کی زیب النساء اور حال کی چچی پاشا کی دوہری زندگی جی رہی تھی اور زندگی کی پانچ دہائیاں گزارنے کے باوجود ابھی تک اسی زعم میں تھی کہ ان کا محبوب آج بھی ان کے لیے ویسی ہی تڑپ دل میں دبائے ہو گا جیسی خود ان کے دل میں تھی۔ خود کو زیب النساء سمجھتے ہوئے روز نہا دھو کے رنگ برنگی شوخ ساڑھیاں پہن کے تیار ہو کر بیٹھ جاتی تھیں، نا جانے کس بات کے انتظار میں! عورت پوری عمر سراب کے پیچھے بھاگتی ہے اور آخر میں خالی ہاتھ ہی رہ جاتی ہے۔

کتاب کے اختتامی مراحل میں ثمینہ نذیر کی آخری تخلیق ”حور شمائل“ منظر عام پر آتی ہے جو اپنے نام کی طرح ایک خوبصورت طرحدار منچلی سی لڑکی ہے۔ اس کی اداؤں پر علاقے کے تمام انواع و اقسام کے مرد جتنے فریفتہ تھے خواتین اور لڑکیاں اتنی ہی نالاں۔ اس کی بے باکیاں دراصل اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کا بہانہ تھیں۔

یہ تھیں کلو میں لکھاری کی وہ ساری عورتیں جو اس معاشرے میں جینے کے لئے کئی صدیوں سے تگ و دو میں مصروف ہیں جو زندہ تو ہیں لیکن زندگی نہیں جی رہیں۔ کلو ثمینہ کی ایک بہترین کاوش ہے۔ اس کتاب کو نا صرف خواتین بلکہ مرد حضرات کو بھی پڑھنی چاہیے کہ اس کا ہر افسانہ دل کو چھو لیتا ہے اور پڑھتے ہوئے ان کے کردار مجھے اپنے ارد گرد ہی محسوس ہوئے۔ ثمینہ نذیر اور حوری نورانی دونوں اس بہترین کتاب کو قارئین تک پہچانے کے لئے داد و تحسین کی مستحق ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments