پاکستانی بچے، اخبارات اور مطالعے کی عادت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہمارے بچوں کی اکثریت مادری زبانوں اور مطالعے سے کوسوں دور ہے۔

یہ کوئی سطحی جذباتی مشاہدہ نہیں بلکہ ایک معروضی حقیقت ہے۔ ہم نے ذاتی طور پر مطالعے کی ابتدا دوسری جماعت میں ہی بچوں کی کہانیوں سے کر دی تھی۔ کیوں کہ ہمارے والد صاحب قبلہ ہماری پیدائش سے قبل ہی ایک رینٹل لائبریری چلاتے آ رہے تھے۔ لیکن ہم نے جلد ہی اخبارات کا مطالعہ بھی شروع کر دیا۔ ابتداء میں ہم ان میں فلمی اشتہارات دیکھتے تھے یا پھر کامک سٹرپس پڑھتے تھے یا پھر ہمیں کارٹون اور بچوں کے صفحات سے شغف تھا۔

خبریں اور مضامین ہمارے کام کی چیزیں نہ تھیں۔ نہ ہی اداریے کا پتہ ہوتا تھا کہ کس چڑیا کا نام ہے؟ یہ اور بات ہے کہ آج بھی بہت سے لوگوں کو پتہ نہیں کہ اخبارات میں ایک عدد ادارتی صفحہ بھی ہوتا ہے۔ بس وہ اپنے پسندیدہ لیڈر کی تصویر دیکھتے اور تقریر یا بیان پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سب کچھ جان لیا۔ ان کی پوری سیاست انہی بیانات اور تقاریر پر کھڑی ہوتی ہے اور ان کا سیاسی اور معاشی شعور بھی!

یہ ذکر خیر ظاہر ہے اردو اخبارات کا ہو رہا ہے۔ گو کہ اردو ہماری مادری زبان نہیں۔ پاکستان کی قومی زبان ہے۔ لیکن جب ہمیں یہ بھی پتہ نہ تھا کہ قوم اور قومی زبان کس چڑیا کا نام ہے اس وقت سے اردو ہمیں پسند ہے، اور ہمیشہ رہے گی۔ لیکن ہم بہت سے دیگر پاکستانیوں کی طرح جو کہ اپنی مادری زبانوں سے تو ناواقف ہیں یعنی ان میں سے کئیوں کو اپنی مادری زبانیں لکھنا پڑھنا گوارا نہیں اور کئی تو بولنے تک کے روادار نہیں ؛ لیکن اردو کے بڑے گرویدہ ہیں پر ہم ان لوگوں کی طرح یہ دعویٰ ہرگز نہیں کریں گے کہ اردو ہمیں زبان مادر سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ ایسے دعوے کو ہم ایسا ہی سمجھتے ہیں کہ جیسے کوئی کہے کہ اسے اپنی ماں سے زیادہ کسی اور کی ماں یا اپنی ہی خالہ یا پھوپھی سے زیادہ محبت ہے۔ ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے اس قسم دعوی میں کچھ صداقت ہو بھی ؛ لیکن ایسے معاملات یقیناً انتہائی قلیل اور نہایت کمیاب ہوں گے۔

اور ہمارا یہ بھی خیال ہے کہ جو لوگ مادری زبانوں سے دور ہوتے ہیں وہ مطالعے کے شوق سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ اور بعض معاملات میں تعلیم سے بھی پرے۔ آپ اس سلسلے میں بھارتیوں اور پاکستانیوں کا موازنہ کر سکتے ہیں۔ بھارتی پاکستانیوں سے زیادہ مطالعے کے رسیا ہیں اور ایک پڑھا لکھا عام بھارتی بیک وقت تین زبانوں سے واقفیت رکھتا ہے۔ ایک اس کی مادری زبان، دوسرے انگریزی اور آخر میں بھارت کی راشٹریہ بھاشا ہندی۔ ایک بھارتی پنجابی بیک وقت پنجابی، انگریزی اور ہندی لکھ، پڑھ اور بول سکتا ہے اسی طرح ایک بھارتی گجراتی بشمول گجراتی انگریزی اور ہندی لکھ، پڑھ اور بول لیتا ہے۔ جب کہ کئی علاقوں کے لوگ ہندی سے تو نابلد ہوتے ہیں لیکن مادری زبان سے نہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں لوگ مادری زبانوں کو تو نہیں پڑھ پاتے لیکن اردو لکھ پڑھ لیتے ہیں اور انگریزی کے دیوانے ہیں۔

یہی سبب ہے کہ آپ بھارتی زبانوں کو بی بی سی اور وائس آف امریکا جیسی غیرملکی ویب سائٹس پر موجود پاتے ہیں۔ اگر آپ موازنہ کریں گے تو آپ پنجابی، گجراتی، تامل اور مراٹھی وغیرہ سمیت بھارت کی پڑھ تقریباً آدھی درجن زبانوں کو غیرملکی ویب سائٹس پر موجود پائیں گے۔ لیکن بہ استثناء اردو اور کوئی بھی پاکستانی زبان آپ کو وہاں نظر نہیں آئے گی۔ اگر آپ پشتو کی بات کریں گے تو وہ پاکستان سے نہیں بلکہ افغانستان سے وابستگی کی بنا پر کہیں پائی جاتی ہے۔

پاکستان میں ہماری معلومات کے مطابق سندھی، اردو اور انگریزی میں باقاعدہ اخبارات شائع ہوتے ہیں اور علاوہ ازیں پشتو، گجراتی اور پنجابی میں بھی۔ لیکن آخرالذکر تینوں زبانوں کے اخبارات کی تعداد ایک یا دو سے زیادہ نہیں، جب کہ اشاعت بھی محدود ہے۔ گجراتی اخبارات بھی اب دو لسانی ہو گئے ہیں۔ یعنی اردو/گجراتی۔ بانی پاکستان کی زبان صرف ستر سالوں میں پاکستان سے غائب ہو گئی ہے! افسوس صد افسوس!

اس سارے پس منظر میں خوشی کی بات یہ ہے کہ 25 ستمبر کو پاکستان بھر میں (قومی یوم مطالعہ اخبارات) نیشنل نیوز پیپر ریڈر شپ ڈے منایا گیا، اس سلسلے میں ہماری نظر سے ایک اشتہار گزرا جو کچھ اس طرح سے تھا: ”اپنے بچوں کو مطالعے کی طرف راغب کریں۔ ابتدا اخبارات سے کریں!“

یہ تقریبات گزشتہ دو سال سے اخبارات کے مطالعے کے فروغ کے اقدام کے طور پر منانی شروع کی گئیں ہیں، کہ اخبارات کے مطالعے کا رجحان پاکستان سمیت دنیا بھر میں کم ہو رہا ہے جب کہ پاکستان میں تو رجحان مطالعہ ویسے ہی کم ہے۔ یہ ایک حوصلہ افزا قدم ہے جو کہ صحیح سمت میں اٹھایا گیا ہے اور ہم اس کے ایک عام قاری اور ایک اخبار بیں کی حیثیت سے انتہائی درجے تک معترف ہیں۔

مطالعے کی عادت میں کمی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جب کہ ہم پاکستانی نہ صرف کتب و اخبار بینی اور مطالعے میں پسماندہ ہیں بلکہ تعلیم ‏میں بھی پچھڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اکنامک سروے 21 / 2020 کے مطابق ملک میں شرح خواندگی 60 فی صد تک برقرار ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن اس دعوے کی حقیقت یہ ہے کہ ان 60 فی صد خواندہ لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو محض اپنا نام لکھ سکتے ہیں یا اپنے دستخط کر سکتے ہیں۔

اگر آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی کو پاکستان میں فروغ مطالعہ سے دلچسپی ہے، اور ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی مطالعہ کریں اور ملک میں کتب و اخبار بینی کو فروغ حاصل ہو تو اس کے لیے ہم ان کو ایک قاری کی حیثیت میں مودبانہ و مخلصانہ مشورہ دیں گے کہ سوسائٹی پاکستان میں تعلیم کی فروغ کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کرے اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تعلیمی اداروں میں بھارتی تعلیمی نظام کی اصول پر سہ لسانی فارمولا نافذ کرنے پر قائل و مائل کرے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی تنظیم سے وابستہ رکن اخبارات کو ہدایت کرے کہ اپنے اپنے اخبارات میں بچوں کے صفحات اور رسائل کو از بس ضرور شامل کریں۔ کہ اس قسم کی سہولت اکثر پاکستانی اخبارات میں مہیا نہیں ہے۔

ہمیں ایک سندھی دانشور کے بارے معلوم ہے کہ انہوں نے ایک شاندار اخبار کا آغاز کیا اور تقریباً ہر روز اخبار کے ساتھ ایک رسالہ نما ضمیمہ شائع کرتے تھے کسی نے مشورہ دیا کہ بچوں کا صفحہ بھی جاری کریں تو موصوف نے استفسار کیا، ”اس کے لیے اشتہارات ملیں گے؟“

بتایا گیا، ”نہیں!“ تو فرمایا، ”پھر اس کی ضرورت نہیں!“
تو اس قسم کی ذہنیت کے لوگوں کی موجودگی میں بچوں کو اخبارات کی طرف کیسے مائل کیا جا سکتا ہے؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments