کیا آپ انسانی شعور کی پہیلی بوجھنا چاہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی نفسیات کا سب سے بڑا مسئلہ ’سب سے بڑی پہیلی‘ سب سے بڑی بجھارت اور سب سے بڑا معمہ شعور ہے؟

شعور کیا ہے؟
اس کا انسانی جسم اور دماغ سے کیا تعلق ہے؟
اس کا انسانی ذہن اور لاشعور سے کیا رشتہ ہے؟

اس موضوع پر مختلف ماہرین نے مختلف کتابیں لکھ کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے کی MARK SOLMS کی 2021 کی تحریر کردہ ایک جدید اور اہم کتابTHE HIDDEN SPRING۔ A JOURNEY TO THE SOURCE OF CONSCIOUSNESS

ہے۔ اس کتاب میں شعور کے مسئلے اور معمے کو حل کرنے اور اس پہیلی اور بجھارت کو بوجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں اس کالم میں اس کتاب میں پیش کیے گئے چند خیالات اور نظریات کی تلخیص اور ترجمہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔

جب ہم انسانی ارتقا کی کہانی پڑھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ لاکھوں برس پیشتر زندگی کا آغاز سمندر کی گہرائیوں میں ہوا۔ زندگی نے مچھلیوں۔ پرندوں۔ جانوروں۔ سے سفر کرتے کرتے انسانوں کا روپ دھارا۔ انسان تک پہنچتے پہنچتے شعور نے کافی فاصلہ کیا

جانوروں کی آگہی۔ انسانوں کی خود آگہی میں بدلی۔ اب ہم جانتے ہیں کہ
جانور جانتے ہیں اور انسان جانتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں۔

بہت سے ماہرین حیاتیات نے جانوروں کے شعور کا مطالعہ کیا اور بہت سے ماہرین نفسیات نے انسانی شعور پر اپنی توجہ مرکوز کی اور اب ماہرین حیاتیات اور ماہرین نفسیات اپنی تحقیق کے نتائج کو یکجا کر رہے ہیں اور انسانی شعور کی پہیلی بوجھنے کو کوشش کر رہے ہیں۔

انسانی شعور کا تعلق انسان کے جذبات سے بھی ہے خیالات سے بھی ہے اور اعمال سے بھی ہے۔ اس کے خوابوں سے بھی ہے اس کے آدرشوں سے بھی ہے۔ اس کے جسم سے بھی ہے اس کے دماغ سے بھی ہے۔ شعور کا تعلق تحت الشعور سے بھی ہے اور لاشعور سے بھی ہے۔ رات کے بند آنکھوں کے خوابوں سے بھی ہے اور دن کے کھلی آنکھ سے دیکھے گئے خوابوں سے بھی ہے۔ انسانی شعور کی کئی جہتیں اور پرتیں ہیں۔

انسانی دماغ کے کئی حصے ہیں
دایاں دماغ بھی ہے اور بایاں دماغ بھی ہے
بالائی دماغ بھی ہے اور زیریں دماغ بھی ہے
اس کے کئی حصے اور کئی لوبز ہیں جن کا ایک دوسرے سے پراسرار قسم کا رشتہ ہے۔
انسان جسم اور دماغ کو دیکھ سکتا ہے چھو سکتا ہے۔
انسان ذہن ’شعور اور لاشعور کو نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی چھو سکتا ہے۔

ماہرین نفسیات کے لیے یہ مشکل مرحلہ تھا کہ وہ انسانی ذہن پر کیسے تحقیق کریں جسے نہ وہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی چھو سکتے ہیں۔

اس مسئلے کے ماہرین نے مختلف حل نکالے۔

ایک حل سگمنڈ فرائڈ نے نکالا۔ انہوں نے مریضوں سے کہا کہ وہ کلینک کے کاؤچ نما صوفے پر لیٹ جائیں اور ان کے دماغ میں جو بھی خیالات آئیں ان کا اظہار کریں۔ فرائڈ نے اس عمل کو آزاد تلازمہ خیال۔ FREE ASSOCIATION۔ کا نام دیا۔ فرائڈ نے مریضوں سے کہا کہ وہ انہیں اپنے خواب بھی سنائیں۔ خواب سنانے اور فری ایسوسی ایشن کرنے سے ان کی رسائی مریض کے لاشعور اور نفسیاتی مسائل تک ہوئی اور پھر انہوں نے مریضوں کے نفسیاتی مسائل اور لاشعوری تضادات کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ فرائڈ نے اپنے طریقہ علاج کا نام تحلیل نفسی رکھا۔

سگمنڈ فرائڈ اور تحلیل نفسی کچھ عرصہ یورپ اور شمالی امریکہ کے نفسیاتی حلقوں اور ہسپتالوں میں بہت مقبول رہے لیکن پھر ان پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہو گئی۔

فرائڈ اور تحلیل نفسی پر بہت سے شدید اعتراض اور سخت تنقید کرنے والوں میں ایک بی ایم سکنر بھی تھے۔

بی ایف سکنرB F SKINNER نے۔ جو بیہیورسٹ BEHAVIOURISTتھے کہا کہ ہمیں انسانی ذہن اور سوچ اور لاشعور کو ’جنہیں ہم نہیں دیکھ سکتے‘ نظر انداز کر کے انسانی اعمال پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ ہم ان اعمال کو دیکھ سکتے ہیں پرکھ سکتے ہیں اور ان میں تبدیلی کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ یہ انسانی نفسیات کا معروضی رویہ تھا۔ بی ایف سکنر کی سائنسی تحقیق اب بیہیورزم BAHAVIOURISMکی روایت کہلاتی ہے۔

سکنر نے ہمیں بتایا کہ جب کوئی کتا کھانا دیکھتا ہے تو اس کے منہ سے رال ٹپکنا شروع ہو جاتی ہے۔

اگر ہم کتے کو ہر دفعہ کھانا دینے کے وقت ایک گھنٹی بھی بجائیں تو کچھ عرصے کے بعد کتے کے ذہن میں کھانے اور گھنٹی کا ایک ایسا تعلق بن جاتا ہے کہ اس کے بعد ہم گھنٹی بجائیں اور کھانا نہ بھی دیں تو کتے کے منہ سے رال ٹپکنا شروع ہو جاتی ہے۔ ماہرین اسے CLASSICAL CONDITIONING کا نام دیتے ہیں۔

جانوروں کی تحقیق سے سیکھے اس نفسیاتی اصول کو جب انسانوں پر استعمال کیا گیا تو بچوں نوجوانوں اور بزرگوں کے جن اعمال کا ہم اجر دیتے ہیں وہ اعمال بڑھ جاتے ہیں اور جن اعمال پر ہم سزا دیتے ہیں وہ اعمال کم ہو جاتے ہیں۔ یہ REWARD AND PUNISHMENTکی بنیاد پر ایستادہ نفسیات کی روایتOPERANT CONDITIONINGکہلاتی ہے۔

بیسویں صدی میں تحلیل نفسی اور بیہیورزم کی روایت کے ساتھ ساتھ ایک اور روایت نے مقبولیت حاصل کی جس کا تعلق کمپیوٹرز سے تھا۔ اس روایت کا پر چار کرنے والوں نے کہا کہ انسانی ذہن ایک کمپیوٹر کی طرح ہے

کمپیوٹر کی طرح انسانی ذہن میں
MEMORYہوتی ہے جو چیزوں کو یاد رکھتی ہے

PERCEPTIVE FUNCTIONSہوتے ہیں جن کا تعلق اس I این جی او INGانفارمیشن سے ہے جو انسانی ذہن میں داخل ہوتی ہے

EXECUTIVE FUNCTIONSسے بھی ہے جن کا تعلق OUTGOINGانفارمیشن سے ہے جو انسانی ذہن سے خارج ہوتی ہے۔
اس روایت کا نام COGNITIVE PSYCHOLOGYرکھا گیا۔

انسانی نفسیات کی چوتھی روایت میں COGNITIVE PSYCHOLOGY AND NEUROLOGYکو یکجا کیا گیا۔ اس روایت میں انسانی دماغ اور انسانی ذہن کے پراسرار رشتے کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ یہ روایت

COGNITIVE NEUROSCIENCEکہلائی۔

اس روایت کی ایک مثال EEG. ELECTRO. ENCEPHALOGRAPHY
ہے۔ ماہرین نے انسانی دماغ کی لہروں کو ریکارڈ کرنا شروع کیا۔

اس عمل سے ماہرین نے انسانی دماغ کی مرگی ’برین ٹیومر اور دماغ کے سرطان جیسی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کیا۔

انسانی دماغ اور ذہن کے علم میں اس وقت گرانقدر اضافے ہوئے جب ماہرین نے انسانی دماغ کی لہروں کا نیند کی حالت میں مطالعہ کرنا شروع کیا۔

ماہرین نے جانا کہ جوں جوں انسان ہلکی نیند سے گہری نیند کی طرف سفر کرتا ہے اس کے دماغ کی لہروں آہستہ ہونے شروع ہو جاتی ہیں اور ان کی رفتار میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے اور جوں ہی وہ گہری نیند سے جاگنے کی طرف سفر کرتا ہے اس کے دماغ کی لہریں تیز ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔

ماہرین نے انسانی دماغ کی لہروں کو پانچ خانوں میں بانٹا ہے ان کی فی سیکنڈ رفتار کے حوالے سے جو ہرٹزHertz کہلاتی ہے۔

Delta brainwaves 1-3 Hz
Theta brainwaves 4-7 Hz
Alpha brainwaves 8-12 Hz
Beta brainwaves 13-38 Hz
Gamma 39-42 Hz

ماہرین نے یہ بھی جانا کہ سونے کے نوے منٹ کے بعد دماغ کی لہریں اچانک تیز ہو جاتی ہیں اس عمل کے دوران انسان خواب دیکھتے ہیں۔

ماہرین نے جانا کہ نیند کے دو حصے ہیں

REM SLEEPجس کے دوران سوئے ہوئے انسان کی آنکھیں جھپکنی شروع ہو جاتی ہیں اور وہ خواب دیکھتا ہے۔ اس عمل کے دوران انسان کے زیریں دماغ سے ایک کیمیائی مادہ خارج ہوتا ہے جو acetylcholine کہلاتا ہے اور بالائی دماغ کو متحرک کرتا ہے۔ اگر اس وقت سوئے ہوئے انسان کو جگایا جائے تو اس کے خواب کو یاد رکھنے کے امکانات اسی فیصد ہوں گے ۔

NON REM SLEEPایسی نیند کے دوران انسان سکون سے سویا رہتا ہے اور اگر اسے جگا کر خواب پوچھا جائے تو اس کے خواب کو یاد رکھنے کے امکانات دس فیصد ہوں گے۔

خوابوں اور انسانی دماغ کی لہروں کے علم نے انسانی شعور اور لاشعور کے درمیان ایک پل کا کام کیا اور ہمیں انسانی دماغ اور ذہن کے راز جاننے میں مدد کی۔ اس تحقیق نے سگمنڈ فرائڈ کے خوابوں اور لاشعور کے نظریات کو نہ صرف تقویت بخشی بلکہ اسے نفسیاتی حلقوں میں دوبارہ اعتبار و اعتماد عطا کیا اور فرائڈ کے نظریات کو تحقیق سے سائنسی اساس مہیا کی۔

مارک سومز نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ انسانی شعور کا تعلق
انسان کے بالائی دماغ CEREBRAL CORTEXسے بھی ہے
انسان کے زیریں دماغ BRAINSTEMسے بھی ہے
اور ان دونوں حصوں کو جوڑنے والی نیورونز سے بھی ہے جو
RAS,,,RETICULOR ACTIVATING SYSTEM
کہلاتا ہے۔

مارک سومز کا کہنا ہے شعور کی ابتدا پانی میں تیرتے چھوٹے چھوٹے جانوروں اور مچھلیوں سے ہوئی اور پھر بڑھتے بڑھتے انسانوں تک پہنچی۔ انسانی کا زیریں دماغ آج بھی مچھلیوں کے دماغ کی طرح ہے وہاں شعور کا آغاز ہوتا ہے۔ پھر اس زیریں حصے سے پیغامات انسان کے بالائی دماغ تک پہنچتے ہیں جو وہ آگہی۔ خود آگہی۔ کا روپ دھارتی ہے۔ اس طرح انسانی شعور میں انسانی دماغ کے مختلف حصے مل کر کام کرتے ہیں۔ اگر انسان کسی دماغی بیماری کا شکار ہو جائے تو وہ نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

جوں جوں ماہرین انسانی جسم ’دماغ اور ذہن کے رشتوں کو بہتر سمجھ رہے ہیں وہ انسان کے نفسیاتی مسائل اور دماغی امراض کی نہ صرف بہتر تشخیص کر رہے ہیں اور ان کا بہتر علاج کرنے کے بھی قابل ہو رہے ہیں۔

انسان کی خود آگہی کی وجہ سے اس کے شعور کے ارتقا کا سفر جاری ہے۔
۔ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 466 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments