پرویز ہود بھائی نے آخر ایسا کیا کہہ دیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگریزی کا ایک محاورہ ہے ہے ”ایلی فینٹ ان دی رووم“ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی مشکل مسئلہ یا موضوع واضح طور پر سامنے ہو مگر اسے تسلیم کرنے یا اس پر گفتگو کرنے سے بچنا یا منافقانہ روش اختیار کر کے جان بوجھ کر آنکھ بند کر لینا وغیرہ۔ ہمارے جیسے بند معاشروں میں بہت سارے موضوعات کو ڈسکس کرنا گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے اور بہت سارے غور طلب معاملات و مسائل کو معاشرتی خوف کی وجہ سے اگنور کر دیا جاتا ہے۔

اگر معاشرے کے کچھ حساس ذہن اور معاملہ فہم لوگ ان ممنوعہ موضوعات پر کبھی کچھ کہہ دیں تو ایک طرح کا طوفان بدتمیزی شروع ہو جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر غیرت بریگیڈ سر جوڑ کر بیٹھ جاتی ہے، ان کا انداز گفتگو کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ جیسے وہی دنیا کے باخبر ترین لوگ ہیں اور باقی تو صرف کچرا کباڑ ہے۔ کچھ دنوں پہلے پرویز ہود بھائی نے کسی پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جو خواتین نقاب یا عبایہ پہنتی ہیں ان کے رویے میں ایک طرح کی ابنارمیلٹی پیدا ہو جاتی ہے اور ان کی ایجوکیشنل پرفارمنس میں بھی بہت سی کمیاں واقع ہو جاتی ہیں“ اب یہ بات انہوں نے اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کہی تھی کیونکہ انہوں نے تقریباً چالیس سال تک قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھایا ہے اور جو انہوں نے محسوس کیا اسے اپنے تجربے کی بنیاد پر دیانتداری سے بیان کر دیا۔

ہود بھائی کا یہ بیانیہ کچھ سطحی سوچ رکھنے والوں کے ہتھے چڑھ گیا تو انہوں نے خوب اس کی درگت بنائی اور ہود بھائی کو مذہب دشمن ڈکلیئر کر دیا۔ شعوری نقارچیوں کا یہ المیہ ہوتا ہے کہ جب ان سے کوئی بھی سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ معاشرتی دباؤ میں آئے بغیر اپنے ضمیر کے مطابق اس کا جواب دیتے ہیں، پرویز ہود بھائی کا شمار چند ایسے ہی باضمیر لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنی بات کہنے سے بالکل نہیں چو کتے بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنی بات کہہ دیتے ہیں، یقین مانیں ایسے ہی لوگ معاشرے کی صحیح عکاسی کرتے ہیں کیونکہ یہ ریشنیلٹی پر یقین رکھتے ہیں اور ایموشنل باتوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔

ہود بھائی کے اس بیان کو اگر لوجیکل گراؤنڈ پر پرکھا جائے تو بطور ٹیچر میں دو تین مثالیں دے سکتا ہوں، ہمارے تعلیمی ادارے میں کچھ خواتین اساتذہ بھی پڑھاتی تھیں جو کہ نقاب پہن کر بچوں کو پڑھاتی تھیں مگر جب کبھی اکیڈمی میں کوئی فنکشن یا میٹنگ وغیرہ ہوتی تووہ اپنے میل سٹاف سے الگ ہو کر بیٹھتی تھیں انٹریکشن نہ ہونے کے برابر ہوتا اور جب ریفریشمنٹ کی باری آتی تو وہ خواتین نقاب کی وجہ سے ایک الگ تھلگ روم میں چلی جاتیں تا کہ کھانا وغیرہ کھا سکیں اس ساری صورت حال پر غور کیجیے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کے فیوچر پر فوکس کیا جاتا ہے، اتنے اہم مشن کے ساتھ جب دونوں جینڈرز کھلے پن کے ساتھ تعلیمی ڈسکشن نہیں کریں گے مسائل پر تذبذب اور ہچکچاہٹ ساتھ بات چیت ہوگی تو پھر بچوں کی تعلیمی پرفارمنس کیسے بہتر ہو پائے گی؟

ایک اوپن اور بہتر انٹریکشن ہی ایک خوبصورت اور با اثر کمبینیشن بناتا ہے۔ ہمارے اسٹاف میں ایک ایسی خاتون بھی تھیں جو یونیورسٹی سے ماسٹر کر کے ٹیچنگ فیلڈ میں آئی تھی اس میں میل سٹاف کے ساتھ ریفریشمنٹ کرنے کا حوصلہ تھا مگر وہ کھانا نقاب کے نیچے سے کھاتی تھی اور میل فیلوز کے ساتھ بات چیت آنکھیں دوسری طرف کر کے کرتی تھی۔ ایک میری طالبہ جو کہ حافظہ عالمہ تھی وہ جب اکیڈمی آتی تھی تو وہ ہاتھوں میں بڑے دستانے اور مکمل نقاب پہنے ہوتی تھی جب وہ مجھ سے مخاطب ہوتی تھی تو اپنی آنکھیں بند کر کے بات کرتی تھی۔

ان تین مثالوں کا حوالہ دینے کا میرا یہ مقصد ہے کہ کیسے نقاب یا عبایہ خواتین کے رویوں میں ابنارملٹی پیدا کرتا ہے، جب آپ کسی بھی شخصیت کو پس پردہ کرتے ہیں تو بہت سے نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ جو پیدا ہوتا ہے وہ ”خوف“ ہے جس کی وجہ سے سیلف کانفیڈنس تباہ ہو جاتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ تعلیمی پروگریس میں بھی نمایاں کمی آ جاتی ہے، اب یہ باتیں تلخ ضرور ہیں مگر غور طلب ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ان مسائل پر گفتگو ہی نہ کریں، مسائل کا ادراک کر کے اور ان پر ڈسکشن کا آغاز کرنے سے ہی بہتری کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کسی بھی فرد کی شخصیت کو چاہے میل ہو یا فیمیل پس دیوار کرنے کی کوشش سے اس کی حقیقی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے۔ تجربہ کے طور پر آپ ماسک کو اپنی روٹین بنا کر دیکھ لیں اور اسی حلیہ کے ساتھ اپنی مسلسل عادت بنا کر پبلک ڈیلنگ کر کے دیکھ لیجیے تو آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا جب تھوڑی سی زیادہ گفتگو کرنے سے آپ کا سانس پھولنے لگے گا اور آپ کو بوریت ہوگی، تو ذرا سوچئیے جنہیں آپ نے صدیوں سے پردہ کے نام پر مقید کر رکھا ہے تو کیا وہ سماج میں نارمل طریقے سے جی سکیں گی؟ لیکن یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم نے خود کی تربیت نہیں کرنی البتہ خواتین کو ایک مخصوص ڈریس کوڈ اپنانے پر مجبور ضرور کر نا ہے تاکہ ہم گناہوں سے بچ سکیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments