نئی تگڑم، طور پرانے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کا دستور بدل رہا ہے۔ یہ قریباً ویسا ہی وقت ہے جس کے بارے میں ہم سنتے آئے ہیں کہ پاکستان کے پاس امریکی اور روسی، دونوں بلاکس میں سے کسی ایک میں شامل ہونے کی راہیں کھلی تھیں۔

اگر کسی کو نوابزادہ لیاقت علی خان کی امریکی دورے کی تقریر کے کچھ حصے یاد ہوں تو عالمی سیاست کے اس جگسا پزل کے کئی ٹکڑے جوڑ سکتا ہے۔

پچاس کی دہائی میں پاکستان امریکی بلاک کا حصہ بنتا ہے۔ اس وقت کی پاکستانی اشرافیہ اور ارباب حل و عقد کا لباس، ان کی باڈی لینگویج، ان کا انداز خطابت کچھ اور تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان ادھورا نہ تھا۔

اتنے برس کے امریکی ساتھ کے بعد آج ہمارے وزیراعظم شکوہ کرتے نظر آتے ہیں، ’حضرات! چنگی نیئں کیتی۔‘ سوال یہ ہے کہ اتنے برسوں پر محیط اس بانجھ ساتھ کا ذمہ دار کون ہے؟

تاریخ کے صفحات جانے کس کس کے خون سے چپچپے ہیں۔ پلٹ کر دیکھیے تو نظر آتا ہے کہ شاید اسی ساتھ نے ہمیں ادھورا کیا۔ وہ ساتواں بحری بیڑہ، جو چٹاگانگ سے ہزار میل دور ہی رہا ایک علامت ہے۔ وعدہ خلافی اور بے وفائی کی کہانی طویل ہے۔

شاید یہ ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد میں موجود کوئی غلطی تھی جس نے پاکستان امریکی تعلقات کی دیوار ایسی ٹیڑھی میڑھی اٹھائی۔

جو بھی تھا اب امریکہ کے ساتھ پچاس کی دہائی کے مثالی تعلقات تک لوٹ جانے کا سوچنا بھی حماقت ہے۔ طالبان، پاکستان اور چین، یہ وہ تگڑم ہے، جس کے بارے میں کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بھی اشارہ کیا۔ ان کی باون برسوں پر پھیلی سیاسی بصیرت نے بھانپ لیا کہ پردہ اٹھنے پر اگلا منظر کیا ہو گا۔

دوسری طرف امریکہ اور انڈیا کے نئے تعلقات اور انڈیا کا مشرق وسطیٰ میں بڑھتا اثرورسوخ اور روس کے ساتھ اس کے قدیمی تعلقات ایک نئے اور مضبوط اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

خارجہ پالیسی کی بنیاد قومی مفاد پر ہوتی ہے۔ آج ہمارا قومی مفاد کیا ہے شاید ہمیں من حیث القوم ہی معلوم نہیں۔ ہم کل بھی ایک شاہانہ بے اعتنائی سے اپنے تعلقات بناتے اور بگاڑتے رہے اور آج بھی ہم ایک بے خودی میں وقت کے دھارے میں بہتے چلے جارہے ہیں۔

کل ہماری نکیل امریکہ بہادر کے ہاتھ میں تھی اور ہم گلے میں ’تھینک یو امریکہ‘ کی پھٹی ڈالے گھوما کرتے تھے۔ آج ہم کس ڈگڈگی پر ناچنے جا رہے ہیں، یہ فیصلہ کرنے سے پہلے جس سوچ سمجھ اور معاملہ فہمی کی ضرورت ہوتی ہے وہ مجھے کہیں دور دور تک نظر نہیں آتی۔

حکومت کے ایک رکن، پھپھا رپھڑی کی طرح امریکہ کی سڑکوں پر آتی جاتی عورتوں کو صلواتیں سناتے اور کلے پیٹ پیٹ کر توبہ توبہ کرتے پھر رہے ہوں اور باقی ماندہ لوگ سوشل میڈیا پر مسخروں کے منہ لگ رہے ہوں تو خارجہ پالیسی مائی توبہ توبہ کے تندور ہی سے برآمد ہوتی ہے۔

اس بدلتی دنیا میں پاکستان کو اپنا کردار بہت سوچ سمجھ کے طے کرنا ہو گا اور یہ بھی سوچنا ہو گا کہ پورا ملک، اس کا ہر شعبہ اور معاشرہ صرف اس لیے نہیں کہ آپ اپنے حلیفوں کو خوش کرنے کے لیے اسے قربان کر دیں۔

یہ بدلتا دور ہمارے لیے ایک موقع ہے۔ سنبھلنے کا بھی اور پھر سے پھسل کے گرنے کا بھی۔ حکومتی ٹیم میں دور دور تک وہ فہم و تدبر نظر نہیں آتا جو اس وقت درکار ہے۔

ترکی، چین، افغانستان، ان تین کے سوا بھی دنیا ہے، نیوزی لینڈ کی ٹیم کے واپس جانے سے دنیا ختم نہیں ہو جاتی۔ ہر وقت کوئی دیوار کے اس طرف بیٹھا سازش نہیں بن رہا ہوتا، بعض اوقات قصور ہمارا اپنا ہوتا ہے۔

دنیا سے شکوے شکایت بھی ہو گئے اور امریکہ پر ایک مکمل واسوخت بھی لکھ دی گئی۔ اب آگے چلنا چاہیے اور دنیا کو اسی کے انداز میں سمجھ کے چلنا چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments