رواج نامۂ سوات


تبصرہ: فضل ربی راہی

سوات ایک نہایت قدیم تاریخی پس منظر کا حامل خطہ ہے۔ زمانۂ قدیم میں یہ بدھ مذہب کے ماننے والوں کے لئے ایک متبرک مقام کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں بدھ مت کو غیر معمولی عروج حاصل ہوا۔ سوات میں مہاتما بدھ کی مذہبی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کے لئے بڑی بڑی درس گاہیں قائم تھیں جن میں مذہبی علوم حاصل کرنے کے لئے دور دراز سے بدھ پیروکار آتے اور حصول علم کے بعد اپنے علاقوں میں واپس جاکر بدھ مت کی تعلیمات پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرتے۔ یہاں سکندر مقدونی کی آمد، غزنوی فوج کا حملہ، اکبر بادشاہ کی افواج کا حملہ اور سوات و بونیر کے سنگلاخ پہاڑوں میں ان کی شکست اور اس کے بعد مالاکنڈ کے راستے انگریز افواج کے حملے یہ سارے واقعات اس کی تاریخی حیثیت اور غیرمعمولی اہمیت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔

جب یوسف زئی قبیلہ نے سوات پر قبضہ کر کے یہاں مستقل سکونت اختیار کی تو اس نے یہاں کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ یوسف زئی کو افغانستان میں ایک بلند مقام حاصل تھا۔ انھوں نے افغانستان میں مرزا الغ بیگ کو حکومت دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا لیکن بعد ازاں ان کے ساتھ یوسف زئیوں کے اختلافات پیدا ہو گئے۔ وہ چوں کہ یوسف زئی جیسے با اثر اور منھ زور قبیلے کو طاقت کے ذریعے زیر کرنے میں ناکام ہوا تھا، اس لئے اس نے ان کے ساتھ بہ ظاہر مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اور ایک دن یوسف زئیوں کے سرکردہ عمائدین اور مشران کو شاہی ضیافت پر بلا کر انھیں دھوکے سے قتل کروا دیا اور بچا کھچا قبیلہ افغانستان سے ہجرت پر مجبور ہوا۔

موجودہ خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں میں رہتے ہوئے بالآخر سوات بھی ان کی مستقل رہائش کا مرکز و محور ٹھہرا۔ جب یوسف زئی سوات پر قابض ہو گئے تو وہ یہاں کوئی منظم حکومت قائم نہ کرسکے۔ ملک احمد اور خان کجو جیسے مشہور سرداروں کی سربراہی میں انھوں نے قبائلی طرز زندگی اختیار کی۔ ان کے درمیان زندگی گزارنے کے لئے کوئی مربوط اور منظم ریاستی لائحہ عمل موجود نہیں تھا لیکن وہ ایک مخصوص اخلاقی، مذہبی اور سماجی روایات کی سختی سے پاس داری کرتے تھے اور آپس کے جھگڑے، تنازعات اور اختلافات جرگوں کے ذریعے نمٹاتے تھے۔

یہ ایک ایسا دور تھا جس میں مختلف ڈلے (دھڑے، جن کو پارٹیاں بھی کہا جاسکتا ہے ) ہوا کرتے تھے اور جو ڈلہ (دھڑا) طاقت ور ہوتا، اپنے مخصوص علاقے میں اس کی مرضی چلتی تھی۔ یہ پورا دور جسے پختو کا دور کہتے ہیں، ان کی آپس کی لڑائیوں، جھگڑوں اور اختلافات میں گزرا۔ جب انگریزوں نے سکھ حکومت کا خاتمہ کیا اور ان کے زیر نگیں علاقوں پر قابض ہوئے تو سوات کے یوسف زئیوں نے اپنی آزادی برقرار رکھنے کی خاطر ایک منظم ریاست کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا جس کے لئے انھوں نے پیر بابا کی اولاد میں ستھانہ کے سید اکبر شاہ کو حکومت قائم کرنے کی دعوت دی۔

ان کی سربراہی میں سنہ 1849 ء یا 1850 ء میں ایک اسلامی یا شرعی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا صدر مقام یا دارالحکومت غالیگے قرار دیا گیا۔ سید اکبر شاہ کی تخت نشینی کے بعد انتشار اور افراتفری پر مشتمل سوات کے حالات میں قدرے ٹھہراؤ آ گیا اور یوسف زئیوں نے قبائلی زندگی سے ایک منظم زندگی کی جانب سفر کا آغاز کیا لیکن بدقسمتی سے 11 مئی سنہ 1857 ء کو اس وقت سید اکبر شاہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا جب وہ اچانک انتقال کر گئے۔

سید اکبر شاہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے سید مبارک شاہ نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی لیکن وہ بوجوہ زیادہ دیر تک حکومت نہیں کرسکے۔ اس کے بعد سوات ایک بار پھر قبائلی طرز زندگی کی طرف لوٹ گیا۔ اس دوران دیر کی ریاست کی طرف سے سوات کے مختلف علاقوں پر حملے ہوئے اور دریائے سوات کے دائیں جانب کے علاقے دیر کی عمل داری میں چلے گئے۔ دیر کے باشندے لوٹ مار کا بازار گرم رکھتے۔ نواب دیر اور اس کے کارندوں کی چیرہ دستیوں سے تنگ آ کر یہاں کے لوگوں نے اس کے خلاف بغاوت کی اور ایک بار پھر منظم ریاست قائم کرنے کے لئے جرگوں کا انعقاد کیا گیا۔

ستھانہ کے سید عبد الجبار شاہ کے پاس ایک جرگہ بھیج کر انھیں حکومت قائم کرنے کی دعوت دی گئی جو انھوں نے قبول کرلی۔ یوں 24 اپریل 1915 ء کو عبدالجبار شاہ کو حکم ران بنا کر باقاعدہ طور پر ریاست سوات کی بنیاد رکھی گئی۔ اس سے قبل حکومت بنانے کی دعوت سید و بابا کے پوتے میاں گل عبد الودود کو دی گئی تھی لیکن انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ وسائل کے بغیر ایک منظم ریاست نہیں چلا سکیں گے لیکن بعد میں جب انھوں نے دیکھا کہ عبدالجبار شاہ بڑی کام یابی سے حکومت چلا رہے ہیں تو انھوں نے محسوس کیا کہ حکومت چلانا کوئی اتنا مشکل کام بھی نہیں ہے جس کے لئے انکار کیا جائے۔

اس دوران بعض وجوہات کی بناء پر متعلقہ علاقوں کے جرگے نے عبدالجبار شاہ کو معزول کیا اور انھیں سوات سے نکل جانے کا کہا۔ ان کے چلے جانے کے بعد اس جرگے نے میاں گل عبدالودود (المعروف بادشاہ صاحب) کو ستمبر سنہ 2017 ء میں اقتدار کی گدی پر بٹھایا۔ بادشاہ صاحب کا دور ریاست کی توسیع و استحکام اور ترقی کے لئے بہتر ثابت ہوا۔ ان کے دور میں ریاست سوات کو جدید خطوط پر استوار کر دیا گیا اور سوات میں بڑی حد تک امن و امان اور ریاستی قوانین کا نفاذ ممکن ہوا۔ انھوں نے بہت کم عرصے میں سوات جیسے قبائلی علاقے کے لوگوں کو بڑی حد تک غیر مسلح کیا اور ایک باقاعدہ فوج کی بنیاد رکھی۔ ان کے دور میں تنازعات اور لڑائی جھگڑوں کے فیصلے مقامی روایات اور کچھ شرعی قوانین کی روشنی میں کیے جاتے تھے۔

میاں گل عبدالحق جہان زیب نے والی سوات کی حیثیت سے 12 دسمبر سنہ 1949 ء کو اس وقت ریاست کی باگ ڈور سنبھالی جب ان کے والد بادشاہ صاحب نے حکومت سے دست بردار ہو کر اقتدار ان کے حوالے کر دیا۔ میاں گل جہان زیب ایک تعلیم یافتہ اور روشن خیال شخص تھے۔ انھوں نے ریاست سوات کو جدید دور کے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے غیرمعمولی اقدامات اٹھانا شروع کیے ۔ ان کے دور میں سوات کے مجموعی انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور ذرائع رسد و رسائل جیسے شعبوں نے بہت ترقی کی۔ انھوں نے بڑی حد تک عدالتی انصاف کو ممکن بنایا اور ایسے قوانین وضع کیے جو مقامی روایات اور کسی حد تک شرعی نظام پر مشتمل تھے۔

حکمرانان ریاست سوات کی فراست اور تدبر اس بات سے عیاں ہے کہ انھوں نے مختلف مقدمات اور تنازعات کے لئے سوات کے ہر علاقے کی مقامی رسوم و روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف علاقوں کے لئے مختلف قوانین وضع کیے ۔ ان مخصوص قوانین کا اطلاق ان ہی مخصوص علاقوں پر ہوتا تھا۔ مثلاً کالام جیسے علاقے میں وہاں کے لوگوں کے مزاج، طرز زندگی اور مقامی روایات کے پیش نظر مختلف جرائم کے لئے مینگورہ یا دوسرے علاقوں کی نسبت مختلف سزائیں اور جرمانے مقرر کیے جاتے تھے۔ (واضح رہے کہ اس وقت کالام ریاست سوات کا باقاعدہ حصہ نہیں تھا لیکن حکومت پاکستان نے والئی سوات کو اپنی طرف سے اس کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تھا جس کے لئے انھیں باقاعدہ الاؤنس بھی دیا جاتا تھا۔ )

سوات کوہستان کے لوگوں کے پاس چوں کہ نقد رقم نہیں ہوتی تھی تو انھیں بعض اوقات جنس (یعنی مختلف فصلوں ) کی شکل میں جرمانے ادا کرنے پڑتے تھے۔ اس طرح دریا کے دائیں جانب کے علاقوں میں ایک طرح کی سزا نافذ تھی اور مینگورہ یا سیدو شریف میں اسی جرم کے مرتکب افراد کے لئے معمولی رد و بدل کے ساتھ دوسری قسم کی سزائیں اور جرمانے مقرر تھے۔ بونیر اور شانگلہ کے علاقوں کے لئے بھی ان کے رواج کے مطابق دستور العمل بنایا گیا تھا۔

بعض جرائم کی سزائیں اگرچہ ہر علاقے میں قریباً یکساں تھیں لیکن حکم ران ریاست سوات ہر علاقے کے مخصوص رسم و رواج اور دستور کو ضرور مد نظر رکھتے تھے۔ اس کے لئے انھوں ایک طریقہ یہ بھی وضع کیا تھا کہ اکثر علاقوں میں وہ علاقے کے مشران پر مشتمل مقامی جرگوں کی مشاورت سے بعض تصفیہ طلب مسائل اور تنازعات کا مستقل حل نکالتے اور اتفاق رائے سے ایک تحریری معاہدہ لکھ کر اسی پر آئندہ بھی کاربند رہنے کا عہد لیا جاتا۔ بادشاہ صاحب خود اگرچہ تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن وہ انسانی نفسیات سے بہ خوبی آگاہ تھے، اس لئے انھوں نے اپنے دور حکومت میں یہ طریقہ رائج کیا تھا۔

زیر نظر کتاب ”رواج نامۂ سوات“ حکم رانان ریاست سوات کے احکامات، دفتری معاملات، عدالتی فیصلہ جات اور مختلف علاقوں کے لئے بنائے گئے قوانین و ضوابط پر مشتمل مجموعہ ہے جسے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کے آفس کے سپرنٹنڈنٹ غلام حبیب خان نے کتابی صورت میں مرتب کیا تھا۔ سوات سے تعلق رکھنے والے ممتاز محقق اور تاریخی امور کے نقاد ڈاکٹر سلطان روم اپنی کتاب ”ریاست سوات“ ( 1915 ء تا 1969 ء) صفحہ نمبر 19 پر اس کتاب کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں :

”بعد از ادغام سرکاری طور پر “ رواج نامۂ سوات ” (تاریخ ندارد) کے نام سے غلام حبیب خان نے ایک کتاب مرتب کی جو کہ والئی سوات کے فرامین، دفتری احکامات، فیصلوں، مختلف علاقوں کے لئے بنائے گئے ضوابط کار وغیرہ پر مشتمل ہے۔ اسے ریاست سوات کے مرکزی اور تحصیل کی سطح پر موجود غیر مطبوعہ ریکارڈ اور کچھ مطبوعہ دفتری احکام اور فیصلوں میں سے منتخب کیا گیا ہے تاکہ انتظامیہ، عدلیہ اور دوسرے متعلقہ اہلکاروں اور عام لوگوں کی رہنمائی کے لئے اسے استعمال کیا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے بطور حوالہ بھی کام میں لایا جا سکے۔“

اس کتاب کے مرتب غلام حبیب خان کے بارے میں ہمیں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں لیکن ڈاکٹر سلطان روم کی زبانی معلومات کے مطابق وہ مالاکنڈ ایجنسی میں درگئی کے قریب کوٹ کے رہنے والے تھے اور اس سے قبل مالاکنڈ کے پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں ریڈر کے عہدے پر فائز تھے جس کے دوران انھوں نے ”رواج نامۂ مالاکنڈ“ بھی مرتب کیا تھا۔ جب ”رواج نامۂ سوات“ مرتب کرنے کی ضرورت پڑ گئی تو ان کے تجربہ اور مہارت کے پیش نظر ان کا تبادلہ سوات کر دیا گیا اور یوں ان سے ”رواج نامۂ سوات“ مرتب کرنے کا کام بھی لیا گیا۔

اس کتاب میں سوات کی سماجی زندگی کے ہر شعبے کے خد و خال نظر آتے ہیں۔ اس دور میں عام طور پر لوگ کس قسم کے جرائم کرتے تھے، ان کے تنازعات کی نوعیت کیا ہوتی تھی اور وہ کس قسم کے جھگڑوں میں ملوث ہوتے اور آپس میں کیسی دشمنیاں پالتے تھے، یہ سب کچھ اس کتاب میں لکھے گئے مقدموں اور کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں بہ خوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ بادشاہ صاحب کے دور میں جو فیصلے کیے جاتے تھے، ان کا تحریری ریکارڈ موجود نہیں لیکن جب والئی سوات نے ریاست کی باگ ڈور سنبھالی تو انھوں نے عدالتی اور دفتری معاملات منظم طریقے سے ریکارڈ کرانا شروع کیے اور ان کے ذاتی احکامات، مقامی رواج، علاقے کی روایات اور شریعت کے مطابق جو فیصلے کیے جاتے، ان کو تحریری شکل میں رجسٹروں میں محفوظ کیا جاتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ ریاست سوات کا جب 15 اگست 1969 ء کو اس وقت کے صوبہ مغربی پاکستان میں ادغام ہوا تو یہ تمام دستاویزات محفوظ تھیں جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غلام حبیب خان نے انھیں کتابی شکل میں محفوظ کیا۔ کیوں کہ سوات میں جب ضلعی انتظامیہ وجود میں لائی گئی تو ابتدا میں یہاں پاکستان کے قوانین پوری طرح نافذ نہیں تھے اور بیش تر تنازعوں اور مقدموں کے فیصلوں میں سابق ریاست سوات کے ان ہی قوانین کی ضرورت پڑتی تھی اور فیصلہ کرنے میں متعلقہ حکام کو ان سے مدد اور رہنمائی حاصل کرنی ہوتی تھی۔ جس کا تذکرہ فاضل مرتب نے کتاب پر لکھی گئی اپنی تمہید میں یوں کیا ہے :

”اگست 1969 ء میں جب ریاست کا ادغام پاکستان میں ہوا تو اس علاقے کے رواج کو کتابی صورت میں لانے کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ مقدمات کے تصفیہ میں آسانی ہو اور بے انصافی کا احتمال نہ رہے۔ نیز کسی علاقے کا دستور یا رواج اسی علاقے کی دستاویزی حیثیت رکھتا ہے، لہٰذا سے قلم بند کرنا ایک ضروری امر تھا۔ علاوہ ازیں اگر یہاں پاکستان کے تمام قوانین فوری طور پر لاگو کئے جاتے تو اس سے عوام کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہ محسوس کیا گیا کہ بندوبست اراضی کی تکمیل سے قبل سول قوانین نافذ کرنا غیر ممکن ہے، اس لیے فیصلہ کیا گیا تمام فوج داری اور دیوانی قوانین بہ تدریج نافذ کیے جائیں گے اور عوام ان سے آہستہ آہستہ واقفیت حاصل کرتے رہیں گے۔ ان حالات کے پیش نظر کچھ عرصے تک رواج کے مطابق مقدمات کا تصفیہ کرنا ناگزیر تھا۔“

موجودہ کتاب ”رواج نامۂ سوات“ ریاستی دور کی ایک اہم تاریخی اور قانونی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ سوات کے ریاستی دور کے ان فرامین اور فیصلہ جات سے اس دور کی معاشرتی زندگی کے مخصوص طور طریقے اور ہر شعبے میں موجود خوبیوں اور خامیوں کا ایک منظم تصور سامنے آتا ہے اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حکمرانان ریاست سوات اور ان کے زیرنگرانی دیگر متعلقہ سرکاری حکام کس تدبر اور فراست سے مختلف مقدمات اور تنازعات کے فیصلے صادر کرتے تھے۔ اس دور کی ایک خوبی یہ تھی کہ حکم ران سوات کا فیصلہ اٹل ہوتا تھا اور وہ جو قوانین نافذ کرتے، ان پر نہایت سختی سے عمل درآمد ہوتا تھا۔

اس کتاب میں موجود فیصلے اور قوانین ایک بھرپور سماجی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کتاب کے مندرجات مہذب زندگی کا ایک ایسا دستور العمل سامنے لاتے ہیں جس میں انسانی زندگی میں پیش آنے والے قریباً ہر طرح کے تنازعات، جرائم، مقدمات اور معاشرتی اختلافات کا احاطہ کیا گیا ہے اور ان کے بارے میں عدالتی فیصلے اور ریاستی فرامین تحریر کیے گئے ہیں۔ اس میں فوج داری اور دیوانی دونوں قسم کے مقدمات موجود ہیں۔ بعض مقدمات اور جرائم ایسے ہیں جن کے فیصلے حیران کن حد تک جدید ریاستی قوانین کے مظہر ہیں۔

ریاستی دور میں کسی مقدمے اور تنازعے کی اہمیت اور حساسیت کو پیش نظر رکھ کر سزاؤں اور جرمانوں کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ مثلاً بعض جرائم میں مرتکب شخص جب جرمانہ ادا کرتا یا قید کاٹتا تو اسے علاقے کی سابقہ روایات کے مطابق علاقہ بدر کیا جاتا تھا یا اس پر کسی مخصوص علاقے میں داخلے پر پابندی عائد کی جاتی تھی تاکہ متاثرہ شخص اس کو دیکھ کر طیش میں نہ آئے یا اس کے خاندان کو شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح کی سزائیں میں نے یہاں برطانیہ میں دیکھی ہیں، جہاں بعض اوقات کسی شخص کا اس کے مخصوص جرم کی سزا میں کسی مخصوص علاقے پر اس کا داخلہ بند کیا جاتا ہے۔ یا اگر وہ اپنے بچوں کے ساتھ مارپیٹ میں ملوث پایا جائے تو اسے سزا کے طور پر ایک مخصوص مدت تک اپنے گھر میں داخل ہونے سے روک لیا جاتا ہے۔

”رواج نامۂ سوات“ اس سے قبل بھی شائع ہوا ہے لیکن اب یہ ایک طویل عرصہ سے نایاب چلا آر ہا تھا۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر بعض جج حضرات اور وکلاء کے علاوہ عام شائقین بھی اس کتاب کی اشاعت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کتاب کی گزشتہ اشاعت میں زبان و بیان کی غلطیاں بہت زیادہ تھیں اور دوسرا اسے ایک بے ہنگم سائز میں شائع کیا گیا تھا۔ اس کی کتابت اور طباعت بھی معیاری نہیں تھی۔ موجودہ اشاعت میں زبان و بیان کی غلطیاں درست کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اسے نوری نستعلیق کے خوب صورت فونٹ کے ساتھ ایک موزوں سائز میں دیدہ زیب انداز میں شائع کیا گیا ہے تاکہ سابق ریاست سوات کی یہ تاریخی دستاویز ہر خاص و عام تک پہنچے اور وہ اس سے بہ وقت ضرورت استفادہ کرسکیں۔

کتاب: رواج نامۂ سوات
مرتبہ: غلام حبیب خان
ناشر: شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز
سوات مارکیٹ، جی ٹی روڈ مینگورہ، سوات
فون: 0946۔ 729448

Facebook Comments HS