دبئی میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی محنت کش۔ کچھ گپ شپ

شیخ محمد بن راشد بلیوارڈ دبئی، اڑتیسویں منزل کی مشرق کو کھلتی بالکونی سے طلوع آفتاب کا دل کش منظر، طلوع آفتاب کے بعد آسمان کو چھوتے پلازوں کے سورج کی سنہری کرنوں سے چمکتے شیشے، اور ان کے چاروں طرف کی بلڈنگز سے منعکس ہوتی لہروں کے نظر آتے منفرد و فرحت بخش نظارے دیکھتے بالکل سامنے والی اسؔی نوؔے منزلہ بلڈنگ کی چھت کے پیچھے نظر رک گئی۔ برج خلیفہ اپنے ہی رنگ میں ڈھکا ہوا تھا۔ اتفاقا

Read more

کینیڈا: کیا مزا اس ووٹ ڈالنے کا

لو، بھلا کوئی یہ بھی ووٹنگ ہوئی۔ وہ بھی قومی اسمبلی کے جنرل الیکشن کی۔ الیکشن کی تاریخ اٹھائیس اپریل ہے۔ برامپٹن کینیڈا کے شاپرز ورلڈ شاپنگ مال میں آٹھ اپریل سے الیکشن آفس کی شاخ کھل چکی ہے۔ آئی جاؤ، ووٹ پائی جاؤ۔ ایڈوانس ووٹنگ آپ کی سہولت کے لئے۔ دوسرے ملکوں پدھارے کینیڈین شہری ڈاک سے ووٹ بھجوا دیں۔ چلو آن لائن ڈال دو۔ اچھا چلو یہ بھی لو، آپ کے قومی اسمبلی حلقہ کے لیے ہم اٹھارہ،

Read more

شارجہ صحرائی سفاری: چمکتی ریت اور مہم جوئی میں گزرا دن

صحرا نوردی کے لئے خصوصی بنی شارجہ کی صحرائی سفاری کمپنی کی فور وہیل ڈرائیو ایس یو وی جاپانی دو گاڑیاں آگے پیچھے دوبئی کی حدود سے نکل شارجہ جاتی سڑک پر ایک بڑے احاطہ میں داخل ہو چکیں تھیں۔ سارے رستہ کوہاٹ کے نواحی علاقے کا پٹھان باسی ڈرائیور ہمیں ان یک دم عمودی چڑھائی اور نیچے گراتی ڈھلوان والے صحرائی ٹیلوں پہ تقریباً چھلانگیں لگاتے اور گاڑی کی ایک سائیڈ ٹیلے کی ڈھلوان والی طرف پہ تیس پینتیس

Read more

ابو ظہبی کی الشیخ زید بن سلطان النہیان گرینڈ مسجد

چمکتی دھوپ میں ابو ظہبی کی انتہائی جدید طرز تعمیر کی بلند و بالا عمارتوں سے گزرتے اب ہمیں ایک شاندار بے شمار گنبدوں اونچے میناروں والی مسجد سامنے نظر آ رہی تھی۔ ہماری منی بس کا ڈرائیور ہمیں ان عمارتوں کے متعلق اپنی معلومات سے آگاہ کرتا آیا تھا۔ اور اب سامنے نظر آتی جامع الشیخ زید کبیر مسجد کے متعلق بتاتا ایک لمبا چکر گھومتے وسیع پارکنگ لاٹ میں کھڑی بے شمار سیاحتی بسوں اور وینوں کے ساتھ

Read more

ٹوٹے گھڑے کی ٹھیکریاں

پچاس کلو میٹر کی رفتار سے چلتے طوفانی جھکڑ اور شدید ہوتی جا رہی برف باری بالآخر اپنا رنگ جما چکے تھے۔ نقطہ انجماد سے نیچے درجہ حرارت کو ہوائی ٹھنڈک منفی پینتیس پہ لا چکی تھی۔ بہت عرصہ بعد پھر میں پنجابی کے بھولے بسرے زمانے کے لوک گیتوں کی البم آئی پیڈ پہ لگا اوپر کمرے کی کھڑکی سے برف کے تیز اڑتے گرتے موٹے موٹے گالے اور ان سے بنے ڈھیر دیکھ رہا تھا۔ پورا موسم بالکل

Read more

جزیرہ وکٹوریہ کا بُچارٹ گارڈن

دنیا کے مشہور ترین پھول پھلواری باغوں میں سے ایک وینکوؤر کے فیری ٹرمینل کی حدود کی آرام گاہ سے نکل ہم اپنی کاروں میں بیٹھ چکے تھے اور چند منٹ قبل چھوٹا بحری جہاز لگتی فیری اب سامنے ایک پورا منہ پھاڑے نگلنے کی منتظر بہت بڑی وہیل مچھلی لگ رہی تھی۔ آگے والی کاریں آہستہ آہستہ چار قطاروں سے دو قطاریں بن کر اس وہیل کے کھلے دہانے میں داخل ہوتی جا رہی تھیں۔ یہ نچلی منزل پر

Read more

جال والہ کا حیدر بخش

درمیانہ قد، اوپر اٹھے کندھوں کے درمیان نیچے دھنسی لگتی تھوڑا آگے جھکی گردن۔ تیس کی دہائی میں ہوتے بھی عمر سے خاصے زیادہ لگتے، سفید بالوں کی جھلک دکھاتی خشخشی داڑھی مخصوص سرائیکی لہجہ۔ یہ تھے خاردار جھاڑیوں ٹخنے تک پاؤں دھنسا دینے والی ریت کے میدانوں ٹیلوں اور سانپوں کے دواروں سے بھرپور پیدل چلتے لیؔہ سے چند کوس کے فاصلے پہ چھوٹی سی آبادی جال والہ کے حیدر بخش۔ ان سے ملاقات کی راہیں بھی انیس سو

Read more

ٹانگ تو ٹوٹ گئی نا

کہانی پینتالیس سال قبل کی ہے۔ پیپلز کالونی فیصل آباد میں گھر فروخت کیا تو اس میں لگے فون کو اپنی دکان پہ منتقل کرنے کی درخواست کے ساتھ محکمہ کی اجازت کے مطابق یہ بھی درخواست ڈال دی کہ منتقلی تک کی درمیانی مدت کے لئے فون عارضی طور بند رکھا جائے۔ تین چار ماہ انتظار اور دفتری چکروں کے بعد ایک دن لائن مین آئے اور اور فون کی کیبل فٹ کر فون لگاتے یہ خوش خبری بھی

Read more

اُلٹے جھُمکے عرف آلۂ سماعت

اشارہ تو بیگم ایک دو مرتبہ پہلے بھی کر چکی تھیں مگر آج کچھ بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آرہے تھے، کہ گھورتی آنکھوں غصے سے پھول چکے لال رخساروں والا چہرہ قریب آتے آتے کچھ رحم کھاتے انداز میں بدل چکا تھا۔ اور میرے کندھے ہلا کر متوجہ کرتے بتا رہی تھی کہ انہیں یقین ہو چلا ہے کہ ہمیں اب سنائی کچھ نہیں بلکہ خاصا کم دیتا ہے۔ وہ ”واجاں ماریاں بلایا کئی وار وے، تُساں تے

Read more

خیرا گلی کے محل میں ایک رات: چون برس قبل کی سیاحت

پشاور ہم پہلی بار آئے تھے۔ زمانہ وہ تھا کہ ابھی قابل دید مقامات کا اتنا تصور ہی نہ تھا۔ نہ ہی دلیپ کمار اور راج کپور کے گھروں کا کسی کو پتہ تھا۔ بس قصہ خوانی بازار، چپل کباب اور لنڈی کوتل کے دور کے سفر کی بجائے باڑہ مارکیٹ شہرت پکڑ رہی تھی اور عزیزوں سے ملاقات کے علاوہ خواتین کی یہ واحد دلچسپی تھی۔ اور یہاں بعد دوپہر جانے کا پروگرام تھا۔ ناشتہ کے بعد ہم تو

Read more

چوؔن برس قبل سوات اور باجوڑ میں

مردان سے گزرتی مرکزی سڑک کے ہوٹل میں کھانا کھا کچھ دیر آرام کے بعد ہمارا قافلہ سوات کے لئے روانہ ہو چکا تھا۔ ہم سالار قافلہ تھے اور دو سال پرانی ہو چکی بیگم، بڑی آپا، سات سے تیرہ برس عمر تک کی ایک بھانجی تین بھتیجے اور دو بھتیجیوں سمیت کل نو افراد اڑسٹھ ماڈل ٹویوٹا کرونا میں سیٹوں کے پاؤں میں بھی رکھے سامان کے اوپر یوں ٹھنسے تھے کہ کار کی چھت پہ لگے جنگلے میں

Read more

چوڑیاں لیتا جا وے باؤ ونگاں لیتا جا

ایک نفیس سریلی ونگاں لیتے جانے کی فرمائش کرتی آواز پہ وہ مڑ کے دیکھتا ہے تو چوڑیاں بیچنے والی سانولے رنگ کی بنجارن اسے ونگاں خرید لے جانے کی درخواست کرتی ہے۔ اسے لگتا ہے یہ پیشکش کرتے بنجارن کے چہرے پہ بھی چوڑیوں کے خوبصورت رنگ چڑھ چکے۔ بازو آگے کرتے پوچھ بیٹھا کہ کیا میں یہ چوڑیاں پہنوں گا؟ تو جواب میں دلکش مسکراہٹ لئے اپنی کسی دوست کسی سہیلی کے لئے لے جانے کی فرمائش ہوتی

Read more

جھیل ہیورون کا ویران جزیرہ اور بحری جہازوں کا قبرستان

سحری سے پہلے نکل کوئی چار گھنٹے کار چلاتے ہم دونوں بھائی لیک ہیورون ( Lake Huron ) کے کنارے آباد قصبہ ٹوبر موری (Tobermory) کے ریسٹورنٹ میں بیٹھے ناشتہ کرتے گپیں لگا رہے تھے۔ یہ ریسٹورنٹ جھیل سے نکلتی گھنے درختوں کے جھنڈ سے گزر کے آتی پانی کی کھاڑی کے کنارے تھا، جس میں خشکی سے جھیل میں پرائیویٹ کشتیاں اتارنے کی ڈھلوان اور پانی کے اندر ان کی پارکنگ کا مرکز ہے جسے میرینا کہا جاتا ہے۔ کھاڑی کے

Read more

کینیڈا کے برساتی نالے، بلوچستان کے کاریز، کوہ سلیمان کے رود کوہی

طوفانی بارش تھم چکی تھی دو گھنٹے میں تین انچ سے زیادہ بارش ٹورنٹو ائر پورٹ کا ریکارڈ بنا گئی۔ اور میں چسکا لینے گھر کے سامنے سڑک پار بنے برساتی نالے سے پانی کے بنائے گئے وسیع مصنوعی تالاب کے بند پہ کھڑا نظارے کا لطف اٹھا رہا تھا۔ تالاب کے گرد اگائے گئے قدرتی ماحول دکھاتے پودے، جھاڑ جھنکاڑ، سرکنڈا قسم یا پھول دار خود رو پودے، جھاڑیاں اور بلند بالا اور چھوٹے درختوں کے اس بالکل قدرتی

Read more

ائر کینیڈا کی فلائٹ: مکئی کی روٹی، ساگ، مکھن اور اوم پوری

ابھی سیٹ بیلٹ باندھی ہی تھی کہ پچھلی نشست سے ایک بہت ہی جانی پہچانی سی اور حال ہی میں سنی پاٹ دار آواز دیسی لہجے کی انگریزی میں بات کرتے سنائی دی۔ جھانکا تو واقعی اوم پوری تھے۔ دو ہزار بارہ کی اس دوپہر ائر کینیڈا کی یہ فلائٹ ٹورونٹو سے وینکوؤر جا رہی تھی اس نشست پہ میں افراد خانہ میں سے اکیلا تھا۔ باقی افراد کو دو مختلف جگہ آگے بیٹھنا پڑا تھا۔ چلئے اس سلیبریٹی سے

Read more

دیسی کار مکینکوں کی جگاڑیں جن کی مرسیڈیز کمپنی بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئی

اکتوبر سینتالیس میں ہجرت کر پاکستان پہنچنے کے چند دن بعد لاہور سے اپنے ننھیال پنڈی بھٹیاں جانے کے لئے سرداری لال کی گیس پلانٹ لاری میں وی آئی پی مسافر تھے۔ بس کے پیچھے بڑے سے چھجے پر پانی والے گیزر کی طرح کا بڑا سا فرنیس لگا تھا جس کو لکڑی اور کوئلہ کے آمیزہ سے جلائی آگ پانی کی بھاپ کو گیس میں تبدیل کرتے انجن تک پہنچا رہی تھی۔ یہ جنگ عظیم دوم میں پٹرول کمی

Read more

سائیڈ کار والی موٹر سائیکل

نہر کی پٹری پہ فرؔاٹے بھرتی موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پہ براجمان ہم کچھ ڈر رہے تھے کہ چلانے والا احسان پراچہ تھا۔ بالکل نئی موٹر سائیکل ٹرائمف ٹائیگر کب یعنی شیر کی بچی جسے احسان پراچہ کو خریدے ایک ماہ ہو چلا تھا اور وہ سیدھا سائیکل سواری سے بغیر کسی ٹریننگ اور بغیر لائسنس اور بغیر نمبر پلیٹ لئے بس کک مار سٹارٹ کر اس سواری کا ماہر ڈرائیور بن چکا تھا۔ ہم کچھ کچھ مطمئن بھی

Read more

دکھ کے دن کرب کی راتیں: یوم سوگ سے یوم تشکر تک

تیس مئی انیس سو چوہتر کو ایک دن گزر چکا تھا۔ علی الصبح گھر سے پیدل چلتے میں ریل بازار فیصل آباد کے بالکل سامنے تیس مئی کو دس گھنٹے تک جلتی رہی اپنی آٹو پارٹس کی دکان کے ٹوٹے شٹر، دھویں سے سیاہ عمارت اور سامنے اور ارد گرد مکمل جلے سامان کے ملبے پر کھڑا اپنی چیخیں روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ذرا سنبھلتے میرے منہ سے پھر وہی پکار نکلی تھی۔ ملتے جلتے الفاظ میں رب

Read more

چند روز کینکون (میکسیکو) میں ساحل سمندر پر

سہ پہر ڈھلتے ٹورنٹو ائر پورٹ سے کینکون، میکسیکو، جانے والا ہوائی جہاز اپنی پوری بلندی پہ پرواز کر رہا تھا۔ جنوب کی جانب بڑھتے جہاز میں دائیں طرف کی کھڑکی والی نشست پہ بیٹھے اچانک سورج کی چمکتی کرنیں چہرے پہ محسوس ہوئیں تو موندی آنکھیں کھول نیچے جھانکنا شروع کیا۔ نیچے شاید یو ایس اے کی وسطی شمالی ریاستیں ہوں۔ دور دور تک پھیلے جنگلوں کے درمیان کچھ کھلی جگہ کوئی حویلی سی لگتی۔ لکیر نظر آتی راہیں

Read more

پنڈت نہرو کا دادا کشمیری پنڈت تھا یا دہلی کا مغل کوتوال؟

دہلی کا تخت چھینا جا چکا تھا۔ لال قلعہ پہ برطانوی جھنڈا لہرا تھا۔ تحریک آزادی غدر کا نام پا چکی تھی۔ انگریزی افواج کتوں کی طرح سونگھتی مغلیہ شاہی خاندان کے افراد، ان کے بچوں، عزیز و اقارب اور ہمدردوں کو کونوں کھدروں سے بھی ڈھونڈتی سر قلم کرتی جا رہی تھیں۔ کوئی ایسا متنفس باقی نہ رہے جو کل کہاں مغلیہ سلطنت کا وارث ہونے کا دعویٰ کر سکے۔ اس عتاب کا نشانہ غیر مسلم، ہندو سکھ وغیرہ

Read more

جواں ہمت عابد انوار، فلاحی مملکت، پھونک سے چلتی وہیل چیئر

وہیل چیئر میں ہر طرف سے جکڑے گئے مکمل مفلوج جسم مگر مکمل ہوش و حواس میں پہلے سے زیادہ شگفتہ چہرے والے عابد انوار سے گپ شپ جاری تھی۔ اسے پاکستان کی اور کینیڈا اور دنیا کی سیاست اور حالات حاضرہ پر حسب معمول بات کرتے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ مکمل صحت مند ہو۔ وہ اپنے خاندان کی، اپنے بچپن کی، اپنی دیکھی ہم دوستوں کی محفلوں اور ہمارے اور اپنے والد کے دوستوں سے وابستہ یادوں

Read more

ایک ثانیے میں پورا جسم مفلوج مگر عابد انوار میاں ہارا نہیں، گھبرایا نہیں

عزم، ہمت اور رب پہ بھروسا کی منفرد داستان عابد اپنا ٹرک وسیع پارکنگ یارڈ میں اپنی مخصوص پارکنگ سپاٹ پر کھڑا کر اپنی کار کی طرف بڑھ رہا تھا کہ یاد آیا کہ ابھی جو اس نے اپنے دوست کے دفتر میں جانا ہے اس سے متعلقہ کاغذات تو ٹرک سے لئے ہی نہیں۔ وہ مڑا اور بجائے ڈرائیور سائڈ کے پیسنجر سائڈ کے پائیدان پہ کھڑا ہو دروازہ کھول فائل نکالی اور واپس اترنے لگا۔ کتنے پائیدان اترنے

Read more

نہرو خاندان کے رومان ( تیسری قسط)

 پنڈت نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کی رومانوی داستانیں۔ سچ تو آدھا ہے۔ انیس سو ساٹھ وہ سال تھا جس میں پنڈت جواہر لال نہرو کی معشوقہ ایڈوینا، لیڈی ماؤنٹ بیٹن اور ان کی بیٹی اندرا گاندھی کے محبوب اور خاوند فیروز گاندھی کی رحلت ہوئی۔ ادھر ایڈوینا کے سرہانے پڑے ملے چھپا دیے گئے پنڈت نہرو کے عشقیہ خطوط کے بنڈل کے حصول کا مطالبہ، چھپے رازوں سے پردہ اٹھانے کے لئے، برطانوی عدالت میں ایک قیمتی مقدمہ بنا

Read more

نہرو خاندان کے رومان

جواہر لال نہرو اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کا پوتر پریم یوں تو پنڈت نہرو اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کی پریم کہانی بظاہر گھسی پٹی داستان رہ گئی ہے جو ہر اس پاکستانی کو معلوم ہو گی جو تقسیم ہند کے وقت باؤنڈری کمیشن کی نا انصافی میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن سمیت ان کے کردار کو پڑھ چکا۔ اسی طرح زیادہ تر پاک و ہند میں اسے دو دلوں کی پاک محبت ہی کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر کیا واقعی

Read more

نہرو خاندان اور رومان۔ سید حسین اور وجے لکشمی پنڈت

قاہرہ کے عمومی طور ”مردوں کا شہر“ پکارے جانے والے الحرافہ نامی قبرستان میں واحد ہندوستانی مدفون ہے۔ یہ ہے سید حسین کا مدفن۔ پنڈت نہرو کی ہمشیرہ وجے لکشمی پنڈت اور سید حسین کی محبت کے قصے کا مرکزی کردار۔ یہ فقرے کلکتہ سے ایک عزیز دوست کی بھجوائی بی بی سی ہندی پر نشر رحمان فضل کی بیان کردہ مفصل داستان کے ابتدا میں بولے گئے۔ برطانیہ میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی اپنی تحریر

Read more

لاہور کے ہرکشن لال اور ٹورنٹو کے سر ہنری پیلٹ: عروج اور زوال

بات عجیب سی لگتی ہے مگر میرے ساتھ معاملہ کچھ ایسا ہی ہوا۔ مختلف ملک، سینکڑوں ہزاروں کلو میٹر کے فاصلے مگر ایک جیسی کہانیاں سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ دو ہزار سات میں گھومتے کینیڈا کے صوبہ البرٹا کے سیاحت کے مرکز، بالکل پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے حسن والے علاقے صوبہ البرٹا کے بینف میں واقع لوئیس جھیل پہنچے تو لگا چوالیس برس قبل دیکھی جھیل سیف الملوک آ پہنچے۔ بالکل ایک جیسا ناک نقشہ۔ دور چوٹی

Read more

انہیں بستی بسانا آتا ہے

میں چھڑی پکڑے گھر سے نکلا ہوں ذرا دائیں سامنے دو گیٹ نما ستونوں سے نکلتے چڑھائی چڑھتی پگڈنڈی سے پہلے پختہ فرش پہ چار خوبصورت لیٹر بکس نصب ہیں۔ ہر ایک میں پندرہ بیس خانے نزدیکی گھروں کے لیٹر بکس ہیں۔ میں چھڑی ٹیکتا پیچھے بنے سیلابی پانی ذخیرہ کرنے والی کوئی دو ایکڑ پہ بنی مصنوعی جھیل کے لئے بنائے گئے بند پہ چڑھتا ہوں۔ پگڈنڈی کے دونوں طرف خوبصورت پھولوں سے لدے چھوٹے درخت اور جھاڑیاں ہیں۔

Read more

سپرنگ دبائیں مگر اتنا کہ ڈھکن کھلتے ہی اچھل کر باہر نہ گرے

گھر کے دروازے کے باہر بیٹھ ہر سو پھیلے خزاں کے رنگوں میں رنگے درخت اور تیز ہوا میں اڑتے رنگ برنگے پتوں کو اڑتے گرتے دیکھنا اکتوبر کی سب سے بڑی مصروفیت اور دلی راحت ہے۔ ایسے میں پرانے دوستوں سے بھی گپ شپ ہوتی ہے۔ جو ابھی ہیں اور جو جا چکے اور جن کا پتہ ہے، موضوع بنتے ہیں۔ اور آج انیس سو ساٹھ سے چھیاسی تک کے ہمسایہ دکاندار گھرانے کا ذکر چھڑا۔ بڑے حاجی صاحب

Read more

جھینگر کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے

جھینگر کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے قیصر کا یہ پیارا ہے، اسے توپ پہ کھینچو بات بس اتنی سی تھی کہ سابقہ مضمون میں کتوں کی تدفین میں شوقین مالکوں کا اپنے کتوں کو اپنے عشق کا اعتبار دلانے کے لئے آٹھ دس ہزار ڈالر تک کے خرچہ کا ذکر کرتے کہیں لاشعور یا تحت الشعور میں بہت بچپن سے مدفون اوپر عنوان میں مذکور شعر کھڑاک سے جلوہ دکھا گیا۔ ہم نے قلم بند بھی کر دیا۔

Read more

رانجھے کی ہیر سے لیلیٰ کے کتے تک

یو ٹیوبر کے وی لاگ کا عنوان کچھ اس طرح کا تھا کہ فلاں سیاستدان نے فلاں ٹی وی کے پروگرام میں فلاں اینکر سے کتوں والی کر چھوڑی۔ تو گویا بات اب جئی تئی پھیرنے سے کتوں والی کرنے تک آ گئی۔ پاکستان میں کتوں والی کرنے یا ہونے والی کہانیاں چودہ طبق روشن کرنے لگیں۔ اور اب کینیڈا میں رہتے یہ کتے والی سوچتے سہیل وڑائچ کا جملہ ”کیا یہ کھلا تضاد نہیں“ سامنے گھوم رہا تھا۔ ہندوستانی

Read more

آزادی کے متلاشی امریکی غلام اور انڈر ورلڈ ریل روڈ کا نظام

رات کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ فلاڈلفیا کے قریب ایک چھوٹے سے قصبہ کے باہر کھیتوں میں درختوں میں گھری حویلی سنسان نظر آر ہی تھی۔ اچانک سامنے کی کھڑکی میں جلتی موم بتیوں کی ایک قطار سی نمودار ہونا شروع ہوئی۔ کچھ لمحوں بعد ایک درخت کی شاخ پر ایک جلتا لالٹین ایک طرف سے سبز روشنی دکھاتا لٹک گیا۔ سگنل ہو چکا تھا۔ سامنے درختوں کے جھنڈ سے ایک شخص نمودار ہو دائیں بائیں دیکھتا درخت کے

Read more

برطانوی ہند سے تارکین وطن کینیڈا لانے والا جہاز “کوما گاتوہ مارو“ اور تحریک آزادی

ہانگ کانگ سے روانہ ہو کے شنگھائی اور یوکوہاما رکتا ہوا چارٹرڈ جاپانی بحری جہاز ”کوما گاتوہ مارو“ وینکوؤر، کینیڈا کی بندرگاہ سے باہر ہی روک لیا گیا تھا۔ اس پہ برطانوی ہند کے صوبہ پنجاب سے تین سو چالیس سکھوں، چوبیس مسلمانوں اور بارہ ہندؤوں پہ مشتمل کل تین سو چھہتر غیر قانونی تارکین وطن، کینیڈا منتقل ہونے آئے تھے۔ کینیڈا کے مغربی ساحل پر تارکین وطن کی آمد اٹھارہ سو اکاون میں شروع ہوئی جب ریلوے لائن کی

Read more

میرے دل کے تار

اچانک کچھ یوں محسوس ہوا کہ دل کی دھڑکن کچھ پکار رہی ہے۔ بس، دھڑک دھڑک دل دھڑکے اور دل ماہی بے آب ہے اور بلیوں اچھل رہا ہے جیسے محاوروں کی طرح اچانک تیز اور پھر ہلکا دھک دھک دھک کرتا یا اس کی گھڑی ٹک ٹک ٹک کرنا شروع کر دیتی حالانکہ رات کے بارہ نہیں شام کے پانچ ہی بجے تھے۔ توجہ بدلنے کو ٹی وی پر یوٹیوب کھولا تو اسی دل کی جوانی کے زمانے کا

Read more

الیکٹرک کار۔ الف لیلہ کی داستان

کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ میں بائیں طرف ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا سارے کنٹرول ڈھونڈ رہا تھا اور بیٹا دائیں نشست پہ بیٹھا مجھے سمجھا رہا تھا۔ یہ جو سٹیئرنگ کے نیچے راڈ ہے اس کے سرے پہ پش بٹن کو دبائیے۔ بس کار سٹارٹ ہو گئی۔ یہ راڈ واحد گیئر شفٹ ہے۔ کھینچ کے نیچے کریں، یہ آگے چلانے والا اور اوپر کریں تو ریورس گیئر ہے۔ بس باقی آپ نے کچھ بھی نہیں کرنا سوائے ایکسیلریٹر دبانے

Read more

ابا حضور کا کلام۔ بھائی جان سے خبریں

شام کا دھندلکا پھیل چکا تھا اور کار فیصل آباد کے ریلوے سٹیشن کی طرف رواں تھی۔ کار کی پچھلی نشست پر رنگین چمکتے کاغذوں میں لپٹا اور جھالر دار فیتوں میں لپٹا بڑا سا ٹوکرا بہت بڑی بڑی انتہائی عمدہ خوبانی لئے اپنی خوشبو سے ہمارے دل میں کچھ نکال کے چکھ یا اپنے لئے رکھ لینے کی خواہش کو مہمیز لگا رہا تھا۔ بائیں نشست پہ ہمارے کالج کے پہلے دن کے بنے دوست جو اب گھر کے

Read more

آئی وارڈ کی نابینا لڑکی

بات تو میرے البم میں لگے اس فوٹو سے شروع ہوئی جس میں شفیق، میرے بڑے بھائی، ڈاکٹر ارشد مرزا اور ڈاکٹر دل محمد کے ساتھ ایک جیسے سوٹ پہنے کھڑے ہیں۔ پھر گھومتے گھومتے اس دور تک پہنچی جب کنگ ایڈ ورڈ میڈیکل کالج سے فارغ ہو کر یہ تینوں ہمزاد جیسے دوست میو ہسپتال کے آنکھوں کے وارڈ میں ہاؤس جاب مکمل کر رہے تھے۔ میں کاروباری سلسلے میں لاہور جاتا تو وہیں اس وارڈ کے مشہور و

Read more

وینکوؤر کے شہزادہ سیف الملوک اور پری بدر جمال

وائٹ راک، وینکوؤر۔ سمندر کے کنارے ریت پہ گرے درخت کے تنے پر بیٹھے سامنے چار سو چھیاسی ٹن وزنی سفید چٹان کو گھورتے میری شہزادہ سیف الملوک اور پری بدر جمال سے یہ تیسری ملاقات تھی۔ پورے ساٹھ سال قبل وادیٔ کاغان میں ناران سے پیدل جھیل سیف الملوک پہنچتے اس وقت کی واحد کشتی میں سیر کرتے کشتی بان نے سامنے دور چٹان کی طرف اشارہ کرتے ہمیں شہزادہ سیف الملوک کی داستان سنائی تھی۔ دور دیس کا

Read more

چمکتی چاندنی، آٹے تیل کو ترستی ماں اور دودھ کے لئے بلکتی بچی

اس کی الم ناک سسکیاں لیتے روتی درد بھری آواز میں اپنی جوانی کی بے وقوفیوں کی بھیانک نتائج کی کہانی نے میری نیند اڑا دی تھی۔ میرے کہنے پر اس نے اپنی داستان میرے میسنجر اکاؤنٹ وائس میسیج کے دو تین لمبے ٹکڑوں میں بیان کی تھی۔ وہ ایک معزز پٹھان خاندان کی لڑکی تھی۔ سکول کے زمانے میں ہی سولہ سال عمر میں ایک دولت مند گھرانے کے دلکش خوبصورت جوان کو دل دے kr گھر سے اس

Read more

مہنگا علاج یا مفت ملتی ورزش

روسٹرم پر آنے والے شخص کا تعارف صاحب داد شرما کے نام سے کرایا گیا۔ پست قد، چست منحنی جسم والے اکثر پارک میں تیز رفتار سے سیر کرتے اس شخص سے صاحب سلامت تو ہو چکی تھی مگر تعارف اب ہوا تھا۔ اور شرما صاحب بتا رہے تھے۔ ”پینتیس سال کی عمر میں انشورنس کمپنی نے میری تعیناتی دہلی کردی۔ وہاں کی انتہائی آلودہ فضا راس نہ آئی اور دو سال بعد ہر طرح علاج کے بعد مجھے ڈاکٹروں

Read more

بغداد کی گلیوں میں گھسیٹی جا رہی برہنہ لاش

جانے کیوں پندرہ جولائی 1958 کی صبح اخبارات میں چھپے بغداد کی گلیوں میں گلے میں رسی ڈال کے گھسیٹی جا رہی برہنہ لاش کے فوٹو آج بھی اکثر ڈراؤنے بھوت بن کے میرے سامنے ناچنے لگتے ہیں۔ یہ عراق کے شاہ فیصل ثانی کے ماموں، 1939 سے 1953 تک اس کی طرف سے بطور ریجنٹ اور وزیر اعظم حکومت کرنے والے عبداللہ کی لاش تھی۔ اس کی لاش کا مثلہ کرتے عضو مخصوص کاٹ منہ میں دینے کا بھی

Read more

قائد انقلابِ مصر جنرل نجیب کا جرم، ان کی نجابت

چھبیس جولائی انیس سو باون کی شام مصر کے معزول شاہ فاروق ایڈمرل کی وردی پہنے شاہی بجرے ماہ روسہ کے عرشے پر کھڑے تھے۔ جلا وطنی کا سفر شروع ہونے میں چند ہی لمحے تھے۔ طے شدہ معاہدہ کے مطابق فضائیہ بھی فلائی پاسٹ کرتے سلامی دے چکی تھی۔ مصر میں اس کی حکومت کا تختہ الٹنے والے آزاد افسران کے گروپ کا قائد اور مسلح افواج کا سربراہ جنرل نجیب اب ان سے صدر انقلابی کونسل اور ملک

Read more

افریقی ایشیائی اتحاد: آزاد بلاک کے خواب کو ڈسنے والے آستین کے سانپ

پچھلے برس دنیا میں عمران خان کے ”ایبسولوٹلی ناٹ“ کے نعرہ کی گونج میں جو پاکستان پہ بیتی وہ میرے سامنے ساٹھ کی دہائی میں انڈونیشیا کے سوئیکارنو کی دھتکار ”جہنم میں جائے تمہاری امداد“ اور ایوب خاں کے ”فرینڈز، ناٹ ماسٹرز“ کی للکار لے آئی۔ اور ساٹھ کی دہائی میں استعماری چنگل سے نکلنے کوشش کرنے والے اکثر ممالک کے رہنماؤں کا انجام نظروں میں گھومنے لگا۔ کہیں بالکل اپنے، مگر کرسی اور اقتدار کی خاطر ملکی مفاد بیچ جانے

Read more

چلتے گڈے سے کھینچے گئے گنؔے چوسنے کا مزا

کسی دوست کی فیس بک پہ لگائی تصویر توجہ کھینچ چکی تھی۔ سکول کا بستہ کمر پر لٹکائے، کندھے پر ایک بہت لمبا سا، جڑ اور پتوں سمیت گنا اٹھائے، چھوٹا سا بچہ، سڑک کنارے بنے ٹیوب ویل کے سامنے سے گزرتے اپنے گھر کو جا رہا ہے۔ اس کے چہرے کی خوشی اور آنکھوں کی چمک دیدنی ہے کہ وہ مال غنیمت لئے جا رہا ہے۔ اب پتہ نہیں وہ ہمارے بچپن میں کیے کارنامے دہراتا، کسی گنے کے

Read more

شاہ فاروق: بغاوت، معزولی اور جلاوطنی

”“بحیرۂ روم اور نہر سوئز کے سنگم کے قریب واقع مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں سخت کرفیو نافذ ہو چکا تھا۔ باہر نظر آنے والے فرد کو بغیر انتباہ گولی مارنے کا حکم تھا۔ مگر شہر کے نواح میں واقع مو نتازہ پیلیس سے نکلی دو مرسیڈیز کاریں اسی میل سے زیادہ رفتار سے ویران بازاروں اور گلیوں سے مڑتی، گزرتی شہر کے گنجان آباد علاقہ میں واقع راس التین محل کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ ان کاروں

Read more

قرۃالعین حیدر کے آٹو گراف

گفتگو کا سلسلہ جانے کہاں سے شروع ہو کہاں سے ہوتا انداز تحریر تک پہنچا تو شوکت پراچہ کے مونہہ سے نکلا ”قرۃالعین حیدر کا رنگ کہیں کہیں جھلک دیتا ہے“ ۔ میں چونک اٹھا۔ بے شمار ناول افسانے ادبی رسالہ پڑھے میرے تعلق والوں نے قرۃالعین کا نام بھی نہیں سنا ہوا یا چند صفحات کے بعد ، سمجھنا مشکل ہے، کا نعرہ لگانے کی حد تک ہی، اور یہ سرگودھا کا آٹو پارٹس ڈیلر اور قرۃالعین حیدر کا

Read more

جب دوسری عالمی جنگ میں امریکی فوجیوں نے ہماری آؤ بھگت کی

” پتہ ہے اس دن ہم نے بہت کچھ پہلی بار دیکھا۔ جاپانی جنگی ہوائی جہازوں سے بم گرتے دیکھے۔ امریکہ کا نام پہلی مرتبہ سنا۔ امریکن فوجیوں کو پہلی مرتبہ دیکھا، ملاقات ہوئی، فوجی ہمارے ساتھ گیند سے کھیلے، ان کی دعوت کا لطف اٹھایا، لذیذ کیک سے تواضع ہوئی۔ پہلی مرتبہ بند کین سے نکلے اورنج جوس کو پینے کا مزا لیا، چیز اور چپس چکھے“ بڑے بھائی کو شکاگو میں اپنے گھر جنگ عظیم دوم پر کوئی

Read more

آ نی بھڑی کجھ وین پا لیئؔے

بات فیس بک پہ ایک بظاہر برائے تفنن طبع پوسٹ سے شروع ہوئی۔ ”اپنے مسئلے، تکلیفیں ٹینشن، وغیرہ کی پوری فہرست دیتے بطور دوست و مشیر رابطہ کرنے کی درخواست“ کے ساتھ ہر مسئلے کا غبار نکالنے کی فیس بھی درج تھی۔ آخری آئٹم "ساتھ رونا دھونا” تھی۔ اب یہ خدمات تو مختلف رنگوں اور شکلوں میں رضاکارانہ یا معاوضہ پر دنیا کے اکثر علاقوں میں مہیا ہیں۔ تاہم، رونا دھونا، پھر بہت پیچھے لے جا چکا تھا۔ چنیوٹ کی

Read more

مکینوں کو ترستے محل ۔ کیسا لوما (ٹورونٹو) ، باؤلٹ کیسل (ہزار جزائر) اور عمر حیات محل (چنیوٹ)۔

محلہ کے سینئرز کا گروپ صرف یہ جانتے کہ سینئرز ڈے پہ ایک قابل دید پرانا محل کیسا لوما دیکھنے کے لئے خصوصی رعایتی گروپ ٹکٹ ہے ایک بہت بڑی اور شاندار نظر آتی پرانے یورپین گاتھک طرز تعمیر والی قلعہ نما عمارت کے سامنے کھڑا تھا۔ اور پھر چار گھنٹے اسے اندر سے دیکھتے اور باغات میں گھومتے لگے۔ ٹورنٹو کے قابل دید مقامات میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز، جنگ عظیم اول کے دور میں پورے کینیڈا کی

Read more

ویرانہ میں گزرے تین برس کی بہاریں

اب کہاں وہ جنرل بس سٹینڈ فیصل آباد کے سامنے آٹو پارٹس دکان کی رونقیں اور کہاں کینیڈا کے برامپٹن شہر سے شمال میں کیلیڈن کی حدود میں ہمارا ٹھکانا ایک ویرانہ۔ ارد گرد سب سو دو سو اور تین سو ایکڑ کے زرعی فارم، اور چاروں طرف پھیلی برف کی چادر۔ دھچکا تو لگنا ہی تھا۔ مگر محض خدا تعالی سے استمداد چاہتے سر جھکا کے اپنی استعداد کے مطابق دن رات نہ دیکھتے محنت پہ جٹ چکے تھے۔

Read more

دیوالیہ ائر لائنز کے مسافر

اواخر ستمبر انیس سو ننانوے کی اس خوشگوار سہ پہر ہم آئر لینڈ کے دوسرے بڑے شہر لیمرک کے شینن ہوائی اڈہ کے لاؤنج میں ویران آنکھیں ہونق چہرے لئے اے بی ائر لائنز کے خالی مکمل ویران پڑے بوتھ کو گھور رہے تھے۔ چار بجے کی پرواز سے لندن جانا تھا اور کچھ گڑ بڑ سی لگنے پر دوسرے ائر لائنز کے بوتھ والے نے مسکراتے خوش خبری سنائی تھی کہ خبریں سنتے رہنا چاہیے دوپہر پورے بارہ بجے

Read more

الطاف بھائی، حق چار یار اور واقعی زندہ بھٹو ذوالفقار جونئیر

ٹرین حیدر آباد کی حدود میں داخل ہوئی تو اچانک ہر دیوار پر ”الطاف بھائی کو رہا کرو“ کا نعرہ لکھا دکھائی دیا۔ کراچی کی حدود میں پھر یہی نظارہ تھا اور کراچی شہر میں حسب معمول تین چار روزہ کاروباری قیام کے دوران ہر گلی محلہ میں یہی وال چاکنگ دیکھتے ذہن نے یاد دلایا کہ کسی یونیورسٹی میں طلباء گروہوں میں فائرنگ کے دوران قتل کے الزام میں جوشیلے طالبعلم راہ نما الطاف حسین جیل میں تھے۔ واپس

Read more

جب لائل پور ڈوب رہا تھا

صبح صبح گھنٹی بجنے پہ باہر نکلا تو میاں غلام احمد کھڑے تھے۔ بغیر تمہید کہا کہ لگاتار شدید بارشوں سے پہاڑنگ نالہ بپھر گیا ہے اور یک دم سیلاب نے سب سے پہلے نشاط آباد کو ڈبونا شروع کیا ہے۔ وہاں پھنسے ہوئے ضرورت مندروں کو نکالنے رضا کار خدام کو پہنچانا ہے آپ کار  لے کے آ جائیں۔ لاہور روڈ سے نشاط ملز کی طرف کا پورا محلہ پانی پانی تھا جو ہر لمحہ اونچا ہوتا جا رہا

Read more

کوہ قاف، کوہ ندا اور نیؔرہ نور

قیام پاکستان کے بعد چنیوٹ میں آرہے۔ دوسری جماعت کا طالبعلم مگر پڑھنے کی استعداد اچھی تھی اور کھیل کود کی نسبت مطالعہ ترجیح۔ تیسری جماعت میں پہنچتے پہنچتے جتو تھان چوک میں چاولہ بک ڈپو تک رسائی ہو چکی تھی جو آنہ لائیبریری بھی تھی اور بچوں کی کہانیاں ایک یا دو پیسہ پر مل جاتیں اور روزانہ ایک آنہ خرچہ ملتا۔ سکول سے واپس آتے بستہ رکھ دوڑتے پہلا پڑاؤ ڈاکٹر اسماعیل کے کلینک کے سامنے والی گلی

Read more

دس روز باسفورس کے کنارے

پروگرام کچھ یوں ترتیب دیا گیا تھا کہ ہمارے استنبول کے ہوائی اڈے پہ اترنے کے ساتھ شکاگو سے آنے والے جہاز سے چھوٹی بیٹی کا گھرانا اترا اور سامان لینے والے ہال پہنچتے ہی وینکؤور سے آنے والے بڑی بیٹی اور داماد کے پہنچنے کی اطلاع آ گئی اس طرح سترہ افراد پر مشتمل میرا گھرانا ائر پورٹ کے بیرونی لاؤنج میں پہلے سے انتظام کردہ بس میں سوار ہو رہا تھا۔ پہلا سبق جو ملا وہ جوانی سے

Read more

ہوائی جہاز کا فری ٹکٹ دگنا مہنگا پڑا

” ابو قرعہ اندازی میں میرا پاکستان واپسی ہوائی سفر کا ٹکٹ نکل آیا ہے“ ۔ چھوٹی بیٹی حفصہ کی شکاگو سے خوشی سے اچھلتی تصویر فون پہ خوش خبری سنا رہی تھی۔ پاکستانیوں کی کسی تقریب میں ایک دوست ملک کی معروف ائر لائن نے یہ ٹکٹ پیش کیا تھا اور بیٹی خوش قسمت رہی کہ قرعہ اندازی میں اس کا نام نکل آیا۔ قرعہ اندازی کی ویڈیو گھومی اور مبارک باد کے فون چلے۔ ان ہی دنوں میرے

Read more

چنیوٹی کھوجے، اور کھُجیکی سے چنیوٹی شیخ اور چنیوٹ شیخ برادری تک

بیٹوں جیسے عزیز، عامر عزیز کا سوال آیا کہ ”چنیوٹی کھوجے“ کا پس منظر کیا تھا اور اب یہ الفاظ کہاں کھو چکے۔ بات چونکنے والی تھی۔ واقعی جب ہم چھوٹے تھے تو اکثر ”ہم چنیوٹی کھوجے“ اپنی ذات کے لئے اور ”ہماری کھجیکی“ برادری کی پہچان کے لئے استعمال ہوتا سنتے۔ میرے والد محترم کو کلکتہ، ملتان، سیالکوٹ وغیرہ میں کھوجہ کا اردو متبادل خواجہ صاحب کہہ کے پکارا جانا بھی یاد ہے۔ مگر واقعی اب کئی دہائیوں سے

Read more

چنیوٹ شیخ برادری۔ تلاش معاش، تقسیم ملک سے قبل

امرتسر سے بمبئی، مدراس، کلکتہ، رنگون اور نیپال تک ” یہ لوگ کہیں بھی پہنچ جاتے ہیں۔ بس روزی روٹی ملتی ہو۔ اب یہ سردار جی کہہ رہے تھے کہ بس کمائی ہو سکتی ہو اور دارو مل جاتا ہو جتنا بھی ویران، برفانی ٹھنڈا علاقہ ہو مجھے منظور ہے“ میرا استفہامیہ چہرہ دیکھ اگلا فقرہ تھا۔ ”اسی لئے تو مشہور ہے سکھ اور آلو ہر جگہ پائے جاتے ہیں“ کینیڈا میں نو وارد معمولی سرمایہ سے پٹرول پمپ خریدنے

Read more

رشتے۔ کانچ کی چوڑیاں

بات فلمی سی لگتی ہے مگر ہوا یہی تھا کہ ساس بہو کی روز روز کی چخ چخ، کوشش کے باوجود کم نہ ہونے پر ایک دن اسی گرما گرمی میں دونوں باپ بیٹا نے اپنی بیویوں کو بیک وقت طلاق دے دی تھی۔ اور تب اس چخ چخ کو آنچ دینے والے رشتہ داروں کے ( بظاہر ہمدردی کرتے ) قہقہوں اور ٹھٹھوں کی گونج برادری بھر میں عرصہ سنائی دیتی رہی۔ اور جب شیخ صاحب سے دوستانہ ہوتے

Read more

ٹیلی فون کا ڈبہ، دعا اور ”کچھ لکھ دیا کر“

وہ مہینے میں ایک دو بار آتا کسی سیلزمین کو اشارہ کرتا اور دکان کے پچھلے حصہ کی طرف بڑھ جاتا جہاں موٹر پارٹس سے بھر کر آنے والی لکڑی اور پلائی وڈ کی خالی پیٹیاں پڑی ہوتیں، اپنی پسند کی پیٹیاں باہر لے آتا، ادائیگی کرتا اور پیٹیوں کے تختے ادھیڑ باندھ سر پہ رکھ لے جاتا۔ مگر اسؔی کی دہائی کے اواخر میں اس دن لمبے قد، مضبوط محنت کش سمارٹ جسم کے ساتھ ادھیڑ عمر میں داخل

Read more

پانچ ہزار کی صابن دانی کار سے ساڑھے چھ ہزار کے پٹرول تک

عزیزم خیام بتا رہا تھا کہ پٹرول مہنگا ہونے کے بعد فارماسوٹیکل کمپنی نے جس میں وہ مارکیٹنگ کے شعبے میں مینیجر ہے سفر میں پٹرول کے اخراجات پر بہت پابندیاں عائد کردی ہیں اور شاید اب کچھ فیصد پلؔے سے بھی نکل جائے۔ پوچھ بیٹھا کہ بیٹا اب لاہور آنے جانے کے لئے کتنے کا پٹرول پڑے گا تو جواب میں ساڑھے چھ ہزار روپے کا عدد سنتے ہی چکر سا آ گیا۔ ”ارے عزیز میں نے جب پہلی صابن

Read more

بابا، بچہ اور ڈرائیونگ لائسنس

ممتحنہ پھر کمرے میں داخل ہوئی اور تحریری ٹیسٹ کی خوش خبری سنائی۔ کمپیوٹر آن ہوا اور اس پر ایک گول بڑے دیواری کلاک کا فوٹو ابھر آیا۔ اسے غور سے دیکھنے کے لئے دو منٹ کا وقت دیا گیا۔ سوائے اس کے کہ دس بج کر دس منٹ کا وقت دکھا رہا تھا اور کوئی خصوصیت پلؔے نہ پڑ سکی۔ اب وہ ہر میز پر امتحانی پرچہ الٹا رکھ کر امید وار کو پرچہ کی پشت پر اپنا نام لکھنے

Read more

عمران خان کے آئی فون اور بیگم نصرت بھٹو کا ہینڈ بیگ

ٹی وی خبرنامہ کی نیوز ریڈر سیالکوٹ ائر پورٹ سکیورٹی سے عمران خان کے دو فون چوری ہونے کی خبر دیتے اس ضمن میں شہباز گل کی ٹویٹ پڑھ کے سناتے یہ فقرہ دہرا رہی تھیں ”خان نے جو ویڈیو بیان ریکارڈ کروایا ہے، وہ ان فونوں سے نہیں ملنا“ ذہن کو جھٹکا لگا اور پی آئی اے کے جہاز میں مجھ سے تین چار میٹر دور کھڑی محترمہ نصرت بھٹو ( مرحومہ ) کالا لباس زیب تن کیے غصہ سے

Read more

نور جہاں! تیرے پتر ہٹاں تے وک گئے نی

حکومت گھر بھیجی جا چکی مگر سوشل میڈیا پہ روزانہ موصول ہونے والی بے شمار پوسٹس میں سے دو میرے ذہن سے کھرچی نہیں جا رہیں۔ پہلی اوپر درج کردہ فقرہ ”نی نور جہاں تیرے پتر ہٹاں تے وک گئے نی“ اور دوسرا غیر ملکی میڈیا میں شائع شدہ ایک کارٹون جو جرمنی سے دوست نے بھیجا۔ اس میں دکھایا گیا کہ میز پر لگے امریکہ اور پاکستان کے جھنڈوں میں سے امریکہ والی طرف امریکہ کے روایتی نشان انکل

Read more

صدر طلباء یونین کا مریض کے لئے چندے کے نام پر بھتہ

دو روز قبل آنے والے فون پر اس نے مجھے اپنا تعارف اسلامیہ کالج کی طلباء یونین کے صدر کی حیثیت سے کراتے مؤدبانہ درخواست کی تھی کہ کینسر کے مریض ہو چکے ایک غریب طالبعلم کے علاج کے سلسلے میں فوری پانچ ہزار روپے کی ضرورت ہے اور ابھی لڑکا لینے کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔ اسلامیہ کالج میری دکان بالمقابل جنرل بس سٹینڈ فیصل آباد سے کوئی فرلانگ بھر آگے سرگودھا روڈ پر واقعہ تھا۔ فوری کے

Read more

کاروبار کے لئے بنک قرضہ اور میں

انیس سو ستاون سے جب ہم نے پہلی بار بنک اکاؤنٹ کھولا تھا اعصاب پر سوار یہ فقرہ ”بنک قرضہ کاروبار کے لئے صرف ان ہی کے لئے ہوتا ہے جو ممکنہ طور پر اس کے بغیر گزارا کر سکتے ہیں۔“ پاکستانی حکومت کی چھوٹے کاروبار کے لئے ضرورت مندوں کو قرضہ دیے جانے کے حالیہ اعلانات کے بعد پھر سے آنکھوں کے سامنے گھومنا شروع ہے۔ جون انیس سو چوہتر کا پہلا ہفتہ تھا۔ ریل بازار پولیس چوکی فیصل

Read more

رات گیارہ بجے بغیر اطلاع آنے والے 22 مہمان

لاہور کراچی اسلام آباد راولپنڈی فیصل آباد کسی بھی بڑے شہر میں جب بھی کسی عزیز رشتہ دار دوست واقف کار کے ہاں جانا ہوا یا ہوتا ہے تو ایک فقرہ باتوں باتوں میں میزبان گھرانے کے کسی فرد سے کسی پیرایہ یا ملتے جلتے الفاظ میں اکثر سنائی دیا یا دیتا ہے یا دے گا۔ ”ہمارے یہاں آنا جانا اور مہمانداری بھی تو بہت ہے نا۔ “ کہیں بشاشت سے ماشااللہ الحمدللٰہ کہتے ہوئے اور کہیں کچھ سکڑے منہ

Read more

سنگ، سر اور چھاپہ مار

نوے کی دہائی شروع ہونے تک پاکستان میں پھیلائی جا چکی نفرت عصبیت مذہبی فرقہ وارانہ شدت پسندی اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال اور دنیا میں عمومی بڑھتی طاقت ور کے کمزور کو پنجے میں دباتے ملکوں کو تباہ کر دینے کے رجحان اور دہشت گردی میں دن بدن اضافہ ہوتے دیکھ اکثر لاوا سا اٹھتا کہ طاقت ور کے مقابل کمزور کا ساتھ دینے کیوں کوئی نہیں اٹھتا اور یہ خفیہ چھاپہ مار کارروائیاں دھماکے وغیرہ؟

Read more

الہڑ مٹیار ، ڈاکٹر اور جبری زیادتی کا سرٹیفیکیٹ

” کالی دھوتی سفید کرتہ پہنے آلتی پالتی مارے درخت کے سائے میں بیٹھی کوئی چودہ پندرہ برس کی“ یہاں پہنچتے ڈاکٹر کی آواز بھرا چکی تھی اور وہ چشمہ اتار آنسو پونچھنے لگ گیا تھا ستاون اٹھاون برس قبل کی کہانی ہے۔ شادی وادی کے جھمیلے سے آزادی ہوتے چھٹی کے دن ہم چار پانچ دوست کسی ایک کے گھر اکٹھے ہو جاتے اور گپ شپ میں وقت گزرتا۔ جب میاں صاحب کے گھر ہوتے تو کبھی کبھی ڈاکٹر

Read more

وہ اللہ لوک تھا، مجذوب تھا یا متوکل؟

اسے میں نے ہمیشہ پینٹ اور بش شرٹ میں ہی دیکھا۔ سردیوں میں کوٹ کا اضافہ ہو جاتا۔ وہ آتا ایک طرف کھڑا ہوجاتا۔ میں ایک روپیہ کا نوٹ پکڑ اتا اور وہ چل دیتا اور ہمیشہ صرف ایک ہی فقرہ اس کے منہ سے نکلتا ”اللہ بہت دیوے گا۔“ ایک صبح مارکیٹ کے ایک دکان دار محمد ظہور کے ساتھ ایک منحنی جسم جھریوں بھرے چہرے درمیانے قد سفید کالے بالوں بظاہر پچاس پچپن سال کا محمد صدیق میرے

Read more

کبیر نے مجھے ڈھونڈ نکالا

دکان میں داخل ہوا تو سینئر سیلزمین کے چہرے پہ ہوائیاں اڑی نظر آئیں اور وہ آ کے کان میں کہنے لگا وہ جی ابھی سرگودھا سے کال آئی تھی کسی بڑی عدالت والوں نے آپ کو فوراً واپس فون کرنے کا حکم دیا ہے۔ یا اللہ خیر کہتے فون ملا اپنا نام بتایا کہ اس نمبر سے مجھے واپس فون کرنے کا حکم ملا ہے۔ جواب بڑے مؤدبانہ انداز شیریں لہجہ میں تھا ”جی میں نے کال کی تھی میں

Read more

امرتسر ٹی وی پہ “مغل اعظم“ اور لاہور

واٹس ایپ پہ کوٹ ادو کے صحافی رضوان گورمانی کا بھیجا سعودی عرب میں کنسرٹ کے داخلہ کے لئے بے چین مرد وزن کے فوٹو کے نیچے فقرہ تھا، ” مجھے حاجی سلطان راہی کی فلموں کے افتتاحی شو یاد آگئے ” اس کو تو یہی جواب دیا کہ عزیزم کاش آپ نے دلیپ کمار اور نادرہ اور نمی کی فلم "آن ” کے افتتاحی دنوں کے رش کی آن بان اور شان دیکھی ہوتی، مگر اگلے فقرہ میں محمد

Read more

رفیق بروکر: میرےمحسن تو بھلایا نہ گیا

ایک دو ڈرم اور پانچ چھ کنستر مٹی کے تیل کے، ایک دو ڈرم لائٹ ڈیزل آئل، ایک دو ڈرم ہائی سپیڈ ڈیزل آئل دو ڈرم موبل آئل و موٹر آئل، پیمانے قیف اور ڈرم سے تیل نکالنے کا سامان۔ 1955 میں ساڑھے تین سو روپے کے سرمایہ سے، (آئل ایجنسی سے ملے ادھار سمیت) پل جھال خانوآنہ سے سمندری روڈ پر مڑتے پہلی نئی تعمیر شدہ سلیم بلڈنگ کی محصول چونگی کے دفتر کے قریب تیس روپیہ ماہانہ کرایہ

Read more

میرے لئے وہی کافی رہا ورنہ؟

رات سونے کے لئے لیٹا تو نیند تو کیا آتی ذہن میں سامنے آگ کے اونچے روشن الاؤ کے نیچے سے انسانی پاؤں اور ارد گرد کھڑا انسانوں کے روپ میں وحشی بھیڑیوں کا گروہ رحمت للعالمین کے نام کے نعرے لگاتا انہی کی تعلیم کو سپرد آتش کرتے گندی گالیاں نکالتا گھوم رہا تھا۔ پھر آگ کے الاؤ میں بھسم ہوتے جسم کے سامنے فخر سے سیلفی بناتا مجاہد اول تھا۔ صبح بہیمانہ قتل اور میت کی ”عزت“ سنتے

Read more

وہ فتوی لینے آئے تھے

حسب معمول سہ پہر سے قبل فیصل آباد جنرل بس سٹینڈ کے سامنے آٹو پارٹس مارکیٹ کے چند دکاندار چائے اور گپ شپ کے لئے میری دکان پر جمع تھے۔ آج صدر صاحب کچھ خاموش افسردہ لگ رہے تھے جیسے صحیح سو نہ سکے ہوں اور تھکاوٹ ہو۔ پوچھا تو کہانی سنا دی، جو کچھ یوں تھی۔ کل دوپہر کے بعد کوٹ ادو علاقے کے ٹریکٹر پارٹس کے ایک دکاندار گاہک کا لاہور سے فون آیا کہ آج ہمارا کچھ

Read more

جب عمر ڈھل جائے۔۔۔

دور سے آتے نظر آتے چوہدری صاحب کی رفتار میری دکان میں داخل ہونے تک زیادہ تیز ہو چکی ہو تھی۔ خلاف معمول چہرہ بہت سرخ ہو رہا تھا۔ گھبرا کے کھڑا ہوا ہی تھا کہ میرے گلے لگ دھاڑیں مار رونے لگ گئے۔ ”خیریت، کچھ بتائیں تو سہی“ ۔ رندھی آواز نکلی ”نہیں نہیں۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ یونہی بھڑاس نکالنے کو دل کیا تھا۔ ایڈمنسٹریٹر نے میرے بیٹے کو ریلیز نہ کرنے کی میری درخواست رد کر

Read more

فری سواری

طلوع آفتاب سے قبل ہی فرسٹ ائر کا یہ طالب علم ہلکی خنکی میں اپنا بہترین ( میسر وسائل کے مطابق ) لباس پہنے ٹائی لگائے ستیانہ روڈ فیصل آباد کی اس وقت کی محصول چونگی کے سامنے واقع فیصل آباد کے آخری گھر سے پیدل چلتا سرکلر روڈ ( مابین ریل و کچہری بازار ) پر واقعہ بس سٹینڈ پہنچ مطلوبہ بس سروس کا دفتر یا بکنگ آفس ڈھونڈتے فخریہ جالندھر کوآپریٹو بس سروس کے بکنگ کلرک کے سامنے

Read more

ہوڑہ ایکسپریس۔ زنانہ ڈبہ میں خنجر بردار

اوپر کمرے میں بیٹھے کھڑکی کھول سامنے سڑک پار بنے سیلابی پانی کا ذخیرہ کرنے والے تالاب میں گرتی بوندوں اور ارد گرد لگے اور دور تک نظر آتے آبی حیات کی نشوونما کے لئے اگائی گئی جھاڑیاں، اکتوبر میں خزاں کی وجہ سے سوکھتے رنگوں کی بہار لئے، ہوا میں اٹھکیلیاں بھرتے تیرتے گرتے، پتوں کا نظارہ کر رہا تھا کہ پرانے گیت سناتے آئی پیڈ سے کانن دیوی کی آواز نے توجہ کھینچ لی۔ ”دنیا یہ دنیا طوفان

Read more

کینیڈا کا پارلیمنٹ الیکشن اور پولنگ سنٹر کا ساتواں میز

رات ساڑھے بارہ بج رہے تھے اور ساڑھے نو بجے تک ووٹ ڈالنے کا وقت ختم ہونے کے ساتھ ہی نتائج کے آتے اعلانوں کی خاصی واضح کی جا چکی تصویر کے بعد سونے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک یاد آیا کہ ہماری ونی پیگ رہنے والی بیٹی نے تو الیکشن ڈیوٹی بھی لی تھی۔ بیٹی ابھی فارغ ہوئی تھی اور پھر جو تفصیل اس کے فرائض کی سنی تو حیران تھے کہ بھلا یہ بھی کوئی الیکشن

Read more

بھلا یہ بھی کوئی الیکشن تھا؟

پتہ نہیں کیا ہوا۔ نہ اخباروں میں کوئی شور نہ ٹی وی پہ کوئی کھپ اور حکومت کے خلاف گلا پھاڑنے کی آوازیں، نہ لیڈروں کی سات پشتوں تک گنتی کٹھ پتلیاں، نہ فوج لائی، پیسہ لایا، دھاندلی لائی الیکشن کمیشن کی یا آر او کی ملی بھگت لائی، نہ کوئی تحریک عدم اعتماد کی دھمکی، بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ بس اچانک پندرہ اگست کو ٹی وی خبر نامہ کے نیچے پٹی چلنی شروع ہو گئی کہ

Read more

شناخت پریڈ کے لئے ہماری جیل یاترا

عائشہ اکرم کی اپنے مجرموں کی شناخت کے لئے جیل جانے کی میڈیا تفصیل پڑھ ہنسی بھی چھوٹی اور کوئی ستائیس سال قبل کی بیگم کے ہمراہ فیصل آباد جیل کے اندر جانا، گھر میں پڑے ڈاکا کے ( ہماری شو مئی قسمت سے ) مجرموں کے پکڑے جانے کے بعد ، ان کی شناخت کے لئے شناخت پریڈ بھگتنا بھی یاد آیا۔ چھبیس جون انیس سو ترانوے کو دوپہر بیگم کے گھر میں اکیلے ( سات آٹھ سالہ ہمسائی

Read more

کہانی قومی بچت سرٹیفکیٹ منافع فراڈ سے بچت کی

یہ آپ بیتی ان لوگوں کو محتاط ہونے کی درخواست لئے ہے، جو قومی بچت سکیم کے کسی بھی قسم کے سیونگز سرٹیفیکیٹ خریدتے ہیں اور منافع باقاعدگی سے وصول کرنے کی بجائے سال دو سال یا کئی سال بعد جا اکٹھا وصول کرتے ہیں۔ یہ کہانی کسی ایک برانچ کی نہیں بلکہ ہاتھ ہونے کے بعد پتہ چلا بہت سی اور اکثر شہروں میں اس نیکی میں شریک ہیں اور ہر ماہ لاکھوں کا فراڈ کر کے اجتماعی ثواب

Read more

طارق سعید بھی چل بسے

انیس سو ساٹھ میں جب میں نے اپنی دکان کے لئے آٹو پارٹس کی خریداری کے لئے کراچی جانا شروع کیا تو اس وقت پلازہ سکوائر بندر روڈ ( بعد میں ایم اے جناح روڈ ) میں قلعہ دیدار سنگھ اور ایمن آباد سے آئے آٹو پارٹس کے روز افزوں بڑھتے کاروبار میں معروف دکاندار نہ صرف اپنی نئی پود کو کاروبار میں لانا شروع کر چکے تھے بلکہ اپنے آبائی علاقہ کے نوجوانوں کو بلا، ملازمت کے ساتھ ٹریننگ دیتے، اپنا کاروبار شروع کرنے میں معاونت کر رہے تھے۔

Read more

یوم آزادی: چودہ اگست یا پندرہ اگست کا ابہام اور بی بی سی کی دانستہ غلط بیانی

قیام پاکستان کے وقت میری عمر چھ سال سے کچھ اوپر تھی اور چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو ہم عمر بچوں کی قطار میں ایک دوسرے کے کرتے پیچھے سے پکڑے ٹرین بنا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے گلیاں گھومنا بھولا نہیں۔ پچھلے سال کلکتہ کا ایک دن ذہن میں تازہ ہوا (الحمدللٰہ یادداشت اچھی ہے) تو ”ہم سب“ میں انیس سو سینتالیس کے فسادات اور پاکستان پہنچنے کے واقعات کے میرے کچھ آرٹیکل شائع ہوئے۔ انہی

Read more

کاکا سپاہی اور پونے دو سو کی نوکری

بی اے پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کا ارادہ ترک کرنا پڑا اور اب فیصل آباد ریل بازار پولیس چوکی کے سامنے کوئی پینتالیس مربع فٹ کی چھوٹی سی دکان میں ڈیرہ جمائے چند ماہ ہو چکے تھے۔ آٹو پارٹس کی اس بازار میں بائیس دکانوں میں ”رفیق اینڈ برادرز“ کا بورڈ لگائے یہ نو وارد لئیق احمد نہ صرف سرمایہ بلکہ عمر اور تجربہ میں بھی سب سے چھوٹا تھا۔ انیس سو اکسٹھ کی اس شام دور سے

Read more

انار کلی جو کینیڈا کی مٹی کو بھا گئی

انار کلی جو کینیڈا کی مٹی کو بھا گئی اور آج میں ڈھونڈتا ڈھانڈتا دھکے کھاتا بالآخر تیز ہوتی بو ندا باندی میں اپنی اس منہ بولی چھوٹی بہن کی قبر پہ کھڑا فاتحہ پڑھتے بارش کے ان ہی قطروں کی طرح آنسوؤں کی جھڑی بہا رہا تھا۔ میرے کانوں میں اس کی آواز کی بازگشت گونجی، ”لئیق بھائی ان حالات میں بھی میں انار کی پتیاں نکالتی کلی کی طرح سرخ و حسین تھی“

Read more

انارکلی جو کینیڈا کی مٹی کو بھا گئی

انارکلی کی آپ بیتی ٹکڑوں کی صورت میں میں دوپہر سے شروع ہو چھبیس دسمبر کی شام تک وقفہ وقفہ سے ملتے میرے دکھ کی شدت میں اضافہ کرتی جا رہی تھی۔ صبح ناشتہ کی میز پر رات دیر سے آئے پیرا گراف سینہ چیر رہے تھے۔

” پھر بی اے میں داخلہ مل گیا سکالرشپ کے ساتھ۔ میں بڑے شہر کے کالج میں پڑھنے اور ہوسٹل میں رہنے لگی۔ مجھے ڈانس، شاعری اور لکھنے کا بہت شوق تھا مگر ابا جی نے وارننگ دے کے بھیجا تھا کہ اگر یہ لچھن اپنائے تو گولی مار دوں گا۔ سب گھر والے مجھے طلاق یافتہ کے کچوکے لگاتے اور منحوس کہتے۔ میرا گھر سے ناتا واجبی سا تھا۔ دو مہینہ بعد چکر لگانا ورنہ ہاسٹل کی لائف انجوائے کرنا۔ پورے کالج میں میرے حسن، سادگی اور ذہانت کی دھوم تھی۔

Read more

حافظ آباد کا پیلو والا پہلوان

یوں تو ہمارے گھر سے سکول کا گلیوں سے ہوتے سیدھا راستہ پیدل دس منٹ کا ہی ہوگا۔ مگر انیس سو انچاس میں جب ہمارے گھر نیا بائیسکل آ گیا تو یہ فاصلہ ہمیں بہت لمبا لگنے لگ گیا۔ اور ہم تینوں بھائی تقریباً دوگنا سفر کرتے سکول جانا آنا شروع ہو گئے۔ کہ چنیوٹ کی گلیوں میں اس زمانہ میں نالیاں گلی کے درمیان ہوتیں اور ہر گھر سے نکلی نالی اس میں درمیان میں آ ملتی۔ اب ایک تو گلیاں ویسے ہی ہمارے بچپن کے کھیل شٹاپو کا نقشہ پیش کرتیں۔ دوسرے عموماً گلی کے چھوٹے بچے انہیں نالیوں میں حوائج ضروریہ سے نہ صرف فارغ ہوتے نظر آتے۔ بلکہ گھیسی کرتے بھی نظر آتے۔ اور یہ گھیسی کیا ہوتی ہے یا ہوتی تھی۔ اپنے بزرگوں سے پوچھ لیجیے گا۔ بس یہی کافی کہ ان گلیوں میں سائیکل نہیں چل سکتا تھا۔

Read more

جب میں نے جلوس پر بم پھینکا

ہفتہ کے روز صبح دکان کھول کے ابھی بیٹھا ہی تھا۔ کہ انجمن تاجران فیصل آباد کے تین عہدیدار آتے نظر آئے جن میں شیخ عبدالقیوم صاحب اپنے قد کاٹھ کی وجہ سے بہت نمایاں تھے ( باقی کے نام ذہن سے اتر چکے ) ۔ انجمن تاجران میں آٹو پارٹس کے شعبہ کی نمائندگی میں اجلاسوں میں شرکت کی وجہ سے انجمن کے اکثر عہدیداروں سے شناسائی تھی اور کوئی آٹھ دس روز قبل جب میں سول ہسپتال میں

Read more

فلمی شوٹنگ دیکھنے سے انگریزی فلم میں ہماری اداکاری تک کا سفر

دو ہفتہ قبل شہری انتظامیہ کی جانب سے ہمارے گھر سے کوئی دو سو میٹر دور کینیڈا کے اصلی پرانے باشندوں کے مخصوص احاطہ میں ایمیزون ٹی وی کی سیریز ”ریچ“ کے لئے شوٹنگ کی وجہ سے سترہ سے انیس مئی ٹریفک کی کچھ پابندی ہو سکنے کی پیشگی اطلاع کیا ملی۔ علاقہ کے سوشل گروپ اور واٹس ایپ وغیرہ پہ ہی ہیجان نہ رہا بلکہ یہ تین دن نزدیک و دور کے لوگ کیا اور کون کون کے تبصرے

Read more

واپڈا انجینئر سعودیہ میں

علم الدین مقبول جھنگ روڈ کے کسی قریبی گاؤں سے سکول آیا کرتے۔ اور فیصل آباد سکول میں میرے داخلہ کے بعد ابتدائی دوستوں میں سے تھے۔ سکول کالج کے زمانہ کی دوستیاں تو عمر بھر کا سرمایہ ہوتی ہیں۔ ہر موڑ پہ جھلک دکھانے والی۔ الیکٹریکل انجینئرنگ کے بعد بطور ایس ڈی اور نشاط آباد گرڈ میں تعیناتی کے بعد یا کبھی گاؤں آتے جاتے ملاقات ضرور ہو جاتی۔ فون بند کیا تو پوچھا یہ ماجرا کیا ہے تو بتایا کہ فیصل آباد سے لاہور تبادلہ کے چند سال بعد جب ترقی پا کر ایکسیئن کا درجہ پایا تو ساتھ ہی واپڈا کی طرف سے سعودی عرب میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتی ہوئی۔

Read more

عمل رامے” اور پاکستان مساوات پارٹی والے حنیف رامے”

کالج کے ایسے طالب علم کی حیثیت سے جو میسر فارغ وقت لائبریری میں بیٹھ ادبی جریدوں کی ورق گردانی کیا کرتا۔ نقوش۔ سویرا۔ ادب لطیف قسم کے جریدوں میں سے ایک کے اعلی تجریدی آرٹ سے مزین سر ورق پر ایک کونے میں لکھے ”عمل رامے“ کے الفاظ اپنے والد کے پرنٹنگ پریس پر بھی بیٹھنے والے کالج کی سیاست میں حصہ لینے والے مصور۔ نقاش۔ خطاط۔ کیلیگرافی۔ آرٹسٹ۔ ایم اے اکنامکس اور فلسفہ۔ ادیب مقرر اور نہ جانے

Read more

بھٹو – کھر پھڈا اور فیصل آباد

اسی سال کی عمر میں ریٹائرڈ فارغ اور کرونا کے بندھن کے باندھے گھر بیٹھے بندے کے لئے کمپیوٹر۔ آئی پیڈ موبائل فون انٹرنیٹ بہت سہارا ہیں۔ عمر عیار کی اس زنبیل میں ہاتھ نہیں ڈالنا پڑتا۔ انگلی گھمانے سب سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ اور آج میری انگلی نے آئی پیڈ کی سکرین پر فوٹو البم لا کھڑی کی تھی اور سید طاہر احمد شاہ کی تصویر آرام کرسی پہ نیم دراز میرے سامنے تھی۔ اور پینتالیس سال کی

Read more

چہار کالمی خبر، ڈاچی ایکسپریس اور معروف شاعروں کی رعونت

خبرنامہ زوروشور سے ہائی کورٹ کے باہر ہونے والی اخلاق ( باختگی ) سے بھر پور پاکستانی سیاست کا آج کا کارنامہ یعنی اپنے امریکہ پلٹ شہباز گل پر انڈے بازی اور سیاہی کی گل پاشی کی خبر کی چاشنی لے رہا تھا کہ شہباز گل خود سامنے آئے۔ اور ان کے منہ سے جھڑتے پھولوں میں جب یہ فقرہ آیا۔ ”تو میں۔ مریم نواز۔ تیرے گھر جاتی امراء کے سامنے۔ کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کروں گا“ ۔ کہ

Read more

سر پہ فلک اٹھائے

کالج کی لائبریری میں کسی ادبی رسالے میں اساتذہ شعرا میں سے کسی کا شعر پڑھا تو ہم نا تجربہ کاروں کا شاعر کی بلندیٔ خیال سے متاثر ہونا لازم تھا

سر پہ فلک اٹھائے ہاتھ میں دم دار ستارا
کس شان سے جاتا ہے محبوب وہ پیارا

کچھ عرصہ بعد کسی تنقیدی رسالہ میں پھر اس کی شان نزول نظر پڑی۔ چلئے اب ایک واقعہ سن لیجیے

Read more

کورونا اور حجامت

چند روز قبل فیس بک پر ایک عزیز نے کورونا لاک ڈاؤن کی ایک مہربانی، اپنے انتہائی بڑھے بال دکھائے۔ پچھلے برس ہمارے پچیس سال کے تازہ دم جوان دکھنے والے وزیر اعظم ٹروڈیو بھی اپنی تازہ رکھی داڑھی سفید بالوں کی جھلکی کے ساتھ تروتازہ کورونا لاک ڈاؤن کا نتیجہ بڑھے لمبے بغیر حجامت سر کے بالوں کے ساتھ پینتالیس سال ہی کے نظر آئے تھے۔ جانے کیوں اچانک قرۃ العین حیدر کا وہ بہت ضخیم ناول ”آگ کا

Read more

1950ء کی دہائی: گورنمنٹ کالج لائل پور میں میرے اساتذہ کرام

ہمارے کالج کی تعلیم کے چار سال اب وہ آخری چند سال محسوس ہوتے ہیں جب طلبا تعلیم کے حصول اور اساتذہ کی تکریم کو فرض سمجھتے تھے۔ اساتذہ پوری لگن سے پڑھا کر اور تربیت کر کے سکون محسوس کرتے تھے۔ ان یادوں کو دہرانے کا محرک چند روز قبل فیس بک پر مشہور لیڈر اور ضیاء دور کے وزیر میاں زاہد سرفراز کے ذکر پر فلم کی طرح ذہن کے پردے پہ آنے والے وہ مناظر تھے جب

Read more

پاکستان، کینیڈا، امریکہ کے تاریخی بلیک آؤٹ اور میری کہانی

پاکستان سے کینیڈا منتقل ہونے کے بعد فروری 2002 میں کیلیڈن اونٹاریو میں اس وقت ساٹھ ستر پرانے گیس سٹیشن یعنی پٹرول پمپ خرید کر اسی کی حدود میں واقع چھوٹے ریسٹورینٹ کے اوپر بنے اپارٹمنٹ میں جو ہمارے فیصل آباد گھر کے کچن اور فیملی روم کے سائز کا تھا، میں منتقل ہو چکے تھے اور پہلا سال انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کرتے رہے ۔ اب کچھ آہستہ آہستہ اپنے کاروباری تجربہ اور گاہک سے حسن سلوک اور ذاتی رابطے کی وجہ سے ساکھ قائم ہوتے مستقل گاہک بڑھ رہے تھے۔لیکن روز کے ڈاکوں ، جان مال اور عزت کے خطرے اور فرقہ وارانہ منافرت سے نجات کی وجہ سے دل مطمئن بھی تھے۔

Read more

ایک کرسی اور نو مور ان پاکستان

صبح نماز پڑھ سیر کرتے واپس آ کر لان میں کرسی پر بیٹھے یہ سوچ رہا تھا کہ والدہ کی (جو دو تین روز قبل بڑھاپے اور شوگر سے متعلقہ عوارض کی وجہ سے اچانک چلنے پھرنے سے معذور ہو چکی تھیں ) کی بآسانی نقل و حرکت کی کیا تدبیر کی جائے۔ شام بھائی جان لاہور سے بتا چکے تھے کہ معذوروں والی کرسی آرڈر کر کے ڈلیوری میں تین سے چھ ہفتہ درکار ہیں۔ انیس سو اسی کا اواخر تھا اور پاکستان میں ایسی چیزوں کا رواج نہیں تھا۔ اور کوئی رستہ سمجھانے کی دعا خدا ہی سے تھی۔ اچانک سامنے پڑی دوسری کرسی پر نظر جم گئی اور ذہن میں ایک نقشہ سا ابھرنے لگا۔ اور چند منٹ سب متوقع مسائل کا حل ملتا نظر آیا۔

Read more

گرلز کالج کا گیٹ۔ رادھا اور گوپال

اپنے بیڈروم میں پڑے چھوٹے سے کمپیوٹر ٹیبل کے سامنے گھومنے کھلنے والی آرام کرسی پہ سامنے سٹول پہ پاؤں رکھے اپنے پسندیدہ پرانے گیتوں کی ایک پلے لسٹ لگا نیم دراز ہوا تو یک دم تیز جھکڑ کے ساتھ رات کی جمع برف کے گالوں کے بادلوں کے کھڑکی کے ساتھ ٹکراتے شور مچاتے منظر نے سماں باندھ دیا۔ ادھر رفیع کی آواز ابھرنا شروع ہوئی۔

دروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں۔ دیواروں سے۔ دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں۔

Read more

لاڈ بھرے نام: کھنگورے سے جانو اور میرا شونا تک

اب کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ ادھر جرمنی سے محبؔی کولمبس خان صاحب نے دعوی کیا کہ ان کو یہ تسلی ہے کہ ان کو اصل نام سے پکارنا ان کے ممکنہ بگاڑے گئے نام سے زیادہ آسان ہے۔ کہ کولمبو بولنا کولمبس کہنے سے زیادہ زور لیتا ہے۔ اب ان کی اس امریکہ کی دریافت سے زیادہ وزنی بات سے ہم مرعوب ہوئے ہی تھے۔ کہ ”ہم سب“ اردن کے شاہ حسین مرحوم کی بھابھی پاکستان کی ثروت حسن

Read more