بھلا یہ بھی کوئی الیکشن تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پتہ نہیں کیا ہوا۔ نہ اخباروں میں کوئی شور نہ ٹی وی پہ کوئی کھپ اور حکومت کے خلاف گلا پھاڑنے کی آوازیں، نہ لیڈروں کی سات پشتوں تک گنتی کٹھ پتلیاں، نہ فوج لائی، پیسہ لایا، دھاندلی لائی الیکشن کمیشن کی یا آر او کی ملی بھگت لائی، نہ کوئی تحریک عدم اعتماد کی دھمکی، بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ بس اچانک پندرہ اگست کو ٹی وی خبر نامہ کے نیچے پٹی چلنی شروع ہو گئی کہ گورنر جنرل کینیڈا نے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی درخواست پر پارلیمنٹ توڑ درمیانی مدت کے انتخابات کا اعلان کر دیا ہے جو بیس ستمبر کو ہوں گے۔

اب میڈیا پہ گورنر جنرل کا ذکر اتنا کم ہوتا ہے کہ نہ پچھلے گورنر جنرل کا نام یاد نہ موجودہ کا ۔ اب اگلے چند ہی دنوں میں بچوں کی اپنے دوستوں واقف کاروں سے گپ شپ کرتے فلاں کی پالیسی یہ فلاں کی یہ، یہ بری یہ اچھی قسم کی گفتگو سنائی دیتی اور امیدواروں کے نام میڈیا میں بھی آنے شروع ہوئے ساتھ ہی ان کے کارندے گھروں میں آ گھنٹی بجا یا اپنے دفاتر سے ووٹر لسٹ دیکھ فون کر کے اجازت لے باہر لان میں اپنے پلاسٹک کے بورڈ لگاتے گئے یا ان کے پروگرام کے فولڈر پکڑاتے رہے۔

بس اتنا ہی ہنگامہ تھا۔ ہم پاکستان کی زندگی یاد کرتے سوچ رہے تھے بھلا یہ بھی کوئی الیکشن ہے۔ الیکشن بھلا ایسے ہوتے ہیں۔ نہ مساجد کے گلا پھاڑ بولتے سپیکر نہ آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے کے نعرے لگاتے جلوسوں کی رونقیں نہ جلسوں میں بسیں پکڑ اور ٹرکوں میں لاد زبردستی یا دیہاڑی پہ یا کارخانوں کے کاریگر اور مدرسوں کے لائے بچوں اور کچھ شوقین حامیوں کی تعداد دس بیس پچاس گنا لکھنے والے صحافیوں کی تصدیق سے ”عوام نے فیصلہ کر دیا“ کے اعلان، نہ مولانا کے ہنود و یہود اور اسرائیل کے ایجنٹ کی چنگھاڑتی آوازیں، نہ کفر کے فتوے، نہ قوم لوٹ کے کھانے کے الزام، نہ کرین سے لٹکتی غریدہ فاروقی کی سٹیج پر چھلانگ۔

بس لوگ آپس میں گفتگو کر رہے ہیں اور نہ کوئی یہ بتانے پہ کہ وہ تو مخالف پارٹی کا حامی ہے اسے لعن طعن کر رہا ہے نہ ناراضگی کا اظہار۔ ہر ٹی وی، ریڈیو اخبار، تمام ایک حلقہ کے، یا مقامی یا قومی لیڈروں کو ایک جگہ بٹھا ان سے منشور یا قومی مسائل کی ایک پہلے سے دیے موضوع پر چند منٹ موقف سنتے حاضرین و ناظرین یا سامعین یا قارئین کے فون، ای میل، واٹس ایپ، ٹویٹر یا فیس بک وغیرہ متعلقہ موضوع پہ پوچھے گئے سوالوں کے جواب تحمل سے دے رہا ہے۔

مقابلہ کرتی چھ پارٹیوں ( دو نہ ہونے کے برابر ) میں چار یا پانچ کے سربراہ اور آئندہ وزیر اعظم بننے کے امیدوار ایک ہی سٹیج پر ساتھ کرسیوں پہ بیٹھے گپ شپ بھی کر رہے ہیں اور باری آنے پہ دھواں دھار یا دھیمے دلائل اپنے منشور کے حق میں یا دوسروں کے دلائل کے جواب میں دیتے بعض اوقات تلخی تک بھی پہنچتے ہیں مگر منہ نہیں پھیرتے۔

اب بتائیے بھلا ایسے انتخابات بھی ”منصفانہ غیر جانبدارانہ اور آزادانہ“ ہو سکتے ہیں جن میں الیکشن کمیشن کا پروگرام ( پاکستانی دیانتدار معاشرہ کے نمائندوں کے مطابق ) اتنی دھاندلی کے امکان والا شیڈول اور پروگرام اور تاریخیں مقرر کر سکتا ہے۔ اب دیکھئے۔ اعلان ہوتا ہے کہ نہ صرف مسلح افواج اور ضروری سروسز میں بلکہ غیر ملک میں مقیم یا مسافر کینیڈین کے ساتھ ملک ہی میں دور رہنے والے چھوڑ بہت بزرگ اور کورونا کے ڈر سے پولنگ سٹیشن نہ آ سکنے والے آن لائن یا ڈاک کے ذریعہ ( غالباً چودہ ستمبر ) درخواست دے بیلٹ کٹ منگوا 20 ستمبر شام چھ بجے تک ووٹ بھجوا سکتے ہیں اور ظلم یہ کہ ان کی گنتی بھی اگلے ایک دو روز میں ہو سکتی ہے۔ اور پھر ہر گھر میں ہر ووٹر کا ووٹر کارڈ دس ستمبر تک مل جاتا ہے، نہیں تے نا سہی پھر بھی ووٹ ڈال لیں گے۔ عجب ہے بھائی، غضب ہے بھائی۔ دس سے تیرہ کے چار دن آپ پہلے ہی جا کہ ووٹ ڈال لیں۔ اوپر بیان شدہ تینوں ”آنے“ (منصفانہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ) تو یہیں گم گئے نا۔

بارہ ستمبر کو کسی کام جاتے پولنگ سٹیشن کے باہر گاڑی پارک کرتے ووٹ کے لفظ کے ساتھ تیر کے نشان کی طرف چلتے سکیورٹی والے کے پاس سے گزرتے ووٹنگ ہال میں داخلہ کے وقت ووٹر شناختی کارڈ دکھا کر پہلے میز سے متعلقہ میز کا نمبر لیتے وہاں ووٹر اور شناختی کارڈ دکھا اور فہرست پر چھوٹی سی پنسل سے اپنے نام کے آگے دستخط کر پنسل کوڑے دان میں پھینک ساتھ والی میز سے بیلٹ پیپر لے مخصوص میز پہ ایک اور ڈسپوزایبل پنسل سے امیدوار کے نام کے آگے نشان لگا، یہ پنسل بھی کوڑے میں پھینک واپس بیلٹ ملنے والی میز پہ آ، تہہ شدہ بیلٹ کا نمبر والا کوپن کٹوا ساتھ ہی پڑے عام نالی دار مضبوط گتے یا پلاسٹک کے مہر شدہ ڈبے کی درز میں ووٹ ڈال، دوسرے راستے سے باہر آ، کار میں بیٹھنے تک پانچ منٹ سے کم لگے تھے۔ اچھا الیکشن تھا۔ نہ پولنگ سٹیشن کے نزدیک بلکہ کہیں بھی کوئی امیدوار کا ووٹر سے کھینچا تانی کرتا ( جعلی ووٹ ٹریننگ سکول بھی شاید یہیں ہوتا ہے نا ) کیمپ، نہ ہی اندر کسی امیدوار کا پولنگ ایجنٹ۔

بیس ستمبر کو اصل پولنگ۔ قطاریں بھی تھیں۔ ساڑھے نو پولنگ ختم رزلٹ شروع۔ بس اس وقت امیدواروں کے حامیوں یا پارٹی کے بک کرائے ہال میں رونق غل غپاڑہ بڑی سکرین پر آتے رزلٹ کے درمیان امیدوار، نعرے اور شور۔ رات ساڑھے بارہ تک رقبہ میں دنیا کے شاید دوسرے بڑے ملک کے الیکشن کے نتائج کا اعلان ہو چکا تھا۔ ٹروڈو پھر حکومت بنائیں گے۔ پانچ دن گزر گئے۔ الیکشن نا منظور۔ فلاں فارم نہ ملنا۔ ووٹ بکس اٹھائے جانے۔ آر او کے غائب ہونے اور گالیاں بکتے فائرنگ کے واقعات اور جلوسوں اور ٹی وی پہ گلا پھاڑتے لوگ دیکھنے کی تمنا ہے۔

الیکشن یہ تو نہیں ہوتا۔ اداسی بڑھ گئی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments