موبائل فون کی موشگافیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کم و بیش اٹھارہ بیس برس پہلے کی بات ہے، یہی دن تھے، ایسا ہی موسم تھا، ایک قریبی دوست کسی دوسرے شہر سے تشریف لائے۔ باہم گفتگو جاری تھی کہ ایک نامانوس، نامطلوب اور نا شناخت سی آواز کانوں میں آئی، میں ابھی آواز کے منبع و مصدر پر غور کر ہی رہا تھا کہ دوست موصوف نے اپنے کوٹ کی ایک جیب میں ہاتھ ڈالا، ایک چھوٹے سائز کے جیبی کیلکیولیٹر جیسا آلہ بر آمد کیا، کانوں سے لگایا اور مختلف و متضاد سمتوں میں ٹہلتے ہوئے کسی اور سے مصروف گفتگو ہو گئے۔

اس طویل دورانئے کی باتوں کے دوران انہوں نے میری جانب ایک مبہم سا اشارہ کرنے کے سوا مجھے اور میرے وجود کو یکسر نظر انداز کیے رکھا۔ یہ Cell فون کو جسے عرف عام میں یا پیار سے ہمارے ہاں موبائل فون کہا جاتا ہے، سے میرا پہلا باضابطہ تعارف تھا، سنی سنائی اور پڑھی پڑھائی معلومات تو تھیں تاہم زیارت کا شرف پہلی بار حاصل ہو رہا تھا۔ تب مجھے جیسے آئین نو سے ڈرنے اور طرز کہن پر اڑنے والے جہلاء کو یہ خبر کہاں تھی کہ یہ ننھا سا آفت کا ٹکڑا، ہماری زندگیوں میں آناً فاناً اور یک لخت ایسا گھر کر لے گا کہ گھر ہی سے بے گھر کر دے گا۔ یہ بے گھری کا منظر کسی بھی ایسے گھر کا مشاہدہ کر کے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے جس کا ہر فرد موبائل فونز سے لیس ہو اور مختلف موبائل کمپنیوں کے دیے گئے ”فراخ دلانہ“ پیکیجز سے ایسا ”بھرپور فائدہ“ اٹھا رہا ہو کہ اپنی جیب کا آخری سکہ بھی اسے خود پر بار محسوس ہوتا ہو۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سلسلے کی اہم ترین ایجاد یعنی کمپیوٹر نے ہمارے معاشرے میں بتدریج نفوذ کیا، اس کی مختلف وجوہات تھیں، تاہم کمپیوٹر کے جو بھی اچھے برے پہلو تھے، ان سے ہمارا نیم خواندہ معاشرہ حسب توفیق فیض یاب ہوا۔ لیکن اس چھوٹی سی بظاہر سادہ لیکن پرکار چیز نے جو اب انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی دیگر سہولیات کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جس انداز سے ہماری معاشرتی اقدار کو میں یہ تو شاید نہیں کہوں گا کہ تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے تاہم جس بے رحمی سے تبدیل کیا ہے اس کی قریب تو کیا بعید تر مثال ملنی بھی ناممکن ہے۔

سن دو ہزار کے ابتدائی برسوں میں ہمارے ایک زبردستی کے حکمران نے جس انداز سے ایک ٹیلی فون کال پر خود کو فرش راہ کر دیا تھا، قوم ابھی اس کی سختیاں برداشت کرنے کے عذاب سے گزر رہی تھی کہ اوپر سے موبائل فون کا بم آن گرا۔ اور وہ دن اور آج کا دن کہ اس کے تابکاری اثرات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اگر آپ کو بم کی مثال اچھی نہ لگے تو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ انہی دنوں، یعنی اس مشہور زمانہ یا بدنام زمانہ فون کال کے بعد جب موبائل فون مشرف بہ پاکستان ہوا تو وطن کے تہذیبی اور معاشرتی افق پر سارا منظر نامہ ہی تبدیل ہو گیا۔ یاد رہے کہ پوری دنیا میں اور کہیں بھی اتنی بے دردی اور بے ہودگی سے اس آفت کی پڑیا کا استعمال نہیں کیا جا رہا، یہ اختصاص اقوام عالم میں کچھ ہمیں کو حاصل ہے کہ ہر نئی ایجاد کی ”چھری“ کو سیب کاٹنے کی بجائے پیٹ میں گھونپنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

یادش بخیر، اشفاق صاحب، (لینڈ لائن) فون کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ فون کو برتنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں اور اس کا پہلا ادب یہ ہے کہ اپنے حاضر و موجود ملاقاتی کو فون سننے پر ترجیح دی جائے کہ فون تو دوبارہ بھی آ سکتا ہے، ملاقاتی کی کیا خبر کہ اس کا آپ سے دوبارہ ملنا کب ممکن ہو۔ وہ آپ سے قریب ہے اور اس کا حق فائق ہے۔ اس کے مقابلے میں آپ موبائل فون کی چیرہ دستیاں ملاحظہ فرمائیے کہ اس نے کیسے بھائی کو بھائی سے، بیٹے کو باپ سے، بیٹی کو ماں سے، شوہر کو بیوی سے، حتیٰ کہ دوست کو دوست سے جدا کر دیا ہے۔

ممکن ہے کوئی ستم ظریف، نکتہ چیں اس موقع پر یہ کہے کہ پہلے یہ سب آپس میں لڑتے تھے، جدا ہوئے تو کیا برا ہوا۔ جواب یہ ہے کہ لڑتے تھے تو صلح بھی کر لیتے تھے، اب تو نہ حرف و حکایت ہے نہ شکوہ و شکایت۔ تو بات دوستوں کی ہو رہی تھی کہ یہ منظر تو اب عام دیکھنے میں آتا ہے کہ دوست بظاہر آپس میں مل رہے ہیں لیکن اس شعر کے مصداق؛

بظاہر چل رہا ہے ساتھ میرے
مگر وہ ہم سفر میرا نہیں ہے

دونوں اپنے اپنے موبائل فون پر کسی اور سے محو گفتگو ہیں۔ وطن عزیز کے اندر اس موجودہ وقت میں یہ واحد آلہ ہے جو ہر دوسرے کام میں اس حد تک دخیل ہو گیا ہے کہ آپ گاڑی چلاتے ہوئے، کھانا کھاتے ہوئے، لکھنے پڑھنے کا کام کرتے ہوئے، راستے پر پیدل چلتے ہوئے، پارک میں واک کرتے ہوئے، جاگنگ کرتے ہوئے، چہل قدمی کرتے ہوئے، حجامت بنواتے ہوئے، کسی محفل یا واش روم کے اندر، غرض یہ کہ کوئی بھی گفتنی و ناگفتنی کام کرتے ہوئے (کہ یہ فہرست مزید طویل بھی ہو سکتی ہے ) ، اسے یعنی موبائل فون کو ، ان سب کاموں میں شریک بلکہ شریک غالب دیکھ سکتے ہیں کہ جب اس کی گھنٹی بجتی ہے تو سارے کام معطل ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ان گنہگار آنکھوں نے ایک مرتبہ کسی اور شہر میں نہیں بلکہ شہر حکام کے شہر اسلام آباد کی ایک مصروف شاہراہ سے گزرتے ہوئے، سڑک کے کنارے، دیوار کی طرف منہ کیے ہوئے ایک صاحب کو مثانے کے بوجھل پن اور موبائل فون کے ہلکے پن سے بیک وقت مصروف عمل بلکہ مصروف لطف اندوزی پایا۔ اس چشم دید واقعے سے بخوبی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس نہایت حیرت انگیز اور اتنی دور مار کرنے والی ایجاد کا ”پاکستانی سٹائل“ کا استعمال کہاں کہاں اور کیسے کیسے گل کھلا رہا ہے۔ شاعر نے تو کسی زمانے میں قدرت کی فراوانی نظارہ کی یوں کہہ کر داد دی تھی کہ؛

حیراں ہوں کہ دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں

لیکن برادران وطن گویا زبان حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ صرف دو ہاتھ ہیں، کہاں کہاں استعمال کروں۔ آپ نے یقیناً کسی موٹر سائیکل سوار کو سڑک سے تیرتے یا اڑتے ہوئے، کانوں اور شانوں کے درمیانی خم میں جہاں گردن پائی جاتی ہے، اس بے بس اور جابر آلے کو دبائے کسی سے نہایت ضروری بات کرتے سنا تو کیا البتہ دیکھا ضرور ہو گا۔ اور شاید آپ کے دل میں یہ خیال بھی گزرا ہو کہ قدرت اگر اسے تیسرے ہاتھ سے محروم نہ رکھتی تو کم از کم اس وقت یہ اس جان کنی بلکہ ”کان کنی“ کی حالت میں نہ ہوتا۔

اور موٹر سائیکل سواروں پر ہی کیا موقوف ہے اس وقت تو پوری قوم ہی موبائل فونز اور موبائل کمپنیوں کے ہاتھوں ”دست گردی“ اور ”کان زنی“ کا شکار ہے۔ براہ کرم دست گردی اور کان زنی کی لسانی تراکیب کو نامانوس کہنے سے قبل یہ ضرور سوچئے گا کہ سیل فون نے (جسے سیانے ہیل فون بھی کہتے ہیں ) آپ کی جیب کی مکمل صفائی کرنے کے بعد آپ کے ہاتھوں اور کانوں کو سوائے اپنے اور کسی کام کے قابل نہیں چھوڑا۔ اور یاد رکھئے کہ اس میں موبائل فونز کا کوئی دوش نہیں، مشرف گردی تو ہماری شامت اعمال کے باعث ہم پر امریکہ سے نازل ہوئی تھی لیکن یہ بلا تو ہم نے اپنی خوشی سے پیسے دے کر خود پر مسلط کی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق، موبائل فونز کے استعمال کنند گان کا ایک فیصد بھی اس کے درست اور مفید استعمال سے آگاہ نہیں۔ اکثریت اس کا جس طریقے سے استعمال کر رہی ہے اس کا اندازہ ٹیلی ویژن کے چینلز پر مختلف کمپنیوں کی جانب سے رنگا رنگ اشتہاری سرگرمیوں کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی قسم کے ضابطہ، اخلاق سے عاری، پرکشش اور ترغیب آمیز ہتھکنڈوں سے پوری قوم اور بالخصوص نوجوان نسل کو کیسے شکار کیا جا رہا ہے ؛

کہیں کوئی مچان ہے نہ کوئی اپنی گھات میں
کمال احتیاط سے شکار ہو رہے ہیں ہم

اور بیک وقت دو یا زیادہ موبائل سیٹ یا سمیں رکھنے کی بات تو پرانی ہوئی، اب تو گھر پھونک کر تماشا دیکھنے والے ایسے ایسے شوقین بھی پائے جاتے ہیں جو ایک خاص نمبر کو ہر موبائل کمپنی کی سم یا کوڈ سے منسلک رکھنے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ گویا عقل کی اندھی اس مخلوق کے نزدیک انسانی فکر و مباہات کی معراج یہی ٹھہری کہ کون زیادہ سے زیادہ نمبر اپنے پاس رکھتا ہے۔ اور ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ یہ سب کچھ اس معاشرے کی کہانی ہے۔ جہاں کے اخبار، بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھنے کی اذیت نہ برداشت کر کے خود کشی کرنے والے والدین کی خبروں سے مسلسل آراستہ رہنے لگے ہیں۔ کیا یہ ایک المناک اور کھلا تضاد نہیں۔

چلتے چلتے جاری موضوع گفتگو سے متعلق ہی یہ حیران کن نقطہ بھی آپ کے گوش گزار کرتے چلیں کہ عہد موجود میں آپ گھر سے نکلتے ہوئے کوئی بھی ضرورت کی چیز اپنے ساتھ لے جانی فراموش کر سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس کے بغیر آپ کو تھوڑی بہت مشکل بھی پیش آئے تاہم آپ کا کام چل جائے گا، یا کم از کم رکے گا نہیں۔ لیکن اللہ نہ کرے آپ اپنا موبائل سیٹ گھر بھول جائیں، اول تو یہ ممکن ہی نہیں، آپ خود کو بھول سکتے ہیں موبائل کو نہیں، اور امر محال کے طور پر ایسا ہو بھی جائے تو جب تک آپ اپنے موبائل کے پاس یا موبائل آپ کے پاس نہیں پہنچ جاتا، آپ کا ہی نہیں دنیا کا نظام بھی رکا رہے گا۔

علم نفسیات کے ماہرین نے کچھ ایسے نفسی خوفوں کی فہرست مرتب کر رکھی ہے۔ جو انفرادی طور پر مختلف لوگوں کو لاحق ہو سکتے ہیں، اگرچہ کم کم ہی سہی تاہم یہ خوف کہیں کہیں مشاہدے میں بھی بہر حال آ ہی جاتے ہیں جیسے ہائیڈرو فوبیا یعنی پانی کا خوف، ایکلو فوبیا یعنی اندھیرے کا خوف، ایکرو فوبیا یعنی اونچائی کا خوف، پایئرو فوبیا یعنی آگ کا خوف، زو فوبیا یعنی جانوروں کا خوف و اعلیٰ ہذا القیاس۔ اور اب آپ جان لیجیے کہ ان تمام انفرادی خوفوں کے مقابلے میں ایک خوف ایسا ہے جو ان سب پر بھاری ہے اور جسے ہم قومی خوف کہیں تو بے جا نہ ہو گا اور وہ ہے مو۔

فوبیا، یعنی موبائل سے دوری کا خوف۔ اس کی مختلف شکلیں ہیں جیسے موبائل چوری ہونے کا خوف، موبائل گم ہونے کا خوف، چارجنگ اور بیلنس ختم ہونے کا خوف، چارجر کی عدم دستیابی کا خوف، کسی تکنیکی یا نامعلوم وجہ سے فون بند ہو جانے کا خوف، اور اب اس سلسلہ خوف کو بخوف طوالت یہیں روکتے ہیں اور تحریر کا اختتام حضرت اکبر آلہٰ آبادی کے اپنے مخصوص رنگ میں کہے گئے اس شعر پر کرتے ہیں جو آج سے کم و بیش ایک سو پچیس برس قبل کہا گیا ہو گا؛

امید مہر و مروت کہاں رہے باقی
ذریعہ باتوں کا جب صرف ٹیلی فون ہوا


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد آصف مرزا کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments