افغانستان میں زیر تعلیم پاکستانی طالبات اپنے مستقبل پر فکرمند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان کی مختلف میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والی پاکستانی خواتین افغانستان کی موجودہ صورت حال سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سے طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے وہ اپنے گھروں میں واپس آ گئی ہیں اور اپنی تعلیم جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔

أفغانستان کے شہر جلال آباد کی سپن گہر یونیورسٹی میں میڈیکل کے چوتھے سال کی پاکستانی طالبہ کلی اکبر نے وائس اف امریکہ اردو سے بات کرتے ہوئے اس تشویش کا اظہار کیا کہ تین سال سخت محنت کے بعد اب ان کی میڈیکل کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "میرے والدین نے مالی سختیاں برداشت کر کے میرا وہاں داخلہ کرایا تھا۔ میں بھی خوش تھی کہ میری ڈگری مکمل ہو جائے گی اور میرا مستقبل سنور جائے گا۔ لیکن اب ہمیں نہیں معلوم کہ آگے کیا ہو گا ۔میرے تمام گھر والے پریشان ہیں”۔

کلی اکبر نے بتایا کہ أفغانستان میں اس وقت تعلیم کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال ہے۔ یونیورسٹیز کھلتی ہیں بند ہو جاتی ہیں۔ اگر کلاسز شروع ہوتی ہیں تو وہ دوبارہ بند ہو جاتی ہیں۔

لیکن کلی اکبر اکیلی ایسی نہیں ہیں۔ أفغانستان میں زیر تعلیم دیگر پاکستانی طالبات کہتی ہیں کہ پہلے جون میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند تھے اور بعد میں افغانستان میں سیکیورٹی کی بگڑتی صورت حال کی وجہ سے۔ اب یونیورسٹیاں اور کالج تو کھل گئے ہیں لیکن وہ جا نہیں سکتیں۔

خیبر پختونخوا کے علاقے ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والی أفغانستان میں میڈیکل کی سیکنڈ ایئر طالبہ نادرہ مشتاق نے وائس آف امریکہ اردو کو بتایا کہ وہ افغانستان میں جاری عدم تحفظ کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتیں۔

"وہاں کی صورت حال غیر یقینی ہے، ہم خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ اس وقت لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے حالات ٹھیک نہیں۔ جو مرد طالب علم اس وقت أفغانستان واپس گئے ہیں، ان کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہے”۔

وائس اف امریکہ سے بات کرنے والے یہ طالب علم کہتے ہیں کہ ان کی سالانہ فیس ایک لاکھ بیس ہزار پاکستانی روپے ہے۔ اور وہ چار ماہ سے گھر پر ہیں۔ اس لئے یہ ان کی رقم اور وقت کا زیاں ہے۔

"ہم پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری مائیگریشن کرائی جائے تاکہ ہم یہاں کے مقامی میڈیکل اداروں میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں "۔

دوسری جانب پاکستان میڈیکل کونسل کے دفتر سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ان طلبہ کے مستقبل سے متعلق پالیسی پر جلد غور کیا جائے گا۔

نادرہ مشتاق کہتی ہیں کہ” اگر ہم کسی طرح واپس چلے بھی جائیں اور وہاں حالات مزید بگڑ گئے یا خانہ جنگی شروع ہو گئی یا سرحد بند ہو جائے تو ہم پاکستانی طالبات کیا کریں گی” ۔

أفغانستان میں پڑھنے والی ضلع بنیر کی ایک اور طالبہ فوزیہ بھی پریشان ہیں کہ وہ ایسے ملک میں جہاں خواتین مشکل حالات میں ہیں، خاندان کے بغیر تعلیم کیسے حاصل کر پائیں گی۔

انہوں نے وائس اف امریکہ کی ڈیوا سروس کو بتایا کہ "أفغانستان میں لڑکوں اور لڑکیوں کی مشترکہ تعلیم ختم ہو گئی ہے اور اسی طرح خواتین کا آزادانہ آنا جانا دشوار ہے لہذا ہم وہاں جانے سے خوفزدہ ہیں”۔

کابل میں خواتیں کا احتجاج
کابل میں خواتیں کا احتجاج

پاکستان اسٹوڈنٹس یونین کے مطابق افغانستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں 1200 سے زائد پاکستانی طالب علم ہیں ۔ ان میں 50 سے زائد خواتین ہیں۔ جو زیادہ تر طب کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

پاکستان میڈیکل کمیشن یا پی ایم سی آفس سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق افغانستان میں میڈیکل کے طلباء کے مستقبل کے حوالے سے کونسل کا اجلاس آئندہ چنددنوں میں منعقد کیا جائے گا تاکہ ان طلباء کے مستقبل کے بارے میں پالیسی بنائی جا سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3106 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments